نیکی

جواب :ناخن تراشنے کے لیے کوئی خاص دن کوئی خاص وقت اور کوئی مخصوص طریقہ مروی نہیں ہے، جب چاہے جس دن چاہے اور جس انگلی سے چاہے شروع کرسکتا ہے۔ اسی طرح ناخن تراشنے کا طریقہ بعض فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے، جو صرف بہتر ہے مسنون نہیں ہے۔ طریقہ یہ ہے: داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے کاٹتے ہوئے خنصر تک آئے، اور پھر بائیں ہاتھ کی خنصر سے کاٹتے ہوئے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر ختم کرے ۔جب کہ پیر کے اندر داہنے پیر کی خنصر سے شروع کرے اور بائیں پیر کی خنصر پر ختم کرے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :مروجہ تبلیغی جماعت میں جانا نہ تو فرض ہے نہ واجب نہ سنت، بلکہ یہ عمل مْباح ہے اگر کوئی جائے اور دینی محنت کرے وہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا، اور اگر کوئی نہیں گیا تو اللہ کے یہاں اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی، جو شخص یہ کہتا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت میں چلنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص پوری زندگی جماعت میں نہیں نکلا تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔
 

(دارلافتاہ دوبند)

عزت و شرف کا معیار اور بزرگوں کے ہاتھ چومنا
سوال:سر مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا کوئی صرف بزرگ ہستیوں کے گھر میں پیدا ہو جانے سے لوگوں کے لیے عزت و شرف کا باعث بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ سید گھرانے میں پیدا ہو جائے تو وہ بچہ دوسرے مسلمانوں سے کسی برتر درجے پر فائز ہو گا؟ اسی طرح اگر کوئی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان سے نسبت رکھتا ہو تو کیا صرف نسبت کی بنا پر اسے دوسرے مسلمانوں پر کوئی درجہ و فضیلت حاصل ہو گی؟اگر ہاں، تو یہ برہمنیت سے کیسے مختلف ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بیان کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ’’ اے فاطمہ! خود کو جہنم کی آگ سے بچانا، اگر اللہ پاک نے پکڑ لیا تو میں کچھ کام نہ آ سکوں گا‘‘تو اس کا کیا مطلب ہو گا ؟ اور اسی طرح:’’ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔‘‘کا کیا مطلب ہو گا؟اور اگر نہیں تو پھر قرآن پاک میں سورۃ الاحزاب آیت 32 میں نبی کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ
’’ لستن کاحد من النسا‘‘
یعنی تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اس کا کیا مطلب ہے۔ براہِ کرم ذرا وضاحت فرما دیجیے۔اور ازراہِ کرم اس بات کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کسی حقیقی فضیلت کی بنا پر جیسے والدین یا عام لوگوں میں مشہور متقی لوگ مثلاً عرف عام میں پیر صاحبان وغیرہ کے ہاتھوں یا پاؤں کو عقیدت سے چومنا کیسا ہے۔

جواب:ہمارے دین میں کسی شخص کو اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل ہے اس کا فیصلہ قرآن کریم اپنے نزول کے وقت ہی کر چکا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو‘‘ (الحجرات 13:49)
اس بات کو مزید سمجھنا ہو تو قرآن مجید میں بیان ہونے والی بنی اسرائیل کی داستان پڑھیے۔ وہ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے متعدد جلیل القدر انبیا کی اولاد تھے۔ مگر کیا اس سے کوئی فرق پڑا۔ ہرگز نہیں اللہ نے ان سے ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کیا اور جب ان کے اعمال بگڑے تو ان پر لعنت کر دی گئی۔خود حضور کو دیکھ لیجیے۔ ابو لہب کا رشتہ حضور سے سگے چچا کا تھا، مگر وہ بھی اس کے کام نہ آیا۔ اس کا انجام سورہ لہب میں پڑھ لیں۔قرآن کی طرح حدیث میں بھی کوئی ایسی بات ہرگز نہیں بیان ہوئی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ کسی خاندان سے نسبت انسان کو دوسروں پر شرف اور برتری دے دیتی ہے۔ کچھ احادیث آپ ہی نے نقل کر دی ہیں، ان کے علاوہ خطبہ حجۃ الوداع سے متعلق ایک روایت میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
رہی سورہ احزاب کی آیت کی بات تو یہ فضیلت کا نہیں ذمہ داری کا معاملہ تھا۔ یعنی حضور کی ازواج کا معاملہ اور ان کی ذات کی حساسیت عام خواتین کی طرح نہ تھی۔ بلکہ ان کے حوالے سے کوئی الزام لگایا جاتا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا تو اس سے خود حضور کی ذات اور شخصیت کا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔ اس لیے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے گئے تاکہ منافقین کو کسی طرح کی فتنہ انگیزی کا ذریعہ نہ مل سکے۔ آپ کا نقل کردہ جملہ اسی پس منظر کا ہے۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کسی خاندانی فضیلت کا بیان نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منصب کی بنا پر عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں، اسی طرح ان کی ازواج بحیثیت اہل خانہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان پر لگی ہوئی کسی بھی تہمت سے آپ کا متاثر ہونا لازمی ہے۔
باقی ہاتھ پاؤں چومنے کا جو معاملہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ اظہار عقیدت کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان محبت میں اپنے فطری جذبات کے اظہار کے لیے ماں یا باپ کے ہاتھ چوم لیتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مذہبی لوگوں سے اس طرح کی عقیدت اکثرخرابی کا سبب بنتی ہے۔ اس سے بچنا بہتر ہے۔

(ابو یحییٰ)