معاشرتی مسائل

کسی شخص کے ماتحت کچھ ملازمین ہوں تو اس پر لازم ہے کہ ان کا مشاہرہ وقت پر اداکرے۔ اس کی ادائی میں تاخیر کرنا یا اس میں لیت و لعل سے کام لینا یا اس کاکچھ حصہ روک لینا، تاکہ وہ ملازمین اس کے یہاں کام کرتے رہیں، اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ حدیث ہے کہ’’مزدور کو اس کی مزدوری دے دو، اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ سوکھ جائے۔‘‘
ملازمین کامشاہرہ ان کے قبضے میں دینے کے بعد، آدمی ضرورت مند ہوتو ان سے قرض لے سکتا ہے۔ یہ قرض خواہی بھی بغیر دباؤ کے ہونی چاہیے کہ ملازمین میں سے جو چاہے اسے قرض دے اور جو چاہے منع کردے۔ ساتھ ہی قرض کی شرائط بھی طے کرلی جائیں کہ وہ کتنی مدت کے لیے قرض لے رہاہے؟ واپسی یک مشت ہوگی یا قسطوں میں؟ وغیرہ۔اگر قرض کی صراحت کے بغیر وہ شخص اپنے کسی ملازم کا مشاہرہ اپنے پاس روکتا ہے، یا کوئی ملازم اپنامشاہرہ اس کے پاس رکھواتا ہے تو وہ رقم اس کے پاس بہ طور امانت ہوگی۔ اس میں تصرف کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ رقم کے مالک کی اجازت کے بغیر اسے کاروبار میں لگانا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔
آدمی کو اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کاخیرخواہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص کا کاروبار مستحکم ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ ملازمین کی کچھ رقم اپنے کاروبار میں لگانے سے انھیں فائدہ ہوگا اور ان کی رقم میں اضافہ ہوگا تو وہ انھیں اعتماد میں لے کر اور ان کی مرضی سے دی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگاسکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ ابتدا ہی میں وہ ان پر واضح کردے کہ وہ نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہوںگے۔
صحیح حدیث میں ایک شخص کاواقعہ تفصیل سے مذکور ہے، جس کے پاس بہت سے ملازم کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک ملازم اپنی اجرت لیے بغیر چلاگیا اور پلٹ کر نہیں آیا۔ اس شخص نے اس کی اجرت کو اپنے کاروبار میں لگالیا۔ کافی دنوں کے بعد وہ ملازم آیا اور اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی اجرت مانگی تو اس شخص نے ایک وادی کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ اس میں جانوروں (گایوں، بکریوں، بھیڑوں وغیرہ)کا جتنا بڑا ریوڑ دکھائی دے رہاہے وہ سب تمھارا ہے۔ میں نے تمھاری مزدوری کو اپنی تجارت میں شامل کرلیاتھا، جس سے تمھاری مزدوری کی مالیت بڑھتے بڑھتے اتنی ہوگئی ہے۔ وہ آدمی خوشی خوشی اپنے ریوڑ کو ہانک لے گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل بہت پسند آیا۔ چنانچہ کچھ عرصے کے بعد اس شخص نے اپنے اس عمل کا واسطہ دے کر اللّٰہ تعالیٰ سے ایک دعا کی، جسے اس نے شرفِ قبولیت بخشا۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۲)

 

(سید رضی الاسلام ندوی)

اسلامک فقہ اکیڈمی کا سولہواں فقہی سمینار ۳۰مارچ تا ۲،اپریل ۲۰۰۷  جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں منعقد ہواتھا۔ اس میں دیگر موضوعات کے ساتھ اس موضوع پر بھی غورخوض کیاگیاتھا اور یہ قراردادیں منظور کی گئی تھیں:
۱۔ اگر مریض مصنوعی آلہ تنفس پرہو، لیکن ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس نہ ہوئے ہوں اور امید ہو کہ فطری طورپر تنفس کا نظام بحال ہوجائے گا تو مریض کے ورثا کے لیے اسی وقت مشین ہٹانا درست ہوگا جب کہ مریض کی املاک سے اس علاج کو جاری
 رکھنا ممکن نہ ہو، اورنہ ورثا ان اخراجات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نہ اس علاج کو جاری رکھنے کے لیے کوئی اور ذریعہ میسّر ہو۔
۲۔اگر مریض آلہ تنفس پر ہو اور ڈاکٹروں نے مریض کی زندگی اور فطری طورپر نظام تنفس کی بحالی سے مایوسی ظاہر کردی ہوتو ورثا کے لیے جائز ہوگاکہ مصنوعی آلہ تنفس علاحدہ کردیں۔‘‘

(سید رضی الاسلام ندوی)

بیوی کا اپنے نام کے ساتھ بطورِ نسبت شوہر کا نام جوڑنا اور کسی کا اپنی ولدیت تبدیل کرنا دو الگ الگ مسئلے ہیں جبکہ کچھ لوگ مسئلہ کی نوعیت سمجھے بغیر دونوں پر ایک ہی حکم جاری کر دیتے ہیں جو عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا ہم ذیل میں دونوں موضوعات پر الگ الگ دلائل پیش کر رہے ہیں تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ادْعُوہُمْ لِآبَاءِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّہِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاء ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ ۔۔۔۔۔ 
تم اْن (مْنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔(الاحزاب، 33: 5)
آیت مبارکہ میں منہ بولے بیٹوں کو منہ بولے باپ کے نام سے پکارنے کی بجائے اْن کے والد کے نام سے پکارنے کا حکم دیا کیا گیا ہے۔ اور احادیث مبارکہ میں ولدیت تبدیل کرنے والے کے لئے سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں:
’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی جانب منسوب کرے تو اس نے کفر کیا اور جو ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں سے نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (بخاری، الصحیح، 3: 1292، رقم: 3317، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامۃ)
جان بوجھ کر ولدیت تبدیل کرنے کا حکم:
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘
بخاری، الصحیح، 6: 2485، رقم: 6385
مسلم، الصحیح، 1: 80، رقم: 63
باپ دادا سے منہ پھیرنے والے کا حکم:
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے آبا ؤ اجداد سے منہ نہ پھیرو، جو اپنے باپ سے منہ پھیر کر دوسرے کو باپ بنائے تو یہ کفر ہے۔(بخاری، الصحیح، 6: 2485، رقم: 6386مسلم، الصحیح، 1: 80، رقم: 62)
باپ کی بجائے غیر کی طرف نسب ظاہر کرنا بھی باعث لعنت ہے:
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کے غیر سے نسب ظاہر کیا یا اپنے آقا کے غیر کو اپنا آقا بنایا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔(ابن ماجہ، السنن، 2: 870، رقم: 2609، بیروت: دار الفکر)
مذکورہ بالا قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب کا اظہار کرنے کے لئے اپنی نسبت والد کی بجائے کسی اور کی طرف بطور والد منسوب کرنا حرام ہے جبکہ ولدیت تبدیل کئے بغیر خاص پہچان کے لئے اپنی نسبت کسی ملک، شہر، مسلک، سلسلے، جماعت، ادارے کی طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً پاکستانی، عربی، دمشقی، کوفی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، نقشندی، چشتی، سہروردی، شازلی، سلفی دیوبندی وغیرہ سب نسبتیں ہیں جو پہچان کے لئے نام کے ساتھ لگائی جاتی ہیں لیکن ولدیت تبدیل نہیں ہوتی، لہٰذا بیوی کی نسبت بھی پہچان کے لئے اس کے شوہر کی طرف کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا جس کی مثالیں قرآن وحدیث سے ملتی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا اِمْرَأَۃَ نُوحٍ وَاِمْرَأَۃَ لُوطٍ۔۔۔۔
اللہ نے اْن لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہے نوح (علیہ السلام) کی عورت (واعلہ) اور لوط (علیہ السلام) کی عورت (واہلہ) کی مثال بیان فرمائی ہے۔( التحریم، 66: 10)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کی نسبت شوہروں کی طرف کی گئی ہے۔ اور درج ذیل آیت مبارکہ میں بھی حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا کی نسبت ان کے شوہر فرعون کی طرف کی گئی ہے:
وَضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا اِمْرَأَۃَ فِرْعَوْنَ ۔۔۔۔اور اللہ نے اْن لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں زوجہِ فرعون (آسیہ بنت مزاحم) کی مثال بیان فرمائی ہے۔التحریم، 66: 11
اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ نے حاضر ہو کر اجازت مانگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! زینب آنا چاہتی ہیں۔ فرمایا کہ کونسی زینب؟ عرض کی گئی:حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔بخاری، الصحیح، 2: 531، رقم: 1393
اس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے نسبت ان کے والد کی بجائے شوہرعبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع نہیں فرمایا کیونکہ یہ نسبت پہچان کے لئے تھی نہ کہ ولدیت تبدیل کرنے لئے تھی۔ اور حضرت عطاء کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابن عباس کے ہمراہ سرف کے مقام پر حضرت میمونہ کے جنازے پر حاضر ہوئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا:
یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں۔بخاری، الصحیح، 5: 1950، رقم: 4780
جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے اْن کے والد کی بجائے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کی، اسی طرح احادیث مبارکہ کی اسناد میں ازواج مطہرات کی نسبت متعدد بار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔ 
لہٰذا عورت اپنی پہچان کے لیے اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے۔ مذکورہ بالا میں ہم نے واضح کر دیا ہے کہ نسب کے اظہار کے لیے اپنی ولدیت تبدیل کرنا حرام ہے جبکہ کسی عورت کی پہچان کے لیے اس کی نسبت شوہر کی طرف کرنا جائز ہے۔ تحقیق کئے بغیر قرآن وحدیث کی نصوص سے غلط استدلال کرنا اور اسے کفار کا طریقہ قرار دینا علمی خیانت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں اپنے والد کی بجائے کسی اور کو والد ظاہر کرنے کی ممانعت ہے جبکہ بیوی کی نسبت شوہر کی طرف کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔


 

(مفتی محمد شبیر قادری)

نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مردو عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔بہتر یہی ہے کہ والدین کو راضی کر لیں تاکہ آنے والی زندگی میں وہ آپ کا ساتھ دے سکیں، اور خدا نہ کرے کوئی مسئلہ بن جائے تو آپ کو والدین کی حمایت حاصل ہو۔ ان کو شادی میں بھی شامل کریں۔ انہیں قرآن وحدیث کا حکم سنائیں اور دکھائیں کہ شرعی طور پر یہ حکم ہے۔ امید ہے راضی ہو جائیں گے۔ اگر کسی صورت بھی وہ آپ کی پسند کی شادی نہیں کرتے تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن والدین کا احترام کرنا اور ہر صورت ان کی خدمت کرنا آپ کا فرضِ اولین ہے

 

(مفتی محمد شبیر قادری)

 چونکہ اعمال کا دار و مدار ایمان پر ہے، مسلمان ہو تو نیک اعمال کار آمد اور مسلمان نہ ہو تو نیک اعمال قابل قبول نہیں، دنیا میں کافر کو نیکی کا بدلہ مل جاتا ہے لیکن آخرت میں کوئی نیک عمل کافر کے نامہ اعمال میں ہے ہی نہیں۔ لہذا وہ ہمارے نیک اعمال تو نہیں لے سکتا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کافر کے ساتھ دھوکہ اس کا مال چوری کرنا وغیرہ گناہ ہے، اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو گناہ ہوگا۔ امام حاکم روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں ایک صحابی فوت ہو گئے :اس کی وفات کا ذکر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی پر نماز پڑھو، صحابہ کرام حیران ہوگئے، فرمایا اس نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے، صحابہ نے اس کے مال کی تفتیش کی تو اس میں ایک نگینہ مل گیا جو کسی یہودی کے مال سے چوری کیا ہوا تھا اور دو درھم کے برابر بھی نہیں تھا۔اس سے اندازہ کرنا چاہیے کہ غیر مسلموں سے بھی فراڈ، دھوکہ دہی وغیرہ ناجائز ہے۔

(صاحبزادہ بدر عالم جان)

جی ہندو کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا جائز ہے۔ البتہ ہندو کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز نہیں ہے۔ اگر کسی ہندو نے کوئی حلال جانور بھی ذبح کیا تو جائز نہیں ہے، اور حرام ہے۔ چاہے اسے کوئی ہندو پکائے یا مسلمان۔ اگر جانور کو مسلمان نے ذبح کیا اور ہندو نے پکایا تو پھر کھانا جائز ہے۔ کیونکہ ہندو بتوں کے نام سے ذبح کرتے ہیں اور یہ حرام ہے۔ہندو کے پکانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اس کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا جائز ہے۔ مثلاً سبزیاں، دالیں، چاول اور باقی سب کھانے ماسوائے ذبیحہ۔ باالفاظ دیگر ہندوؤں کے ذبیحہ کو چھوڑ کر ہندو کے ہاتھ سے بنی ہوئی ہر چیز شرعاً کھانا جائز اور حلال ہے۔

(حافط محمد اشتیاق الازہری)

مستند ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس کی ممانعت نہیں ہے۔ تاہم اس بات کا خیال رہے کہ دوائی انسانی صحت کے لیے نقصا ن دہ نہ ہو۔

 

(مفتی محمد شبیر قادری)

اگر مرد و خواتین شرعی حدود، اخلاقی آداب اور شرم و حیاکا خیال رکھیں تو مرد لیکچرار عورتوں کو لیکچر دے سکتا ہے۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک مجالس میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہوتیں تھیں، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بھی وعظ و نصیحت کرتے تھے۔

 

(مفتی محمد شبیر قادری)

جواب:
جہاں تک کسی اچھی اور دل کش آواز کے اصولی طور پر مباح اور جائز ہونے کا تعلق ہے، چاہے وہ کسی انسان کے گلے سے نکلی ہو یا کسی ساز باجے سے، تو میرے فہم کی حد تک اس نکتے میں کوئی خاص اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس پر کم وبیش اتفاق ہے کہ اچھی آواز فی نفسہ ممنوع یا مذموم نہیں اور یہ کہ اس میں قباحت یا حرمت کا پہلو دراصل کسی زائد وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ’لہو‘ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علما دف کے علاوہ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس غامدی صاحب اور بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ’لہو‘ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ’دف‘ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پیدا کرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ’دف‘ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا۔
اسی طرح جمہور علما اور غامدی صاحب کے مابین اس ضمن میں بھی اختلاف ہے کہ آیا ایک بالغ عورت کی آواز کا غیر محرم مرد کے کان میں پڑنا فی نفسہ ممنوع ہے یا نہیں۔ جمہور علما اسے صرف ضرورت کی حد تک جائز سمجھتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ اور خاص طور پر گانے وغیرہ کی صورت میں موجب فتنہ ہونے کی وجہ سے اسے جائز نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس غامدی صاحب کے نزدیک غیر محرم کے لیے عورت کی آواز کا سننا فی نفسہ ممنوع نہیں ہے۔ بعض روایات وآثار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا غیر محرم عورتوں کی آواز میں غنا سننا مروی ہے۔ عام اہل علم کے نقطہ نظر کی رو سے اس اجازت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ آپ عام لوگوں کے بالمقابل فتنے سے خاص طور پر مامون ومحفوظ تھے یا پھر اسے لونڈیوں سے متعلق قرار دیا جا سکتا ہے جن کے لیے آزاد عورتوں کے مقابلے میں حجاب وغیرہ کے احکام نسبتاً نرم رکھے گئے تھے، تاہم غامدی صاحب اس اباحت کو اصولی طو رپر سب کے لیے عام سمجھتے ہیں۔
اس موضوع پر غامدی صاحب کی کوئی باقاعدہ اور مفصل تحریر میری نظر میں نہیں ہے اور مذکورہ توضیح بعض یادداشتوں اور استنباط پر مبنی ہے، اس لیے اس میں ان کے یا جمہور علما کے نقطہ نظر کی ترجمانی میں کسی خامی یا غلط فہمی کا پایا جانا بعید از امکان نہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس موضوع پر دیگر تفصیلی تحریروں کا مطالعہ کر لیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(محمد عمار خان ناصر)

رسول اللہ ﷺکی سواری
سوال: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع شدہ جناب طالب ہاشمی کی کتاب ’خیر البشر کے چالیس جاں نثار ‘ میں حضرت معاذ بن جبل کے تذکرہ میں ایک جگہ ان کے حوالے سے لکھا ہوا ہے :’’ میں ایک دن گدھے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوارتھا اورآپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔‘‘ (ص :۳۰۷) یہ بات بڑی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ گدھا چھوٹے قد اورمعمولی قسم کا جانورہے۔ اس پر سواری کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی جسامت اتنی مختصر ہوتی ہے کہ دو اشخاص اس پر سوارہی نہیں ہوسکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گدھے کی سواری زیب نہیں دیتی اورآپ کے پیچھے ایک صحابی کا بیٹھنا عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔
مجھے سنہ۲۰۱۱ میں حج کی سعادت نصیب ہوئی اورتقریباً پینتالیس دنوں تک سعودی عرب میں میرا قیام رہا۔ اس عرصہ میں مکہ معظمہ ، منیٰ ، عرفات اور مدینہ منورہ وغیر جانا ہوا۔ پورے سفر میں کہیں بھی مجھے گدھا نظر نہیں آیا۔کہیں ایسا تونہیں ہے کہ مصنف نے انگریزی الفاظ ASSیا DONKEY کا ترجمہ ’گدھا‘ کردیا ہو ، جب کہ ان الفاظ کا اطلاق خچر پر بھی ہوتا ہے۔ جسمانی ساخت میں خچر گھوڑے سے کم تر، لیکن اس کی نسل سے ہوتا ہے۔ اسے سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، جب کہ گدھے کوکہیں سوار ی کے لیے نہیں استعمال کیا جاتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس طرح کے جملوں کا استعمال بے ادبی محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے جملے خارج کردیے جائیں۔

جواب: سطورِ بالا میں جواشکال ظاہر کیا گیا ہے وہ نقلی اورعقلی دونوں اعتبار سے غلط ہے۔ حضرت معاذؓ بن جبل سے جوحدیث مروی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں:کْنتْ رِدفَ رَسْولِ اللہِ صَلیّٰ اللہِ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَلَی حِمَارِ (مسلم :۴۸)’’میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عربی زبان میں ’حمار‘ اس جانور کوکہا جاتا ہے جسے ہمارے یہاں’ گدھا‘ کہا جاتا ہے۔کسی کتاب کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ضرور ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ کس زمانے اورکس جگہ سے متعلق ہے ؟ زمان ومکان کی تبدیلی سے معانی میں بھی فرق آجاتا ہے۔ مثا ل کے طورپر ہمارے یہاں ’اْلّو‘ کونحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے ، لیکن یورپی ممالک میں اسے ’عقل ودانش‘ کی نشانی سمجھا گیا ہے۔ اسی طرح گدھا ہمارے یہاں بے وقوفی کی علامت ہے، جب کہ عرب میں اسے صبر واستقامت کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان اصبر من حمار فی الحروب (فلاں شخص جنگوں میں گدھے سے زیادہ ثابت قدمی کا مظاہر ہ کرتا ہے ) خلافتِ بنی امیہ کے آخری حکم ران کا نام مروان بن محمدتھا۔ اس کے زمانے میں بہت زیادہ بغاوتیں ہوئیں ، جن کا اس نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا تھا ، اسی لیے اس کا لقب ’الحمار‘ ہوگیا تھا اوراسے ’مروان الحمار‘ کہا جاتا تھا۔
علامہ ابن القیم نے اپنی تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھے۔ ان میں فرس (گھوڑا ) ناقۃ (اونٹنی ) جمل (اونٹ) بغل (خچر) شاۃ (بکری) اورحمار(گدھا) کا ذکر ہے۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ، ابن القیم الجوزیۃ ، تحقیق : شعیب الارنووط ،عبدالقادر الارنووط، موسسہ الرسالۃبیروت، ۱:۱۹۹۸،۱۲۹۔۱۲۸) احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں گدھے کوبھی سواری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مختلف روایتوں میں حضرت سعدبن معاذ، حضرت
انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کے گدھے پر سوار ہونے کا ذکر ہے۔ بعض روایات میں ایک گدھے پر دو افراد کے سوار ہونے کی صراحت ہے۔ مثلاً ایک روایت میں حضرت ابوذر غفاریؓ بھی ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار ہونیکی صراحت کرتے ہیں۔ ( ابوداود: ۴۰۰۲)سائل موصوف کوان کے سفر حج اور سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قیام کے دوران کہیں گدھا نظر نہیں آیا ، اس کو انہوں نے اس چیز کی دلیل بنا لیا کہ سعودی عرب میں گدھا پایا ہی نہیں جاتا۔ اگر بکریوں ، دنبوں اوراونٹوں کی قربانی نہ ہوتی تویہ جانوربھی شہری علاقوں میں نظر نہ آتے۔ پھرکیا یہ چیز دلیل بن سکتی ہے کہ یہ جانور سعودی عرب میں نہیں پائے جاتے۔
کتاب میں لفظ ’ گدھا‘ کا استعمال انگریزی الفاظ ASSیا DONKEYکا ترجمہ کرکے نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ یہ عربی لفظ ’حمار‘ کا ترجمہ ہے۔ عربی زبان میں خچر کے لیے’ بغل‘ اور گدھے کے لیے ’حمار‘ کا لفظ آتاہے۔عہدِ نبوی میں یہ دونوں جانور پائے جاتے تھے اوردونوں سواری کے لیے مستعمل تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر پر بھی سواری کی ہے اورگدھے پر بھی۔ اس سے آپ کی بے ادبی کا پہلو نہیں نکلتا۔ کوئی چیز ہمارے عرف میں ناپسندیدہ ہو توضرور ی نہیں کہ دوسری جگہوں پر بھی اسے ناپسند یدہ سمجھا جاتا ہو۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے جوچیزیں فرض کی گئی ہیں ان میں سے ایک حج ہے۔ حج ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔ صاحبِ استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصارفِ سفر برداشت کرسکے اوراتنا مال چھوڑ کر جائے جواس کی واپسی تک اس کے زیر کفالتِ افراد کی ضرور یا ت کے لیے کافی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :وَلِلہِ عَلیَ النَّاسِ حِجّْ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا (آل عمران:۹۷)
’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جواس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔‘‘اگر کسی شخص نے حج پر قدرت کے باوجود حج نہیں کیا ، یہاں تک کہ وہ سفر سے معذور ہوگیا ، یا اس کا انتقال ہوگیا توحج بدل کے طور پر دوسرا شخص اس کی طرف سے حج کرسکتا ہے۔ایک عورت خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئی اوراس نے سوال کیا : میری ماں نے حج کرنے نذر مانی تھی ، لیکن وہ حج نہ کرسکی ،یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا ، کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا :ہاں اس کی طرف سے حج کرلو۔ ( بخاری: ۱۸۵۲، مسلم :۱۱۴۹)
لیکن اگر کسی شخص پر حج فرض ہو اوروہ اس کی ادائیگی پر قادر بھی ہو ، اس کے باوجود وہ خود حج نہ کرے ، بلکہ اپنی جگہ کسی اور کوبھیج دے تواس صاحبِ استطاعت شخص کا حج ادا نہ ہوگا اوروہ گنہ گار ہوگا

(رضی الاسلام ندوی)

جواب :ناک کے بال اکھاڑنا منع ہے، ناک، کان کے بال کاٹ سکتے ہیں۔ بھنووں کےیچ کے بال بڑے ہوں اور بدنما معلوم ہوں تو انھیں کاٹ سکتے ہیں۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :بہتر یہ ہے کہ مونچھیں قینچی وغیرہ سے نکالی جائیں اور اس قدر چھوٹی کردی جائے کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، باقی استرہ اور بلیڈ سے صاف کرنا بھی جائز ہے ، لیکن خلاف اولیٰ اور غیر بہتر ہے۔ استرہ سے صاف کرنے کے متعلق بدعت اور سنت دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں، اور جو فعل سنت وبدعت کے درمیان ہو اس کا ترک کرنا ہی بہترہے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اْن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔حضرت عمرؓ مونچھیں بڑی بڑی نہیں رکھتے تھے؛بلکہ ان کی مونچھیں بھی سنت کے مطابق چھوٹی ہواکرتی تھیں ؛البتہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال نہیں تراشتے تھے ،واضح رہے کہ حضرت کا یہ عمل جمیع صحابہ کا عمل نہ تھا اسی وجہ سے ان کی یہ خصوصیت بیان کی جاتی ہے ؛اس لیے بال کے اس حصے کو بھی تراش لینا بہتر ہے باقی اگر کوئی اس کو ترک کردے تو گنجائش ہے کہ حضرت عمر کے عمل سے ثابت ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :درزی کے پاس کٹنگ اور سلائی کے لیے جو کپڑے آتے ہیں ،وہ اس کے پاس امانت ہوتے ہیں ،وہ ان کپڑوں کا مالک نہیں ہوتا۔ اس لیے کٹنگ میں جو کپڑا بچ جائے یا تجربہ و مہارتِ فن سے بچالیا جائے ،اس کی واپسی ضروری ہے،اسے رکھ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ۔البتہ اگر کترن قسم کا معمولی کپڑا ہو، جسے مالک لوگ عام طور پر بیکار سمجھ کر چھوڑدیتے ہیں اور دلالتاً اسے رکھ لینے کی اجازت ہوتی ہے تو اسے واپس کرنا واجب وضروری نہیں۔
(۲): ہر گاہک کا بچا ہوا کپڑا، اس کے تیار شدہ کپڑے کے ساتھ رکھ دیا جائے، اس صورت میں اگر گاہک دیر سے آتا ہے، تب بھی اس کا بچا ہوا کپڑا تلاش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ، مالک کا پورا کپڑا بآسانی واپس کرنا ممکن ہوگا۔ اور اگر کپڑے کا مالک بچا ہوا کپڑا درزی کو دیدے کہ یہ آپ ہی رکھ لیں تو اس صورت میں درزی کے لیے وہ کپڑا بلا شبہ جائز ہوگا، وہ اپنی جس ضرورت میں چاہے، استعمال کرسکتا ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :لپ اسٹک میں اگر ناپاک چیز شامل نہ ہو تو عورتوں کے لیے اس کا لگانا جائز ہے؛ البتہ اگر لپ اسٹک تہہ دار ہوجس کی وجہ سے ہونٹوں تک پانی نہ پہنچ سکے، تو اس کو صاف کیے بغیر وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔
ناخن کاٹنا

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ناخن تراشنے کے لیے کوئی خاص دن کوئی خاص وقت اور کوئی مخصوص طریقہ مروی نہیں ہے، جب چاہے جس دن چاہے اور جس انگلی سے چاہے شروع کرسکتا ہے۔ اسی طرح ناخن تراشنے کا طریقہ بعض فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے، جو صرف بہتر ہے مسنون نہیں ہے۔ طریقہ یہ ہے: داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے کاٹتے ہوئے خنصر تک آئے، اور پھر بائیں ہاتھ کی خنصر سے کاٹتے ہوئے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر ختم کرے ۔جب کہ پیر کے اندر داہنے پیر کی خنصر سے شروع کرے اور بائیں پیر کی خنصر پر ختم کرے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ساس اور سسر مثل والد والدہ کے ہیں ان کا اسی طرح احترام کرنا چاہئے۔ ساس اور داماد میں پردہ نہیں ہے البتہ اگر ساس جوان ہو اور فتنہ کا اندیشہ ہو تو داماد کو خلوت میں ساس کے ساتھ رہنا نہیں چاہئے ۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :لباس کی کیفیات اور تفصیلات کے بارے میں قرآن وحدیث میں ہدایات نہیں ملتیں۔ دنیا میں ہرملک اور ہرقوم کا علیحدہ علیحدہ لباس ہے، البتہ یہ اصول ضرور بتایا گیا ہے کہ ایسا لباس جو کسی خاص قوم کا مذہبی یا قومی لباس ہو تو اسے اپنانا اور ان کی مشابہت اختیارکرنا مسلمانوں کے لیے منع کیا گیا ہے۔ کرتا، لنگی، پاجامہ پہننا، چادر اوڑھنا یہ سب جائز لباس ہے، کرتے کی کالر اور جیب کی تفصیلات احادیث میں نہیں ملتیں۔ اگر کسی کا ستر نماز کی حالت میں ایک چوتھائی یا اس سے زیادہ کھل گیا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔ پیچھے دیکھنے والوں کی نماز صحیح ہوگی۔ ان کی نماز میں کوئی فساد نہ ہوگا۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :اگر ساڑھی پہننے کا آپ کے علاقہ میں عام رواج ہے ، غیر مسلم اور مسلمان سب عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں تو وہاں ساڑھی پہننے میں مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ ساڑھی اس طرح پہنی جائے کہ اس سے پورا جسم چھپ جائے اور اس طرح کی ساڑھی پہن کر نماز پڑھنا بھی درست ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ختنہ کرانا سنت ہے، یہ مسلم کی پہچان ہے، افسوس ہے کہ ۲۵ سال کی عمر ہوگئی اور اب تک آپ نے ختنہ نہیں کرایا، ختنہ بالغ ہونے سے پہلے پہلے کرالینا چاہیے تھا۔ اب بالغ ہونے کے بعد کسی کے سامنے ستر کا کھولنا بھی حرام ہے۔ اور اب آپ لکھتے ہیں کہ مجھ میں ختنہ کرانے کی ہمت نہیں، آپ اس عمر میں ختنہ کرانے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتے، لہٰذا ایسے ہی غیرمختون رہنے دیجیے، آپ عقائد و اعمال کے اعتبار سے پکے اور صحیح ہیں تو آپ مسلمان ہیں، آپ کی مسلمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، البتہ ترک سنت کا گناہ ملے گا۔

(دارلافتاہ دوبند)

اندیشہ کی بنا پر قتل ناحق ؟
سوال:میں نے سورہ کہف پر آپ کا آرٹیکل پڑھا۔ بہت اچھا اور متاثر کن تھا۔ لیکن میرا ایک سوال ہے جو میں کافی دیر سے پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن کبھی موقع نہ مل سکا اس لیے آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ سورہ کہف میں بیان کردہ واقعہ کے مطابق جب حضرت خضر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان باتوں کی وضاحت کر رہے تھے تو کشتی کو عیب زدہ کرنے اور گرتی ہوئی دیوار کو (بلا معاوضہ) سیدھا کر دینے کی بنیاد حقائق پر مبنی تھی۔ لیکن جب انہوں نے ایک چھوٹے بچے کو جان سے مار ڈالا تو یہ انہوں نے ’’ محض خوف‘‘ کے تحت کیا نہ کہ کسی حقیقی واقعہ کے تحت۔ جب ہم کسی چیز سے ڈرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ہوجائے لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ وقوع پذیر ہی نہ ہو۔ خدا کا کوئی باغی بھی کسی بھی وقت توبہ کر کے خدا کی طرف لوٹ سکتا ہے اور ایک اچھا انسان اور خدا کا فرمانبردار بندہ بن سکتا ہے۔ یقینی طور پر اس مخصوص واقعہ میں ہم جانتے ہیں کہ حضرت خضر کو یہ حکم خدا کی طرف سے ہی دیا گیا تھا۔ لیکن جب بھی میں ان آیات پر پہنچتی ہوں تو یہ سوال میرے ذہن میں پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے وجدان پر کس حد تک اعتبار کر سکتے ہیں؟ اور مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خضر کے اس عمل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی حقیقت کارفرما تھی جو کہ ان آیات میں کہیں مخفی ہے اور میری ابھی اس تک رسائی نہیں ہوئی۔

جواب:دیکھیے اس معاملہ میں ہمیں دو چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔
۱۔ خضر ایک فرشتہ تھے اور انہوں نے جو بھی کیا اللہ تعالیٰ سے حکم ملنے کے بعد ہی کیا۔ لہٰذا ہم اپنے میں سے کسی کا بھی ان کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ یہاں استعمال ہونے والے الفاظ مثلاً ’’خشینا‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کا مطلب ’’ممکن ہے ‘‘یا ’’شاید‘‘ کے نہیں ہے بلکہ یہ ’’یقینی امور‘‘ پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ ’’عسٰی‘‘ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں۔ اس کا لغوی معنی ہے کہ ’’شائد‘‘ لیکن جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لیے استعمال فرماتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناًایسا کریں گے۔اصل میں یہ بادشاہوں کے کلام کرنے کا شاہانہ انداز ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہستی ہیں تو وہ ایسے اندازمیں کلام فرماتے ہیں۔
اس بات کو یاد رکھیے کہ یہاں پر خضر اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس سے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
ہمیں کس کی پیروی کرنا چاہیے؟
سوال:سرمیں آپ کی کتاب ’’تیسری روشنی‘‘ پڑھ رہی تھی کہ کیسے آپ نے تمام مکاتب فکر کا مطالعہ کیا اور آپ ماشاء4 اللہ سب کا ہی احترام کرتے ہیں۔میں آپ کی رائے سے مکمل اتفاق کرتی ہوں کہ ہمیں دوسروں کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں کہ دلوں کے حال صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں پھر ہمیں کس کی اتباع کرنی چاہیے؟ اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کون اس راستے کے زیادہ قریب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔
جواب ۔ہمیں صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اتباع کرنی چاہیے۔ آپ کی ہستی ہی اب رہتی دنیا تک دین کا تنہا مآخذ ہے۔ علماء اور دیگر تمام لوگ دین کے حوالے سے اپنے فہم کو بیان کریں گے۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کس کی دلیل مضبوط ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں علماء4 کے پیش کردہ دلائل کو دیکھنا ہے اور ان کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔ اگر وہ دلائل قرآن اور سنت کے مطابق ہیں تو ہم انہیں قبول کر لیں گے وگرنہ ہم انہیں رد کر دیں گے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ نجات کے لیے جو امور ضروری ہیں وہ ہمارے دین میں انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں ان پر عمل کرنے کے لیے کسی عالم کی ضرورت ہے اور نہ خود کو کسی فرقے سے جوڑنے کی حاجت ہے۔ مزید یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نجات کے لیے جو امور دینی تعلیم میں بیان ہوئے ہیں ان میں علماء کا کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

 

(ابو یحییٰ)

جواب:
آپ کا فکشن اور نان فکشن ناول نگاری کی اجازت کے حوالے سے جو سوال ہے تو اس میں اگر کوئی اخلاقی سبق موجود ہو تو ایسی کہانیاں لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر مصنف ہمیں واضح طو ر پر بتا بھی دے کہ کہانی فکشن پر مبنی ہے تواس کے سچ یا جھوٹ ہونے میں کوئی شبہ بھی باقی نہیں رہتا۔اسلام میں ایک بنیادی قانون ہے کہ دنیاوی معاملات میں ہر چیز کی اجازت ہے جب تک کہ یہ حرام ثابت نہ ہو جائے۔ اور قرآن و سنت میں ہمارے علم کی حد تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے اس طرح کی چیزوں کو حرام قرار دیا جا سکے۔دوسرے سوال میں آپ نے پوچھا کہ ناعمہ کو خواب کے ذریعے سے ہدایت ملی لیکن یہ ہر کسی کی حقیقی زندگی میں نہیں ہوتا۔ حقیقی زندگی میں ہدایت کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے پیغمبر اوراپنی کتابیں بھیجی ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود مداخلت فرمائی اور قرآن کے ذریعے سے ہم سے مخاطب ہوئے۔ یہ کیا کم عزت و شرف کی بات ہے کہ ہمارے پاس قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا کلام موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر ہدایت دی ہے اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں ان کے لیے جنت کی گارنٹی بھی ساتھ ہی دی ہے۔ قرآن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت ہی عظیم نعمت ہے، یہ دونوں جہانوں میں ہماری کامیابی کا فارمولا ہے مگر افسوس کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔اگر آپ کو قرآن کی ہدایت کے بارے میں مزید پڑھنا ہے تو میری کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کا مطالعہ کیجیے جس میں انہوں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکے۔ 

(ابو یحییٰ)

جواب:منافقت اس بات کا نام ہے کہ انسان دل سے ایمان کا منکر ہو لیکن اپنے ظاہر سے اس بات کا اظہار کرے کہ گویا وہ ایک مسلمان ہے۔ اگر عقلی طور پر اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں اور دل سے اس کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر آپ علانیہ طور پر اس کا اقرار بھی کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی شخص خود کو منافق سمجھے۔ دین کی تعلیم یا اعتقاد پر کسی قسم کا سوال پیدا ہونا یا عملی طور پر کسی کمزوری کا ظہور ہونا منافقت نہیں ہوتا۔منافقت کی بیماری وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان ظاہری طور پر تو اسلام کا اقرار کرنے پر مجبور ہوتا ہے، مگر دل سے وہ حق کا منکر ہوتا ہے۔ اس طرح کا شخص اپنی منافقت کو کوئی بیماری نہیں سمجھتا وہ اسے حالات کا تقاضا سمجھتا ہے۔ چنانچہ آپ کا یہ سوال درست نہیں ہے کہ مجھے منافقت کی بیماری لاحق ہو تو اس کا کیا علاج ہے۔ منافق کو اپنا رویہ کبھی بیماری محسوس نہیں ہوتا۔ہاں بعض روایات میں منافق کی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جیسے بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے وغیرہ۔ یہ اس دورکے منافقین کی عام علامات تھیں۔ مومن صادق میں اس طرح کی چیزوں کا کوئی امکان نہیں۔ اگر ہو تو اسے پوری قوت سے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ سچ بولے اور وعدہ پورا کرے۔یہ چیزیں ضعف ایمان کی علامت ہوتی ہیں۔ یہ منافقت میں اس وقت بدلتی ہیں جب آدمی پورے شعور سے اپنے غلط رویے کو درست سمجھے اور پھر اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے گناہوں کی تاویل کرنا شروع کر دے۔ یہ منافقت ہے، اس کا علاج سوائے توبہ کے کچھ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر

(ابو یحییٰ)

جواب ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں ایک ناول کے قالب میں چیزوں کو بیان کر رہا ہوں۔ ناول میں آپ کو مکالمات لکھنے ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر آپ شخصیات کو زیادہ بیان نہیں کرسکتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی کو بھی میں اگر بیان کرتا تو پھر مکالمات لکھنے پڑتے۔ اس معاملے میں چونکہ ہمارے ہاں لوگ بے حد حساس ہیں تو اس بات کا شدید اندیشہ ہوتا کہ کوئی فتنہ پرور کوئی فتنہ نہ پیدا کر دے اور اصل مقصد فوت ہو جائے۔ اس لیے میں نے اس سے احتراز کیا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ روز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت یا دیگر انبیا کی شخصیات نمایاں نہیں ہو گی۔ میں نے مرکزی کردار کا احوال لکھا ہے۔ اس لیے اس کو نمایاں کرنا پڑا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جو مقام انبیائے کرام کا ہے وہ تو قیامت ہی کے دن پوری طرح نمایاں ہو گا۔ امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
***

 

(ابو یحییٰ)

جواب : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَن صَلّٰی عَلٰی جَنَازٍَۃ فِی المَسجِدِ فَلَیسَ لَہْ شَئی (ابن ماجہ : ۷ا۸ا۔علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔) ’’جس شخص نے مسجدمیں نماز جنازہ پڑھی، اسے کچھ اجر نہیں ملے گا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی کے باہر ایک جگہ نماز جنازہ کے لیے متعین کردی گئی تھی۔ وہیں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ بہت سی احادیث میں اس کا تذکرہ موجودہے۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ جگہ مسجد نبوی سے متصل مشرقی جانب تھی۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ، المکتبہ السلفیہ ، ۳۰،۹۹ا)اس بنا پر بہتر یہ ہے کہ عام حالات میں سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے نماز جنازہ مسجد کے باہرادا کی جائے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں بعض مواقع پر مسجد میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
لَقَد صَلّٰی رَسْولْ اللہِ صَلّٰی اللہْ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابنَی بَیضَاءَ فِی المَسجِدِ(مسلم : ۹۷۳، ابوداؤد : ۸۹ا۳، ترمذی : ۰۳۳ا، نسائی : ۹۶۸ا)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں اداکی۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق اورحضرت عمر فاروق کی نماز جنازہ بھی مسجد میں ادا کی گئی۔ (مصنف عبدالر ز اق : ۶۵۷۶،موطا امام مالک : ۹۶۹)
اسی بنا پر امام بخاری نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا ہے : باب الصلاٰۃ علی الجنائز بالمصلیٰ وبالمسجد (اس چیز کا بیان کہ جنازہ گاہ اور مسجد دونوں جگہ نماز جنازہ اداکی جاسکتی ہے)
علامہ ناصر الدین البانی نے لکھا ہے : ’’مسجد میں نماز جناز ہ جائز ہے ( بہ طور دلیل انہوں نے کئی حدیثیں نقل کی ہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ مسجد سے باہر جنازہ گاہ میں ادا کی جائے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معمول تھا۔‘‘ (احکام الجنائز ، ص ۵۳۱)
فقہامیں امام شافعی اورامام احمدکے نزدیک اگر مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ نہ ہوتو وہاں نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک مسجد میں جنازہ کولے جانا مکروہ ہے ، البتہ اگروہ مسجد کے باہر رکھا ہو تومسجد میں موجودہ افراد اس کی نماز میں شریک ہوسکتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جس مسجد میں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے اس میں جنازہ کی نماز پڑھنی مکروہ ہے ، خواہ جنازہ اورنمازی دونوں مسجد میں ہوں ،یا جنازہ مسجد سے باہر اورنمازی مسجد کے اندر ہوں، یا جنازہ مسجد میں اور نمازی مسجد کے باہر ہو ں۔ البتہ بارش یا کسی دوسرے عذر کی بناپر مسجد میں نماز جنازہ بلا کراہت جائز ہے (الفتاویٰ الہندیۃ: ۱،۶۲ا فتاویٰ شامی :۱،۹ا۶۔)
اس موضوع پر تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: الموسوعۃالفقہیۃ کویت :۶ا،،۳۶۔۳۵

(ابو یحییٰ)

جواب: عہدِ جاہلیت میں نکاح کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ آدمی دوسرے سے کہتا تھا : تم اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے کردو ، میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تم سے کردوں گا اور دونوں کا مہر معاف ہوجائے گا۔ اسے ’نکاحِ شغار‘ کہاجاتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ نکاح سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’شغار سے منع کیا ہے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’اسلام میں ’شغار ‘ جائز نہیں ہے۔‘‘
بعض روایات میں ’ شغار‘ کا مطلب بھی بتایا گیا ہے:
’شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی سے دوسرے آدمی کا نکاح (اس شرط پر ) کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اوران میں سے کسی کے ذمے اپنی بیوی کا مہر نہ ہو۔‘‘
علامہ شوکانی نے’ نکاح شغار‘ کی دو علّتیں قرار دی ہیں: ایک یہ کہ اس میں ہر لڑکی کوحقِ مہر سے محروم کردیا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس میں ہر نکاح دوسرے نکاح سے مشروط اوراس پر موقوف ہوتا ہے۔ (نیل الاوطار)
اگراس طریقہ نکاح میں دونوں لڑکیوں کا مہر تو مقرر کیا گیا ہو، لیکن دونوں نکاح ایک دوسرے سے مشروط اورمعلّق ہوں توبھی وہ ناجائز ہوں گے۔روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے بیٹے عباس نے عبدالرحمن بن الحکم کی لڑکی سے اورعبدالرحمن نے عباس بن عبداللہ کی لڑکی سے نکاح کیا اور دونوں لڑکیوں کا مہر بھی مقرر کیا گیا ، لیکن حضرت معاویہ کواس نکاح کی خبر پہنچی توانہوں نے مدینہ کے گورنر حضرت مروان کولکھا کہ اس نکاح کوفسخ کردیا جائے ، اس لیے کہ یہ وہی نکاحِ شغار ہے ، جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے نکاح شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں اورتینوں کو ناجائز قرار دیا ہے : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کوبدلے میں اپنی لڑکی دے گا اوران میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے۔دوسرے یہ کہ شرط تووہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر مہر(مثلاً پچاس پچاس ہزار روپیہ )مقرر کیے جائیں اورمحض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے،دونوں لڑکیوں کوعملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو ، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔‘‘
بدلے کی شادیوں میں عموماً تلخی اورناخوش گواری کا اندیشہ رہتا ہے اوردونوں خاندانوں پر خانہ بربادی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔ مثلاً اگرایک خاندان میں شوہر نے جایا بے جابیوی کی پٹائی کردی یا دونوں کے درمیان تعلق میں خوش گواری باقی نہیں رہی یا اس نے طلاق دے دی تو دوسرے خاندان میں لڑکے پر اس کے والدین یا دوسرے رشتے دار دباؤ ڈالیں گے کہ وہ بھی لازماً وہی طرزِ عمل اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرے۔لیکن اگر دونوں رشتوں کی مستقل حیثیت ہو، دونوں لڑکیوں کا مہر طے کیا جائے اوران کوادا کیا جائے اورایک رشتہ کسی بھی حیثیت میں دوسرے رشتے کومتاثر کرنے والا نہ ہو تو ایسے رشتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب: سلام اسلام کا شعار ہے۔ حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’تم لوگ جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اورتمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر اسے کرنے لگو توتمہارے درمیان آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اپنے درمیان سلام کوعام کرو۔‘‘
علمانے بعض ایسے مواقع کی نشان دہی کی ہے جب سلام کرنا مناسب نہیں۔ مثلاً موذن ، نمازی، حالتِ احرام میں تلبیہ کہنے والے، تلاوتِ قرآن یا ذکر ودعا میں مشغول شخص کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ خطبہ جمعہ کے دوران جوشخص مسجد پہنچے اس کوبھی سلام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ خطبے کوخاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کھانا کھانے میں مصروف ہویا رفع حاجت کررہا ہوتواسے بھی سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان مواقع پر اگر کوئی شخص سلام کرلے توجس کوسلام کیا گیا ہے اس کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گز ر ا۔ اس وقت آپ پیشاب کررہے تھے۔ اس نے آپ کو سلام کیا ، مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ 
کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تواس کوسلام کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ کوئی شخص کسی مجلس میں جائے توسلام کرے۔‘‘
البتہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر پروگرام شروع ہوگیا ہو تواتنی زور سے سلام نہ کرے کہ تمام حاضرین کے انہماک میں داخل پڑے اور خطیب کاذہن بٹ جائے، بلکہ اتنے دھیرے سے سلام کرے کہ پیچھے بیٹھے ہوئے چند لوگ سن لیں۔ سب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں، بلکہ ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔
مجلس میں انگلیاں چٹخانے کی ممانعت میں کوئی حدیث مروی نہیں ہے ، لیکن اسے آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ خاص طور سے مسجد میں دورانِ نمازیا نماز سے باہر اسے مکروہ کہا گیا ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پہلومیں نماز ادا کی۔ دورانِ نماز میں نے انگلیاں چٹخائیں تو انہوں نے نماز کے بعد مجھے ڈانٹا۔
لفظ ’قلب‘ اوراس کے مترادفات

(ابو یحییٰ)

تحریکی سرگرمیاں شوہر کی اجازت
سوال :میراخاندان تحریکی ہے۔ میرے خسر محترم جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے ، میرے شوہر محترم بھی جماعت کے کارکن ہیں۔ میں بھی حتی المقدور جماعت کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہوں۔ ابھی حال میں میری رکنیت کی درخواست منظور ہوئی ہے۔ اس پر میرے شوہر نے ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت کے ذمہ دار کو رکنیت کی سفارش کرنے سے قبل ان سے ملاقات کرنی چاہئے تھی اوران سے اجازت حاصل کرنی ضروری تھی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں کا ’قوام ‘ بنایا ہے :الرِّجَالْ قَوَّامْونَ عَلیَ النِّسَاء۔ شوہر کی مرضی کے بغیر عورت کو گھر سے باہر جانے اورتحریکی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جماعت کے ذمہ دار کا رویہ عورت کو بے جا آزادی دینے کا ہے۔ اس سے ازدواجی تعلقات پر اثر پڑے گا اورگھر کے ماحول میں خواہ مخواہ ٹینشن پیداہوگا۔ ان باتوں سے میں ذہنی طورپر پریشان ہوگئی ہوں۔ بر اہ کرم میری رہ نمائی فرمائیں۔ میں کیا کروں؟

جواب: ہر مسلمان کی خواہ وہ مرد ہو یاعورت ذمہ داری ہے کہ وہ دین کافہم حاصل کرے، اس پر خود عمل کرے، پھر اللہ کے دوسرے بندوں تک اسے پہنچانے کی کوشش کرے۔ اہل ایمان سے مطلوب یہ ہے کہ اس کام میں وہ ایک دوسرے کاتعاون کریں:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ،زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناًاللہ سب پر غالب اورحکیم وداناہے۔‘‘(التوبہ: ا۷)ازدواجی زندگی میں شوہر بیوی کو بھی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دینی کاموں میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں اور اگر ایک سے کچھ کوتاہی ہو تو دوسرا اسے نرمی اورمحبت سے اس جانب توجہ دلائے۔ حدیث میں اس بات کو بہت لطیف پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ اس مرد پر رحم کرے جورات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو اٹھائے۔ اگروہ نہ اٹھے تواس کے منہ پر پانی کے چھینٹے دے۔ اللہ اس عورت پر رحم کرے جورات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو جگائے۔ اگروہ نہ اٹھے تواس کے منہ پر پانی کے چھینٹے دے۔‘‘
رحمتِ الٰہی کا یہ استحقاق صر ف نماز تہجد کے لیے خود اٹھنے اور دوسرے کواٹھانے تک محدود نہیں ہے ، بلکہ دین کے ہر کام میں اس طرح کا باہمی تعاون مطلوب ہے۔
جماعت اسلامی ہند امتِ مسلمہ کے تمام افراد کو خواہ وہ مرد ہوں یا خواتین اسی مشن میں لگانا چاہتی ہے۔ وہ ہر مسلمان مرد اورعورت سے کہتی ہے کہ سب سے پہلے وہ دین کا صحیح فہم حاصل کرے، یہ جانے کہ اللہ اور اس کے رسول نے کن کاموں کا حکم دیا ہے اور کن کاموں سے روکا ہے۔ مامورات پر عمل کرنے اور منہیات سے اجتناب کرنے کی کوشش کرے، آخر میں حسب توفیق اپنے پڑوسیوں ، اہل خاندان ، دیگر متعلقین اور عام افراد تک دین کی ان تعلیمات کو پہنچانے کی کوشش کرے۔ جولوگ جماعت کے اس مشن سے اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور اس کے بعض بنیادی کاموں میں شریک ہوتے ہیں، انھیں وہ متفق اور کارکن بناتی ہے اور جواس کے دستور اور پالیسی و پروگرام سے مکمل اتفاق ظاہر کرتے ہوئے اس کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں انھیں وہ اپنا رکن بنالیتی ہے۔جماعت کے ذمہ داروں سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ کسی خاتون کو جماعت کارکن بنانے سے قبل اس کے شوہر سے ملاقات کرکے اس کی اجازت حاصل کریں، غیر ضروری ہے۔ اس کے بجائے اس خاتون کو جماعت کی رکنیت کے لیے خود کو پیش کرنے سے قبل اپنے شوہر یاسرپرست کواعتماد میں لینا چاہیے اور اس کی رضا مندی کے بعد ہی یہ اقدام کرناچاہیے، تاکہ گھر میں خوش گوار فضا قائم رہے اورآئندہ اس کی عملی سرگرمیوں میں اہل خانہ کاتعاون حاصل رہے۔ اگر اس کے بغیر یہ اقدام کیا گیا تو اسی صورت حال کا اندیشہ ہے، جس کا اوپر سوال میں تذ کر ہ کیاگیاہے۔اس سلسلے میں ایک اورچیز کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے لیے شوہر یا سرپرست کی اجازت ضروری ہے۔ اگروہ منع کردے تواس کا باہر نکلنا جائز نہیں۔ عہد نبوی میں عورتیں فرض نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی جایا کرتی تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہروں کو مخاطب کرکے فرمایا :’تمہاری عورتیں جب تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں توانھیں منع نہ کرو‘‘
اس حدیث کا خطاب عورتوں سے بھی ہے اور مردوں سے بھی۔ عورتوں سے یہ کہ وہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے مردوں سے اجازت طلب کریں اوران کی اجازت کے بعد ہی نکلیں اورمردوں سے خطاب یہ کہ جب ان سے اجازت طلب کی جائے تومنع نہ کریں۔ اجازت طلب کرنے اور اجازت دینے کایہ معاملہ صرف فرض نمازوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام دینی ودنیاوی کاموں کے سلسلے میں ہے۔ تحریک سے باضابطہ وابستگی کے بعد گھر سے باہر کے تحریکی کاموں کی انجام دہی کے لیے عورت کا شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے اور اگر وہ کبھی اجازت نہ دے تو یہ معقول شرعی عذر ہے جسے ذمہ دارانِ جماعت کو قبول کرنا چاہیے۔ اب آپ جماعت کی رکن بن چکی ہیں۔ اجتماعات وغیرہ میں شرکت کے لیے گھر سے باہر جانا ہوتو شوہر محترم سے اجازت لے لیا کریں۔ وہ خود جماعت کے کارکن ہیں۔ ان کے دینی جذبے سے یہ توقع ہے کہ وہ بہ خوشی اجازت دے دیا کریں گے۔ واضح رہے کہ اجازت جس طرح صراحتاً ہوتی ہے اْسی طرح گھر میں جومعمول ہو وہ بھی اجازت ہی ہے۔
آخری بات یہ کہ دینی وتحریکی سرگرمیوں کی انجام دہی عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر موقوف نہیں ہے۔ وہ گھر میں رہتے ہوئے تبلیغ واشاعتِ دین کا بہت سے کام کرسکتی ہے۔ اپنے گھروالوں ، رشتہ داروں ، ملاقاتیوں وغیرہ کو دین کی باتیں بتاسکتی ہے۔ چھوٹے بچوں بچیوں کی دینی تعلیم کاانتظام کرسکتی ہے۔ جدید ترقی یافتہ وسائل نے توگھر بیٹھے کام کاوسیع میدان فراہم کردیاہے۔ فون، موبائل ، ای میل ، فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے بے شمار افراد سے رابطہ کیاجاسکتاہے اور ان تک دین کی باتیں پہنچائی جاسکتی ہیں۔

(ابو یحییٰ)

جواب :کسی خاتون کے وارثوں میں صرف اس کا شوہر اورایک بیٹا ہو تواس کے انتقال پر اس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی کہ شوہر کو اس کا ایک چوتھائی ملے گا اور بقیہ (تین چوتھائی) کامستحق اس کا بیٹا ہوگا۔ شوہر چاہے تواپنے حصے کا مالک بھی اپنے بیٹے کو بناسکتاہے۔
قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ نابالغ لڑکے کی جائیداد اور جملہ مملوکہ اشیا کی حفاظت و نگرانی اس کے بالغ ہونے تک اس کا ولی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کوپہنچ جائیں، پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاؤ توان کے مال ان کے حوالے کردو۔ا یسا کبھی نہ کرنا کہ حدِ انصاف سے تجاوزکرکے اس خوف سے ان کامال جلدی جلدی کھا جاؤکہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کامطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جوغریب ہو وہ معروف طریقے سے کھائے‘‘۔(النساء:۶)
اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ یتیم کا سرپرست اگرمال دار اور صاحبِ حیثیت ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس مال میں سے کچھ نہ کھائے، لیکن اگر غریب اور ضرورت مند ہو تواپنے حق الخدمت کے طورپر اس میں سے کچھ لے سکتاہے ، لیکن ضروری ہے کہ اس میں سے لینا معروف طریقے پر ہو، اتناہو کہ ایک غیر جانب دار آدمی بھی اسے مناسب خیال کرے۔
سوال میں جو حدیث پیش کی گئی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک بوڑھے شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی کہ میں نے اپنے بیٹے کوپال پوس کر بڑا کیا، اس کی ہرضرورت پوری کی، اس پر اپنا مال خرچ کیا۔ اب جب کہ میرے قویٰ مضمحل ہوگئے، میں کچھ کما نہیں سکتا، اپنے بیٹے کے مال میں سے کچھ لیتاہوں تووہ ناراضگی جتاتا ہے اور کہتاہے کہ میں اس کامال اڑا رہاہوں۔ آپ نے اس نوجوان کو بلا بھیجا۔ اس کے سامنے اس کے بوڑھے باپ کا دکھڑا پھرسنا(بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی باتیں سن کر آپ آب دیدہ ہوگئے) پھر آپ نے اس نوجوان کا گریبان پکڑا اور اسے اس کے باپ کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: اَنت وَمَالْکَ لِاَبِیکَ 
اس سے معلو م ہوتاہے کہ بیٹے کے مال میں باپ کابھی حق ہے۔ وہ اس میں سے حسبِ ضرورت اور معروف طریقے سے لے سکتاہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب:آدمی اپنا مال ضرورت مندوں میں خود بھی تقسیم کرسکتاہے اور کسی دوسرے کو بھی یہ ذمہ داری دے سکتاہے۔ جو شخص یہ ذمہ داری قبول کرلے اسے پوری امانت و دیانت کے ساتھ اسے انجام دینا چاہیے۔
جس شخص کو مذکورہ مال تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ، اس کے پاس یہ مال امانت ہے۔ بغیر اس کے مالک کی اجازت کے اس میں ادنیٰ سا تصرف بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ صاحبِ مال نے جن کاموں میں خرچ کرنے یا جن افراد کو دینے کی صراحت کی ہو، انہی میں مال خرچ کیاجائے۔ ذمہ داری لینے والے کو اپنے طورپر فیصلہ کرنے اور مدّات میں تبدیلی کرنے کاحق نہیں ہے۔اسی طرح اگر وہ ذمہ دار اس مال کومستحقین تک پہنچانے میں ٹال مٹول سے کام لے یا بلاوجہ تاخیر کرے تو یہ بھی خیانت ہے۔ وہ مال کا کچھ حصہ اپنے ذاتی کام میں استعمال کرلے، پھر کچھ عرصہ کے بعد اس کے پاس مال آجائے تو اسے بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کردے، اس صورت میں وہ مال میں خیانت کرنے کامرتکب تو نہ ہوگا، لیکن بغیر صاحبِ مال کی اجازت کے ، مستحقین تک اس کے پہنچانے میں تاخیر کرنے کا قصور وار ہوگا۔ اس لیے ایسا کرنے سے اجتناب کرناچاہیے۔اب اگر ایسی کوتاہی ہوگئی ہے تواستغفار اور آئندہ احتیاط کا عہد کرنا چاہیے۔
***

 

(ابو یحییٰ)

جواب:
ذات باری تعالیٰ حقیقی متصرف اور مسبب الاسباب ہے۔ ظاہری اسباب میں اثرانگیزی پیدا کرنے والی ذات بھی وہی ہے۔کسی چیز، دن، یا مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو بْرے انجام کا سبب قرار دینا غلط، بدشگونی، توہم پرستی اور قابل مذمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی بھی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نفع ونقصان کے اختیار کا سو فی صد یقین اللہ کی ذات سے ہونا چاہیے کہ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف اللہ الا ہو ، وان یردک بخیر فلا رآد لفضلہ یصیب بہ مں یشاء من عبادہ وہو الغفور الرحیم 
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
(سورۃ یونس، 10: 107)
سورۃشوریٰ میں ارشاد ہے:
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر 
اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اْس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔
الشّْورٰی، 42: 30
درج بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی وَقت، دن اور مہینہ بَرَکت و عظمت اور فضل والا تو ہوسکتا ہے، مگر کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں ہوسکتا۔ کسی دن کو نحوست کے ساتھ خاص کردینا درست نہیں، اس لیے کہ تمام دن اللہ نے پیدا کیے ہیں اور انسان ان دنوں میں افعال و اعمال کرتا ہے، سو ہر وہ دن مبارک ہے جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور ہروہ زمانہ انسان پر منحوس ہے جس میں وہ اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ کی معصیت اور گناہوں کی کثرت اللہ کو ناراض کرنے کاسبب ہے اور اس طرح گناہگار فی نفسہ منحوس ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کے سبب وہ اللہ کی امان سے نکل جاتا ہے اور مصائب و مشاکل سے مامون و محفوظ نہیں رہتا۔ درحقیقت اصل نْحوست گناہوں اور بداعمالیوں میں ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
لاَ عَدوَی، وَلاَ طیَرَۃَ، وَیْعجِبْنی الفَالْ، قَالْوا: وَمَا الفَالْ؟ قَالَ: کَلِمَۃ طیِّبَۃ
صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الطیر: 5776
’’چھوت لگناکوئی چیزنہیں اور بدشگونی (کی کوئی حقیقت) نہیں ہے، البتہ نیک فال مجھے پسندہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیعرض کیا: نیک فال کیا ہے؟ حضوراکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے اچھی بات سن لینا۔‘‘
اگر کوئی شخص گھر سے کہیں جانے کے لئے نکلا اور کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹ لیا، جسے اس نے اپنے حق میں منحوس جانا اور واپس پَلَٹ گیا یا یہ ذہن بنا لیا کہ اب مجھے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچ کر ہی رہے گا، تو یہ بدشگونی ہے جس کی اسلام میں مْمَانَعَت ہے۔ اگرگھر سے نکلتے ہی کسی نیک شخص سے ملاقات ہوگئی جسے اْس نے اپنے لئے باعث خیر سمجھا تو یہ نیک فالی کہلاتاہے اور یہ جائزہے۔
آپ اپنی سہولت کے ساتھ جس دن چاہیں کپڑے کاٹ سکتے ہیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

جواب:دین کا حکم یہ ہے کہ صلہ رحمی کرو۔ میری سمجھ کے مطابق یہ حکم اس اصرار کے ساتھ اور اس اہتمام کے ساتھ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس پر عمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض اوقات ناشکری اور حق تلفی کے رویے کے باعث اور بعض اوقات ظلم اور زیادتی کے سبب سے۔
آپ نے جو احوال لکھے ہیں کسی نہ کسی رنگ انداز اور سطح پر تقریبا تمام لوگ ہی اس تجربے سے گزرتے ہیں۔ جن کے ساتھ ہمارا تعلق ہوتا ہے ان سے ہماری بہت سی اچھی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کا رویہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ مزید برآں اگر ان سے کوئی زیادتی سامنے آرہی ہو تو ہماری تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اصولی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کرنا ہے۔ ان کی بے اعتنائی، نا شکری اور زیادتی کے باوجود۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے تین درجے ہو سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ آپ جس حد تک زیادتی ہوئی ہے اس کا بدلہ لے لیں اور تعلقات کو منقطع نہ کریں لیکن میل جول بھی نہ رکھیں۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو بس سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے دور رہیں۔
دوسرا یہ کہ آپ اس طرح کے رشتے داروں کے ساتھ صرف غمی اور خوشی کا تعلق رکھیں اور عام حالات میں ان سے میل ملاقات نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شدید ضرورت سامنے آجائے تو آپ مدد کرنے سے گریز نہ کریں۔
تیسرا یہ کہ آپ زیادتیوں کو نظر انداز کریں اور حسن سلوک اور مہربانی کا برتاؤ بھی جاری رکھیں۔
پہلا درجہ اختیار کرنے پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
دوسرا درجہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ نیکی کے مواقع ضائع نہیں ہوں گے۔
تیسرا درجہ فضیلت کا درجہ ہے۔ اللہ کی رضا زیادہ زیادہ حاصل کرنا پیش نظر ہو تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
علامہ طالب محسن

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

کج133 نمازِ عید کی نیت اس طرح کی جاتی ہے کہ میں دو رکعت نماز عیدالفطر یا عیدالاضحی واجب مع تکبیرات زائد کی نیت کرتا ہوں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 یہ سنت نہیں، محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے، اس کو دین کی بات سمجھنا، اور نہ کرنے والے کو لائقِ ملامت سمجھنا بدعت ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 قرآن و حدیث یا اکابر کے ارشادات سے اس خیال کی کوئی سند نہیں ملتی، اس لئے یہ خیال محض غلط اور توہم پرستی ہے، جمعہ بجائے خود عید ہے، اور اگر جمعہ کے دن عید بھی ہو تو گویا ’’عید میں عید‘‘ ہوگئی، خدا نہ کرے کہ کبھی عید بھی مسلمانوں کے لئے بھاری ہونے لگے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کے روز اگر عیدی کو اسلامی عبادت یا سنت نہیں سمجھا جاتا، محض خوشی کے اظہار کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب :سلام کہنا سنت ہے، اور اس کا جواب دینا واجب ہے، جو پہلے سلام کرے اس کو بیس نیکیاں ملتی ہیں اور جواب دینے والے کو دس۔ غیرمسلم کو ابتدا میں سلام نہ کہا جائے اور اگر وہ سلام کہے تو جواب میں صرف ‘‘وعلیکم’’ کہہ دیا جائے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: صحیح بخاری (ج:۲ ص:۶۲۹) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
‘‘علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم التشھد وکفّی بین کفّیہ‘‘ 
ترجمہ:مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔’’
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ‘‘باب المصافحۃ’’ کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل ‘‘باب الاخذ بالیدین’’ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رْوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے:
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اْلفت و محبت کا اظہار ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص:۸۹۱)
اور فطرتِ سلیمہ سے رْجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، اْلفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)


جواب:سلام اور مصافحہ ان لوگوں کے لئے مسنون ہے جو باہر سے مجلس میں آئیں۔ فجر و عصر کے بعد سلام اور مصافحہ کا جو رواج آپ نے لکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے یہاں اس کا معمول نہیں تھا، لہٰذا یہ رواج بدعت ہے۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

سوال:میں کئی مرتبہ اخبار ‘‘جنگ’’ میں ‘‘فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم’’ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والی حدیثوں میں ایک حدیث پڑھ چکا ہوں، جس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محفل میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرامؓ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسند فرمایا اور اپنے احترام کے لئے کھڑے ہونے کو منع فرمایا۔
اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آج کل کافی افراد اساتذہ یا بزرگوں یا پھر بڑے عہدوں پر فائز حکمراں افراد کے احترام میں کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں، حدیث مبارکہ کی حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں لیکن شاید ہم کم فہم لوگ اس کی تشریح صحیح نہ کرسکے ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرماکر اس بات کی مکمل وضاحت فرمائیں کہ آیا کسی بھی شخص (چاہے وہ والدین ہوں یا ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو) کے لئے (اس حدیث کی روشنی میں) کھڑا ہونا جائز نہیں؟ یا پھر اس حدیث شریف کا مفہوم کچھ اور ہے؟

جواب:یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک یہ کہ کسی کا یہ خواہش رکھنا کہ لوگ اس کے آنے پر کھڑے ہوا کریں، یہ متکبرین کا شیوہ ہے، اور حدیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ‘‘جس شخص کو اس بات سے مسرّت ہو کہ لوگ اس کے لئے سیدھے کھڑے ہوا کریں، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔’’
بعض متکبر افسران اپنے ماتحتوں کے لئے قانون بنادیتے ہیں کہ وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوا کریں، اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی شکایت ہوتی ہے، اس پر عتاب ہوتا ہے اور اس کی ترقی روک لی جاتی ہے، ایسے افسران بلاشبہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق ہیں کہ: ‘‘انہیں چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائیں۔’’
اور ایک یہ کہ کسی دوست، محبوب، بزرگ اور اپنے سے بڑے کے اکرام و محبت کے لئے لوگوں کا ازخود کھڑا ہونا، یہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمد پر کھڑے ہوجاتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے تھے اور ان کو اپنی جگہ بٹھاتے تھے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑی ہوجاتیں، آپ کا دست مبارک پکڑ کر چومتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۴) یہ قیام، قیامِ محبت تھا۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضراتِ انصار رضی اللہ عنہم سے فرمایاتھا۔
‘‘قوموا الٰی سیّدکم! متفق علیہ۔’’ 
یعنی اپنے سردار کی طرف کھڑے ہوجاو۔ یہ قیام اِکرام کے لئے تھا۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے ساتھ بیٹھے ہم سے گفتگو فرماتے تھے، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کے دولت کدے میں داخل نہ ہوجاتے۔ 
یہ قیام تعظیم و اِجلال کے لئے تھا، اس لئے مریدین کا مشائخ کے لئے، تلامذہ کا اساتذہ کے لئے اور ماتحتوں کا حکامِ بالا کے لئے کھڑا ہونا، اگر اس سے مقصود تعظیم و اِجلال یا محبت و اِکرام ہو تو مستحب ہے، مگر جس کے لئے لوگ کھڑے ہوتے ہوں اس کے دِل میں یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ کھڑے ہوں۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: آپ کی ٹریننگ کا یہ اْصول کہ سینٹر میں داخل ہوتے وقت یا باہر سے آنے والے اساتذہ وغیرہ کے سامنے رْکوع کی طرح جھکنا پڑتا ہے، شرعی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرتے وقت جھکنے کی ممانعت فرمائی ہے، چہ جائیکہ مستقل طور پر اساتذہ کی تعظیم کے لئے ان کے سامنے جھکنا اور رْکوع کرنا جائز ہو۔ حدیث شریف میں ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ‘‘ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے سامنے جھکنا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں!
مجوسیوں کے یہاں یہی طریقہ تھا کہ وہ بادشاہوں، امیروں اور افسروں کے سامنے جھکتے تھے، اسلام میں اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا۔ ٹریننگ کا مذکورہ اْصول اسلامی اَحکام کے منافی ہے، لہٰذا ذمہ دار حضرات کو چاہئے کہ وہ فوراً اس قانون کو ختم کریں۔ اگر وہ اسے ختم نہیں کرتے تو طلباء کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس سے انکار کریں، اس لئے کہ خدا کی ناراضی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب: وعلیکم السلام کہنے میں عار نہیں بلکہ جو شخص السلام علیکم کہنے میں پہل کرے، اس کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہنا واجب ہے۔ غلط رواج کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ اگر دونوں ایک ساتھ سلام کہہ دیں تو دونوں ایک دْوسرے کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہا کریں، اور اگر ایک پہلے ‘‘السلام علیکم’’ کہہ دے تو دْوسرا صرف ‘‘وعلیکم السلام’’ کہے۔

()

جواب: عیدین کا معانقہ کوئی دِینی، شرعی چیز تو ہے نہیں، محض اظہارِ خوشی کی ایک رسم ہے، اس کو سنت سمجھنا صحیح نہیں، اگر کوئی شخص اس کو کارِ ثواب سمجھے تو بلاشبہ بدعت ہے، لیکن اگر کارِ ثواب یا ضروری نہ سمجھا جائے محض ایک مسلمان کی دِلجوئی کے لئے یہ رسم ادا کی جائے تو اْمید ہے گناہ نہ ہوگا۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب:عید کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا محض ایک رواجی چیز ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، اس لئے اس کو دِین کی بات سمجھنا بدعت ہے، لوگ اس دن گلے ملنے کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اس رواج پر عمل نہ کرے تو اس کو بْرا سمجھتے ہیں، اس لئے یہ رسم لائقِ ترک ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب:بڑے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونا جائز ہے، مگر بڑے کو دِل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں، اس حدیثِ پاک کا یہی محمل ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

ج: آپ فرض نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن اور استغفار کی کثرت کا اہتمام کریں، گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کریں اور درج ذیل اعمال بھی کریں، ان شاء اللہ کوئی آپ کا اور گھر والوں کا بال بیکا نہیں کر سکے گا: 1۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے " منزل" کے نام مختلف قرآنی دعاؤں پر مشتمل مختصر سا رسالہ مرتب کیا ہے، جو بازار میں عام ملتا ہے، روزانہ ایک بار ان آیات کا پڑھ لیں اور اسے اپنی زندگی کا معمول بنالیں. 2۔ یہ دو دعائیں کثرت سے پڑھیں : حَسبْنَا اللہْ وَنِعمَ الوَکِیل نِعمَ المَولیٰ وَنِعمَ النَّصِیر اور اللھم استْر عَورَاتِنَا وآمِن رَوعَاتِنَا.
پڑھتے وقت ان کاترجمہ ذہن میں رکھیں اور دعا کی طرح اللہ کریم سے مانگیں۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج : واضح رہے کہ بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے جستجو پسندیدہ عمل نہیں۔بچے کی جنس جو بھی ہو وہ دنیا میں آکر ہی رہے گا اور اگر جنس معلوم کرنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ کرایا جائے اور اس کے لیئے ستر کھولنا پڑے تو یہ ناجائز عمل ہے ۔رہی سورہ لقمان کی آیت نمبر ۳۴ ،جس میں ارشاد باری تعالی ہے: ویعلم ما فی الارحام کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے، آیت سے مراد بچہ کی جنس کا علم نہیں بلکہ آیت غیبی امور پر دلالت کرتی ہے۔بچے کے غیبی امور یہ ہیں، ماں کے پیٹ میں کتنی مدت رہے گا، اس کی زندگی کتنی ہے، عمل کیسے ہوں گے، رزق کتنا ہوگا، نیک بخت ہے یا بدبخت، اور تخلیق مکمل ہونے سے پہلے بچہ ہے یا بچی۔ لیکن خلقت مکمل ہوجانے کے بعد یہ پتہ چل جانا آیا وہ بچہ ہے یا بچی تو یہ علم غیب میں سے نہیں کیونکہ اس کی خلقت مکمل ہوجانے کے بعد یہ علم ، علم الشہادۃ میں آچکا ہے۔واللہ اعلم۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج : آپ کے والد نے اپنی زندگی میں آپ کی شادی پر جو کچھ روپیہ پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کیاتھا، بطور ادھار یا قرض نہیں دیا تھا،اس کا لوٹانا آپ کے ذمے نہیں ہے، اسی طرح جو زیور بنا کر آپ کو ان کا مالک بنا دیا ہے، آپ ان کے مالک ہیں اور ان میں آپ کی والدہ یا آپ کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج : مذکورہ معاملے کاتعلق باہمی معاہدے سے ہے اس لیے جو معاہدہ ہواہو اسی کے مطابق عمل درآمدکرنا چاہیے۔اگر کوئی معاہدہ نہ ہوتو اسکولوں کے رواج کے مطابق اگر فیس لی جاتی ہے تو ادائیگی واجب ہے۔فقط واللہ اعلم

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب ۔اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ’’خدا‘‘ کا استعمال جائز ہے۔ اور صدیوں سے اکابر دین اس کو استعمال کرتے آئے ہیں۔ اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ اب کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔ انہیں بالکل سیدھی سادی چیزوں میں ’’عجمی سازش‘‘ نظر آتی ہے، یہ ذہن غلام احمد پرویز اور اس کے ہمنواؤں نے پیدا کیا۔ اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہوگئے۔ اسی کا شاخسانہ یہ بحث ہے جو آپ نے لکھی ہے۔ عربی میں لفظ رب ،مالک اور صاحب کے معنیٰ میں ہے۔ اسی کا ترجمہ فارسی میں لفظ’’خدا‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جس طرح لفظ ’’رب‘‘ کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا اسی طرح لفظ ’’خدا‘‘ جب بھی مطلق بولاجائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پرہوتاہے۔ کسی دوسرے کو ’’خدا‘‘ کہنا جائز نہیں۔
’’اللہ‘‘ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے۔ جس کا نہ کوئی ترجمہ ہوسکتاہے نہ کیا جاتاہے۔ دوسرے اسمائے الہٰیہ ’’صفاتی نام‘‘ ہیں جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوسکتاہے۔ اور ہوتاہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی بابرکت نام کا ترجمہ غیر عربی میں کردیا جائے۔ اور اہل زبان اس کو استعمال کرنے لگیں تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اور جب لفظ ’’خدا‘‘’’صاحب‘‘اور ’’مالک‘‘ کے معنی میں ہے۔ اور لفظ’’رب‘‘ کے مفہوم کی ترجمانی کرتاہے تو آپ ہی بتائیے کہ اس میں مجوسیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا۔ کیا انگریزی میں لفظ ’’رب‘‘ کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جائیگا؟ اور کیا اس ترجمہ کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائے گا؟ افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کی پوری تاریخ سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ ایسی خودرائی سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :صورت مسؤلہ میں کمرشل پلاٹ چونکہ حکومت کی ملکیت میں ہے لہٰذاآپ کے لیے صرف اپنا مکان بیچنا جائز ہے، کمرشل پلاٹ کو فروخت کرنا درست نہیں ہے۔ اور جو رقم بچوں نے کمرشل پلاٹ کی تعمیر میں لگائی ہے وہ چونکہ حکومت کی اجازت کے بغیر لگائی ہے ،لہٰذا اب وہ اس رقم کا تقاضا اور مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :صورت مسؤلہ میں مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلاجس میں داخل ہونیکے لیے ایک ہی دروازہ ہوتاہے اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کے دوران جودعائیں پڑھی جاتی ہیں وہ نہ پڑھی جائے کیونکہ یہ بیت الخلامیں پڑھنا شمارہوگااوربیت الخلا میں اذکار پڑھنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:1۔ بچوں کا پیشاب، پاخانہ دھلانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ 
2۔ اولاً تو اتنے چھوٹے بچوں کو جو مسجد اور نماز کے آداب سے واقف نہ ہوں مسجد لے جانا منع ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صراحۃً اس سے منع فرمایا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی پیمپر پہنے بچے کو گود میں اٹھا کر نماز پڑھتا ہے جب کہ اس پیمپر کے ناپاک ہونے کا یقین یا قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں کراہت کے ساتھ نماز ہوجائے گی۔ 

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :جو نام خلاف شرع ہوں مثلاً معنی اس کا نامناسب ہو جیسے عاصیہ(گناہ گار) یا عجب اور خودرائی وغیرہ کا اظہار اس سے ہوتا ہو، جیسے برّہ (نیکوکار) تو اس طرح کے ناموں کا بدلنا احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ وہ نام جن کا معنی اچھا ہو تو کشیدگی اور بیماریوں سے بچنے کے لیے ان کا بدلنا درست نہیں، بلکہ توہم پرستی میں داخل ہے۔ صورت مسؤلہ میں سائل کے بچوں کے نام محمد عبد الرحمٰن اور آمنہ بھی اچھے اور پسندیدہ نام ہیں ان کو بدلنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بعد کے تجویز کردہ دونوں نام صحیح اور بابرکت ہیں لیکن اس تبدیلی کا جو مقصد ہے وہ توھم پرستی معلوم ہوتا ہے، اس پر توبہ و استغفار کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس قسم کے فیصلے کرنے سے پہلے استفسار کیا جائے، نہ کہ بعد میں۔***

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)