شریعت

جواب :مروجہ تبلیغی جماعت میں جانا نہ تو فرض ہے نہ واجب نہ سنت، بلکہ یہ عمل مْباح ہے اگر کوئی جائے اور دینی محنت کرے وہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا، اور اگر کوئی نہیں گیا تو اللہ کے یہاں اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی، جو شخص یہ کہتا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت میں چلنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص پوری زندگی جماعت میں نہیں نکلا تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔
 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :آپ کا سوال مکمل واضح نہیں ہے، بظاہر جو مفہوم سمجھ میںآ تا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں لکھی جاتی ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا ہرچز پر قادر ہونا ایک مستقل عقیدہ ہے؛ لیکن کسی چیز پر قدرت ہونے کے لیے اس کا صادر ہونا لازم نہیں ہے، قدرت اللہ کی صفت کمال ہے،اس کے بغیر عجز لازم آتا ہے، جو الوہیت کے منافی ہے اور کسی ایسی چیز کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے صادر ہونا جو اس کی شایانِ شان نہ ہو، یہ عیب اور نقص ہے، اس لیے اجمالاً بس اتنا عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے؛ لیکن قدرت کے لیے فعل کا صادر ہونا ضروری نہیں ہوتا، لہٰذا قدرت کی نفی جیسے کفر ہے، اسی طرح عیب اور اس کی شان کے خلاف کسی فعل کے صدور کا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے، لہٰذا جو شخص صدورِ کذب کا قائل ہوگا وہ کافر ہوگا۔
(۲) اللہ تعالیٰ جگہ اورمکان سے منزہ وبالاتر ہے وہ کسی مکان میں محدود نہیں ہے، اس کو کسی مکان کے ساتھ مختص کرنا کفر ہے۔ اور نصوص میں جو عرش کی بات آئی ہے، اس سے مراد عرش پر اس کا خاص تسلط اور استیلاء ہے جس کی کیفیت وہی خوب جانتا ہے وہ اپنے علم کے اعتبار سے ہرچیز کو محیط ہے۔
(۳) نصوص میں اللہ تعالیٰ کے لیے جو اعضا وغیرہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا تو ان کو مخلوق جیسے اعضاء سے تشبیہ کی نفی کرتے ہوئے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا اور اس کی حقیقت کا علم اللہ کے حوالے کیا جائے گا اور یا ان کی تاویل کی جائے گی، مثلاً ید سے مراد اللہ کی قدرت ہوگی۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:(1) انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی عصمت پر اجماع امت ہے۔ تمام انبیا 4 کفر و شرک، کبائر و صغائر سے پاک ہیں۔
(2) جی ہاں صحابہ کرام معیار حق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال حق و باطل کی کسوٹی ہیں، ان حضرات نے جو فرمایا یا جو دینی کام کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ، حجت اور ذریعہ فلاح ہیں۔ 
(3) انبیا علیہم السلام کی عصمت اور صحابہ کرام کا معیارِ حق ہونا اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسائل میں سے ہے، ان میں سے کسی ایک چیز کا منکر اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب: استواعلی العرش اور دیگر صفات متشابہات کے بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے، یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت اور شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے ؛ البتہ جہت ومکان کا اللہ تعالی کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت ومکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ وعالی ہے‘‘۔
***

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:اللہ تعالیٰ نے نبوت کا ادارہ ایک خاص مقصد کے لیے بنایا ہے۔ وہ مقصد یہ ہے کہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک بے کم و کاست پہنچ جائے۔ یہ پیغام عام طور پر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ہوتا اور وہ اسے سننا ہی نہیں چاہتے۔ اب اللہ تعالیٰ کو اس کار عظیم کے لیے انسانوں میں سے ہی افراد کا انتخاب کرنا تھا۔ دوسری طرف عام انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے جو دنیا بنائی ہے اس میں ان طبقات کو (جن کا ذکر سوال میں کیا گیا ہے) ہمیشہ کمزور سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ اس پس منظر میں یہ ضروری تھا کہ نبی اس شخص کو بنایا جائے جس کے مقام اور حیثیت کی بنا پر لوگ اس کی بات سننے پر آمادہ تو ہو جائیں۔ اگر یہ منصب کسی کمزور طبقے کے فرد کو دیا جاتا تو کوئی اس کی بات ہی نہ سنتا۔ جس کے نتیجے میں وہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہی نہ ہو پاتا جس کے لیے نبوت کا ادارہ بنایا گیا ہے۔
اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ فوجیوں کو جنگوں میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے جسمانی طور پر بہترین فٹنس کے لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اب ایک شخص یہ اعتراض کرے کہ فوج میں معذوروں کو نہ لینا عدل کے خلاف یا معذوری کے خلاف امتیازی سلوک ہے تو یہ اعتراض درست نہیں ہوگا۔ فوج کا میرٹ اور عدل ہی یہ ہے کہ وہاں جسمانی طور پر فٹ لوگ لیے جائیں۔
مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی سماج میں رائج انھی امتیازات کے خاتمے کے لیے انبیاء کو بھیجا ہے۔ ان کی تعلیم ہی یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ کل قیامت کی اصل زندگی میں یہ لوگ ہی ہیں جو سب سے زیادہ مقام پائیں گے۔ ہاں آج کی امتحان کی دنیا میں کوئی چھوٹا ہے اور کوئی بڑا، کوئی طاقتور ہے کوئی کمزور، کوئی مرد ہے اور کوئی عورت۔ لیکن یہ سب امتحان کے لیے ہے نہ کہ خدا کا ابدی فیصلہ۔ اس کا ابدی فیصلہ کل قیامت کے دن ظاہر ہو گا اور وہاں وہ عزت پائے گا جو تقوی والا ہوگا۔امید ہے بات واضح ہوگئی ہوگی۔
عورتوں کو ماہواری کی تکلیف کیوں
آپ کے طویل ای میل میں مرکزی سوال ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ہر ماہ ما ہواری کے ایام اور زچگی کی تکلیف میں کیوں ڈالا۔ پھر یہ کہ اس تکلیف میں جسمانی طور پر ڈالنے کے ساتھ نماز روزہ نہ کرنے کا حکم دے کر اسے ایک روحانی اذیت میں بھی ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا۔ جبکہ وہ اس کے بغیر بھی پورا نظام بنا سکتے تھے۔
اس بات کے جواب میں پہلی اور اصولی بات یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورتوں کو دی گئی کوئی سزا نہیں ہے۔جس طرح کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہورہا ہے۔ نہ ہی یہ بات ہے کہ اللہ نے صرف عورتوں پر مشقت ڈالی ہے اور مرد کوئی ان کے لاڈلے ہیں ان کو ہر طرح کی مشقت سے بری رکھا ہے۔دیکھیے یہ نسوانی تکالیف اس مجموعی خدائی ا سکیم کا حصہ ہیں جس کے تحت امتحان کی اس دنیا میں کوئی نہ کوئی تکلیف ہر کسی کو لاحق ہوتی ہے۔ عورتوں کو اگر ایام و زچگی کی تکلیف لگی ہے تو مردوں کو ہر دور میں اپنے خاندان کی کفالت اور ان کی حفاظت کے لیے زبردست جسمانی اور ذہنی مشقت جھیلنے کی مشقت لگادی گئی ہے انھی مشقتوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ان کی اوسط عمر عورتوں سے ہمیشہ کم رہی ہے۔ ساتھ ساتھ وہ جان جانے ، زخمی ہوجانے ، حادثات کا شکار ہوجانے جیسے اندیشوں سے نہ صرف دوچار رہتے ہیں بلکہ تازیست عورتوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ، زیادہ درد اور زیادہ اسٹریس برداشت کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ جو مرد اس مشقت کو مشقت سمجھتے ہیں ، ان کی زندگی عذاب بنی رہتی ہے مگر جو مرد اسے خدائی اسکیم کا حصہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اس لیے اصل مسئلہ انداز فکر کا ہے ، خدائی نظا م میں کسی خامی یا کمزوری کا نہیں۔ اگر حیض و زچگی کے مراحل ایسے ہی ناقابل برداشت اور تکلیف دہ ہوتے تو اس دنیا میں کوئی خاتون زندہ نہ ہوتی اور سب اس تکلیف کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو چکی ہوتیں۔تاہم اس کے باوجود ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے ؟ کیا ساری تکالیف ختم کر دی جائیں ؟ایسا ہوا تو پھرآپ کا امتحان بھی نہیں رہے گا۔ اور امتحان نہیں تو پھر جنت ملنے کا امکان بھی نہیں رہے گا۔
آپ کے سوال سے دوسری بات یہ عیاں ہے کہ آپ انسانی سماج میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے غیرمساویانہ سلوک پر ناخوش ہیں۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ یہاں بارہا خواتین کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے۔ مگر اس میں اصل قصور انسانوں کا ہے۔ انسان ہر کمزور کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔خود خواتین بھی جب طاقت کے مقام پر آتی ہیں تو دوسرے کمزوروں کے ساتھ اکثر یہی سلوک کرتی ہیں۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دنیا بنا کر ایسے ہی لوگوں کو ڈھونڈرہے ہیں جو اختیار کے باوجود زیادتی نہ کریں اور جن پر زیادتی ہو وہ منفی سوچ کا شکار ہونے کے بجائے صبر سے کام لیں۔ چنانچہ دنیا کی اس خرابی میں بھی یہی حکمت ہے کہ اس خرابی کے بغیر وہ اعلیٰ انسان نہیں مل سکتے جو جنت میں بسائے
جائیں جہاں کوئی حیض ہو گا نہ دیگر تکالیف۔ آپ کے سوال کا یہ پہلو بھی جواب طلب ہے کہ خواتین کو اس میں نماز روزہ سے کیوں منع کیا گیا ہے۔دیکھیے یہ ہدایت ایک ڈسپلن کا حصہ ہے۔ لیکن اس ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے بھی خواتین خود کو روحانی طور پر اللہ سے قریب کرسکتی ہیں۔ سب سے بڑ ی اور بنیادی عبادت اللہ کی یادہے۔ اس پران دنوں میں کس نے پابندی لگارکھی ہے۔ اللہ کو یاد کرتی رہیں آپ کی روحانیت بالکل اسی سطح پر رہے گی۔خلاصہ یہ ہے کہ ہم جس امتحان میں ہیں اس میں ہر طرح کے حالات میں ہم کو اپنے انداز فکر کو درست رکھنا ہے۔ ایسا کریں گے تو ہمیں کوئی چیز خراب نہیں لگے گی۔ انداز فکر منفی کر لیں گے تو کوئی چیز بھی ہمیں ٹھیک نہیں لگے گی۔
آخر میں ایک واقعہ سن لیجیے جس میں اس طرح کے سارے سوالات کا جواب اللہ کے ایک جلیل القدر نبی حضرت عیسیٰ نے دے دیا تھا۔ ان سے ایک دفعہ شیطان نے اسی نوعیت کا ایک سوال کیا تھا۔ یعنی خدا تو جو چاہے کرسکتا ہے آپ خدا سے بات کر کے اس سے اپنی مرضی کا معاملہ کیوں نہیں کراتے۔ آنجناب نے جو جواب دیا اسے یاد کر لیجیے۔ یہ ہر مسئلے کی کنجی ہے۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ خدا نے یہ دنیا ہمارے امتحان کے لیے بنائی ہے۔ اس لیے نہیں بنائی کہ ہم خدا کی حکمت اور قدرت کو چیلنج کر کے خداکا امتحان لینا شروع کر دیں۔

(ابو یحییٰ)

عزت و شرف کا معیار اور بزرگوں کے ہاتھ چومنا
سوال:سر مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا کوئی صرف بزرگ ہستیوں کے گھر میں پیدا ہو جانے سے لوگوں کے لیے عزت و شرف کا باعث بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ سید گھرانے میں پیدا ہو جائے تو وہ بچہ دوسرے مسلمانوں سے کسی برتر درجے پر فائز ہو گا؟ اسی طرح اگر کوئی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان سے نسبت رکھتا ہو تو کیا صرف نسبت کی بنا پر اسے دوسرے مسلمانوں پر کوئی درجہ و فضیلت حاصل ہو گی؟اگر ہاں، تو یہ برہمنیت سے کیسے مختلف ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بیان کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ’’ اے فاطمہ! خود کو جہنم کی آگ سے بچانا، اگر اللہ پاک نے پکڑ لیا تو میں کچھ کام نہ آ سکوں گا‘‘تو اس کا کیا مطلب ہو گا ؟ اور اسی طرح:’’ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔‘‘کا کیا مطلب ہو گا؟اور اگر نہیں تو پھر قرآن پاک میں سورۃ الاحزاب آیت 32 میں نبی کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ
’’ لستن کاحد من النسا‘‘
یعنی تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اس کا کیا مطلب ہے۔ براہِ کرم ذرا وضاحت فرما دیجیے۔اور ازراہِ کرم اس بات کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کسی حقیقی فضیلت کی بنا پر جیسے والدین یا عام لوگوں میں مشہور متقی لوگ مثلاً عرف عام میں پیر صاحبان وغیرہ کے ہاتھوں یا پاؤں کو عقیدت سے چومنا کیسا ہے۔

جواب:ہمارے دین میں کسی شخص کو اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل ہے اس کا فیصلہ قرآن کریم اپنے نزول کے وقت ہی کر چکا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو‘‘ (الحجرات 13:49)
اس بات کو مزید سمجھنا ہو تو قرآن مجید میں بیان ہونے والی بنی اسرائیل کی داستان پڑھیے۔ وہ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے متعدد جلیل القدر انبیا کی اولاد تھے۔ مگر کیا اس سے کوئی فرق پڑا۔ ہرگز نہیں اللہ نے ان سے ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کیا اور جب ان کے اعمال بگڑے تو ان پر لعنت کر دی گئی۔خود حضور کو دیکھ لیجیے۔ ابو لہب کا رشتہ حضور سے سگے چچا کا تھا، مگر وہ بھی اس کے کام نہ آیا۔ اس کا انجام سورہ لہب میں پڑھ لیں۔قرآن کی طرح حدیث میں بھی کوئی ایسی بات ہرگز نہیں بیان ہوئی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ کسی خاندان سے نسبت انسان کو دوسروں پر شرف اور برتری دے دیتی ہے۔ کچھ احادیث آپ ہی نے نقل کر دی ہیں، ان کے علاوہ خطبہ حجۃ الوداع سے متعلق ایک روایت میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
رہی سورہ احزاب کی آیت کی بات تو یہ فضیلت کا نہیں ذمہ داری کا معاملہ تھا۔ یعنی حضور کی ازواج کا معاملہ اور ان کی ذات کی حساسیت عام خواتین کی طرح نہ تھی۔ بلکہ ان کے حوالے سے کوئی الزام لگایا جاتا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا تو اس سے خود حضور کی ذات اور شخصیت کا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔ اس لیے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے گئے تاکہ منافقین کو کسی طرح کی فتنہ انگیزی کا ذریعہ نہ مل سکے۔ آپ کا نقل کردہ جملہ اسی پس منظر کا ہے۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کسی خاندانی فضیلت کا بیان نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منصب کی بنا پر عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں، اسی طرح ان کی ازواج بحیثیت اہل خانہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان پر لگی ہوئی کسی بھی تہمت سے آپ کا متاثر ہونا لازمی ہے۔
باقی ہاتھ پاؤں چومنے کا جو معاملہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ اظہار عقیدت کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان محبت میں اپنے فطری جذبات کے اظہار کے لیے ماں یا باپ کے ہاتھ چوم لیتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مذہبی لوگوں سے اس طرح کی عقیدت اکثرخرابی کا سبب بنتی ہے۔ اس سے بچنا بہتر ہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب:اللہ تعالیٰ اصلاً ایک رحمان و رحیم ہستی ہیں۔ ان کا یہی تعارف قرآن مجید کراتا ہے۔ یہی تعارف سورہ فاتحہ میں ہے جو ہر نماز کا لازمی جز ہے۔ یہی ہر سورت کے آغاز پر اللہ کا تعارف لکھا ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے۔ باقی رہا وہ سوال جو آپ نے اٹھایا تو اللہ کا یہ منفی تصور کہ وہ صرف لوگوں کو جہنم میں بھیجے گا اس وجہ سے عام ہو گیا ہے کہ لوگ قرآن مجید کو درست پیرائے میں نہیں پڑھتے۔ جہنم کفر اور سرکشی کی سزا ہے۔ قرآن مجید میں جو لوگ زیر بحث ہیں وہ عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ میں سے وہ کفار اور سرکش لوگ ہیں جنھوں نے حق کو جھٹلا دیا تھا۔ جس کے بعد ان پر سزا لازم ہوگئی تھی۔ جہنم کا جو ذکر قرآن مجید میں ہے وہ انھی لوگوں کے حوالے سے ہے۔ باقی لوگوں کا فیصلہ اللہ قیامت کے دن کریں گے۔ اگر کوئی شخص آج بھی سرکش، متکبر اور بڑے جرائم کا مرتکب ہے تو وہ یہ سزا پائے گا لیکن عام لوگ بالعموم ایسے نہیں ہوتے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید اس طرح کی سزا کا تصور نہیں دیتا۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ بڑ ے کریم و حلیم ہیں۔ خاص کر جو لوگ اپنے گنا ہوں کے احساس میں جیتے ہوں ان کے لیے تو وہ بہت کریم غفور اور ودود ثابت ہوتے ہیں۔ 

(ابو یحییٰ)

بغیرغسل کے میت کی تدفین
سوال (۱): ہمارے یہاں ایک صاحب شوگر کے مریض تھے، جس کی وجہ سے ان کا ایک پیر پوری طرح سڑگیا تھا اوراس میں کیڑے پڑگئے تھے۔ ان کاانتقال ہوا تو ڈاکٹروں نے تاکید کی کہ نہلاتے وقت ان کا پیر نہ کھولا جائے اوراس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ کر غسل دیا جائے۔جب میت کوغسل دیا جانے لگا تولوگوں میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پورے بدن پر پانی پہنچانا فرض ہے۔ میت پر پانی ڈالنے سے کیا نقصان ہوگا۔ لیکن گھر والوں نے ڈاکٹروں کی بات مانتے ہوئے پیر میں جہاں زخم تھا اس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ دی اوربدن کے بقیہ حصے پر پانی بہایا گیا جس طرح غسل دیا جاتا ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میت کے کسی عضومیں زخم ہونے کی وجہ سے اگراس حصے پر پانی نہ بہایا جائے توغسل ہوجائیگا؟
سوال (۲): ایک صاحب کا بری طرح ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ان کا سر بالکل کچل گیا اوربدن کے دوسرے حصوں پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ ان کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ اس کے بعد نعش کو ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ میت کوغسل دینے میں زحمت محسوس ہورہی ہے۔ کیا بغیر غسل دیے تکفین وتدفین کی جاسکتی ہے؟ سنا ہے کہ شہداء کوبغیر غسل دیے دفنایا جاسکتا تھا۔ کیا ایکسیڈنٹ میں مرنے والے کوشہید مان کراسے بغیر غسل دیے نہیں دفن کیا جاسکتا؟

جواب: اصطلاح شریعت میں’ شہید‘اس شخص کو کہا جاتا ہے جوراہِ خدا میں جنگ کرتے ہوئے مارا جائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اسے غسل نہیں دیا جائے گا۔ غزو ہ احد کے موقع پر جو مسلمان شہید ہوگئے تھے، اللہ کے رسولﷺ نے ان کے بارے میں ہدایت دی تھی: اْدفْنْوہْم فِی دِ مَاءِہِم بخاری: ۳۶۴ا، (انہیں بغیر غسل دیے دفن کردو)
احادیث میں کچھ دوسرے افراد کے لیے بھی شہید کا لفظ آیاہے۔ مثلاً جوشخص پیٹ کے کسی مرض میں وفات پائے، جسے طاعون ہوجائے، یا جوڈوب کر مرے۔ (بخاری :۶۵۳) ایک حدیث میں ہے:’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔‘‘ (بخاری :۲۴۸۰، مسلم :۱۴۱) ان افراد پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ انہیں غسل دیا جائیگا۔
ایکسیڈنٹ میں مرنے والے کسی شخص کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ جائے، نعش مسخ ہوجائے اور کچھ اعضاء ضائع ہوجائیں تواس صورت میں غسل کا کیا حکم ہے؟ احناف اورمالکیہ کہتے ہیں کہ اگر بدن کے اکثر اعضاموجود ہیں توغسل دیا جائے گا، ورنہ نہیں۔ شوافع اورحنابلہ کے نزدیک جسم کا کچھ بھی حصہ موجود ہوتو اسے غسل دیا جائے گا۔ اس کی دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر ایک پرندہ کسی میت کا ایک ہاتھ اڑا لایا تھا اوراسے مکہ میں گرادیا تھا۔تب اہل مکہ نے اسے غسل دیا تھا اوراس موقع پر انہوں نے نماز جنازہ بھی ادا کی تھی۔بسا اوقات میت کا کوئی عضو سڑجاتا ہے، اسے دھونے سے انفیکشن پھیل جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگرکسی ڈاکٹر کی تاکید ہے کہ اس عضو کونہ دھویا جائے تواس پر عمل کرنا چاہے اوراس عضو کو چھوڑ کر بدن کے بقیہ حصوں پر پانی بہادینا چاہیے۔ اس طرح غسل ہوجائے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۳ا۴۲۴۲ (تغسیل المیت) ۷۷۲۲۴(شہید)

(ابو یحییٰ)

جواب: عہدِ جاہلیت میں نکاح کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ آدمی دوسرے سے کہتا تھا : تم اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے کردو ، میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تم سے کردوں گا اور دونوں کا مہر معاف ہوجائے گا۔ اسے ’نکاحِ شغار‘ کہاجاتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ نکاح سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’شغار سے منع کیا ہے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’اسلام میں ’شغار ‘ جائز نہیں ہے۔‘‘
بعض روایات میں ’ شغار‘ کا مطلب بھی بتایا گیا ہے:
’شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی سے دوسرے آدمی کا نکاح (اس شرط پر ) کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اوران میں سے کسی کے ذمے اپنی بیوی کا مہر نہ ہو۔‘‘
علامہ شوکانی نے’ نکاح شغار‘ کی دو علّتیں قرار دی ہیں: ایک یہ کہ اس میں ہر لڑکی کوحقِ مہر سے محروم کردیا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس میں ہر نکاح دوسرے نکاح سے مشروط اوراس پر موقوف ہوتا ہے۔ (نیل الاوطار)
اگراس طریقہ نکاح میں دونوں لڑکیوں کا مہر تو مقرر کیا گیا ہو، لیکن دونوں نکاح ایک دوسرے سے مشروط اورمعلّق ہوں توبھی وہ ناجائز ہوں گے۔روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے بیٹے عباس نے عبدالرحمن بن الحکم کی لڑکی سے اورعبدالرحمن نے عباس بن عبداللہ کی لڑکی سے نکاح کیا اور دونوں لڑکیوں کا مہر بھی مقرر کیا گیا ، لیکن حضرت معاویہ کواس نکاح کی خبر پہنچی توانہوں نے مدینہ کے گورنر حضرت مروان کولکھا کہ اس نکاح کوفسخ کردیا جائے ، اس لیے کہ یہ وہی نکاحِ شغار ہے ، جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے نکاح شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں اورتینوں کو ناجائز قرار دیا ہے : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کوبدلے میں اپنی لڑکی دے گا اوران میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے۔دوسرے یہ کہ شرط تووہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر مہر(مثلاً پچاس پچاس ہزار روپیہ )مقرر کیے جائیں اورمحض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے،دونوں لڑکیوں کوعملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو ، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔‘‘
بدلے کی شادیوں میں عموماً تلخی اورناخوش گواری کا اندیشہ رہتا ہے اوردونوں خاندانوں پر خانہ بربادی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔ مثلاً اگرایک خاندان میں شوہر نے جایا بے جابیوی کی پٹائی کردی یا دونوں کے درمیان تعلق میں خوش گواری باقی نہیں رہی یا اس نے طلاق دے دی تو دوسرے خاندان میں لڑکے پر اس کے والدین یا دوسرے رشتے دار دباؤ ڈالیں گے کہ وہ بھی لازماً وہی طرزِ عمل اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرے۔لیکن اگر دونوں رشتوں کی مستقل حیثیت ہو، دونوں لڑکیوں کا مہر طے کیا جائے اوران کوادا کیا جائے اورایک رشتہ کسی بھی حیثیت میں دوسرے رشتے کومتاثر کرنے والا نہ ہو تو ایسے رشتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب: سلام اسلام کا شعار ہے۔ حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’تم لوگ جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اورتمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر اسے کرنے لگو توتمہارے درمیان آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اپنے درمیان سلام کوعام کرو۔‘‘
علمانے بعض ایسے مواقع کی نشان دہی کی ہے جب سلام کرنا مناسب نہیں۔ مثلاً موذن ، نمازی، حالتِ احرام میں تلبیہ کہنے والے، تلاوتِ قرآن یا ذکر ودعا میں مشغول شخص کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ خطبہ جمعہ کے دوران جوشخص مسجد پہنچے اس کوبھی سلام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ خطبے کوخاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کھانا کھانے میں مصروف ہویا رفع حاجت کررہا ہوتواسے بھی سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان مواقع پر اگر کوئی شخص سلام کرلے توجس کوسلام کیا گیا ہے اس کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گز ر ا۔ اس وقت آپ پیشاب کررہے تھے۔ اس نے آپ کو سلام کیا ، مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ 
کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تواس کوسلام کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ کوئی شخص کسی مجلس میں جائے توسلام کرے۔‘‘
البتہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر پروگرام شروع ہوگیا ہو تواتنی زور سے سلام نہ کرے کہ تمام حاضرین کے انہماک میں داخل پڑے اور خطیب کاذہن بٹ جائے، بلکہ اتنے دھیرے سے سلام کرے کہ پیچھے بیٹھے ہوئے چند لوگ سن لیں۔ سب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں، بلکہ ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔
مجلس میں انگلیاں چٹخانے کی ممانعت میں کوئی حدیث مروی نہیں ہے ، لیکن اسے آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ خاص طور سے مسجد میں دورانِ نمازیا نماز سے باہر اسے مکروہ کہا گیا ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پہلومیں نماز ادا کی۔ دورانِ نماز میں نے انگلیاں چٹخائیں تو انہوں نے نماز کے بعد مجھے ڈانٹا۔
لفظ ’قلب‘ اوراس کے مترادفات

(ابو یحییٰ)

جواب:
ذات باری تعالیٰ حقیقی متصرف اور مسبب الاسباب ہے۔ ظاہری اسباب میں اثرانگیزی پیدا کرنے والی ذات بھی وہی ہے۔کسی چیز، دن، یا مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو بْرے انجام کا سبب قرار دینا غلط، بدشگونی، توہم پرستی اور قابل مذمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی بھی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نفع ونقصان کے اختیار کا سو فی صد یقین اللہ کی ذات سے ہونا چاہیے کہ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف اللہ الا ہو ، وان یردک بخیر فلا رآد لفضلہ یصیب بہ مں یشاء من عبادہ وہو الغفور الرحیم 
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
(سورۃ یونس، 10: 107)
سورۃشوریٰ میں ارشاد ہے:
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر 
اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اْس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔
الشّْورٰی، 42: 30
درج بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی وَقت، دن اور مہینہ بَرَکت و عظمت اور فضل والا تو ہوسکتا ہے، مگر کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں ہوسکتا۔ کسی دن کو نحوست کے ساتھ خاص کردینا درست نہیں، اس لیے کہ تمام دن اللہ نے پیدا کیے ہیں اور انسان ان دنوں میں افعال و اعمال کرتا ہے، سو ہر وہ دن مبارک ہے جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور ہروہ زمانہ انسان پر منحوس ہے جس میں وہ اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ کی معصیت اور گناہوں کی کثرت اللہ کو ناراض کرنے کاسبب ہے اور اس طرح گناہگار فی نفسہ منحوس ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کے سبب وہ اللہ کی امان سے نکل جاتا ہے اور مصائب و مشاکل سے مامون و محفوظ نہیں رہتا۔ درحقیقت اصل نْحوست گناہوں اور بداعمالیوں میں ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
لاَ عَدوَی، وَلاَ طیَرَۃَ، وَیْعجِبْنی الفَالْ، قَالْوا: وَمَا الفَالْ؟ قَالَ: کَلِمَۃ طیِّبَۃ
صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الطیر: 5776
’’چھوت لگناکوئی چیزنہیں اور بدشگونی (کی کوئی حقیقت) نہیں ہے، البتہ نیک فال مجھے پسندہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیعرض کیا: نیک فال کیا ہے؟ حضوراکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے اچھی بات سن لینا۔‘‘
اگر کوئی شخص گھر سے کہیں جانے کے لئے نکلا اور کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹ لیا، جسے اس نے اپنے حق میں منحوس جانا اور واپس پَلَٹ گیا یا یہ ذہن بنا لیا کہ اب مجھے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچ کر ہی رہے گا، تو یہ بدشگونی ہے جس کی اسلام میں مْمَانَعَت ہے۔ اگرگھر سے نکلتے ہی کسی نیک شخص سے ملاقات ہوگئی جسے اْس نے اپنے لئے باعث خیر سمجھا تو یہ نیک فالی کہلاتاہے اور یہ جائزہے۔
آپ اپنی سہولت کے ساتھ جس دن چاہیں کپڑے کاٹ سکتے ہیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

جواب:دین کا حکم یہ ہے کہ صلہ رحمی کرو۔ میری سمجھ کے مطابق یہ حکم اس اصرار کے ساتھ اور اس اہتمام کے ساتھ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس پر عمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض اوقات ناشکری اور حق تلفی کے رویے کے باعث اور بعض اوقات ظلم اور زیادتی کے سبب سے۔
آپ نے جو احوال لکھے ہیں کسی نہ کسی رنگ انداز اور سطح پر تقریبا تمام لوگ ہی اس تجربے سے گزرتے ہیں۔ جن کے ساتھ ہمارا تعلق ہوتا ہے ان سے ہماری بہت سی اچھی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کا رویہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ مزید برآں اگر ان سے کوئی زیادتی سامنے آرہی ہو تو ہماری تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اصولی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کرنا ہے۔ ان کی بے اعتنائی، نا شکری اور زیادتی کے باوجود۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے تین درجے ہو سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ آپ جس حد تک زیادتی ہوئی ہے اس کا بدلہ لے لیں اور تعلقات کو منقطع نہ کریں لیکن میل جول بھی نہ رکھیں۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو بس سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے دور رہیں۔
دوسرا یہ کہ آپ اس طرح کے رشتے داروں کے ساتھ صرف غمی اور خوشی کا تعلق رکھیں اور عام حالات میں ان سے میل ملاقات نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شدید ضرورت سامنے آجائے تو آپ مدد کرنے سے گریز نہ کریں۔
تیسرا یہ کہ آپ زیادتیوں کو نظر انداز کریں اور حسن سلوک اور مہربانی کا برتاؤ بھی جاری رکھیں۔
پہلا درجہ اختیار کرنے پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
دوسرا درجہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ نیکی کے مواقع ضائع نہیں ہوں گے۔
تیسرا درجہ فضیلت کا درجہ ہے۔ اللہ کی رضا زیادہ زیادہ حاصل کرنا پیش نظر ہو تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
علامہ طالب محسن

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

کج133 نمازِ عید کی نیت اس طرح کی جاتی ہے کہ میں دو رکعت نماز عیدالفطر یا عیدالاضحی واجب مع تکبیرات زائد کی نیت کرتا ہوں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 بغیر عذر کے عید کی نماز مسجد میں پڑھنا مکروہ ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب :اگر کوئی شخص نماز عید کی جماعت میں نہ پہنچ سکا تو اکیلے اس کی قضاء نہیں پڑھ سکتا، البتہ اگر گھر لوٹ کر چار رکعت نفل پڑھ لے تو بہتر ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔عید کی نماز میں نہ اذان ہوتی ہے اور نہ اقامت۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
شَھِدتْ مَعَ رَسْولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصَّلَاۃَ یَومَ العِیدِ، فَبَدَاَ بِالصَّلَاۃِ قَبل الخْطبَۃ بِغَیرِ اَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ.
’’میں عید کے دن نماز میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ پس آپ نے اذان اور تکبیر کے بغیر خطبہ سے قبل عید کی نماز پڑھی

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر امام تکبیرات سے فارغ ہوچکا ہو، خواہ قرآت شروع کی ہو یا نہ کی ہو، بعد میں آنے والا مقتدی تکبیرِ تحریمہ کے بعد زائد تکبیریں بھی کہہ لے اور اگر امام رْکوع میں جاچکا ہے اور یہ گمان ہو کہ تکبیرات کہہ کر امام کے ساتھ رْکوع میں شامل ہوجائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کے بعد کھڑے کھڑے تین تکبیریں کہہ کر رْکوع میں جائے، اور اگر یہ خیال ہو کہ اتنے عرصے میں امام رْکوع سے اْٹھ جائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رْکوع میں چلا جائے، اور رْکوع میں رْکوع کی تسبیحات کے بجائے تکبیرات کہہ لے، ہاتھ اْٹھائے بغیر، اور اگر اس کی تکبیریں پوری نہیں ہوئی تھیں کہ امام رْکوع سے اْٹھ گیا تو تکبیریں چھوڑ دے امام کی پیروی کرے، اور اگر رکعت نکل گئی تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رکعت پوری کرے گا تو پہلے قر?ت کرے، پھر تکبیریں کہے، اس کے بعد رْکوع کی تکبیر کہہ کر رْکوع میں جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر غلطی ایسی ہو کہ جس سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، اور فقہاء نے لکھا ہے کہ عیدین میں اگر مجمع زیادہ ہو تو سجدہ سہو نہ کیا جائے کہ اس سے نماز میں گڑبڑ ہوگی۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلیا جائے، بشرطیکہ پیچھے مقتدیوں کو معلوم ہوسکے کہ سجدہ سہو ہو رہا ہے، اور اگر مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے گڑبڑ کا اندیشہ ہو تو سجدہ سہو بھی چھوڑ دیا جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔ نیت باندھ کر پہلے زائد تکبیرات کہہ لے۔ امام کو رکوع میں پایا تو اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پہلے زائد تکبیرات کہے، پھر رکوع میں جائے اور اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ ہو تو تکبیرہ تحریم کہہ کر رکوع میں چلا جائے
اور ہاتھ اٹھائے بغیر رکوع ہی میں تینوں تکبیرات کہہ لے اور رکوع کی تسبیح ’’سبحان ربی العظیم‘‘ بھی پڑھ لے، دونوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرات کہے، تسبیحات چھوڑ دے، تکبیرات واجب اور تسبیحات سنت ہیں، اگر تکبیرات پوری کہنے سے پہلے ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو بقیہ تکبیرات چھوڑ کر امام کا اتباع کرے۔
اگر امام کو دوسری رکعت میں پایا تو بعینہ وہی تفصیل ہے جو اوپر درج کی گئی۔ البتہ امام کے سلام کے بعد جب فوت شدہ رکعت ادا کرے گا تو پہلے قراء ت کرے، پھر تکبیرات کہے۔ 
اگر کسی کی دونوں رکعتیں نکل گئیں، سلام سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوگیا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر حسب قاعدہ دونوں رکعتیں پڑھے اور تکبیرات اپنے اپنے مقام پر یعنی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قراء ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے کہے۔ 
دوسری رکعت میں تکبیرات کو قراء ت سے موخر کرنا واجب نہیں: 
دوسری رکعت میں تکبیرات زائدہ کو قراء ت سے موخر کرنا اولی ہے، واجب نہیں۔

 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 یہ سنت نہیں، محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے، اس کو دین کی بات سمجھنا، اور نہ کرنے والے کو لائقِ ملامت سمجھنا بدعت ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے، دْعا بعض حضرات نماز کے بعد کرتے ہیں اور بعض خطبہ کے بعد، دونوں کی گنجائش ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور فقہائے اْمت سے اس سلسلے میں کچھ منقول نہیں۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج 133 133 اگر کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی تو وہ کسی دوسری مسجد یا عید گاہ میں جہاں پہلے عید کی نماز نہ ہوئی ہو اپنی الگ جماعت کر کے نماز عید پڑھ سکتے ہیں، ایسی مسجد یا عید گاہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز فرض کے بعد ہر بالغ مرد اور عورت پر تکبیراتِ تشریق واجب ہیں، تکبیرِ تشریق یہ ہے کہ ہلکی بلند آواز سے یہ کلمات پڑھے: ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد۔‘

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کے روز اگر عیدی کو اسلامی عبادت یا سنت نہیں سمجھا جاتا، محض خوشی کے اظہار کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔جی نہیں! عیدکے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نَہی رَسْولْ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَن صِیَامِ یَومَینِ : یَومِ الفِطرِ وَ یَومِ الَضحَی.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

 

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب :سلام کہنا سنت ہے، اور اس کا جواب دینا واجب ہے، جو پہلے سلام کرے اس کو بیس نیکیاں ملتی ہیں اور جواب دینے والے کو دس۔ غیرمسلم کو ابتدا میں سلام نہ کہا جائے اور اگر وہ سلام کہے تو جواب میں صرف ‘‘وعلیکم’’ کہہ دیا جائے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: صحیح بخاری (ج:۲ ص:۶۲۹) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
‘‘علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم التشھد وکفّی بین کفّیہ‘‘ 
ترجمہ:مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔’’
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ‘‘باب المصافحۃ’’ کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل ‘‘باب الاخذ بالیدین’’ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رْوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے:
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اْلفت و محبت کا اظہار ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص:۸۹۱)
اور فطرتِ سلیمہ سے رْجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، اْلفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)


جواب:سلام اور مصافحہ ان لوگوں کے لئے مسنون ہے جو باہر سے مجلس میں آئیں۔ فجر و عصر کے بعد سلام اور مصافحہ کا جو رواج آپ نے لکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے یہاں اس کا معمول نہیں تھا، لہٰذا یہ رواج بدعت ہے۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

سوال:میں کئی مرتبہ اخبار ‘‘جنگ’’ میں ‘‘فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم’’ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والی حدیثوں میں ایک حدیث پڑھ چکا ہوں، جس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محفل میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرامؓ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسند فرمایا اور اپنے احترام کے لئے کھڑے ہونے کو منع فرمایا۔
اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آج کل کافی افراد اساتذہ یا بزرگوں یا پھر بڑے عہدوں پر فائز حکمراں افراد کے احترام میں کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں، حدیث مبارکہ کی حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں لیکن شاید ہم کم فہم لوگ اس کی تشریح صحیح نہ کرسکے ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرماکر اس بات کی مکمل وضاحت فرمائیں کہ آیا کسی بھی شخص (چاہے وہ والدین ہوں یا ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو) کے لئے (اس حدیث کی روشنی میں) کھڑا ہونا جائز نہیں؟ یا پھر اس حدیث شریف کا مفہوم کچھ اور ہے؟

جواب:یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک یہ کہ کسی کا یہ خواہش رکھنا کہ لوگ اس کے آنے پر کھڑے ہوا کریں، یہ متکبرین کا شیوہ ہے، اور حدیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ‘‘جس شخص کو اس بات سے مسرّت ہو کہ لوگ اس کے لئے سیدھے کھڑے ہوا کریں، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔’’
بعض متکبر افسران اپنے ماتحتوں کے لئے قانون بنادیتے ہیں کہ وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوا کریں، اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی شکایت ہوتی ہے، اس پر عتاب ہوتا ہے اور اس کی ترقی روک لی جاتی ہے، ایسے افسران بلاشبہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق ہیں کہ: ‘‘انہیں چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائیں۔’’
اور ایک یہ کہ کسی دوست، محبوب، بزرگ اور اپنے سے بڑے کے اکرام و محبت کے لئے لوگوں کا ازخود کھڑا ہونا، یہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمد پر کھڑے ہوجاتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے تھے اور ان کو اپنی جگہ بٹھاتے تھے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑی ہوجاتیں، آپ کا دست مبارک پکڑ کر چومتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۴) یہ قیام، قیامِ محبت تھا۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضراتِ انصار رضی اللہ عنہم سے فرمایاتھا۔
‘‘قوموا الٰی سیّدکم! متفق علیہ۔’’ 
یعنی اپنے سردار کی طرف کھڑے ہوجاو۔ یہ قیام اِکرام کے لئے تھا۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے ساتھ بیٹھے ہم سے گفتگو فرماتے تھے، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کے دولت کدے میں داخل نہ ہوجاتے۔ 
یہ قیام تعظیم و اِجلال کے لئے تھا، اس لئے مریدین کا مشائخ کے لئے، تلامذہ کا اساتذہ کے لئے اور ماتحتوں کا حکامِ بالا کے لئے کھڑا ہونا، اگر اس سے مقصود تعظیم و اِجلال یا محبت و اِکرام ہو تو مستحب ہے، مگر جس کے لئے لوگ کھڑے ہوتے ہوں اس کے دِل میں یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ کھڑے ہوں۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: آپ کی ٹریننگ کا یہ اْصول کہ سینٹر میں داخل ہوتے وقت یا باہر سے آنے والے اساتذہ وغیرہ کے سامنے رْکوع کی طرح جھکنا پڑتا ہے، شرعی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرتے وقت جھکنے کی ممانعت فرمائی ہے، چہ جائیکہ مستقل طور پر اساتذہ کی تعظیم کے لئے ان کے سامنے جھکنا اور رْکوع کرنا جائز ہو۔ حدیث شریف میں ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ‘‘ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے سامنے جھکنا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں!
مجوسیوں کے یہاں یہی طریقہ تھا کہ وہ بادشاہوں، امیروں اور افسروں کے سامنے جھکتے تھے، اسلام میں اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا۔ ٹریننگ کا مذکورہ اْصول اسلامی اَحکام کے منافی ہے، لہٰذا ذمہ دار حضرات کو چاہئے کہ وہ فوراً اس قانون کو ختم کریں۔ اگر وہ اسے ختم نہیں کرتے تو طلباء کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس سے انکار کریں، اس لئے کہ خدا کی ناراضی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب: وعلیکم السلام کہنے میں عار نہیں بلکہ جو شخص السلام علیکم کہنے میں پہل کرے، اس کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہنا واجب ہے۔ غلط رواج کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ اگر دونوں ایک ساتھ سلام کہہ دیں تو دونوں ایک دْوسرے کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہا کریں، اور اگر ایک پہلے ‘‘السلام علیکم’’ کہہ دے تو دْوسرا صرف ‘‘وعلیکم السلام’’ کہے۔

()

جواب: عیدین کا معانقہ کوئی دِینی، شرعی چیز تو ہے نہیں، محض اظہارِ خوشی کی ایک رسم ہے، اس کو سنت سمجھنا صحیح نہیں، اگر کوئی شخص اس کو کارِ ثواب سمجھے تو بلاشبہ بدعت ہے، لیکن اگر کارِ ثواب یا ضروری نہ سمجھا جائے محض ایک مسلمان کی دِلجوئی کے لئے یہ رسم ادا کی جائے تو اْمید ہے گناہ نہ ہوگا۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب:عید کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا محض ایک رواجی چیز ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، اس لئے اس کو دِین کی بات سمجھنا بدعت ہے، لوگ اس دن گلے ملنے کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اس رواج پر عمل نہ کرے تو اس کو بْرا سمجھتے ہیں، اس لئے یہ رسم لائقِ ترک ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب:بڑے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونا جائز ہے، مگر بڑے کو دِل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں، اس حدیثِ پاک کا یہی محمل ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

ج : آپ کے والد نے اپنی زندگی میں آپ کی شادی پر جو کچھ روپیہ پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کیاتھا، بطور ادھار یا قرض نہیں دیا تھا،اس کا لوٹانا آپ کے ذمے نہیں ہے، اسی طرح جو زیور بنا کر آپ کو ان کا مالک بنا دیا ہے، آپ ان کے مالک ہیں اور ان میں آپ کی والدہ یا آپ کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج : مذکورہ معاملے کاتعلق باہمی معاہدے سے ہے اس لیے جو معاہدہ ہواہو اسی کے مطابق عمل درآمدکرنا چاہیے۔اگر کوئی معاہدہ نہ ہوتو اسکولوں کے رواج کے مطابق اگر فیس لی جاتی ہے تو ادائیگی واجب ہے۔فقط واللہ اعلم

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب :صورت مسؤلہ میں کمرشل پلاٹ چونکہ حکومت کی ملکیت میں ہے لہٰذاآپ کے لیے صرف اپنا مکان بیچنا جائز ہے، کمرشل پلاٹ کو فروخت کرنا درست نہیں ہے۔ اور جو رقم بچوں نے کمرشل پلاٹ کی تعمیر میں لگائی ہے وہ چونکہ حکومت کی اجازت کے بغیر لگائی ہے ،لہٰذا اب وہ اس رقم کا تقاضا اور مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:۔ نماز میں تشھد پڑھتے ہوئے انگلی اٹھا نا متعدد شرعی نصوص سے ثابت ہے،اسی وجہ سے اس پر امت کا تسلسل کے ساتھ عمل چلا آرہا ہے ، حدیث اور فقہ کی تقریباً ہر کتاب میں اس کا ثبوت اور سنت ہونا واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔اس سلسلے میں اگر کسی قسم کا شک وشبہ بھی اگر کبھی پیدا ہوا ہو تو اس کا جواب بھی تفصیلی طور پر دیا گیا ہے،علامہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ٹھوس وقیع رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے،جس کا نام’’نورالعینین فی اثبات الاشارۃ فی التشھدین‘‘رکھا ہے،یہ رسالہ اگرچہ تاحال طبع نہیں ہوا مگر ہمارے پاس اس کا مخطوطہ موجود ہے،اور اس پر تحقیق و تخریج ہو چکی ہے ،رسالہ عربی زبان میں ہے، اہل علم کے فائدے کے لیے طباعت کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ہم یہاں پر ترمذی شریف کی ایک رویت نقل کرنے پر اکتفاکرتے ہیں ’’حضرت عباس بن سہل الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعداور محمد بن مسلم رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ،تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں،بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے (یعنی تشھد کے لیے) اور انہوں نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور دائیں پاؤں کا اگلا حصہ قبلہ رخ فرمایا اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر رکھی اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر،اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا (یعنی شھادت والی انگلی سے اشارہ کیا)۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترمذی شریف :38۔1)
مزید تفصیل کے لیے اہل علم حضرات اعلاالسنن،سنن ابی داؤد،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،بدائع الصنائع اور فتاویٰ شامی کی متعلقہ مباحث میں تفصیلات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
ا

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:1۔ صورت مسؤلہ میں دفتر میں اکیلے نماز پڑھے تواذان و اقامت مستحب ہے البتہ دونوں کے بغیر بھی نماز جائز ہوجائے گی۔
2۔ وقت داخل ہوتے ہی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔ سوائے مغرب کے اور نمازوں میں کچھ تاخیرکرنامستحب ہے۔
3۔خواتین اذان ہوتے ہی نماز پڑھ لیا کریں، جماعت ہوجانے کا انتظارکرنا ضروری نہیں۔
4۔ فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو غالب گمان پر عمل کریں اگر کوئی غالب رائے نہ بنتی ہوتوپھر اتنی قضا نمازیں پڑھیں کہ یقین ہوجائے کہ اب کو ئی نماز ذمے باقی نہیں ہوگی۔
5۔عین طلوع،عین غروب اور دن کے بالکل بیچ کے وقت میں جس کو نصف النھار کہتے ہیں کوئی نماز،سجدہ تلاوت ،نماز جنازہ وغیرہ جائز نہیں سوائے اس دن کی عصرکی نمازکے،وہ غروب کے وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :مسجد میں نماز کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں پر جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر دینا چاہیں تو بغیر آواز کے جواب دے سکتے ہیں
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:حدیث شریف میں ان دعاؤں کا پڑھنا ثابت ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کے الفاظ پڑھ سکتے ہیں ،اسی طرح سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ کے بعد اور تشہد کے آخر میں کوئی بھی دعایا ایک سے زائد دعائیں عربی زبان میں مانگ سکتے ہیں،البتہ اگر امام ہوتو پھر مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے مذکورہ دعائیں نہ مانگے تو کوئی حرج نہیں۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :صورت مسؤلہ میں مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلاجس میں داخل ہونیکے لیے ایک ہی دروازہ ہوتاہے اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کے دوران جودعائیں پڑھی جاتی ہیں وہ نہ پڑھی جائے کیونکہ یہ بیت الخلامیں پڑھنا شمارہوگااوربیت الخلا میں اذکار پڑھنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:واضح رہے کہ احادیث میں دعاؤں کی جو برکات اور فضائل وارد ہوئے ہیں وہ ہر شخص کو بقدر یقین حاصل ہوتے ہیں۔ جتنا اس شخص کا ان کے صحیح ہونے پر یقین ہوگا اتنے ہی فضائل اس کو حاصل ہوں گے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دعاؤں کے ذریعے حفاظت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا دعاؤں اور معوذات کے موثر ہونے میں پختہ یقین تھا۔ لہذا جن دعاؤں سے آپ کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے دکھائی نہیں دیتے اس میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پڑھنے میں اور اس پر یقین و اعتقاد رکھنے میں کوتاہی ہوتی ہے۔ باقی دعاؤں کے بارے میں جو فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے وہ سو فیصد درست اور سچ ہے۔ 
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

سنت اور حدیث میں فرق
سوال :میں نے ایک دیوبندی اہلسنت عالم ڈاکٹر علامہ خالد محمود حفظہ اللہ صاحب کا درس سنا، انہوں نے فرمایا کہ" ہر حدیث قابل اتباع یا قابل عمل نہیں ہوتی جو حدیث سنت کے درجے کو نہ پہنچے اس پر عمل جائز نہیں"۔انہوں نے کہا کہ" حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے مگر سنت کبھی ضعیف نہیں ہوتی"۔ نیز فرمایا کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث علم کا ذخیرہ ہیں اور ان کے اندر "سنت" کی تلاش یہ علم اور فقہ کا کام ہے"۔کیا مذکورہ عالم صاحب کا حدیث اور سنت میں یہ فرق کرنا درست ہے ؟ مجھے چند مثالوں سے سمجھا دیجیے۔ کیا أئمہ سلف یعنی حضرات صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین وغیرہ بھی حدیث اور سنت میں اس طرح کا فرق کیا کرتے تھے۔کیا صرف اہلسنت دیوبندی ہی حدیث اور سنت میں مذکورہ فرق کرتے ہیں یا تمام متقدمین محدثین اور ائمہ اہلسنت اور عصر حاضر میں اہل سنت کے دوسرے مسالک بھی اس فرق کو تسلیم کرتے اور بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم کی کونسی بات سنت ہے یہ حدیث مبارکہ ہی سے پتہ چلے گی۔ ایک عمل کو نبی اکرم کی سنت کہا جائے مگر وہ حدیث سے ثابت نہ ہو ، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟

جواب:۔ مذکورہ عالم دین کا حدیث اور سنت کے درمیان فرق کرنا درست ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور بچہ اٹھایا ہواتھا،اسی طرح ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ (کسی وجہ سے) کھڑے ہو کرپیشاب فرمایا،مگریہ دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہونے کے باوجود سنت نہیں کہلاتیں، کیونکہ سنت کا معنیٰ ہے "چلنے کا راستہ" اورچلنے کا راستہ وہی ہوتا ہے جس پر بار بار چلا جائے، اس پر آنا جانا معمول کا حصہ ہو، مذکورہ دونوں عمل معمول کا حصہ نہیں تھے اسی لیے انہیں سنت نہیں کہا گیا۔
یہ فرق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر عصرِحاضر کے علماء تک ملحوظ رہا ہے ۔ہمارے علم کے مطابق اس فرق کو تمام مسالک کے حضرات تسلیم کرتے ہیں، اس قسم کے فرق کو سمجھنے کے لیے جو فطری فہم اور ایمانی فراست درکارہوتی ہے اسی کا نام علم اور فقہ ہے۔قرأن ،حدیث اور علم فقہ کا منبع ایک ہی ہے ،الگ الگ تقسیم کرنا اور سمجھنا غلط ہے ان کی باہمی نسبت بالکل ایسی ہے جیسے دودھ، دھی اور مکھن ، اگر ایک حقیقت سے نکلی ہوئی ان مختلف چیزوں میں تضاد نہیں سمجھا جاسکتا تو قران، حدیث اور فقہ میں بھی تضاد سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔ پس ہر سنت کا حدیث سے ثابت ہونا ضروری ہے مگر ہر حدیث کا سنت ہونا ضروری نہیں۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب : لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ طلوعِ فجر تک عشا کا آخری وقت باقی رہتا ہے اگر کسی شخص نے عشا کی نماز نہیں پڑھی اور سوگیا پھر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاکی نماز پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی ،قضا شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ عشاکا آخری وقت ہے۔البتہ آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاکی نماز پڑھ لیا کرے تاکہ کراہت نہ ہو۔
 

()

جواب :جو نام خلاف شرع ہوں مثلاً معنی اس کا نامناسب ہو جیسے عاصیہ(گناہ گار) یا عجب اور خودرائی وغیرہ کا اظہار اس سے ہوتا ہو، جیسے برّہ (نیکوکار) تو اس طرح کے ناموں کا بدلنا احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ وہ نام جن کا معنی اچھا ہو تو کشیدگی اور بیماریوں سے بچنے کے لیے ان کا بدلنا درست نہیں، بلکہ توہم پرستی میں داخل ہے۔ صورت مسؤلہ میں سائل کے بچوں کے نام محمد عبد الرحمٰن اور آمنہ بھی اچھے اور پسندیدہ نام ہیں ان کو بدلنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بعد کے تجویز کردہ دونوں نام صحیح اور بابرکت ہیں لیکن اس تبدیلی کا جو مقصد ہے وہ توھم پرستی معلوم ہوتا ہے، اس پر توبہ و استغفار کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس قسم کے فیصلے کرنے سے پہلے استفسار کیا جائے، نہ کہ بعد میں۔***

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)