اسلامی ثقافت

جوابات:

(۱) اسلامی ثقافت کا بڑا دائرہ ہے ۔اس کے اندر چھوٹے چھوٹے دائرے ہر ملک کی ثقافت کے علاقائی خصوصیات کے لحاظ سے آسکتے ہیں ۔مصری اسلامی ثقافت ،ایرانی اسلامی ثقافت۔ پاکستانی اسلامی ثقافت کے معنی ہوں گے کہ وہ ہے تو اصلاً اسلامی ہی ثقافت، لیکن پاکستان کے مقامی خصوصیات سے متاثر۔

(۲) علاقائی ثقافتوں کے جتنے بھی اجزا’ اسلامیت کے منافی نہ ہوں اور اس کے اندر سمیٹے جا سکتے ہوں ، سمیٹ لیے جائیں۔اور اس طرح ہر مسلم ملک کی اسلامی ثقافت دوسرے مسلم ملک سے کسی قدر مختلف ہوگی ۔ لیکن غالب جزو مشترک ہو گا۔

(۳) اصلی اور سب سے بڑا خطرہ ہی ایک ہے ، جس سے سارا عالم دو چار ہے ۔یعنی وہی فتنہ جسے تہذیب فرنگ کہا جاتا تھا،اب سارے عالم کو محیط ہوتا جا رہا ہے۔کیا یورپ اور کیا ایشیا اور کیا افریقہ اور عالم ِ اسلام بھی کہنا چاہیے کہ پوری طرح اس کی لپیٹ میں آچکا ہے۔فتنہ کا مقابلہ آسان نہیں ۔پاکستان جماعتِ اسلامی اس کام کو کہیں زیادہ قوت و کامیابی کے ساتھ انجام دے سکتی تھی ۔انتہائی قلق ہے کہ سیاسی اقتدار کے پھندے میں پھنس کر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں ضائع کر دیں ۔

(۴) اصل و جوہر کے لحاظ سے یقینا حریف ،البتہ بعض جزئیات میں حلیف بھی بنایا جا سکتا ہے ۔

(۵) عموماً و بیشتر یہ رحجانات اسی فرنگیت کے پیدا کردہ ہیں۔فتنہ کا کہنا چاہیے کہ سب سے بڑا علم بردار گروہ مستشرقین ہے ۔اس کی نیت جو کچھ بھی ہو، بہر حال عملاً صورتحال یہ ہے کہ وہ بے شمار دولت و مال سے اور اپنے ہزار ہا ہزار کارکنوں کو لگا کر پچاسوں ،سیکڑوں ،کالج اور انسٹی ٹیوٹ اوریونیورسٹیاں ہربر اعظم میں کھلواکر اسلامیت کی جڑ براہِ راست کھوکھلی کر رہاہے ۔اس کا توڑ صرف یہ ہے کہ ہم بھی اسی قوت اور زور و تنظیم سے کام لے کر عالمی پیمانہ پر اپنے مبلغ ان سے زیادہ پیدا کریں ۔ اور تحریر،تقریربلکہ ہرمیدان میں ان سے بازی لے جائیں۔

(۶) ایک کام تو یہی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کو دینی علمی ،تعلیمی ،تہذیبی خدمات کے لئے از سر نو زندہ کیا جائے ۔اور اس کے ذریعے سے دنیا کے ہر ہر گوشہ میں ہر علم اور ہر فن کے اندر اسلامیت کی روح داخل کر دی جائے۔ (صدق جدید 27مئی 1967)

(مولانا عبدالماجد دریا آبادی )