مجبوری

جواب :ناک کے بال اکھاڑنا منع ہے، ناک، کان کے بال کاٹ سکتے ہیں۔ بھنووں کےیچ کے بال بڑے ہوں اور بدنما معلوم ہوں تو انھیں کاٹ سکتے ہیں۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :بہتر یہ ہے کہ مونچھیں قینچی وغیرہ سے نکالی جائیں اور اس قدر چھوٹی کردی جائے کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، باقی استرہ اور بلیڈ سے صاف کرنا بھی جائز ہے ، لیکن خلاف اولیٰ اور غیر بہتر ہے۔ استرہ سے صاف کرنے کے متعلق بدعت اور سنت دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں، اور جو فعل سنت وبدعت کے درمیان ہو اس کا ترک کرنا ہی بہترہے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اْن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔حضرت عمرؓ مونچھیں بڑی بڑی نہیں رکھتے تھے؛بلکہ ان کی مونچھیں بھی سنت کے مطابق چھوٹی ہواکرتی تھیں ؛البتہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال نہیں تراشتے تھے ،واضح رہے کہ حضرت کا یہ عمل جمیع صحابہ کا عمل نہ تھا اسی وجہ سے ان کی یہ خصوصیت بیان کی جاتی ہے ؛اس لیے بال کے اس حصے کو بھی تراش لینا بہتر ہے باقی اگر کوئی اس کو ترک کردے تو گنجائش ہے کہ حضرت عمر کے عمل سے ثابت ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ختنہ کرانا سنت ہے، یہ مسلم کی پہچان ہے، افسوس ہے کہ ۲۵ سال کی عمر ہوگئی اور اب تک آپ نے ختنہ نہیں کرایا، ختنہ بالغ ہونے سے پہلے پہلے کرالینا چاہیے تھا۔ اب بالغ ہونے کے بعد کسی کے سامنے ستر کا کھولنا بھی حرام ہے۔ اور اب آپ لکھتے ہیں کہ مجھ میں ختنہ کرانے کی ہمت نہیں، آپ اس عمر میں ختنہ کرانے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتے، لہٰذا ایسے ہی غیرمختون رہنے دیجیے، آپ عقائد و اعمال کے اعتبار سے پکے اور صحیح ہیں تو آپ مسلمان ہیں، آپ کی مسلمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، البتہ ترک سنت کا گناہ ملے گا۔

(دارلافتاہ دوبند)

اندیشہ کی بنا پر قتل ناحق ؟
سوال:میں نے سورہ کہف پر آپ کا آرٹیکل پڑھا۔ بہت اچھا اور متاثر کن تھا۔ لیکن میرا ایک سوال ہے جو میں کافی دیر سے پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن کبھی موقع نہ مل سکا اس لیے آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ سورہ کہف میں بیان کردہ واقعہ کے مطابق جب حضرت خضر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان باتوں کی وضاحت کر رہے تھے تو کشتی کو عیب زدہ کرنے اور گرتی ہوئی دیوار کو (بلا معاوضہ) سیدھا کر دینے کی بنیاد حقائق پر مبنی تھی۔ لیکن جب انہوں نے ایک چھوٹے بچے کو جان سے مار ڈالا تو یہ انہوں نے ’’ محض خوف‘‘ کے تحت کیا نہ کہ کسی حقیقی واقعہ کے تحت۔ جب ہم کسی چیز سے ڈرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ہوجائے لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ وقوع پذیر ہی نہ ہو۔ خدا کا کوئی باغی بھی کسی بھی وقت توبہ کر کے خدا کی طرف لوٹ سکتا ہے اور ایک اچھا انسان اور خدا کا فرمانبردار بندہ بن سکتا ہے۔ یقینی طور پر اس مخصوص واقعہ میں ہم جانتے ہیں کہ حضرت خضر کو یہ حکم خدا کی طرف سے ہی دیا گیا تھا۔ لیکن جب بھی میں ان آیات پر پہنچتی ہوں تو یہ سوال میرے ذہن میں پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے وجدان پر کس حد تک اعتبار کر سکتے ہیں؟ اور مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خضر کے اس عمل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی حقیقت کارفرما تھی جو کہ ان آیات میں کہیں مخفی ہے اور میری ابھی اس تک رسائی نہیں ہوئی۔

جواب:دیکھیے اس معاملہ میں ہمیں دو چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔
۱۔ خضر ایک فرشتہ تھے اور انہوں نے جو بھی کیا اللہ تعالیٰ سے حکم ملنے کے بعد ہی کیا۔ لہٰذا ہم اپنے میں سے کسی کا بھی ان کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ یہاں استعمال ہونے والے الفاظ مثلاً ’’خشینا‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کا مطلب ’’ممکن ہے ‘‘یا ’’شاید‘‘ کے نہیں ہے بلکہ یہ ’’یقینی امور‘‘ پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ ’’عسٰی‘‘ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں۔ اس کا لغوی معنی ہے کہ ’’شائد‘‘ لیکن جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لیے استعمال فرماتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناًایسا کریں گے۔اصل میں یہ بادشاہوں کے کلام کرنے کا شاہانہ انداز ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہستی ہیں تو وہ ایسے اندازمیں کلام فرماتے ہیں۔
اس بات کو یاد رکھیے کہ یہاں پر خضر اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس سے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
ہمیں کس کی پیروی کرنا چاہیے؟
سوال:سرمیں آپ کی کتاب ’’تیسری روشنی‘‘ پڑھ رہی تھی کہ کیسے آپ نے تمام مکاتب فکر کا مطالعہ کیا اور آپ ماشاء4 اللہ سب کا ہی احترام کرتے ہیں۔میں آپ کی رائے سے مکمل اتفاق کرتی ہوں کہ ہمیں دوسروں کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں کہ دلوں کے حال صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں پھر ہمیں کس کی اتباع کرنی چاہیے؟ اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کون اس راستے کے زیادہ قریب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔
جواب ۔ہمیں صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اتباع کرنی چاہیے۔ آپ کی ہستی ہی اب رہتی دنیا تک دین کا تنہا مآخذ ہے۔ علماء اور دیگر تمام لوگ دین کے حوالے سے اپنے فہم کو بیان کریں گے۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کس کی دلیل مضبوط ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں علماء4 کے پیش کردہ دلائل کو دیکھنا ہے اور ان کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔ اگر وہ دلائل قرآن اور سنت کے مطابق ہیں تو ہم انہیں قبول کر لیں گے وگرنہ ہم انہیں رد کر دیں گے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ نجات کے لیے جو امور ضروری ہیں وہ ہمارے دین میں انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں ان پر عمل کرنے کے لیے کسی عالم کی ضرورت ہے اور نہ خود کو کسی فرقے سے جوڑنے کی حاجت ہے۔ مزید یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نجات کے لیے جو امور دینی تعلیم میں بیان ہوئے ہیں ان میں علماء کا کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔

 

(ابو یحییٰ)

جواب :کسی خاتون کے وارثوں میں صرف اس کا شوہر اورایک بیٹا ہو تواس کے انتقال پر اس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی کہ شوہر کو اس کا ایک چوتھائی ملے گا اور بقیہ (تین چوتھائی) کامستحق اس کا بیٹا ہوگا۔ شوہر چاہے تواپنے حصے کا مالک بھی اپنے بیٹے کو بناسکتاہے۔
قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ نابالغ لڑکے کی جائیداد اور جملہ مملوکہ اشیا کی حفاظت و نگرانی اس کے بالغ ہونے تک اس کا ولی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کوپہنچ جائیں، پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاؤ توان کے مال ان کے حوالے کردو۔ا یسا کبھی نہ کرنا کہ حدِ انصاف سے تجاوزکرکے اس خوف سے ان کامال جلدی جلدی کھا جاؤکہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کامطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جوغریب ہو وہ معروف طریقے سے کھائے‘‘۔(النساء:۶)
اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ یتیم کا سرپرست اگرمال دار اور صاحبِ حیثیت ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس مال میں سے کچھ نہ کھائے، لیکن اگر غریب اور ضرورت مند ہو تواپنے حق الخدمت کے طورپر اس میں سے کچھ لے سکتاہے ، لیکن ضروری ہے کہ اس میں سے لینا معروف طریقے پر ہو، اتناہو کہ ایک غیر جانب دار آدمی بھی اسے مناسب خیال کرے۔
سوال میں جو حدیث پیش کی گئی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک بوڑھے شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی کہ میں نے اپنے بیٹے کوپال پوس کر بڑا کیا، اس کی ہرضرورت پوری کی، اس پر اپنا مال خرچ کیا۔ اب جب کہ میرے قویٰ مضمحل ہوگئے، میں کچھ کما نہیں سکتا، اپنے بیٹے کے مال میں سے کچھ لیتاہوں تووہ ناراضگی جتاتا ہے اور کہتاہے کہ میں اس کامال اڑا رہاہوں۔ آپ نے اس نوجوان کو بلا بھیجا۔ اس کے سامنے اس کے بوڑھے باپ کا دکھڑا پھرسنا(بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی باتیں سن کر آپ آب دیدہ ہوگئے) پھر آپ نے اس نوجوان کا گریبان پکڑا اور اسے اس کے باپ کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: اَنت وَمَالْکَ لِاَبِیکَ 
اس سے معلو م ہوتاہے کہ بیٹے کے مال میں باپ کابھی حق ہے۔ وہ اس میں سے حسبِ ضرورت اور معروف طریقے سے لے سکتاہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب:آدمی اپنا مال ضرورت مندوں میں خود بھی تقسیم کرسکتاہے اور کسی دوسرے کو بھی یہ ذمہ داری دے سکتاہے۔ جو شخص یہ ذمہ داری قبول کرلے اسے پوری امانت و دیانت کے ساتھ اسے انجام دینا چاہیے۔
جس شخص کو مذکورہ مال تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ، اس کے پاس یہ مال امانت ہے۔ بغیر اس کے مالک کی اجازت کے اس میں ادنیٰ سا تصرف بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ صاحبِ مال نے جن کاموں میں خرچ کرنے یا جن افراد کو دینے کی صراحت کی ہو، انہی میں مال خرچ کیاجائے۔ ذمہ داری لینے والے کو اپنے طورپر فیصلہ کرنے اور مدّات میں تبدیلی کرنے کاحق نہیں ہے۔اسی طرح اگر وہ ذمہ دار اس مال کومستحقین تک پہنچانے میں ٹال مٹول سے کام لے یا بلاوجہ تاخیر کرے تو یہ بھی خیانت ہے۔ وہ مال کا کچھ حصہ اپنے ذاتی کام میں استعمال کرلے، پھر کچھ عرصہ کے بعد اس کے پاس مال آجائے تو اسے بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کردے، اس صورت میں وہ مال میں خیانت کرنے کامرتکب تو نہ ہوگا، لیکن بغیر صاحبِ مال کی اجازت کے ، مستحقین تک اس کے پہنچانے میں تاخیر کرنے کا قصور وار ہوگا۔ اس لیے ایسا کرنے سے اجتناب کرناچاہیے۔اب اگر ایسی کوتاہی ہوگئی ہے تواستغفار اور آئندہ احتیاط کا عہد کرنا چاہیے۔
***

 

(ابو یحییٰ)