مظلوم بیوی

عورت کو مار پیٹ کرنے والے پڑھے لکھے پاگل کے متعلق شرعی حکم
س-85 ایک آدمی پڑھا لکھا ہے، اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا ہے، بیوی کو کوئی عزت نہیں دیتا، بیوی پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے، ہر کام میں نقص نکالتا ہے، ہر نقصان کا ذمہ دار بیوی کو ٹھہراتا ہے، گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے، بیوی کے رشتہ داروں کی پاک دامنی پر بھی الزامات لگاتا ہے، بیوی کو اس کے رشہ داروں کے گھر جانے نہیں دیتا۔ بیوی کا دِل اگر چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے میکے میں کہیں جائے تو ڈَر کی وجہ سے اجازت طلب نہیں کرتی، کیونکہ شوہر اس کے گھر والوں کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور چِلَّا چِلَّاکر اس کے گھر والوں کو گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی بے چاری مہینوں مہینوں اپنے گھر والوں کی صورت کو بھی ترس جاتی ہے، بے بس ہے، جب زیادہ یاد آتی ہے تو چپکے چپکے رو لیتی ہے، اور صبر و شکر کرکے خاموش ہوجاتی ہے۔ بیوی کے گھر والے اگر بلائیں تو (شوہر جو کہ شکی مزاج ہے) بیوی اور اس کے میکے والوں پر گندے گندے الزامات لگاتا ہے۔ زیادہ غصہ آئے تو چہرے پر تھپڑوں کی بھرمار کردیتا ہے۔کچھ عرصے کی بات ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو گالیاں دیں اور بہت سے مردوں کے نام لے کر اس کی پاک دامنی پر الزام لگایا، یہاں تک کہ بیوی کے بھانجوں اور بھتیجوں تک کے ساتھ الزام لگانے سے باز نہ آیا، اس کے میکے والوں پر بھی گندے گندے الزامات لگائے، تین چار روز بعد بیوی سے کہا کہ: مجھے معاف کردو بیوی نے کہا کہ: ’’اب تو میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی، کیونکہ آپ ہر بار معافی مانگنے کے بعد بھی یہی کرتے ہیں لیکن شوہر بارہا معافی مانگتا رہا اور اس نے یہاں تک وعدہ کیا کہ: ‘‘دیکھو میں کعبۃ اللہ کی طرف ہاتھ اْٹھاکر حلفیہ تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اب میں کبھی بھی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا’’ بیوی نے معاف کردیا، مگر ابھی اس معافی کو بمشکل دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ شوہر صاحب پھر وعدہ بھلاکر اپنی پْرانی رَوِش پر اْتر آئے، اب تو بیوی بالکل بھی معاف نہیں کرتی، شوہر جب بھی اس کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے تو بیوی چار بار آسمان کی طرف اْنگلی اْٹھاکر چار گواہوں کی طرف سے اللہ کو گواہ بناتی ہے اور پانچویں بار اللہ کو گواہ بناکر اپنی پاک دامنی پر لگائے ہوئے الزامات کا بدلہ اللہ کو سونپ دیتی ہے، کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کی پاک دامنی پر الزام کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے الزام لگانے والے پر ۸۰ دْرّوں کی سزا رکھی ہے، اب بیوی اپنے شوہر کی ہر بات صبر اور شکر سے سنتی ہے، اور خاموش رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو کہتی ہے کہ: ‘‘اے اللہ! تو ہی انصاف سے میرے ساتھ کی جانے والی تمام حق تلفیوں کا بدلہ دْنیا اور آخرت میں لے لینا’’ مولانا صاحب ایسے مرد کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

ج-85 اس شخص کے جو حالات آپ نے لکھے ہیں، ان کے نفسیاتی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ‘‘پڑھا لکھا پاگل’’ ہے، گالیاں بکنا، تہمتیں دھرنا، مارپیٹ کرنا، وعدوں سے پھرجانا، اور قسمیں کھاکھاکر توڑ دینا، کسی شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ جو شخص کسی پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس پر چار گواہ پیش نہ کرسکے، اس کی سزا قرآنِ کریم نے ۸۰ دْرّے تجویز فرمائی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے، اور جو شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے، بیوی اس کے خلاف عدالت میں لعان کا دعویٰ کرسکتی ہے، نکاح ختم کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے، جس کی تفصیل یہاں ذکر کرنا غیرضروری ہے۔ اب اگر آپ اپنا معاملہ یوم الحساب پر چھوڑتی ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان تمام زیادتیوں کا بدلہ دِلائیں گے، اور اگر آپ دْنیا میں اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو عدالت سے رْجوع کرنا ہوگا کہ مظلوم لوگوں کے حقوق دِلانا عدالت کا فرض ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہ بھی کرسکتی ہیں کہ دو چار شریف آدمیوں کو درمیان میں ڈال کر اس سے طلاق لے لیں اور کسی دْوسری جگہ عقد کرکے باعزت زندگی بسر کریں۔ حضور ؐ نے فرمایا ‘‘خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی۔’’(مشکوٰۃ ص:۱۸۲)
‘‘تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بڑھ کر اچھا ہوں۔’’
 لڑکیوں سے قطع تعلق اور حصے سے محروم کرنا

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج-عورتوں کی معاش کا ذمہ دار مردوں کو بنایا گیا ہے، مگر عورتوں نے یہ بوجھ خود اْٹھانا شروع کردیاہے ۔ جب عورت اپنی خوشی سے کماکر لاتی ہے تومردوں کے لئے کیوں حلال نہیں؟البتہ عورتوں کو کمانے پر مجبور نہیں کیاجا سکتا۔

(محمد یوسف لدھیانوی)