مسافر کے دنوں کی تعداد

جواب:احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کاحالتِ سفر میں کسی جگہ پندرہ دن  ٹھہرنے کاارادہ ہوتو وہ نمازمیں قصر کرے گا۔ اگر اس نے ٹھہرنے کاارادہ توچند دنوں کا کیاتھا، لیکن اس کاکام نہ ہونے کی وجہ سے قیام کی مدت بڑھتی رہی اور اسے متعین طورپر معلوم بھی نہ ہو کہ اسے مزید کتنے دن ٹھہرنا پڑسکتا ہے تو وہ قصر کرتا رہے گا، خواہ کتنے ہی دن اسے ٹھہرنا پڑے۔ مولانا مجیب اللہ ندوی نے لکھاہے:”اگر کہیں راستے میں یا منزل پر دوچار دن ٹھہرنے کا ارادہ تھا، مگر دوچار دن کے بعد نہ جاسکے اور دوچار دن پھر رک گئے۔ اس طرح اگر یک بارگی پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہوتو چاہے جتنے دن ٹھہرے وہ مسافر رہے گا اور قصرِ نمازکرے گا۔“ 
 

(رضی الاسلام ندوی)