استخارہ

جواب:ایسا نہیں ہے کہ دعائے استخارہ سے ہمارا خدا کے ساتھ رابطہ ہو جاتا ہے اور ہم اپنے مسئلے میں خدا کی بات یقینی صورت میں معلوم کر لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی مخالفت صریحاً غلطی ہوتی۔
دعائے استخارہ دراصل، خدا سے خیر طلب کرنے کی دعا ہے۔ یہ دعا درج ذیل ہے:
''اے اللہ، میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو علام الغیوب ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کردے اور آسان بنا دے، پھر اس میں برکت پیدا کر دے اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ (پروردگار)، میرے لیے خیر کو مقدر فرما، وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔''
اس میں ہم اللہ سے اس کے علم کے مطابق جو چیز بہتر ہو،وہ طلب کرتے ہیں۔ جب یہ دعا قبول ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اشارے کے ذریعے سے خدا ہمیں اپنا کوئی فیصلہ سنا دیتا ہے، بلکہ دعا کی قبولیت کی صورت میں وہ اس چیز کو جو ہمارے لیے بہتر ہو،اسے ہمارے مقدر میں لکھ دیتا ہے، اس کے بارے میں ہمارا تردد ختم کر دیتا ہے، وہی ہماری پسند اور ہماری رائے بن جاتی ہے، لہٰذا جو بات خواب وغیرہ میں ہم دیکھیں، اگر اس پر ہمارا دل نہیں جم رہا اور وہ ہمیں صحیح محسوس نہیں ہو رہی تو پھر اسے نہیں ماننا چاہیے۔ البتہ، اگر وہ ہمارے علم و عقل کے مطابق ہمیں بہتر محسوس ہو تب اس پر عمل کر لینا چاہیے، کیونکہ دعا کی قبولیت کی صورت میں خدا کے نزدیک جو بات بہتر ہے، اس نے مقدر ہو جاناہے۔خدا سے دعا مانگنے کے لیے دل کا اخلاص ضروری ہے۔

(محمد رفیع مفتی)