انسانی عقل میں ارتقا

جواب : یہ بات کہ انسانی عقل میں ارتقا ہوا ہے درست ہے۔ انسانی عقل اورا س کے مزاج و طبیعت میں انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا کے ساتھ ساتھ ارتقاہوا ہے۔ اس نے طفولیت کے دورسے لڑکپن کے دور میں، لڑکپن سے جوانی اور پختگی کے دور میں قدم رکھا ہے۔ اسی حساب سے اللہ تعالیٰ کے انبیا عقیدے کو بیان کرتے رہے ہیں عقیدے کی حقیقت تو ایک ہی رہی ہے لیکن اس کے بیان کا انداز مختلف انبیاء کے زمانے میں مختلف رہا ہے ۔جیسے ایک بچہ پرائمری سکول میں پڑھتا ہے تو اس کو اس سطح پر مضامین پڑھاتے ہیں کہ وہ سمجھ سکے جب وہ پرائمری سے بڑھ کر مڈل میں داخل ہوتا ہے تو اسے آپ تاریخ کے ساتھ جغرافیہ بھی پڑھاتے ہیں۔ تاریخ و جغرافیہ میں کوئی تعارض نہیں ہو تا۔ ایک ہی تاریخ اور جغرافیہ ہے جو پرائمری مڈل اور آگے کے مراحل میں پڑھائی جاتی ہے لیکن سطح میں فرق ہو تا ہے ۔یہ فرق انبیا کی تعلیم میں ضرور رہا ہے شروع میں جو انبیا ء آئے انہوں نے عقیدے کو اس انداز سے اور اس سطح پر بیان کیا کہ اس زمانے کا ابتدائی انسان اس کو سمجھ سکے۔ جب انسانیت پختگی کے دور میں داخل ہو گئی اور بین الا قوامیت کا ایک دور آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان تمام سوالات کا جواب اپنی زبان مبارک سے یا قر آن پاک کی شکل میں انسانیت کو دے دیا جس کی بنیا د پر آئندہ آنے والے تمام ادوار میں انسان عقیدے کو بیان کر سکے۔ یہ بات خود علم کلام کی تاریخ سے بھی نمایا ں ہے جو انداز عقیدے کو بیا ن کرنے کا فقہ اکبر میں ہے وہ انداز امام غزالی ؒ کی کتابوں میں نہیں ہے ۔یہ بات امام ابو حنیفہ ؒ یا ان کے معاصرین کی شان میں کوئی گستاخی نہیں ہو گی۔کہ جو گہرائی امام غزالی ؒ کے یا امام رازی کے انداز میں ہے وہ الفقہ الا کبر میں نہیں ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس انداز سے عقائد کو بیان کرنے کی اما م ابو حنیفہ ؒ نے ضرورت نہیں سمجھی۔ اس لیے کہ ان کے دور کے وہ مسائل نہیں تھے جس انداز سے مسائل کو مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ ؒ نے بیان کیاوہ انداز بہت سے متقدمین کے انداز سے مختلف ہے ۔مجد د الف ثانی ؒ نے جو انداز اختیار کیا وہ امام رازی و امام غزالی ؒ کے انداز سے مختلف ہے اسی طرح علامہ اقبال ؒ نے جو انداز اختیار کیا وہ ان تمام سے مختلف ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ آنے والے اس سے مختلف انداز اختیار کریں گے۔ اس لیے انداز بیان اور اسالیب استدلال میں تو ارتقا ء ہوتارہے گا لیکن عقیدے کی Coreمیں کسی بھی ارتقاء کی ضرورت نہیں اس لیے کہ وہ Coreان بنیادوں کو فراہم کرتی ہے یا ان بنیادوں کی نمائندگی کرتی ہے ان بنیادوں پر انداز بیان کی تبدیلی وقت کے ساتھ ساتھ ہو تی رہے گی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارتقا ء علم کلام اور فکر کاہو تا رہے گا ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)