چہرے کا پردہ

جواب: دیکھئے چہرے کے پردے کے بارے میں شروع سے ایک گفتگو چلی آرہی ہے جس میں صحابہ اور تابعین کے زمانے سے بحث ہورہی ہے قرآن پاک کی جس آیت میں آیا ہے کہ پردہ کرو اس میں آیا ہے کہ الا ماظھر منھا سوائے اس کے کہ جوظاہر ہو ۔ فقہا، محدثین، صحابہ،تابعین ، اور تبع تابعین کی ایک بہت بڑی کا کہنا ہے کہ الا ماظھر منھا یعنی سوائے اس کے جو ظاہر ہو جائے اس میں جسم کی ساخت اور قدوقامت شامل ہے جس کو نہیں چھپایا جاسکتا۔جب ایک خاتون نکل کر کہیں جائے گی تو لوگ دیکھ لیں گے کہ دبلی ہے پتلی ہے موٹی ہے بھاری ہے تو یہ ظاہر ہوجائے گا اور جسم کی ساخت کا بھی اندازہ ہوجائے گا تو یہ تو نہیں چھپایا جاسکتا اس لئے اس میں یہ شامل ہے باقی سب چیزیں چھپانی چاہیں ۔کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ اس میں جسم کے وہ اعضاء بھی شامل ہیں جن کا بعض اوقات کھولناضروری ہو تا ہے ۔ 
مثلاًکسی کام کے لئے خاتون جارہی ہے سفر پر جارہی ہے تو ہاتھ کھلا ہوگا پاؤں کھلے ہوں گے کسی مزدوری کے لیے ضرورت پڑی تو ہاتھ کھولنا پڑے گا اس میں کچھ لوگ چہرے کھولنے کو شامل سمجھتے ہیں اس لئے کہ چہرے کا پردہ واجب ہے کہ اس میں اختلاف شروع سے چلا آرہا ہے اس لئے کچھ لوگ جو چہرے کے پردے کھولنے کو بھی شامل سمجھتے ہیں ان میں امام احمد بن حنبل ؒ اورسعودی علماء شامل ہیں وہ ہر حال میں چہرے کے پردے کو لازمی سمجھتے ہیں ۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چہرے کا پردہ عام حالات میں تو کرنا چاہیے لیکن اگر کسی خاتون کو کوئی ناگزیر ضرورت ایسی پیش آجائے جس میں وہ وقتی یا مستقل طور پر چہرے کھولنے پر مجبور ہو تو چہرہ ہاتھ اور پاؤں کھولنے کی اجازت ہے ۔
تیسرا نقطہ نظریہ ہے جو مجھے بھی ذاتی طور پر دلائل وغیرہ دیکھ کر درست معلوم ہوتاہے لیکن آپ کا جو جی چاہیے وہ آپ اختیار کریں وہ ہے کہ چہرے کا ڈھکنا تو افضل اور عزیمت ہے لیکن کھولنا کی اجازت ہے چہرہ کھولنا رخصت ہے اگر وہ خاتون یہ سمجھتی ہیں کہ چہرہ نہ کھولنا سے اس کے لئے مشکلات ہیں تو وہ کھول سکتی ہیں ۔
اور یہ مسائل بعض اوقات یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں پیش آتے ہیں جہاں ہماری بہت سی بہنوں کو نوکری کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور باہر جانا پڑتا ہے وہاں کے ماحول میں ان کو سر ڈھانکنے کی اجازت بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے تو چہرے کے ڈھانکنے کی پابندی بھی اگر لازم کر دی جائے تو ان کے لئے شاید مشکل ہو جائے اس لئے جہاں حالات ناگزیر یا مشکل ہوں تو میرے خیال میں چہرہ کھول سکتی ہیں ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)