فاقتلواہم حیث وجدتموا ہم

جواب : اگرا س کا مفہوم یہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں تو بہت افسوس کی بات ہے ۔ قرآن و حدیث کا مطالعہ اور تعبیر و تشریح بہت ذمہ داری کا کام ہے اس طرح سے تھوڑی سی عربی سیکھ کر مفتی نہیں بن بیٹھنا چاہے فاقتلوا ھم حیث وجدتمواھمکا مفہوم سمجھنے کے لئے سیاق وسباق کو سامنے رکھیں جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ سورۃ بقرہ میں جہاں یہ آیت آئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں نے تم پر حملہ کیاہے تمہیں گھروں سے نکال دیا تھا تمہارے اوپر بیس سال سے مظالم کر رہے ہیں جب ان کے ساتھ جنگ میں مقابلہ کی نوبت آئے تو پھر بزدلی مت دکھاؤ جہاں پاؤ قتل کرو ۔یہ حکم تمام غیر مسلموں کے لئے نہیں ہے بہت سے غیر مسلموں کے ساتھ تو حضور ﷺنے معاہدے کئے مدینہ میں اور پورے جزیرہ عرب میں غیرمسلم رہتے تھے یہ سارے معاہدات حدیث میں موجود ہیں اس سارے ذخیرے کو نظر انداز کر کے آپ کہیں کہ فاقتلوا ھم حیث وجدتمواھمکا حکم ہر غیر مسلم کے لئے ہے یہ تفسیر کا صحیح طریقہ نہیں ہے یہ تو تحریف قرآن ہے ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)