تصوف کی اصطلاحات

جواب جی نہیں! یہ اصطلاحات قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہیں قضا و قدر کی تنفیذ کا میرے خیال میں ان مناصب سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بہت سے حضرات سے یہ چیزیں بیان کی ہیں خاص طور پرابن عربی نے اس پر بہت بحث کی ہے اور تفصیل سے اور بڑی دلچسپ باتیں کیں ہیں۔ان مباحث سے پتا چلتا ہے کہ ابن عربی کی نظر میں ایک روحانی hierarchyبھی موجود ہے یہ روحانیhierarchyہی اللہ تعالیٰ کے احکام تکوینی پر عمل درآمد کراتی ہے میں نہیں جانتا انھوں نے یہ بات کس بنیاد پر لکھی ہے۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب: میرے خیال میں ایسا نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد آپ ﷺ سے براہ راست رہنمائی لینے کا اگر کوئی اہل تھا تو وہ صحابہ کرامؓ تھے۔ صحابہ کرامؓ بعض اوقات کسی مسئلے کے جواب میں سرگرداں رہتے تھے ایک ایک ماہ تک بحث رہتی تھی اور اسکے بعد اتفاق رائے سے مسئلہ حل کرتے تھے۔ اگر براہ راست حضورﷺ سے پوچھ سکتے تو صحابہ کرامؓ جاکر پوچھ لیاکرتے۔ حضرت عائشہؓ کو یہ فیصلہ کرنے میں بہت عرصہ لگا کہ مجھے جنگ جمل میں جا نا چاہیئے یا نہیں اس کے بعد وہ جنگ جمل میں شریک ہوئیں اس کے بعد ان کو احساس ہو اکہ انھوں نے غلط کیا ہے اس پر وہ توبہ بھی کیا کرتی تھیں اور صدقہ بھی دیا کرتی تھیں اپنے بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کو ڈانٹاکرتیں تھیں کہ مجھے روکا کیوں نہیں اگر حضور سے وہ پوچھ سکتیں تو وہ ضرور پو چھتیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ کوئی طریقہ ایسا نہیں ہے۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)