علم لدنی

جواب: علم لدنی سے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا خاص انعام کسی انسان کے اوپر ہوتا ہے اور اس کو خصوصی علم حاصل ہوجاتا ہے ہم خود دیکھتے ہیں ایسے بڑے بڑے اکابر ہمارے زمانے میں بھی ہوئے ہیں کہ انہوں نے وہی تعلیم پائی جو ہم سب نے پائی لیکن ان میں سے بعض کو اللہ نے بڑا علم دے دیا۔ مولانا انور شاہ کشمیر ی اسی درس نظامی کے پڑے ہوئے ہیں لیکن ان کو اللہ نے جو علم دیا وہ باقی درس نظامی کے فضلا کو نہیں ملا۔ اس طر ح کا علم ، علم لدنی کہلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی مہربانی سے کسی انسان کو سمجھ یا فہم کے ذریعہ دے دے اسکی حدیث سے بھی تائید ہو تی ہے حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا رسولﷺ نے آپؓ کو کوئی خاص تعلیم بھی دی ہے انھوں نے کہا نہیں کوئی خاص تعلیم نہیں دی ہے کتاب اللہ سنت رسولﷺ اور یہ دستاویز جو میری تلوار کی نیام میں رکھی ہیں یا پھر وہ فہم جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی خاص بندے کو دے دے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کسی خاص بندے کو اگرخاص فہم دے جو اکثر دے دیتا ہے تواس فہم سے اس بندے کو ایک خاص علم حاصل ہو جاتا ہے اس کو علم لدنی کہہ دیتے ہیں۔یہ خاص فہم اگر شریعت کے مطابق ہے تو اللہ کی طرف سے ہے ورنہ محض انسان کے نفسانی خیالات یا ذہنی ژولیدگی کا نتیجہ ہے۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)