خدا کو چھوڑ کر جھکتے ہو تم کیوں غیر کے آگے

مصنف : فیاض الرحمن ساحل

سلسلہ : نظم

شمارہ : دسمبر 2006

 

خدا کو چھوڑ کر جھکتے ہو تم کیوں غیر کے آگے
ازل سے آ رہی ہیں یہ صدائیں سوچتے رہنا
 
میرے ایقان کی منزل ،یا جوش جنوں ہے یہ
قفس میں رہ کر بھی تازہ ہوا کا سوچتے رہنا
 
نظر میں آئنہ ہے اور پتھر سوچتے رہنا
پس منظر ہمیں اک اور منظر سوچتے رہنا
 
کبھی چن لینا اپنے گرد تنہائی کی دیواریں
حصار ذات سے پھر آکے باہر سوچتے رہنا
 
کب ہم نے کہا ہے کہ سدا سوچتے رہنا
ہاں یاد جب آئیں تو ذ را سوچتے رہنا