خمینی و فردوسی کی سرزمین

مصنف : صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بُگوی

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : مارچ 2011

قسط -۱

صاحبزادہ ڈاکٹرانوار احمد بگوی ایک صاحب طرز ادیب ،صاحب دل معالج، اور صاحب حکمت منتظم ہیں ۔ان کے سفر نامہ ایران کی پہلی قسط حاضر ہے ۔ ہم بگوی صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ‘سوئے حرم ’کو اس کی اشاعت کی اجاز ت دی۔ ہمارے قارئین چند اقساط میں مکمل سفر نامہ ان صفحات میں پڑھ سکیں گے ۔آپ کو اس سفر نامے میں مشاہدے اورمطالعے کی گہرائی کے ساتھ ساتھ قومی درد جا بجا نمایاں ملے گا۔ اور بقول بگوی صاحب ‘‘ہمارا مسئلہ نہ ویزوں کا ہے اور نہ خانہ فرہنگ میں شناخت ملنے کا۔ ہمیں کسی کی ناراضی یا خوشنودی بھی مطلوب نہیں ہے ۔ ہم نے تو اپنی کمپاس کو فالو کیا ہے ۔ مقصود کسی کی دل آزاری ہے اور نہ کسی کی دلجوئی۔ ہمارے سامنے تو اپنے وطن عزیز کا حال اور مستقبل ہے ! ہم کیا ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہیۓ تھا اور ہمارے ساتھ والے کہاں جا پہنچے ہیں۔ چنانچہ معاملہ صرف قطب نما کا ہے جس نے پہلے سے آخری قدم تک ہماری رہنمائی کی۔ آپ بھی اپنے قطب نما پر اعتماد کریں۔ اگر یہ سادہ سی تحریر آپ کے اندر کے قطب نما کو متحرک کر دے تو ہم سمجھیں گے کہ ہمارا سفر سپھل ہو گیا ۔ ’’سوئے حرم کو امید ہے کہ اس سفر نامے کے بعد وہ ہر ماہ ہمیں اپنی نئی تحریر عطا فرمایا کریں گے۔ بگوی صاحب کا تعارف اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔

            ایران تاریخی اعتبار سے متمدن دنیا کا ایک قدیم ترین ملک ہے ۔اس کی تہذ یب وثقافت امتیازی طور پر دوسرے تہذیبوں سے مختلف اور بہت خوبصورت ہے ۔اس کی آغوش میں متعدد مذاہب خصوصاً زرتشت ‘‘ مزدک ’’بہائی اور کسی حد تک اسلام نے پرورش پائی۔یہاں اہل بیت النبی میں آٹھویں امام حضرت موسیٰ رضا ؒ کا مشہد،ان کی ہمشیر محترم حضرت معصومہL کا قم میں اور دیگر کئی امام زادگان اور بزرگان کے مزارات دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی محبت کا مرکز ہیں۔

تعارف :

             جغرافیائی لحاظ سے ایران مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے جس کے مشرق میں پاکستان اور افغانستان ،مغرب میں ترکی اور عراق ،شمال میں روسی ریاستیں ، جنوب میں خلیج فارس اور بحرہند واقع ہیں ۔پاکستان کے ساتھ ایران کا رشتہ کئی واسطوں سے قائم ہے۔ انقلاب اسلامی سے پہلے ایران اور پاکستان دونوں امریکہ کے حلیف اور قریبی ساتھی رہے ہیں۔امریکی سٹریٹجی کے تحت دونوں ممالک اس حصار کا حصہ تھے جو امریکہ نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے چین اور روس کے چاروں طرف قائم کیا تھا ۔1979ع کے بعد ایران تو آزاد ہو چکا البتہ پاکستان پہلے سے بھی زیادہ امریکیوں کا تابع دار اور حاشیہ بردار بن گیا ہے ۔ 20ویں صدی کے آغاز تک شاہراہ ریشم ایران سے ہی گزرتی تھی ۔اس طرح ایران برصغیر کے ساتھ تجارتی اور سیاسی طور بھی جڑا ہوا تھا ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اسلام ، اقبال اور فارسی کا رشتہ تو لا زوال ہے جسے کوئی سپر پاور یا اس کا گماشتہ متاثر نہیں کر سکتا۔اس رشتے میں وقت اور ضرورت کے تحت اضافہ تو ہو سکتا ہے کبھی کمی نہیں آ سکتی ۔

             ایران رقبے میں پاکستان سے دو گنا ہے مگر آبادی کے لحاظ سے اس کا نصف ! 99 فیصد آبادی کا مذہب اسلام ہے ۔ریاست کی فقہ، جعفریہ یا اثنا عشریہ ہے جسے بارہ امامی بھی کہتے ہیں ۔ملک معدنی دولت سے مالا مال ہے ۔ صحرا ،دریا ،پہاڑ ،سمندر ، جھیلیں،کھیت ، کھلیان ،قدرت کے سارے رنگ اور سارے موسم موجود ہیں۔آبادی میں اکثریت نوجوانوں اور خواتین کی ہے کیونکہ عراق ایران جنگ اور داخلہ خلفشار میں مردوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے ۔

            فارسی ایران کی سرکاری زبان ہے مگر اردو کی طرح بے سہارا اور دھتکاری ہوئی نہیں جسے غیر ملکی تربیت یافتہ سیاستدان ،نوکر شاہی کے کارندے ،فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ جرنیل اور ملک کا خوشحال طبقہ صحیح بول اور پڑھ بھی نہیں سکتا ۔ ایران میں فارسی زبان دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے ۔بازار سے گزریں یا دفاتر میں جائیں ،بنک سے لین دین کریں یا لوگوں سے رابطہ کریں ،فارسی کے علاوہ کوئی زبان نہ کہیں نظر آتی ہے اور نہ لوگوں کی زبانوں پر سنائی دیتی ہے ۔ جگہ جگہ ، لمحہ لمحہ ،ہمہ وقت فارسی موجود ہے ۔فارسی کے بغیر ایران میں زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔اس کے بر عکس پاکستان میں اردو اور پنجاب میں پنجابی کے بغیر سارے کام ہو رہے ہیں ۔انگریز کی باقیات نے اپنے آقا کا نام اور اس کی زبان کو بڑی محبت سے پال رکھا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ کسی قوم کی پہچان کا پہلا زینہ اس کی بولی جانے اوراستعمال ہونے والی زبان ہوتی ہے یہی دروازہ قومی شناخت اور قومی سوچ کی راہ کھولتا ہے اور اتحاد کو بڑھاتا ہے ۔

            ایران کے 28 انتظامی صوبے اور 257شہر ہیں ۔اسلامی جمہوری نظام میں منتخب غیر فوجی صدر ،اراکین پارلیمنٹ ،شہری اور دیہی کونسل کے نمائندے اور ماہرین اسمبلی کے ارکان ہوتے ہیں ۔ہر صوبے کا گورنر جنرل اور ہر شہر کا گورنر ہو تا ہے جو سیاسی اور انتظامی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔فوج مکمل طور پر سول حکومت کے ماتحت ہے اور یہ دونوں ادارے انقلاب اسلامی کی فکری اور مذہبی قیادت کے زیر نگرانی اور زیر ہدایت کام کرتے ہیں ۔

            فارسی زبان اور ایرانی تاریخ و تہذیب سے راقم کی دلچسپی کا آغاز ابتدائی تعلیم کے دوران ہو گیا تھا ۔

            گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں آٹھویں جماعت تک تین سال اختیاری مضمون کے طور پر فارسی زبان پڑھی تھی ۔اس کے ساتھ دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں مختلف اساتذہ سے کریما ،نامِ حق ،شیخ عطار ،گلستان ،بوستان ،انوار سہیلی اور فقہ میں فارسی کی کئی کتابیں پڑھتا رہا۔ دارالعلوم عزیزیہ میں جب منشی فاضل کی جماعتوں کا اجراء ہوا تو سینئر طلبا کی معیت اور فارسی ادب کے عالم اور شاعر مولانا فضل کریم گوندل ؒ کی صحبت میں ایران کی علمی ،ادبی اورسیاسی تاریخ سے متعارف ہوا۔

ایران ایک منفرد تجربہ :

             یوں 1960 ع کی دہائی میں ایران کے ساتھ قائم ہونے والے لگاؤ کی حرارت برابر قائم رہی ۔ انقلاب اسلامی کے آغاز میں وزارت صحت ایران کے لئے راقم بطور طبیب عام منتخب ہو گیا تھا ۔ ویزا بھی لگ گیا مگر گھر کے حالات خصوصاً والد گرامی ؒ کی رحلت کے بعد خاندان اور اس کے علمی اور دینی اداروں کی بالواسطہ ذمہ داریوں کے سبب یہ موقع حاصل نہ کر سکا ۔تا آنکہ 2007ع میں سرکاری ملازمت سے کلیتہً فارغ ہو گیا ۔تب سوچا کہ اب اللہ کی زمین میں نکلنا اور اس کی قدرتوں اور رحمتوں کا مشاہدہ کرنا چا ہئے۔کدھر کا رخ کرنا چاہئے۔یہ امر تحقیق طلب تھا ۔ایران کے سفر کا ارادہ چنانچہ اضطراری نہیں ہے ۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے ہمیشہ متوجہ اور حیرت زدہ کیا ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کا مطلب اسلامی انقلاب ہی تو ہے سوال یہ ہے کہ پاکستان کا عالم دین اسلامی انقلاب کے لیے علمی اور مذہبی قیادت کیوں فراہم نہیں کر سکا ؟جس اسلامی نظام کے لئے ہم 60 سال سے گلے کی پوری طاقت کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے ،وہ ہدف ایران نے کیسے حاصل کر لیا؟امریکہ اور یورپ بلکہ اکثر مسلم اور عرب ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود یہ پودا اب کیونکر ایک تناور اور پھلدار درخت بن چکا ہے ؟پچھلے چند سال سے ہر امریکی صدرنے اسلامی ایران کو خاص طور پر ملامت اور دھمکیوں کا ہدف بنا یا ہے اور ایران ہے کہ تمام تر تکنیکی محرومیوں اور معاشی مقاطعے کے باوجود ایٹم کے پُر امن استعمال پر مصر ہے یہ جرا ت اور جذبہ حیران کن ہے ۔

            جانے سے پہلے ہمارے ذہن میں یہ سوال بھی منڈلا رہے تھے :کیا انقلاب کے بعد ایران کی تمدنی زندگی میں اسلامی طور طریقے رچ بس گئے ہیں 

  • مذہبی اثرات کیا زندگی کے ہر گوشے میں موجود ہیں ؟
  • کیا جدید ایران میں جدیدیت کی گنجائش ہے تو کس حد تک ؟ 
  • نئی نسل کو مغربی اثرات اور نظریات سے بچانے کے لئے کیا علمی اور عملی اقدامات کئے گئے ہیں ؟
  • دینی تعلیم و تربیت اور سیکولر تعلیم و تدریس کے نظام کیا ہیں ؟
  • بین الاقوامی میڈیا کے اثرات اور ان کا تدارک کیا گیا ہے ؟
  • جدید سائنسی اور عمرانی علوم سے استفادہ کی صورت؟
  • فرقہ واریت اور انتہا پسندی اگر ہے تو اس کا کیا حل ہے ؟

            غرض ان تمام سوالوں کے جوابات کے لئے ہم دونوں میاں بیوی کا قطب نما کسی اور سمت کی بجائے ایران کی طرف مڑ گیا۔

             ایران کے بارے میں چند تحریریں دیکھیں ،متعدد اصحاب سے رابطہ ہوا جو بطور زائر یا طالب علم ایران جا یا رہ چکے تھے ۔مگر ہمارے واضح اور متعین مقاصد کے حوالے سے کوئی مفید معلومات حاصل نہ ہو سکیں زمین سے بے خبر ،زبان سے ناواقف ، وسائل محدود ،وقت قلیل مگر ارادے ضرور بلند۔گو ویزہ 3ماہ کا تھا لیکن پہلے رمضان پھر ایک عزیز کی شادی کی وجہ سے وقت گزرتا رہا اور متوقع مدت قیام کم ہو تی رہی ۔آخر بچوں اور رفیق حیات کے اصرار نے ہمت بندھائی اور یوں اللہ کے آسرے پر ہم نے مختصر سا رختِ سفر باندھ لیا ۔

قانون اور سسٹم کا کمال :

             زندگی کے کئی کاموں کی طرح ،بیرون ملک سفر کا تعلق بھی ان کاموں سے ہے جن کے ظہور کی فوری اور مادی توجیہ کرنا آسان نہیں ۔چنانچہ ہم جب کام کرنے کا ارادہ کرتے اور خلوص سے دعامانگتے ہیں تو اخلاص نیت کی قبولیت کے ساتھ ان جانی راحتوں اور ان دیکھی رحمتوں کا دروازہ کھل جا تا ہے ۔نیت سفر کے ساتھ ہم نے تہیہ کیا تھا کہ پاکستانی انداز کی جاگیر داری اور افسر شاہی سے دور رہیں گے اور ملک کے بے وسیلہ عوام کی طرح ہر جگہ کسی پرچی یا سفارش کے بغیر قانون اور سسٹم کے مطابق اپنی ضرورت اور داد و انصاف طلب کریں گے ۔اس مشق کا آغاز لاہور میں ایرانی قونصلیٹ کے دفتر کی کھڑکی سے ہوا اور وطن لوٹنے تک جاری رہا ۔یہ حقیقت ایک پاکستانی کے لئے حیران کن اور فرحت افزاء ہے کہ ہر جگہ ضرورت ،قانون اور سسٹم کے مطابق حق ملتا رہا ۔ضرورت مندوں کی قطار قائم رہی اور ہر سائل سیراب ہو کر لوٹتا رہا۔

            یوں معلوم ہوا کہ انسان کی اصل عظمت کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ قانون اور سسٹم کا احترام کتنا کرتا ہے ۔اس کا تعلق ڈالروں سے بھرے ہوئے بٹوؤں ،بڑی بڑی گاڑیوں ،اہم فوجی و سول عہدوں اور تمغوں کی عظمت سے نہیں ۔وی آئی پی کلچر درحقیقت قانون کی بے بسی اور سسٹم کی بے حرمتی کا نام ہے ۔ورنہ قانون اور سسٹم تو ایسی روشنی ہے جو زندہ رہنے والی قوموں کو آسمان سے عطا ہوتی ہے ۔لیکن وہ قوم اس نعمت سے محروم رہتی ہے جو اپنے آئین اور حقوق کو بوٹوں اور بھاری مینڈیٹ تلے پامال ہوتے تو دیکھے مگر وردی اور کرسی کی اس اندھی طاقت کو قانون اور سسٹم برباد کرنے سے نہ روک سکے ۔ جب اختیار والے آئین اور اداروں سے کھیلنا شروع کردیں تو ان کے حلیف اور حاشیہ بردار دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں ۔آئین اور ادارے پھر بے اثر اور نمائشی بن کر رہ جاتے ہیں۔قانون اور آئین کی بے وقعتی کے باعث پھر عام آدمی انصاف ،قانون اور سسٹم سے محروم ہو جا تا ہے ۔ان کے مضبوط قیام اور احترام ہی میں دراصل عام آدمی کی بقاء ، بچاؤ اور اس کی بہبود مضمر ہے ۔

آنکھوں دیکھا :

            ایران کے سفر میں انقلاب کے حوالے سے چونکہ معاشرتی تبدیلی اور فرقہ واریت کے حوالے سے تنگ نظری اور اسلام کے حوالے سے بنیاد پرستی کا مطالعہ بھی ہمارے پیش نظر تھا۔ اس لیے ہم نے سنی بن کر نہ تو شیعہ مذہب کی کمزوریاں اورخامیاں ڈھونڈنے کی کوشش کی اور نہ کسی سرکاری وفد کے طور پر وہاں‘‘ سب اچھا ہے ’’دیکھنے پر اکتفا کیا۔ اگرچہ مختصرعرصے میں اور چلتے پھرتے گہری نظر سے مطالعہ آسان نہیں ہوتا خصوصاً جب زبان کا مسئلہ در پیش ہو اور مقامی آبادی سے گھل ملنے کا موقع بھی نہ مل سکے۔ تا ہم ہماری کوشش رہی ہے کہ وہی کچھ پیش کریں جو ہم دیکھ سکے اور جو ایران کی عام زندگی میں روز مرہ کا معمول ہے۔ ہمارے مشاہدات اخلاص پر مبنی ہیں۔ چنانچہ ان میں تعصب اور تنگ نظری کو دخل نہیں ۔

روانگی :

            8نومبر2007 ع بروزجمعرات پرواز کے مقررکردہ وقت سے 3گھنٹے قبل عزیزی عامر عبداللہ کے ہمراہ لاہور کے علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ پہنچے۔ امیگریشن اور سامان کی پڑتال سے کسی رکاوٹ کے بغیر گزر کر انتظار گاہ میں پہنچے۔ ایران کے مسافروں کے لیے الگ تھلگ کونابنایا گیاتھا جیسے ایران کو ایئر پورٹ ہی سے ایک طرف لگا دیا ہو!ملتان اوربہاولپور جانے والوں کی طرح ایک بغلی راستے سے نکلے اور مرکزی راستے کی بجائے بس کے ذریعے دور کھڑے جہاز تک پہنچے جہاں ماہان ایئر سروس کے عملے نے ہمیں وصول کیا۔ دن کے دس بج چکے تھے۔ آسمان صاف، موسم خوشگوار اور فضا میں تازگی تھی۔ تھوڑی دیر میں مسافر لد گئے۔ ایک خاتون نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ محترم مسافروں کا خیرمقدم کیا، پہلے فارسی اور پھر انگریزی میں۔ مقررہ وقت کے مطابق ٹھیک 10:50 جہازنے مین رن وے کی طرف ٹیکسی کرنا شروع کر دیا۔

            ہماری قومی ایئر لائن میں وقت کی اتنی پابندی شاذ و نادر دیکھنے میں آتی ہے۔ جہاز کا عملہ یونی فارم میں ملبوس تھا۔ خاتون سر پر ٹوپی اور سکارف،شلوار، گردن سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی ،ہلکا سے میک اپ، مرد پتلون اور قمیض کے ساتھ بغیر نیکٹائی کے اور کلین شیو۔ ماہان کی یہ پرواز تہران کے راستے دبئی جا رہی تھی۔۔ اس لیے کافی تعداد میں ایسے مسافر بھی تھے جو تہران سے صرف گزر(Transit) رہے تھے۔ زیادہ تر مال لانے یا لے جانے والے تھے۔ گوجرانوالہ کے ایک صحت مند بٹ صاحب بھی ہمارے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ائیر بس باہر سے پرانی مگر اندر سے اچھی حالت میں تھی۔ چھت سے متعدد ٹی وی سیٹ لٹکے ہوئے تھے۔

             لاہور سے تہران تک پرواز کی مدت3گھنٹے40منٹ ہے۔ تہران پہنچ کر گھڑی کی سوئیاں ڈیڑھ گھنٹہ پیچھے کرنا پڑتی ہیں۔ لاہور لوٹتے وقت گھڑی کے وقت میں ڈیڑھ گھنٹہ بڑھانا پڑتا ہے۔

             جہاز میں تمام اخبارات ایرانی اور فارسی زبان کے تھے۔ اردو کا کوئی اخباراور رسالہ نہ تھا۔ طلب کرنے پر ایران ڈیلی کا شمارہ مل گیا جو ایک روز پرانا تھا۔ ماہان کی لاہور تہران پروار’ روزانہ نہیں بلکہ ہفتہ میں صرف3،4باراڑتی ہے۔۔چونکہ ایرانی کھانا جلد کھاتے ہیں اس لیے پاکستانی وقت کے مطابق11:20پر کھانے کی تقسیم شروع ہو گئی۔ اس کھانے میں سلاد، آلو، دہی، پانی، رس، مٹر چاول، چکن،مکھن، نمک شامل تھا۔ کھانا عام طور پر نمک مرچ اور روغن کے بغیر ہوتا ہے یا بہت ہی کم ڈالتے ہیں۔ تمام ماکولات اور مشروبات ایران کے تیار شدہ ،ہر ایک پر فارسی میں معلومات درج ہیں۔ بٹ صاحب نے اپنی صحت کے مطابق سپلی منٹ مانگا تو میزبان نے کسی توقف یا بحث کے بغیر چکن پلاؤ کا ایک اور ڈبہ پیش کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے تھیلے سے ایک شاپر نکالا اور بتایا کہ یہ گوجرانوالہ کا خاص کھویا ہے ۔ میں بٹ صاحب کے تحفے سے فیض یاب نہ ہو سکااور ان کے میٹھے سے معذرت کر دی۔ٹی وی پر جیمز بانڈ کی ایک پرانی فلم چلتی رہی۔ ڈب شدہ فلم منشیات کے دھندے کے حوالے سے تھی جس میں ایک مشہور مغربی پروفیسر ملوث تھا۔ انگریزی پٹی میں چہار حرفی لفظوں میں مختصر ترجمہ تھا۔ شاید پاکستانیوں کے شوق کے پیش نظر ایک ڈاکو منٹری کرکٹ کے بارے میں بھی دکھائی گئی۔کھانے کے برتن سمیٹنے کے بعد ایک میزبان راہداری سے کھانے کے گرے ٹکڑے اٹھا تا رہا۔ میزبان عملہ نرم خو، تبسم ریزاور مسلسل اعانت پر آمادہ رہا۔چہرے شکنوں کے بغیرتھے۔ تا ہم بین الاقوامی پرواز پر اردو انگریزی اخبارات وجرائد کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ کھانے کے بعد عند الطلب کافی مل گئی۔

پرواز :

            ماہان انٹر نیشنل کی پرواز بڑی ہموار اور سبک تھی۔ کھڑکی سے نیچے مسلسل پہاڑی سلسلے نظر آتے رہے۔ کہیں وادیاں، کہیں گھاٹیاں۔ البتہ دریا، انہار ، سر سبز و شاداب کھیت، باغات، چراگاہیں دکھائی نہیں دیئے۔ ایران کا دشت کو یر دنیا کا ساتواں بڑاصحرا ہے۔ جہاز دشت لوط اوردشت مکران کے اوپر سے بھی گزرا۔ زاہدان سے تہران تک سمگلنگ کا راستہ بھی یہی ہے۔

            جب جہاز وقت مقررہ پر تہران پہنچا تو اس کے نواحی پہاڑوں پر ہلکی ہلکی برف نظر آرہی تھی۔ شہر کے دو ہوائی اڈے ہیں۔ ایک پرانا جو مہر آباد کہلاتاہے اور نسبتاً جدید ہے۔ دوسرا خمینی انٹر نیشنل ائیر پورٹ جو ذرا فاصلے پر واقع ہے۔ ہمارا جہاز تہران کے صنعتی علاقوں اور نزدیکی زرعی فارموں پر سے گزرتا خمینی ائیر پورٹ پر اترا۔ یہاں بعد دوپہر کا وقت تھا۔ موسم سرد وگرم کا آمیزہ تھا یعنی دھوپ گرم تھی اور ہوا ٹھنڈی۔ امیگریشن پر تھوڑی تاخیر ہوئی کیونکہ ہماری واپسی ویزا ختم ہونے سے دو دن پہلے ہونی تھی۔ کلرک کا خیال تھا کہ ویزا کے آخری ہفتہ عشرہ میں ایران کے سفر کی شایداجازت نہیں۔ مگرا س کی غلط فہمی جلد دور ہو گئی اور ہم شیشے کی راہداریوں سے گزرتے ہوائی اڈے سے باہرآ گئے جہاں ہمارے مہربان او راہ بر سید مہدی منتظر تھے۔ (جاری ہے)

٭٭٭

             جناب ڈاکٹر انوار احمد ُبگوی پنجاب کے مشہور قصبے بھیرہ میں پیدا ہوئے۔ ممتاز علمی خاندان ُبگویہ سے تعلق ہے۔ علما و فضلا کا یہ خاندان پچھلے ساڑھے تین سو برس سے مذہب و علم و ادب کے میدانوں میں کار ہائے نمایاں دکھا رہا ہے۔

             ڈاکٹر صاحب نے تعلیمی مدارج اعزاز کے ساتھ طے کیے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی۔ بعد ازاں پنجاب کے محکمہ صحت سے منسلک ہو گئے۔ 2006ع میں سبکدوش ہونے تک اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوئے۔ دوران ملازمت بہترین کار کردگی دکھانے پر وزیر اعلیٰ پنجاب، سے طلائی تمغہ اور سند پائی۔ دفتر میں قومی زبان ، اردو کو رائج کرنے کی عظیم جدوجہد پر جدید بابائے اردو ڈاکٹر سید عبد اللہ سے نشان سپاس پایا۔

             2009 ع سے انہوں نے خدمت خلق پر کمر بستہ مثالی علاج گاہ ، حجاز ہسپتال کا انتظام سنبھال رکھا ہے ۔ وہاں دل و جان سے دکھی انسانیت کی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

             خاندانی روایات کے عین مطابق بچپن ہی سے علم و ادب میں دلچسپی لینے لگے۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کے درس قرآن میں شریک رہے ۔ تاریخی ناول بھی زیر مطالعہ رکھے۔1965 ع میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سالنامے‘‘ کیمکول’’ کے مدیر بنے اور ایک شاندار شمارہ مرتب کیا۔ اسلام، سیاست، عمرانیات، طب، تنقید اور سیر و سیاحت کے موضوعات پر تحریریں قلمبند کر چکے ہیں۔

             2004ع میں ان کا یاد گار تحقیقی کار نامہ‘‘ تذکار ُبگویہ’’ منظر عام پر آیا۔ یہ عظیم تصنیف دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے 1650ع تا1975ع حیات رہنے والے خاندان ُبگویہ کے ممتاز علمائے کرام اور بزرگوں کے حالات زندگی و کار نامے دلچسپ انداز میں رقم کیے ہیں۔

٭٭٭

سوئے حرم بگوی صاحب کا شکر گزار ہے کہ انہوں نے سوئے حرم کی اعزازی ادارت قبول فرما لی ہے