نوراں

مصنف : شہریارخاور

سلسلہ : افسانہ

شمارہ : 2017 جنوری

شہریارخاور

افسانہ نوراں

سچی کہانی سے زیادہ سچا افسانہ۔معاشرے کی منافقت کے لبادتے اتارتی اور حقائق کے ورق پلٹتی ، شہر یاور خاور کی ایک خوبصورت تحریر۔

دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخوپورہ کے امیر محلے کی جامع مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی۔وجہ یہ تھی کہ میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پر تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شومئی قسمت کہ وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا۔ نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ، جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظہار افسوس کرتا تھا۔محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی۔ تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا،.قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا‘

پھر اللہ بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کہ مامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی۔ اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اور پھر ہمارے کون سے کوئی بچے ہیں کہ ان کے بگڑنے کا ڈر ہو۔ بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ہوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا۔ بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کہ شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا۔ خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی۔ جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی۔
سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے اللہ کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے۔ بادامی باغ اڈے پر اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی ۔ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عوض لے جانے کی حامی بھری۔ تانگہ چلا تو کوچوان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کہہ کر کیا کہ ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں۔
پندرہ بیس منٹ میں ہم پہنچ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کے غلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پہ منڈلاتی بے حساب مکھیاں، سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں۔ فرق تھا تو صرف اتنا کہ پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں۔ دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نئے پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے۔
مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی توعید ہوگئی۔ پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں۔ ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیا.’ابے نیا مولوی ہے‘۔’بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا‘
’کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟‘
’ہاں ہاں صحیح کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک‘۔عجیب طوفانِ بدتمیزی تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کہ جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفا کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو۔ اس سے پہلے کہ میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شبیر کو جو،مولوی صاحب ’مولوی صاحب‘ کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا۔ پتہ چلا کہ مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا۔ طبیعت خوش ہوگئی اس سے مل کے ۔دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد، لمبی سفید داڑھی، صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پہ چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا، پیشانی پہ محراب کا کالا نشان، سر پہ سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں۔ سادہ اور نیک آدمی اور منہ پہ شکایت کا ایک لفظ نہیں۔ بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا۔
سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے۔ گھر کیا تھا، دو کمروں کا کوارٹر تھا۔ مسجد سے متصل۔ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن۔ بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا۔ بہت تھا ہمارے لئے۔ بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی۔ دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا۔ گھر ٹھیک کرنے میں غلام شبیر نے بہت ہاتھ بٹایا۔ صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک، تھوڑا کریدنے پہ پتا چلا کہ یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا۔ بس تنخواہ کے نام پہ غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا۔ یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی۔
ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی۔ سو ایک دن غلام شبیر سے پوچھ ہی لیا۔’میاں یہ بتاؤ کہ پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟’وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کہ بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے ۔میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھا اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پہ. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی، پھر ڈرایا دھمکایا، لیکن مولانا نہیں مانے۔ ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے۔ ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کہ مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی۔پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا’غلام شبّیر ہنسنے لگا۔‘ کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے۔
لاحول ولا قوّۃ الا باللہ133..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے.’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا’آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھائیں۔ دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں۔ بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں۔’ غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا تو میری جان میں جان آئی۔‘
انہی شروع کے ایام میں ایک واقعہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پہ کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا۔ ’نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے۔‘
میں کچھ نہ بولا اور نہ ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی اللہ کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کہ یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتائے احسان کیے جا رہی ہے.عشاکی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا۔’میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآئے۔‘غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر. ’ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پہ۔’میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی‘’پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ‘
غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا:میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھائیں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں۔
یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا. ‘ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جائیں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھائیں گے۔
میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعدسے نو راں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نہ آیا۔
جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کہ اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشہور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کہ ’میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟‘ وہ ہنس کر بولا،’میاں جی الل کے گھر کا کیا نام رکھنا؟‘پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے.’ میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا‘بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے ۔آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.’’ وہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
میں سوچ میں پڑ گیا۔ گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ ‘‘کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.’’ دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگائے میری منتظر تھی۔
اب بات ہوجائے قرآن پڑھنے والے بچوں کی۔ تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے ۔تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے ۔نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے۔ دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے۔ کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نہ کسی نے بتایا. لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا۔ قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نہ تھی. لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا۔ تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا۔ میں بھی درگزر سے کام لیتا کہ چلو بچہ ہے ۔لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا۔ غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھائیں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا۔ درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا۔نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا۔ کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو، جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گئیں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری۔ میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی۔خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شبیر کو آواز دی۔ وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا۔ خدا کا شکر ہوا کہ چوٹ گہری نہیں لگی تھی۔ مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نہ لگے ۔خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کہ وہ عورت دہلیزپر کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی۔
چالیس پینتالیس کا سن ہوگا، معمولی شکل و صورت، سانولا رنگ اور چہرے پہ پرانی چیچک کے گہرے داغ۔ آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرمہ، زیور کے نام پہ کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ۔ چادربھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپل۔کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟’’ میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا‘‘میں نوراں ہوں مولوی صاحب.’’ اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا‘‘نوراں؟ نوراں کنجری؟’’ میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی. میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غائب تھا۔جی. نوراں کنجری!’’ اس نے نظریں جھکائے اپنے نام کا اقرار کیا. مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پہ شرمندگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کہ وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی ذمہ دار۔ شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں۔ پھر اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا ناپاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا۔باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نہ کر بی بی’’، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا۔‘‘
اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کہ جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نہ ہو۔ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی ان کہی فریاد کی لو بھڑکی، لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گئی میں نے بھی نہ روکا کہ پتا نہیں کس ارادے سے آئی تھی. اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پہنچ گیا
.کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟’’ غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا’نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آئی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کہ آئندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.’’ میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔‘‘وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آئی تھی میاں جی. نبیل کی ماں ہے ۔ بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی۔ اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا۔’’ غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا۔تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی۔ جیسی ماں ویسا بیٹا’’ میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی۔ ایک لمحے کو خیال بھی آیا کہ بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی مگر پھر اپنے استاد ہونیکا خیال آیا تو سوچا کہ بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے، کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کہ مسجد کے امام سے شکایت کر سکے۔.کتنے بچے ہیں نوراں کے؟’’ میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے۔ بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں.’’ غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی۔ میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی۔ ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی۔ اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا۔ گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آئی گئی ہوگئی۔
یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشا پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگئی۔ مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی۔ بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی۔ پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا۔ اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی، وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی۔ آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا، گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پہ اونچا جوڑا، جوڑے میں پروئے موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت۔
لاحول ولا قوۃ الاّ باللہ’’ میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا۔چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم.’’ اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا
یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی133133133؟’’ میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا۔میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے.’’ غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا۔
استغفراللہ! استغفراللہ!’’. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کہ مجھے احساس ہو چکا تھا کہ غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا۔اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت اللہ کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اور میں اللہ اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں۔ میرا بھی من تھا کہ کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجائے۔ نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں۔ زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا۔ اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی۔ کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کہ غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھائے پہنچ گیا۔میاں جی133ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.’’ اس نے ہچکچاتے کہا’
ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟’’ میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں.’’ اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھائے۔‘‘
دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟’’ میں نے کچھ برہمی سے پوچھا.نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے.’’ اس نے سہم کر کہا’کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.’’ میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی یہ واہیات بات سن کرمیاں جی. طوائف ہے لیکن مسلمان تو ہے نا۔ اور وہ تو اللہ کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر’’. اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کیاکہا اچھا؟ اللہ جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا اللہ تعالیٰ کو ہی بھیج دے’’. میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا
زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور اللہ کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گئی۔ ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. اللہ کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. اللہ کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی۔ میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی۔ اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کہ میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ہوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے۔ کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا۔ ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا۔ میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر پیر پٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا۔ ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری ۔موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کے کسی اللہ کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا۔میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی۔ مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی، کیا دیکھتا ہوں کہ میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ‘یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گئی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا۔وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گئی۔ اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی۔ ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گئی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے۔کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟’ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے۔بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں۔ جانے کون سی نیکی کام آ گئی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی.’ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہانوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گئی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا’. اس نے حیرانگی سے کہا’ارے نہیں. نوراں ہی تھی’. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑایءں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جم غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے۔
خدا خدا کر کے حج پورا ہوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوئے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شبیر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا۔بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا.’ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کر اکڑ گئی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے اس کے کندھے پہ تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا۔ٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا۔میاں غلام شبیر، نوراں کی سناؤ’. میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا۔اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا’بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں.’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا’مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مذاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگئی تھی.’ اس نے گویا میرے سر پر
بم پھوڑا،قتل ہوگئی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا’جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو۔ ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی۔ شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے ۔ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی.’ غلام شبیر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی
قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا۔پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کہ طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈے اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن.’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا’نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی.’ غلام شبیر نے مرے کان میں سرگوشی کی. ’طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے ۔نوراں سب جانتی تھی کہ کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے ۔بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی۔ کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں، غریب جتنا بھی کماتی بچوں پہ خرچ کر دیتی۔ بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پہ جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا۔یہ بتاؤ غلام شبیر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پہ حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے۔بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگی کہ بس تو ہی اس کنجری کو بلائے تو بلا لے’. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی، ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں،گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں۔
آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو.’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوؤں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا۔کیا کہوں غلام شبیر کے کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو اللہ کی بندی تھی. اللہ نے اپنے گھر بلا لیا.’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شبیر نہ سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا۔ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگئی. اترا ہی تھا کہ نوراں کے دروازے پہ نظر پڑی۔ ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں‘کیا بات ہے غلام شبیر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟’میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آئے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جائیں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے.’ غلام شبیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شبیر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شبیر نے حیرانگی سے پوچھا’نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں۔ آج سے وہ میرے بچے ہیں۔ اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے۔ آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا۔***