ہم کون ہیں

مصنف : وسعت اللہ خان

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : اگست 2019

فکر ونظر
ہم کون ہیں 
وسعت اللہ خان

 

    جب حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے وسطی ایشیا کے آریا گھڑ سوار یورپ، مغربی اور جنوبی ایشیا میں پھیلنے شروع ہوئے تو جہاں جہاں بھی انھوں نے بستیاں بسائیں وہاں وہاں کے ہو رہے۔ یورپ میں یہ آریا سلاوک اور جرمن ہو گئے۔ ایشیا میں ایرانی اور جنوبی ایشیا میں ہندو کہلانے لگے۔
آریاؤں کے برعکس سامی النسل یہودی ساڑھے تین ہزار سال کی دربدری کے باوجود آج بھی خدا کی لاڈلی امت کے طور پر کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ لیکن اس دوران انھوں نے کم از کم ایک مرکز ایسا ضرور بنا لیا جو یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہودی بھلے کسی بھی ملک میں رہتا ہو پہلے یہودی ہے پھر کچھ اور۔ اس لیے دنیا کے کسی کونے سے جو بھی یہودی چاہے اپنی غیر اسرائیلی شناخت سمیت اسرائیل میں آباد ہو سکتا ہے۔ آ کے پھر جا سکتا ہے اور جا کے پھر آ سکتا ہے۔
کم و بیش یہی حال سامیوں کے دوسرے گروہ عربوں کا بھی ہے۔ وہ اسلام سے پہلے بھی عربی تفاخر میں مبتلا تھے اور اسلام کے بعد بھی عرب عصبیت دماغ سے نہ نکال پائے۔ جتنا عرب سعودی ہے اتنا ہی عرب شامی اور مصری بھی ہے اور جتنا عرب ایک مسلمان ہے اتنا ہی عرب ایک فلسطینی و لبنانی عیسائی بھی ہے اور جتنا عرب ایک کویتی سنی ہے اتنا ہی عرب ایک عراقی شیعہ بھی۔
دکن کی سلطنتِ عثمانیہ کی فوج میں بھرتی کے لیے یمن سے آنے والا چاؤش بھلے کتنی بھی باتیں کر لے آج ڈھائی سو برس بعد بھی اس کی آٹھویں نسل خواب میں یمن ہی دیکھتی ہے۔ چودہ سو برس پہلے کے خطبہ حجتہ الوداع کے بعد بھی عربوں کا تصورِ دنیا آج بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عربی (صاحب السان)اور عجمی (اجنبی اور گونگے)۔ اور جو عرب اس نفسیات سے بظاہر انکار کریں انھیں ذرا دس منٹ کرید کے دیکھئیے۔ پھر وہ آپ کو دیکھ لیں گے۔
اور یہ صرف عربوں کا ہی حال نہیں۔ صحرائے اعظم کا بربر اور نائجیریا کا بلالی مسلمان ہو کہ بپتسمہ زدہ جنوبی سوڈانی عیسائی زادہ‘ خود کو بیچ ڈالے گا مگر اپنی افریقی شناخت کسی قیمت فروخت نہیں کرے گا۔
رہا جنوبی ایشیا تو یہاں کے بنگالی بھلے مسلمان ہوں کہ غیر مسلم وہ اپنی جڑیں بنگال میں ہی دیکھتے ہیں۔ انھیں زمین زادہ ہونے پر اتنا ہی فخر ہے جتنا ہندو یا مسلمان یا بودھ ہونے پر۔ یہی حال ملے اور انڈونیشائیوں کا بھی ہے۔ عقیدہ بھلے کچھ بھی ہو مگر جانتے ہیں کہ ان کا جینا مرنا اپنی ہی بھومی سے وابستہ ہے۔ ان کے پرکھے ہزاروں برس پہلے کہیں سے آئے بھی ہوں گے تو ان کی بلا سے۔
مگر (سوائے بنگال) جنوبی ایشیا کے مسلمان کون ہیں؟ اگر تو یہ اسی دھرتی کے ہیں تو پھر باہر کیوں دیکھتے ہیں اور اگر یہ باہر کے ہیں تو پھر جہاں جہاں کے بھی ہیں وہاں وہاں کے انھیں اپنا کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کب تک شناخت کے صحرا میں بھٹکتے رہیں گے اور ان کی روحوں کو کب قرار آئے گا اور دماغ و دل کب سمجھیں گے کہ تمہارا اصل کس مٹی میں ہے؟ کئی لوگ اقبالیات میں پناہ لیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ترانہِ ہندی کہنے والے اقبال کا پان اسلامک ازم نسلی تفاخر سے نہیں ممکنہ سیاسی یکجہتی کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا۔
مگر میں جب اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت کم ایسے مسلمان نظر آتے ہیں جو خود کو یہیں کا کہتے ہوں اور اپنی شناخت باہر ڈھونڈنے میں فخر نہ محسوس کرتے ہوں۔
آپ خود ہی سوچئے کہ محمد بن قاسم سے بہادر شاہ ظفر تک عرب، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا سے زیادہ سے زیادہ کتنے ترک، پٹھان، ایرانی، کرد، کاکیشیائی فوجی، امرا، درویش یا ہنرمند آ کر برصغیر میں بسے ہوں گے؟ دس لاکھ، بیس، تیس لاکھ، پچاس لاکھ، حد ایک کروڑ۔ آج بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد اڑتیس سے چالیس کروڑ کے درمیان بتائی جاتی ہے (یہ آبادی پورے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں سے زیادہ ہے)۔
حقیقت یہ ہے کہ ان چالیس کروڑ میں سے نوے فیصد وہ ہیں جن کے آبا ؤ اجداد صوفیا کے طفیل مسلمان ہوئے۔ لیکن ان میں سے اگر جاٹ راجپوت اور بنگالی مسلمان نکال دیے جائیں تو باقی سب اپنے ڈانڈے آج بھی برِصغیر سے باہر تلاش کرتے ہیں۔
مثلاً سب سے زیادہ سید جنوبی ایشیا میں ہیں اور سب کے شجرے ایران، بخارا اور حجاز سے شروع ہو کر وہیں ختم ہوتے ہیں۔ یقیناً منگولوں کے حملوں کے بعد سے بالخصوص بخارا و سمرقند، ایران اور عربستان سے لوگوں نے برصغیر کی جانب ہجرت کی۔ مگر کیا یہ تمام کے تمام علما، صوفیا اور اشرافیہ ہی تھے؟ کوئی ایک آدھ ترکھان، جولاہا، لوہار، مزدور اور کاشتکار بھی تو ان علاقوں سے آیا ہو گا؟ وہ آج کہاں ہیں؟
کہا جاتا ہے ہندوستان پر مسلمانوں نے ایک ہزار برس حکومت کی۔ خاندانِ غلاماں سے مغلوں تک سب یہیں آ کر بسے، مقامی رسوم و رواجات سے بھی متاثر ہوئے اور اپنی روایات سے مقامی لوگوں کو بھی متاثر کیا۔ دفن بھی یہیں ہوئے لیکن خود کو مرتے دم تک ہندوستانی کے بجائے ترک، مغل اور افغان بچہ ہی کہتے رہے اور کہتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد سے بیشتر مغل آخر پنجاب میں ہی کیوں پائے جاتے ہیں؟ پاکستان کے دیگر صوبوں میں اتنے کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ اور ساری مغلیت مغلئی کھانوں پر ہی کیوں ختم ہو جاتی ہے۔
اسی طرح بہت سے پشتونوں کا خیال ہے کہ وہ مقامی یا آریائی النسل نہیں بلکہ بنی اسرائیل کا بارہواں گمشدہ قبیلہ ہیں۔ تو پھر باقی گیارہ قبیلوں کے وارث انھیں اپنا گمشدہ بھائی تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ آپ کہیں گے چونکہ بنی اسرائیل کا یہ گمشدہ قبیلہ مسلمان ہو گیا اس لیے یہودی کیوں انھیں تسلیم کرنے لگے؟ تو عرض یہ ہے کہ اسرائیلی ریاست کی دو سرکاری زبانیں ہیں۔ عبرانی اور عربی۔ اور اسرائیل کی بیس فیصد آبادی عرب مسلمانوں پر مشتمل ہے (مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی نکال کے)۔ اور یہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اسرائیلی شہریت کی بنیاد یہود النسل ہونا ہے۔ آپ بھلے اسرائیل سے نفرت کرتے رہیں لیکن اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروا کے یہ اطمینان تو کر لیں کہ آپ اصل میں ہیں کون؟
سندھی اتنے قوم پرست ہیں کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ لیکن جہاں جڑوں کی بحث چھڑتی ہے تو کلہوڑے اور داؤد پوترے فوراً سلطنتِ عباسیہ سے رشتہ جوڑ لیتے ہیں۔ تالپور، چانڈیہ، جتوئی، زرداری وغیرہ بلوچ ہیں اور بلوچ خود کو کردوں کا ایک قبیلہ سمجھتے ہیں۔ صرف براہوی ایسے ہیں جو خود کو یہیں کا کہتے ہیں۔ سومرہ جانے کب سے سندھی ہیں مگر گفتگو میں وہ آپ کو عربستان سے اپنی آمد کا بتانا نہیں بھولیں گے۔ سید ایسوسی ایشن بھی آپ کو سندھ میں ہی ملے گی۔
سندھ کے سماٹ قبائل خود کو یہیں کا بتاتے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ کہنا سننا اچھا نہیں لگتا کہ ان کے پرکھے راجہ داہر کی بھی رعایا یا ہم مذہب رہے ہوں گے۔ میں بہت سے سندھی دوستوں کو جانتا ہوں جو خود کو فخریہ سماٹ بھی کہتے ہیں اور اگلی سانس میں یہ بھی جتاتے ہیں کہ وہ محمد بن قاسم کے ہمراہ یا فوراً بعد سے یہاں آباد ہیں۔ آخر میں صرف کوہلی، بھیل میگھواڑ اور ٹھاکر ہی بچتے ہیں جو سندھ میں نہ کہیں سے آئے نہ کہیں گئے۔
قبل از ضیا دور کے تعلیمی نصاب میں کم از کم اتنا ضرور تھا کہ موہن جو دڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا کو بھی پاکستان کا تہذیبی و نسلی ورثہ شمار کیا جاتا تھا۔ لیکن اب سے پانچ برس پہلے جب میں نے موہن جودڑو میوزیم کے ایک کیوریٹر سے ان آثار کی دن بدن خستہ حالی کی بابت پوچھا تو اس نے کہا ”یہ تو ہندوؤں کا ورثہ ہے۔ ہندو تو اب یہاں سے چلے گئے۔ ہم سے جتنی دیکھ بھال ہو سکتی ہے کر رہے ہیں۔ ابھی اور کیا کریں سائیں“۔ 
ایک جانب تو برِ صغیر کے مسلمانوں کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ ان کی رگوں میں آج بھی وسطی ایشیا سے لے کے حجاز اور یمن تک کا خون دوڑ رہا ہے اور اسی سبب ان مقامات سے ان کی عقیدت بھی باقی دنیا کے مسلمانوں کے مقابلے میں دو چند ہے۔ لیکن جب انھی مسلمانوں کا آج کے کسی ایرانی، ترک یا عرب سے سامنا ہوتا ہے تو وہ انھیں ہندوستانی اور پاکستانی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ اور اپنے ہی ملک میں تین تین نسلوں سے آباد بہت سے برصغیریوں کو شہریت دینا تو کجا انھیں رفیق اور مسکین سے اوپر اخی تک کہنے پر آمادہ نہیں۔ اس کے باوجود برصغیر کا مسلمان اپنی اصل شناخت کو کھوجنے اور اس پر فخر کی عادت ڈالنے کے بجائے اپنے بدیسی شجرے سنبھال سنبھال کے خود ہی خوش ہوتا رہتا ہے۔
جب تک اندر کے بجائے باہر کی طرف دیکھنے کی عادت رہے گی تب تک نہ اپنی نگاہوں (بقیہ  ص    ۷۳    پر) 
میں اپنی توقیر ہو سکتی ہے اور نہ دوسروں کی نظروں میں۔ پتھر اپنی جگہ پر ہی بھاری ہوتا ہے۔ مگر یہ محاورہ سچ ہونا تب ہی ممکن ہے کہ خود کو غیر برصغیری ایتھنک سنڈروم سے آزاد کرنے کی اجتماعی کوشش کی جائے اور ان مسلمان قوموں سے سبق لیا جائے جو اپنی اپنی شناخت پر فخر کرتی ہیں مگر ان کا اسلام بھی خطرے میں نہیں پڑتا۔ آپ یہاں کے ہیں اور یہیں کے ہی رہیں گے۔ بھلے آپ مانیں یا نہ مانیں۔ دوسرے آپ کو یہی مانتے ہیں۔
٭٭٭