ہمارے بزرگوں کا تصورِ عورت

مصنف : محمد حسن معراج

سلسلہ : دین ودانش

شمارہ : جولائی 2019

ایک فتوی اور اس کا جواب
تراویح میں شرکت کے لیے عورتوں کا مسجد میں جانا
سوال۔ یہاں رمضان میں عورتوں کا خیا ل ہے کہ مسجد میں جا کر تراویح میں قرآن سنیں وہاں پردے کا انتظام ہو گاکیا یہ جائز ہے ؟
جواب۔عورتوں کا مسجد میں جاکر جماعت میں شریک ہونا مکروہ تحریمی ہے اور اس سے کوئی نماز مستثنی نہیں۔ خا ص طور پر مردوں کی تلاوت قرآن سننے کا مقصد موجود ہ حالات میں زیادہ تر حسن صوت ہوتا ہے جو اور زیادہ موجب فتنہ ہے ۔
احقر محمد تقی عثمانی
بحوالہ فتاوی عثمانی جلد اول ص ۴۷۱ کتاب الصلوۃ۔
٭٭٭
عورت کے حوالے سے وابستہ منفی تصورات انسانوں کا مشترکہ ماضی ہیں۔قدیم فلسفیوں سے لے کر موجودہ دور کے علما تک ہر ایک نے اپنے دائرے میں ان کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے،فلسفے میں اس رویے کے محرکات کسی قطعی دلیل پر نہیں کھڑے تھے اس لیے ان کو تو چیلنج کر کے دنیا نے رد کر دیا،لیکن مذہب کے باب میں یہ کام بہت مشکل ہے۔علما آیتیں اور حدیثیں سنا کر ان لوگوں کو چپ کرا دیتے ہیں جو ان کے تصور عورت سے اختلاف کریں۔
ہمارے علما کے نزدیک قرآن و حدیث کو سمجھنے میں ان کے جس فہم کا دخل ہے وہ بھی الہامی ہی ہے،لھذا ان کی سمجھی ہوئی بات کو چیلنج کرنا بھی گویا قرآن و حدیث کا انکار کرنا ہے،یہی وہ رویہ ہے جو ردعمل کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور لوگ مذہب کی پاکیزہ ہدایت سے بھی خود کو مجبوراً دور کر لیتے ہیں۔
اس پوری بات کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔
مذکورہ بالا فتوے کو دیکھیے۔اس میں سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے۔ اس کا جواب دیا گیا ہے بالکل نہیں۔اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ عورت جب مسجد میں آئے گی تو یقینا قرآن کی تلاوت سنے گی،اور تلاوت چونکہ اچھی آواز میں ہوتی ہے،لہذا خدشہ ہے کہ وہ اسے سن کر قاری کے عشق میں مبتلا نہ ہوجائے،اور تلاوت قرآن کی سحر انگیزی میں مدہوش ہو کر اپنے آپ کو اس مرد امام کے ساتھ کسی فتنے میں نہ ڈال بیٹھے۔گویا مسجد میں اس کا آنا خطرے کا باعث ہے،لھذا اسے خدا کے گھر سے دور رہنا چاہیے۔
یہ مثال بتا رہی ہے کہ ہمارے بزرگوں کا تصور عورت کس قدر بلند ہے؟معلوم ہوتا ہے جیسے وہ محض جنسی تسکین کا کوئی کھلونہ ہے، اس کی کوئی شخصیت ہے،نہ آدرش ہیں،وہ ایک بیوقوف حیوان ہے جسے جو چاہے جہاں کھینج کر لے جائے،وہ اس قدر پاگل ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت سن کر بھی اس میں اپنی جنسی خواہشات کا سامان ڈھونڈ لے گی۔
اس کے برخلاف یہی سوال جب رسول اللہ سے کیا گیا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کے جو جوابات دیے ان کا استقصا بتاتا ہے کہ آپ نے عورت کو بھی اسی طرح مسجد میں نماز پڑھنے کا حق دیا جیسے مردوں کو حاصل ہے،وہ خدا کے گھر میں حاضر ہوسکتی ہیں،اس کی اجتماعی عبادت میں شریک ہو سکتی ہیں،وہ بھی خدا کی ویسی ہی مخلوق ہیں جیسے مرد ہیں،ان کا بھی خدا سے تعلق قائم کرنے اور اس کے گھر آنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا مرد کو ہے۔بعض اطلاقی معاملات میں جہاں شوہروں کے لیے بیویوں کا مسجد جانا کسی دشواری کا باعث بن رہا تھا، آپ نے ان بیویوں کو ہدایت کی کہ نماز گھر پر ہی پڑھ لیں تو بہتر ہے تاکہ محض اس وجہ سے خاندان اور تعلقات متاثر نہ ہوں۔ رسالت مأب نے پوری زندگی کبھی عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا۔لیکن ہمارے علما کی نظر میں عورتوں کا قرآن سننا بھی فتنے کا باعث ہے۔
ذرا غور کریں کہ ایک عورت جب یہ بات سنے گی کہ دین کی نظر میں وہ کس قدر کمزور اور پستی میں مبتلا مخلوق ہے تو کیا اس کا گھر میں بھی اس دین کے خالق کی نماز پڑھنے کا دل چاہے گا؟انا للہ و انا الیہ راجعون۔