نار سے نور تک

مصنف : ناصر بن جابر

سلسلہ : من الظلمٰت الی النور

شمارہ : جنوری 2019

من الظلمت الی النور
نار سے نو ر تک
ناصر بن جابر
زبان و بیان قاری حنیف ڈار

                                                                                                                                                    میں برطانیہ میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جو اسرائیل سے ہجرت کر کے وہاں پہنچا تھا۔ بہن بھائیوں میں میرا نمبر چوتھا اور آخری تھا۔یوں کچھ لاڈلا بھی تھا۔ یہودی مذہب میں بھی ہر مذہب کی طرح سوال کرنے کو بہت برا جانا جاتا ہے اور سوال کو مذہب یا خدا کے خلاف سازش سمجھا جاتا ہے۔ادھر میں تھا کہ سوال نہ کروں تو کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ والدین میری اس عادت سے بہت تنگ تھے وہ حتی الامکان میرے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے اور آخرکار وہی امرت دھارا استعمال کرتے جو ساری دنیا کے والدین کرتے ہیں یعنی پٹائی۔ میرے بہن بھائیوں کو جب بھی،اور جو بھی ملتا ان کی سب سے پہلی ترجیح اسے کھانا ہوتی تھی جبکہ میں جب تک پوچھ نہ لوں کہ کس نے دیا ہے؟ کیوں دیا ہے؟ اور کتنا دیا ہے؟ کھاتا نہیں تھا،والدہ اکثر جب مجھے کوئی چیز دیتیں تو سوال سے پہلے ہی کہتیں،تیری خالہ نے دیا ہے، ان کی بیٹی کے گھر بچہ پیدا ہوا ہے اور سارے رشتے داروں کو دیا ہے اور اب مر کھا لے۔
مذہب کے معاملے میں ان کو کوئی خاص علم نہیں تھا، وہ ہوں ہاں کر کے چپ ہو جاتے یا جو کہانی سنی ہوتی سنا دیتے، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ میں مطمئن ہوا یا نہیں ہوا،البتہ یہودیت میں اسلام کی طرح ذرا ذرا سی بات پر کان پکڑ کر نکال نہیں دیا جاتا کہ یہ کافرہو گیا، بلکہ آپ یہودی ہیں اور عمل کریں یا نہ کریں آپکی یہودیت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اسرائیل میں حکومت ہمیشہ سے بے عمل یہودیوں کی رہی ہے۔ اور یہ مسئلہ میں نے جتنے مذاہب تبدیل کئے سب میں دیکھا کہ ہر مذہب میں حکومت بے عمل لوگوں کی ہی ہے،، باعمل لوگ صرف جلنے کڑھنے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔ عوام میں ان کی پذیرائی نہیں اور حکومت چلانے کی ان میں صلاحیت نہیں،، اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت چلانے کے لئے جس وسعت قلب و نظر کی ضرورت ہے وہ ان میں نہیں ہے، لہذا ان کے مقدر میں ہی لوگوں کو کوسنا اور اور خود بھی جلنا کڑھنا ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں یوسف علیہ السلام نے تنِ تنہا کس طرح کافروں سے بھرے ملک میں حکومت کر لی ۔کس طرح پورے ملک کو اپنے ذاتی محاسن اور نظم و ضبط،و عدل و انصاف سے حکومت کر کے مسلمان کر دیا،، کہاں وہ پیغمبر اور کہاں آج ان کے نام لیوا؟
یہودیت کے جوھڑ سے نکل کر میں نے عیسائیت کے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ اس سے کوئی خاص طوفان برپا نہیں ہوا کیونکہ یہودیت سے عیسائی ہونا یا عیسائی سے یہودی ہونا، ایک معمولی تبدیلی سمجھا جاتا ھے جس طرح مسلمانوں میں فقہ کی تبدیلی ھوتی ہے۔ بندہ کسی بھی امام کو سوئچ کر کے رہتا مسلمان ہی ہے،، مگر میرے سوالوں کا جواب عیسائیت کے پاس بھی نہیں تھا۔اور میں زیادہ دیر وھاں بھی ٹک نہ پایا،، ایک سکھ دوست کی دوستی نے جو کہ میرا یونیورسٹی کا کلاس فیلو تھا مجھے سکھ بنا لیا۔میرے سوالات نے اسے بھی سکھ مذھب سے فارغ کر دیا اور میں گیا تو اکیلا تھا مگر سکھ ازم سے نکلنے والے دو تھے۔ اب دو آدمیوں کو مذہب کی تلاش تھی ۔میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا، اگرچہ نسلی تعصب کی وجہ سے جو کہ مسلمانوں کے خلاف ہمارے خون میں شامل ہے، قرآن کو پڑھنا میرے لئے ایک قیامت سے گزرنا تھا، لیکن میں جوں جوں قرآن کو پڑھتا گیا میرے اندر کی میل اور میرے سوالوں کی کاٹ کم ہوتی چلی گئی ۔قرآن تو بھرا ہی جوابات سے ہے،،وہ سوال بھی خود کرتا ہے،اس لئے دوسروں کو سوال سے منع بھی نہیں کرتا ،اور جواب بھی خود دیتا ہے۔ انسانی ذہن آج جن سوالوں تک پہنچا ھے،قرآن نے صدیوں پہلے ان سوالوں کو اٹھا کر ان کا تسلی بخش جواب دے دیا ہے مگر میرا مسئلہ مسلمان ہونے کے بعد شروع ہوا!
میں مسلمان تو برطانیہ میں ہی ہو گیا تھا اور میں یہ چاہتا تھا کہ کسی مسلمان ملک میں جا کر اسلام کو عملی طور پر دیکھوں۔میرے والد صاحب جو دس سال پہلے 1977 کے زمانے میں پاکستان میں برطانوی سفارت خانے میں اتاشی کے طور پر کام کر چکے تھے انہوں نے جب سنا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور سعودی عرب جانے کا سوچ رہا ہوں تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ اگر تم مسلم ملک میں جانا چاہتے ہو تو پھر پہلے پاکستان جاؤ،یہ وہ واحد ملک ھے جو اسلام کی بنیاد پر بنا ہے اور تمہیں اسلام کو سمجھنے میں جتنی مدد اس ملک سے ملے گی کہیں اور ممکن نہیں ملے گی۔ اب اللہ جانتا ہے اس مشورے کے پیچھے کیا عوامل کار فرما تھے،مگر میں ان کے مشورے پر پاکستان کی طرف چل نکلا۔کراچی پہنچ کر میں نے ایک فائیو اسٹار ہو ٹل میں قیام کیا! ایک سروس بوائے سے میں نے اپنا مقصد بیان کیا کہ میں اس نیت سے پاکستان آیا ہوں اور کوئی اچھا سا ادارہ جو مجھے اسلام کو سمجھنے میں مدد دے اس کی تلاش میں ہوں اگر تم مجھے گائیڈ کر سکتے ہو تو تمہاری مہربانی ہو گی اور اگر ایک دو چھٹیاں لے لو گے تو میں ان کے پیسے بھی تمہیں دے دوں گا۔ سروس بوائے نے میرا انٹرویو شروع کیا اور پوچھا کہ میں کون سا مسلمان ہواہوں تا کہ متعلقہ اسلام کے کسی ادارے کو وزٹ کیا جائے۔ میں جس کی ساری زندگی سوال کرتے گزری تھی، اس سوال پر چکرا کر رہ گیا کہ میں کون سا مسلمان ہواہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے قرآن پڑھا ہے اور اس کے مطابق اللہ کو ایک مانا ہے،،محمدﷺ کو اللہ کا رسول مانا ھے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان لایا ہوں، اللہ نے جبریل کے ذریعے قرآن نازل کیا ھے جو اللہ کا کلام ہے اب تم بتاؤ کہ یہ کونسا اسلام ہے؟ وہ بولا اس سے کام نہیں چلے گا۔ اتنا سارا اسلام پاکستان میں نہیں چلتااس کے ساتھ کچھ اور ضروریات بھی ہیں جن کے لئے آپ کوہمارے ایک عالم ہیں ان سے ملنا ہو گا۔ اگلے دن وہ مجھے کراچی کی ایک جامعہ میں لے گیا، جہاں ایک بہت موٹے تازے بزرگ بیٹھے تھے جو سبز پگڑی پہنے بیٹھے تھے۔ انہوں نے مجھ سے تفصیل پوچھی اور میرے علم میں یہ اضافہ کیا کہ چونکہ ھند میں اسلام کچھ بزرگوں کے ذریعے آیا ہے ان بزرگوں کے بارے میں میرا عقیدہ اگر خراب ہوا تو میں مسلمان نہیں ہو سکتا، لہذا انہوں نے مجھے ایک بندے کے سپرد کیا جو مجھے کسی درگاہ پر لے گیا جہاں میرے نفس کا تزکیہ کرنا مقصود تھا۔ وہ غالباً منگھو پیر کی درگاہ تھی اور جامعہ امجدیہ کے مہتمم نے مجھے وھاں کے سجادہ نشین کے نام رقعہ دیا تھا جو میں نے ان کے سپرد کر دیا۔ مجھے غسل دلوایا گیا، سبز کپڑے پہنائے گئے اور میری انگلیوں میں چار انگوٹھیاں جو مختلف رنگوں کے پتھروں سے مزین تھیں پہنا کر میری بیعت لی گئی اور ایک ڈنڈا میرے ھاتھ میں پکڑایا گیا اور اسلام میں داخل کر لیا گیا۔
صبح صبح مجھے ناشتے کے بعد ریلوے اسٹیشن لے جایا جاتا جہاں آنے جانے والے مسافروں کو مجھے اسلام کی دعوت دینی تھی اور ساتھ بتانا تھا کہ میں کن کے ہاتھ پر مسلمان ہواہوں!یہ معمول کوئی دو ماہ رہا اس دوران میں نے جب بھی قرآن کی تلاوت اور مطالعہ کرنے کی کوشش کی میرا انگلش ترجمے والا قرآن بڑے پیار اور ادب کے ساتھ میرے ہاتھ سے لے کر واپس میرے سامان میں رکھ دیا گیا اور بتایا گیا کہ قرآن نے جو کام کرنا تھا وہ کر دیا ہے،اب آپ کو تربیت کی ضرورت ہے مطالعے کی نہیں۔ دو ماہ بعد کی بات ہے جب میں ریلوے اسٹیشن پہنچا تو وھاں ایک تبلیغی جماعت ریل گاڑی میں سے اتر رہی تھی، میں نے جب ان کو اپروچ کرنے کی کوشش کی تو میرے گائڈ نے میرا ھاتھ سختی سے پکڑ لیا اور کہا کہ ان کے قریب مت جاؤ۔ یہ بات جماعت کے ایک ساتھی نے بھی محسوس کر لی اور وہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ میری طرف لپکے۔ سلام کے بعد انہوں نے مصافحہ کیا اور بہت شستہ انگلش میں مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں سے ہوں اور کیا میں مسلمان ہوں،؟ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر تھے،میرے جواب کے بعد ڈاکٹر صاحب نے، مجھ سے پوچھا کہ آپ کا سامان کدھر ہے؟ میں نے بتایا کہ اس بھائی کو پتہ ہے کسی درگاہ پر ہے،، اب باقی جماعت بھی اپنا سامان لئے ھمارے اردگرد کھڑی ھوگئی۔
میرے گائڈ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے،وہ بار بار واپس چلنے کے لئے اصرار کر رہے تھے،مگر اب واپسی پر ڈاکٹر صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے جو میرا سامان لے کر مجھے ساتھ لے جانے آئے تھے کیونکہ میں نے ان کے ساتھ جانے پر رضامندی کا اظہار کر دیا تھا۔ وھاں سے سامان کس مشکل سے چھوٹا یہ الگ داستان ہے، مگر وہاں مکالمے کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ایک دوسرے کی نظر میں یہ دونوں مسلمان نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک میں اب تک مشرکوں کے چنگل میں تھا اور سجادہ نشین مجھے بتا رہے تھے کہ تو اب مرتدہو گیا ہے اور اسلام سے خارج ہو کر جا رہا تھا، مگر مجھے سمجھ یہ نہیں لگی تھی کہ جب میں اسلام میں اپنی مرضی سے داخل ہواہوں تو میری اپنی مرضی اور نیت کے بغیر کوئی مجھے اسلام سے نکال کیسے سکتا ہے ؟جو مرضی سے آیا ہے مرضی سے جائے گا،اعلان کے ساتھ داخل ہوا ہے اعلان کے ساتھ خارج ھو گا۔ خیر سوالات کی چکی جو قرآن پڑھ کر بند ہوئی تھی،مسلمانوں میں آ کر بہت تیزی سے چل پڑی تھی۔ مجھے نقد جماعت کے ساتھ فوراً رائے ونڈ روانہ کر دیا گیا۔ جہاں میں نے دو ماہ کے لگ بھگ تو رائے ونڈ میں گزارے جو مختلف ممالک سے آنے والی جماعتوں سے خصوصی ملاقاتوں اور باہم تبادلہ خیالات میں گزرے جبکہ چالیس دن ایک جماعت کے ساتھ لگائے۔ یہاں کا ماحول بہت اچھا تھا،لوگ بہت ہی خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے اورہر وقت اللہ اللہ کے چرچے چلتے تھے۔ ہر جمعرات کو مرکز کے باھر کتابوں کے اسٹال لگتے تھے جن پر خریداروں کا بہت رش رھتا تھا۔پھر سالانہ اجتماع شروع ہو گیا اسٹالوں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور خریداروں کا رش بھی بہت زیادہ ھو گیا۔میں عصر کی نماز کے لئے وضو کر کے آ رھا تھا کہ میری نظر ایک اسٹال پر کھڑے ایک نوجوان پر پڑی جو اپنی ہیئت اور کیفیت میں الگ تھلگ نظر آ رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے سلام دعا کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ کیا میں نو مسلم ہوں،میں نے مسکرا کر اثبات میں جواب دیا اور ایک کتاب جو انگلش میں تھی اٹھا لی، کتاب کا ٹائٹل تھا '' ٹووارڈز انڈر اسٹینڈنگ اسلام '' جونہی میں نے کتاب پر قیمت دیکھی اور اسے پیسے دینے کے لئے بٹوہ کھولا،، جھٹ پٹ کہیں سے ڈنڈا بردار جوان نمودارہوئے اور اس جوان کو اسٹال ہٹانے کا حکم دیا،، اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر جوانوں نے اس کا اسٹال الٹ دینے کی دھمکی دی، جس پر اس نے بیچارگی سے اپنا اسٹال سمیٹنا شروع کر دیا،، میں نے اسے پیسے دینے کی کوشش کی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ میں اسے اس کی طرف سے گفٹ سمجھوں اور کتاب کی قیمت اپنی جیب سے نکال کر اس نے پیسوں والے لفافے میں ڈال دی ۔میں زندگی بھر اس جوان کو نہیں بھول سکا،، جو شاید میری طرح اب بوڑھا ہو چکا ہو گا یا اللہ کو پیارا ہو چکا ہو گا،، مگر میں نے ھمیشہ اسے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا ھے،، اسے اللہ نے میرے لئے ہی بھیجا تھا اور جب کام ہو گیا تو ہٹانے والے بھی پہنچ گئے۔
میں نے ڈنڈا بردار محافظوں سے پوچھا کہ آپ نے اسے کیوں بھگا دیا؟ کہنے لگے یہ ھمارا ایریا ہے اور یہاں کوئی اسٹال ہماری مرضی کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا،اس کے لئے انتظامیہ کی اجازت ضروری ہے،نیز یہ گمراہ لوگ ہوتے ہیں جن کا نشانہ آپ جیسے لوگ
ہوتے ہیں جن کو اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یہاں اجتماع والے کبھی ایسے اسٹال کو گھاس نہیں ڈالتے ۔اب اس کتاب کا مطالعہ ایک مسئلہ بن گیا میں نے اندازہ کیا کہ ان حضرات کا جاسوسی کا نظام بہت تیز ہے ۔آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔کبھی اکرام اور کبھی راہنما کے نام پر ایک بندہ ہمیشہ آپ کے ساتھ لگا رہتا ہے انہیں اطلاع مل گئی تھی کہ میں نے کونسی کتاب خریدی ہے،اب پہلے تو مجھے صاحب کتاب کے بارے میں بتایا گیا کہ اسلام کے بارے میں اس کے خیالات کس قسم کے تھے اور وہ کوئی عالم بھی نہیں وغیرہ وغیرہ،نیز یہ بھی جتایا گیا کہ یہ وقت میں نے امانت کے طور پر اللہ کو دیا ہوا ہے اس لئے صرف وہی کتابیں پڑھی جا سکتی ہیں جو بزرگ تجویز کریں، یعنی فضائل اعمال ، فضائل صدقات حیات الصحابہ اور ریاض الصالحین ۔مجھے کتاب خطرے میں نظر آئی اس کی حفاظت اب میرے لئے مسئلہ بن گئی تھی،پڑھنا تو دور کی بات،مگر اس کے دیباچے نے ہی مجھے بتا دیا تھا کہ میرے سوالوں کا جواب شاید اسی کتاب میں ملے گا
میں نے ایک بات تمام مذاہب میں دیکھی ہے کہ یہاں لوگ،اللہ یا بھگوان یا یسوع مسیح کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے اللہ کے پاس جنت ہے،سورگ ہے،پیراڈائیز ہے، جہنم ہے، نرکھ ہے،ھیل ہے،، حوریں ہیں،اپسرائیں ہیں، گویا یہ سارے اللہ کے نہیں بلکہ اللہ کی مٹھی میں موجود جنت کے متلاشی ہیں۔حوروں کا ذکر کرتے ہوئے جو جتنا بوڑھا ہوتا ہے وہ اتنی زیادہ تفصیل سے حوروں سے ملاقات کی کیفیات بیان کرتا ہے ۔بعض دفعہ مجھے تصور میں ان کے چہروں پر رال ٹپکتی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے گورودارے میں چرچ میں سینگاگ میں اور پھر یہاں، میں نے جس طرح یہ تذکرے سنے مجھے مذھب سے گھن آنے لگی۔ سارے عیاشی اور سیکس کے دیوانے۔ اللہ کو کون پہچانتاہے ۔آج اللہ کے ہاتھ سے جنت نکل جائے تو ان میں سے کوئی پلٹ کر اسے نہ پوچھے کہ وہ کون ہے۔ میرے اندر ایک ملحد کروٹیں لینے لگا، وہ ملحد کسی دلیل کو اپنے آگے ٹھہرنے نہیں دیتا تھا۔مذاھب میں نے سارے دیکھ لیئے تھے ۔سب دنیا اور آخرت دونوں جگہ روٹی کے چکر میں تھے۔ میرے اندر ایک آگ بھڑک اٹھی ۔میرے اللہ تیری
تلاش کسی کو نہیں؟ سب کی نظریں ترے ہاتھ کی جنت کی طرف ہیں، تیرے چہرہ اقدس کا خیال کسی کو نہیں،،مجھے اپنا اندر اور خدا دونوں افسردہ افسردہ سے لگے،،جیسے جس چیز کو میں روتا ہوں خدا کو بھی اسی کا شکوہ ہے۔
میں جب پاکستان آیا تھا تو اسلام اور اللہ کے بارے میں قرآن کے حوالے سے ایک واضح تصور لے کر آیا تھا، اللہ پاک نے انسان کو محبت سے بنایا ہے اور محبت کی خاطر بنایا ہے، وہ انسان سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے اور ٹوٹ کر محبت چاہتا ہے،والذین آمنوا اشد حباً للہ،، وہ چاہتا ہے کہ نماز کو محبوب سے ملاقات کے پس منظر میں دیکھا جائے اور اسی شوق و ذوق سے بن سنور کر آیا جائے اور رب سے مکالمہ کر کے جانے کے بعد نہ صرف انسان کی ہستی کے اندر باہر اور قول و فعل میں اس ملاقات کی چاشنی پورا محلہ محسوس کرے بلکہ،سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود کے تحت ان کے چہروں پہ نظر پڑے تو سجدوں کا نور و سرور دیکھنے والے کو اپنی جھلک دکھائے ، ہر جا کر بھی دل مسجد میں اٹکا رہے اور پروگرام بن رہا ہو کہ اگلی ملاقات میں کیاکیا بات کرنی ہے،کیسے راضی کرنا ہے، کیسے سوری کرنا ہے، کیا یہی وہ لوگ نہیں جن کو عرش کے سائے تلے جگہ دی جائے گی؟ اللہ نے انسان کو اس کی دنیا کی زندگی میں ہر سہولت فراہم کی ہے،اگر انسان کے اندر،اس کی فطرت میں کوئی پیاس رکھی ھے تو دنیا میں اسے بجھانے کا سامان بھی رکھا ہے،،وہی اللہ جب اپنی رضا کے لئے کچھ قربان کرنے کو کہتا ہے،،یا اپنی محبت میں کچھ چھوڑنے کو کہتا ہے تو ساتھ گارنٹی دیتا ہے کہ جس اللہ نے تمہاری دنیا کی ضرورتوں کی کفالت کی ہے،وہی آخرت میں بھی تمہیں سامان زیست فراہم کرے گا،بیویاں بھی دے گا گھر بھی دے گا،دنیا میں دنیا کی زندگی کی نسبت سے اور آخرت میں آخرت کی زندگی کی نسبت سے عطا فرمائے گا، فانی اس کی خاطر چھوڑو گے تو ابدی و باقی عطا کرے گا۔
اس پس منظر میں جب حوروں کا ذکر آتا ہے تو وہ ایک فطری بات لگتی ہے،مگر جب ساری نیکی حوروں اور کھانوں اور سامان عیاشی کے گرد گھومتی ہو تو پھر اللہ کہیں دور پس منظر میں چلا جاتا ہے، بلکہ اللہ کا امیج مسخ ہو جاتا ہے کہ، شیطان بھی عورت کے ذریعے اپنی طرف مائل کرتا ہے اور اللہ بھی انسان کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے مرد کی سیکس کی بھوک کو استعمال کرتا ہے ،پھر موبائل کمپنیوں کے پروموشن اشتہاروں اور جنت کے ان مناظر میں فرق کیا رہ جاتا ہے ؟ قرآن حکیم نے جہاں بھی اور وہ بھی گنتی کے چند مواقع پر استعمال کیا ہے وہاں دو مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ آخرت کی زندگی میں انسان کا وجود فزیکلی موجودہو گا،،تبھی وہ صوفوں پر بیٹھے گا اور ٹیک لگائے گا''متکئین علی فرش بطائناھا من استبرق'' چونکہ روح ٹیک نہیں لگا سکتی،روح فروٹ نہیں کھا سکتی،شہد اور دودھ نہیں پی سکتی اور سیکس نہیں کر سکتی،لہذا ایک تو وجود کی دلیل میں ان چیزوں کو پیش کیا ہے،نہ کہ اپنی طرف مائل کرنے کے لئے، دوسرا وہاں کسی نہ کسی قربانی کا ذکر ہے،کچھ کھونے کا حوالہ ہے، یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا، و آتی المال علی حبہ ذوی القربی، مگر جس بے دردی سے اوربے موقع حوروں کی تفصیلات بیان کرتے میں نے سنا ہے،اس سے تو پھر عورت پیش کر کے کام کرانے کا تصورہی ابھرتا ہے،اور یہی وہ تصور ہے جس سے میں یہودی سے عیسائی پھر سکھ اور پھر اسلام میں آیا تھا،مگر پاکستان نے میرے سارے کانسپٹ دھندلا کر رکھ دیئے۔اور مجھے الحاد کی منزل پر لا کھڑا کیا، مگر ٹوورڈز انڈر اسٹینڈنگ اسلام نے مجھے عین وقت پر اس مخمصے سے نکالا اور یوں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا کہ جو ہماری راہ چل نکلتا ہے ہم اسے اپنی راہ سجھا دیتے ہیں۔وہ اسٹال والا لڑکا میرے لئے ایک فرشتہ ہی ثابت ہوا جسے خاص اسی کام کے لئے بھیجا گیا تھا اور ٹھیک جب وہ کام ہو گیا تو اس بیچارے کا اسٹال بھی اٹھوا دیا گیا۔ میں نے جب بعد میں برطانیہ جا کر اپنا مذہب اور نام سرکاری طور پر تبدیل کیا کیونکہ حج پر جانے کے لئے یہودی نام اور مذہب کی وجہ سے مجھے حج کا ویزہ نہیں ملا تھا،تو میں نے اپنا نام اسی لڑکے ناصر محمود کے نام پر رکھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں براستہ ایران، عراق اور اردن،یروشلم سے ہوتا ہوا جاؤں اور اپنے عزیز و اقارب سے بھی ملتا جاؤں۔ میں جب ٹرین پر زاھدان جا رھا تھا تو میرے ساتھ ایک ایرانی نوجوان بھی اسی بوگی میں تھا،، جو کہ ملحد ہو چکا تھا۔ وہ برطانیہ کا پڑھا ہوا ایک ذہین، بہت نفیس اور سادہ سا نوجوان تھا۔ باتوں باتوں میں جب اسے پتہ چلا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں تو کہنے لگا کہ میں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور تم اسلام میں آ گئے ہو پھر مزاح کے انداز میں کہنے لگا ''گویا اللہ کا سپاہی اور اللہ کا باغی ایک ہی بوگی میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔میں نے اس سے الحاد کی وجہ پوچھی تو اس نے جو تفصیلات بتائیں ان سے میں سکتے میں آ گیا۔کیا کوئی عقلمند انسان اس صدی میں بھی ایسے عقائد رکھ سکتا ہے ۔پہلی بات کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں ہے بلکہ حقیقی قرآن کا صرف فٹ نوٹ ہے، وہ حقیقی قرآن ایک امام کے پاس ہے جو اسے لئے غار میں چھپا بیٹھا ہے جبکہ دنیا ہدایت کے بغیر مر رہی ہے ۔وہ یزدانی جوان کہنے لگا،بس یہ سب کچھ دیکھ کر اور ہمارے علامہ حضرات کے روئیے دیکھ کر میں نے دین سے جان چھڑا لی ہے ۔دین اس لیئے ہوتا ہے کہ انسان سکون اور اطمینان حاصل کرے مگر جب دین الٹا رات کی نیندیں اڑا دے،کسی سوچ کا جواب نہ دے صرف سوال ہی پیدا کرتا چلا جائے تو بہتر ہے خواہ مخواہ روز کی خواری اور آہ و زاری سے ایک دفعہ رو کر جان چھڑا لی جائے۔ پھر اس نے مجھے پوچھا کہ تمہیں اسلام کے عشق میں کس چیز نے مبتلا کر دیا ہے؟ میں نے کتاب اس کے حوالے کر دی وہ سارے رستے اس کتاب کو رہ رہ کر پڑھتا رہا،کبھی کبھار سوال و جواب ہوتے اور بحث بھی ہوتی مگر الحمد للہ وہ جوان زاھدان پہنچنے تک دوبارہ مسلمان ہو چکا تھا اور جہاں کہیں ہمیں موقع ملتا ہم نماز اکٹھی پڑھتے میں اسے امامت کے لئے آگے کرتا اور لوگ بھی کھڑے ہو جاتے۔ اب نماز میں پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا کہ جب وہ تلاوت کرتا تو اس کی گھگھی بندھ جاتی جیسے سامنے رب کھڑا ہے،اس کے رونے میں میرے سمیت کئی لوگوں کی سسکیاں بھی نکل جاتیں۔ڈبے والوں نے اسے پکا پیر بنا لیا اس کے ہاتھ چومتے اور کھانے پینے کی چیزیں لا لا کر ڈبے میں ڈھیر کرتے جاتے ۔میرا ڈبہ ایک دفعہ پھر منگھو پیر کی درگاہ بن چکا تھا۔
حقیقت میں یہ کتاب انسان کو اللہ سے ملا دیتی ہے ۔میں پیدائشی مسلمانوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ اس کتاب کے انگلش ایڈیشن کو ضرور پڑھیں،،لکھنے والے نے کمال کر دیا ہے ۔خود کو بالکل ایک غیر جانبدار شخص بنا کر دلائل سے اسلام کے تقاضوں کو ثابت کیا گیا ہے ۔کسی بھی غیر مسلم یا نو مسلم کے لئے اس کتاب سے بڑھ کر بہترین اور کوئی چیز تحفہ نہیں ہو سکتی۔ یزدانی نے مجھے ڈاکٹر علی شریعتی کے 7 مقالوں پر مبنی کتاب '' مین اینڈ اسلام دی،، اس کتاب نے انسانی تخلیق کے ربانی پروگرام،انسان کی اہمیت اور رب کے ساتھ اس کے تعلق کو اس طرح واضح کیا ہے کہ میں کئی دفعہ آبدیدہ ہو گیا،،یہ دو کتابیں پڑھنے کی ہیں۔ ایران سے رخصتی کے وقت یزدانی نے مجھے یہ کتاب گفٹ کر دی،،مگر میں اسے اپنی کتاب گفٹ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکا۔شاید اس کتاب نے ابھی میرے والدین کو مسلمان کرنا تھا ۔ ایران میں یزدانی کے توسط سے مجھے تین ملاقاتیں نصیب ہوئیں۔پہلی تہران میں ایک یہودی ربی کے ساتھ،جس میں ربی کو آگاہ کیئے بغیر کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں ، یہودی عقائد پر کافی تفصیلی اور لمبی چوڑی گفتگو ہوئی۔ یہودیت کا دفاع آج کے دور میں کیسے کیا جائے،اس لئے کہ یہودیت نسلی مذہب ہے نظریاتی نہیں،یعنی کوئی شخص یہودی نہیں ہو سکتاجب تک کہ یہودی پیدا نہ ہو،اس لئے اس کی تبلیغ کی بھی کوئی ضرورت نہیں،جب کوئی چیز سیل پر ہی نہ لگے تو اس کی کوالٹی کی فکر بھی کسی کو نہیں ہوتی
یہی یہودیت کا مسئلہ ہے کہ وہ سکڑتی جا رہی ہے۔ معاشی حالت نے اسے اولاد کو محدود رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہودیت کرپٹ بھی ہو گئی ہے،کرخت بھی اور محدود بھی۔ یہودی کسی مذھب میں بھی چلا جائے اس کے جینز تبدیل نہیں ہوتے اس کا مطلب ہے مذہب بھی تبدیل نہیں ہوتا،کیونکہ یہ ایک جینٹیکل مذہب ہے۔ نظریات بدلنے سے آپ کے جسم میں موجود ابرھیم علیہ السلام کے جینز تبدیل نہیں ہوتے۔وہ جینز جن کو اللہ نے دنیا کی آگ سے بچایا ان کو آخرت کی آگ میں کیسے جلائے گا؟ جن کو دشمنوں کی آگ سے بچایا ان کو اپنی آگ میں کیسے جلائے گا۔ یہ یہودی نفسیات ہے،جس کا بھانڈا اللہ پاک نے قرآن حکیم میں جگہ جگہ پھوڑا ہے،اور اس پر سوال کھڑے کیئے ہیں۔ سورہ المائدہ اور البقرۃ اس میں پیش پیش ہیں۔ ایک ہمدردانہ ڈسکشن کے بعد اب میرے سوالات ذرا تیکھے ہونا شروع ہوئے اور میں نے اپنے اشکالات پیش کرنا شروع کیئے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہودی عالم ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کی مذہبی قیادت ایک جیسی ہی سوچ کی حامل ہوتی ہے۔ آپ کے سوال کا ایک ہی جیسا رٹا رٹایا جواب دیا جائے گا،جواب دینے میں کبھی آپ کے کیلیبر اور آئی کیو کو مدنظر نہیں رکھا جائیگا۔ میں نے قرآن کی طرف سے دیا گیا جواب،ما کان ابرھیم یہودیاً ولا نصرانیاً ولٰکن کان حنیفاً مسلماً '' ان چیف ربی صاحب کے سامنے رکھا اور یہ کہ آگ ہمیں نہیں چھوئے گی،عذاب آخرت ہمیں نہیں ہو گا،پر قرآنی جواب،، قل فلما یعذبکم بذنوبکم؟ پھر وہ دنیا میں تمہیں بار بار عذاب عظیم میں مبتلا کیوں کرتا رہا؟ لوگوں کا عذاب آخرت پر مؤخر کر دیتا ہے۔تمہیں نقد کیوں دیتا رہا،، کہنے لگے ہمیں دنیا میں دے دیتا ہے اس لئے آخرت میں نہیں دے گا،، میں نے کہا مگر اللہ تو کہہ رہا ہے کہ ولھم فی الآخرۃ عذاآ عظیم ۔اس پر انہیں شک ہونا شروع ہوا کہ شاید میں مسلمان ہو چکا ہوں ، کیونکہ عام یہودی نہ قرآن پڑھتا ہے نہ ان باتوں کا اسے علم ہوتا ہے اور نہ قرآن کی بات کو سچ سمجھتا ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ مسلم ہو چکے ہیں۔میں نے اعتراف کیا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔کہنے لگے یہ خیانت ہے کہ آپ نے یہودی بن کر اپنا تعارف کروایا۔میں نے کہا جناب آپ نے خود تسلیم کیا کہ یہودی کے جینز تبدیل نہیں ہوتے چاہے کسی مذہب میں چلا جائے،میں نے اپنا جیٹیکل تعارف کروایا تھا، نظریاتی نہیں۔ اگلی ملاقات قم کے منتظری صاحب سے ہوئی جن سے میں نے ان شیعہ عقائد پر بات کی جن کے بارے میں مجھے یزدانی نے بتایا تھا۔
منتظری صاحب سے وقت لینا بھی ایک مسئلہ تھا،وہ ان دنوں حکومت کے زیرِ عتاب تھے کبھی ہاؤس اریسٹ تو کبھی جیل،خمینی صاحب سے ان کی کھٹ پھٹ چل رہی تھی آدھا ایران خمینی صاحب کے پیچھے تھا تو آدھا منتظری صاحب کے ساتھ۔ آیت اللہ منتظری وہ شخصیت تھے جنہوں نے خمینی صاحب کی عدم موجودگی میں تحریک کو سنبھالا تھا اور شاہ ایران کی ہر دھونس اور دھاندلی کا مقابلہ کیا تھا۔ آیت اللہ خمینی پکی پکائی پر تشریف لائے تھے اور اب آیت اللہ المنتظری صاحب کا آیت اللہ کا ٹائٹل بھی ختم کرنا چاہتے تھے تا کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ جن لوگوں نے خمینی صاحب کو پردیس میں سنبھالا تھا فنڈز کا بندوبست کیا تھا نیز آیت اللہ کا ایک سافٹ امیج دنیا کو دکھایا تھا، خمینی صاحب نے سب سے پہلے ان ہی کا صفایا کر کے اس ضرب المثل کو سچ کر دکھایا کہ انقلاب سب سے پہلے اپنے بچے کھاتا ہے۔ صادق قطب زادے،بنی صدر وغیرہ کا گھونٹ بھرنے کے بعد آج کل سختی المنتظری صاحب کی آئی ہوئی تھی مگر المنتظری بھی آیت اللہ تھے،اور لوگوں کے محبوب۔ مقابلہ برابر کا تھا مگر پاسداران خمینی صاحب کے ساتھ تھے کیونکہ ان کی حیثیت امام کے ذاتی گارڈز کی تھی۔آدھا گھنٹہ وقت ملا اور شرط یہ کہ سوال پہلے لکھ کر دیں۔ یزدانی کے ساتھ مشورے کے بعد ٹوٹل تین سوال لکھے گئے مگر اس وضاحت کے ساتھ کہ ان تین سوالوں پر مزید سوال جواب ہو سکیں گے ۔اسلام کی دعوت جو ایک یہودی کو پیش کی جائے گی(اصل میں ملاقات کا وقت ہی اس بات پر دیا گیا تھا کہ ایک یہودی خاندان کا جوان آپ کے دست مبارک پر اسلام قبول کرنا چاہتا ھے،مگر کچھ وضاحتیں درکار ہیں) اسلام میں اختلافات کی حد اور عبادات کا فرق، اجازت کے بعد داخلہ ہوا۔ میری فائل جس میں میرے پاسپورٹ کی کاپی اور تفصیل درج تھی ان کو ایک دن پہلے پہنچا دی گئی تھی جو کہ ان کے سامنے موجود تھی۔ نشست کا اہتمام نیچے قالین پر تھا اور بہت بارعب اور با ادب ماحول تھا۔ سلام دعاہوئی یزدانی میرا ترجمان تھا،وہ برطانوی لہجے میں انگلش بولتا تھا اور ایرانی لہجے میں فارسی ۔میں آج تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ یزدانی کی انگلش دلکش ہے یا فارسی۔ فارسی اتنی میٹھی زبان ہے کہ نہ سمجھ آنے کے باوجود بھی یزدانی کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹتیں آپ اسلام کی دعوت کیسے پیش کریں گے،یعنی مجھے مسلمان بنانے کے لئے کیا شرط پیش کریں گے؟ اللہ کی توحید کی شہادت ،محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی،علی کی ولایت کی گواہی اور ان کے خلیفہ بلا فصل ہونے کا اقرار۔ سوال۔ کیا محمدﷺ خود بھی ان ہی شرائط پر مسلمان کرتے تھے؟جی نہیں!
وہ کس پیکیج پر اسلام قبول فرماتے تھے؟
اللہ کی توحید اور محمدﷺ کی رسالت ، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی پر ایمان۔پھر آپ نے یہ اضافی شرائط میرے ایمان کے لئے کیوں لگائی ہیں کیا اُتناہی کافی نہیں تھا جتنا نبیﷺ نے بتایا تھا؟ اس ملک کے عرف کے مطابق یہ شرائط ہیں اگر آپ کو منظور نہیں تو آپ جا سکتے ہیں
آپ کے امام خمینی صاحب کے ساتھ اختلافات ہیں،، زیرِ حراست بھی رہتے ہیں،، گھر پر بھی نظربند کیا جاتا ہے اور نقل و حرکت تقریر و تحریر پر بھی پابندی ہے، یہاں تک کہ جمعے کا خطبہ بھی نہیں دے سکتے، ان سب اختلافات اور تنگیوں تکلیفوں کے باوجود آپ کے اور امام صاحب کے عقیدے میں کوئی فرق پڑا؟جی نہیں! عبادت کے طریقے مختلف ہوئے؟بالکل نہیں! یہ سیاسی اختلافات ہیں ان کا دین کے ساتھ کیا تعلق؟اچھا جناب جب آپ کے سیاسی اختلافات آپکے عقیدے اور طریقہ عبادت پر اثر انداز نہیں ہوئے اور آپ دونوں اماموں کی اس سرپھٹول کے باوجود آپ دونوں کی امامت پر کوئی اثر نہیں پڑا تو صحابہ میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے ان کی صحابیت میں کیوں کر فرق پڑ جاتا ہے اور صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات کے اثرات ان کے عقیدے پر کیسے مرتب ہو گئے اور ان کے طریقِ عبادت میں اختلاف کیوں کر پیدا ہو سکتا ہے؟کیا ان میں آپ جتنا صبر اور شعور بھی نہیں تھا، ان کے سیاسی اور خاندانی جھگڑوں کی بنیاد پر دین کی تقسیم کیوں کی گئی؟ جیسا ابھی آپ نے مجھے کہا کہ مسلمان ہونے کے لئے علیؓ کی خلافت بلافصل کا اقرار کروں درآں حالیکہ وہ بلا فصل قائم ہی نہیں ہوئی چوتھے مقام پر جا کر قائم ہوئی، گویا میں اپنے اسلام کی ابتداہی جھوٹ سے کروں۔جب حضرت امام حسینؓ کا محاصرہ جاری تھا کربلا میں تو یزید کا لشکر حر سمیت سارے کا سارا امام حسینؓ کی امامت میں نمازیں پڑھتا رھا؟جی بالکل سات دن وہ لوگ امام معصوم کی اقتدا میں نماز پڑھتے رھے! کیا آپ یہ تسلیم نہیں کر رھے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ان لوگوں کی نماز کا طریقہ اور اوقات ایک ہی تھے اور ان میں دین کا کوئی جھگڑا نہیں تھا؟
یہاں انہوں نے پہلے اپنے سیکرٹری سے کچھ کہا جس نے میری فائل کھول کر ان کے سامنے کی جس کو انہوں نے دوبارہ غور سے دیکھا،پھر یزدانی سے فارسی میں کہا کہ کیا یہ پہلے مسلمان ہو چکا ہے؟ یزدانی نے کہا کہ ''مجھے اس نے اسلام قبول کرنے کو کہا تھا'' مگر اس نے اسلام کو اچھی طرح پڑہا ہوا ہے،،۔کیا آپ اس قرآن کو حقیقی اور اصلی قرآن مانتے ہیں؟بالکل ہم اس کو اللہ کا کلام مانتے ہیں اور نماز میں اس کی تلاوت کرتے ہیں،،مگر یہ پورا نہیں ہے،، اس کا کچھ حصہ گُمشدہ ہے،،وہ حصہ کہاں ہے؟
ہمارے بارہویں امام کے پاس ہے جو غائب ہیں اورہم منتظر!
اس دوران جو لوگ دنیا میں پیدا ہو کر کافر مر رہے ہیں ان کا ذمہ دار کیا وہ امام نہیں جو قرآن لے کرہی نہیں آ رھا تا کہ اتمام حجت ہو؟
اتمام حجت موجودہ قرآن کے ساتھ بھی ہو جاتا ہے کیونکہ عقائد تمام اس میں بیان ہو گئے ہیں۔کچھ سیاسی و انتظامی معاملات کے بارے میں حصہ کم ہے،جو سیاسی غلبے کے بعد ہی امام نکلیں گے تو لاگوہو گا۔
تو کیا آپ میرا اسلام اللہ کی توحید اور نبیﷺ کی رسالت کی شہادت پر قبول نہیں کریں گے؟ جو سرٹیفیکیٹ ہم آپ کو دیں گے یہ پوری عبارت اس میں درج ہے اور اس کی عبارت میں کوئی تبدیلی کرنے کا میں مجاز نہیں ہوں،یہ مجلس خبرگان کا کام ہے۔ اگر آپ پوری عبارت سے اتفاق نہیں کرتے تو پھر ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں،،۔ اس کے ساتھ ہی مجلس برخواست ہوئی اور منتظری صاحب گھر کے اندر اور ہم ان کے دفتر سے باہر نکل آئے،، میرے انگلینڈ آنے کے بعد یزدانی بے چارے کو اتنا تنگ کیا گیا کہ اسے لندن میں سیاسی پناہ لینی پڑی۔
منتظری صاحب سے ملاقات کے بعد اگلے دن تہران میں ایک صوفی صاحب کے یہاں حاضری ہوئی۔ بہت سارے لوگ موجود تھے کچھ تو اپنے جسمانی عوارض اور کچھ معاشی مشکلات کچھ جن جنات اور جادو والے لوگ تھے، البتہ ایک انتظام میں نے پہلی دفعہ دیکھا جو کہ پیر منگھو کے یہاں نہیں دیکھا تھا کہ خواتین کا الگ پورشن تھا، درمیان میں پردہ تھا خواتین پردے کے پیچھے سے سوال کرتیں اور یہ بزرگ نہایت دھیمی آواز مین ان سے کچھ کہتے یا ہدایات دیتے تھے۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے، تعویز دیتے میں نے کسی کو نہیں دیکھا مردوں سے انہوں نے نماز کی پابندی کا کہا،تقریباً ہر ادمی کو کہتے کہ نماز کی پابندی کرو اور فلاں نماز کے بعد یہ پڑھو اور فلاں کے بعد یہ،عشاء کے بعد سونے سے پہلے 100 دفعہ استغفار پڑھ کر سوؤ،، آخر میں انہوں نے کہا کہ مسائل سے متعلق کوئی سوال ہیں تو کر سکتے ہیں۔ لوگ مسائل پوچھتے رہے اور وہ جواب دیتے رہے ،ہمت کر کے میں بھی اٹھا اور سوال کیا کہ '' جہنم کیا ہے اور جنت کیا ہے؟؟ یزدانی نے جھٹ سے ترجمہ کر دیا،مگر بزرگ نہ تو میری انگلش پر چونکے اور نہ ہی انہوں نے میری بات سنی نہ ترجمے پہ کوئی غور فرمایا،بلکہ یوں لگا گویا میرا اور یزدانی کا وجود اس مجلس میں تھا ھی نہیں۔بلکہ انہوں نے پھر مجمعے سے ہی سوال کیا کہ '' اور کچھ ''،، میں نے پھر اپنا سوال دہرایا،انہوں نے نہ میری طرف دیکھا اور نہ یزدانی کے ترجمے کا کوئی نوٹس لیا اور پھر مجمعے ہی سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کو اور کوئی سوال نہیں کرنا۔ اب میں تقریباً غضبی ہو چکا تھا،، میں نے غصے سے کہا کہ میری بات کا جواب دیں۔ اب انہوں نے مجھے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ اپنا سوال دہراؤ! میں نے کہا کہ جہنم کیا ہے اور جنت کیا ہے؟ انہوں نے انتہائی مختصر مگر جامع جواب دیا! فرمایا'' جب میں نے تمہاری طرف توجہ نہیں دی تھی تو تم جس کیفیت سے گزر رہے تھے، وہ تیری جہنم تھی اور جب میں نے تیری طرف توجہ کی اور تو نے راحت محسوس کی یہ تیری جنت ہے،،
یہ جہنم اور جنت تیری اور میری نسبت سے تھی، رب جس سے اعراض برتے گا اور توجہ نہیں دے گا 'ولا یکلمھم اللہ یوم القیامۃ ولا ینظر الیھم ولا یزکیھم '' ولھم عذاآ الیم'' تو وہ جس عذاب سے گزریں گے وہ اللہ کی عظمت کی نسبت سے ہوگا، اسی طرح جن کی طرف اللہ پاک توجہ فرمائے گا تو وہ راحت بھی اللہ کی عظمت کی نسبت سے ہو گی اور وہ ان کی جنت ہو گی۔ اللہ کا پیار سے دیکھنا،خالی نہیں جائے گا، جو راحت محسوس ہو گی وہ مجسم بھی ہو جائے گی وہ تیری جنت ہو گی،اور جن سے وہ اعراض برتے گا یا غضب کی نگاہ سے دیکھے گا وہ غضب مجسم بھی ہو گا اور وہ ہی اس کی جہنم ہو گی۔ جواب اتنا مدلل تھا کہ مانے بغیر چارہ نہ تھا اور چونکہ میں ابھی تجربے سے گزرا تھا،اس لئے اثر بھی کچھ زیادہ ہوا۔ آپ کو بھی کبھی احساس ہوا ہو گا کہ محبوب کی ناراضی کے بعد بسترِ راحت بھی کانٹوں کا بستر بن جاتا ہے اور وسوسوں کے سانپ ڈستے رہتے ہیں کہ کس کس بات نے اسے بدظن کیا ہو گا۔ کبھی ایک خیال آتا ہو گا اور توکبھی دوسرا۔یہ سانپ بچھو ہم ادھر سے ہی لے کر جائیں گے، اللہ کی رضا سب سے بڑا انعام ہے اور اللہ کا غصہ سب سے بڑا عذاب۔
اگلے دن والد صاحب کا پیغام ملا فوراً واپس پلٹو ایمرجینسی ہے۔ جھٹ پٹ ٹکٹ لیا اور تہران سے دبئی اور پھر لندن کو واپسی ہوئی۔ سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے ۔گھر میں داخل ہوتے ہی ماحول میں اداسی کا احساس ہوا۔ پتا چلا کہ والدہ صاحبہ کو جگر کا کینسر تشخیص ہوا ہے اور وہ بھی آخری اسٹیج پر، والدہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ میں جس طرح چھوڑ کر گیا تھا وزن اس سے آدھا ہو چکا تھا،رہ رہ کے خیال آتا شاید میرا اس طرح گھر سے چلے جانا،اس داغِ جگر کا سبب نہ بنا ہو۔ میرا دل چاھتا تھا کہ والدہ مسلمان ہو جائیں اور اسلام ہمارے خاندان کو ٹیک اوور کر لے،مگر والدہ کی تمنا ایک روایتی ماں والی تھی یعنی مرنے سے پہلے بیٹے کا سہرا دیکھنے کی۔ لڑکی ہمارے خاندان سے ہی تھی اور مذہب کے معاملے میں کسی حد تک میری ہم خیال بھی تھی کیونکہ ہم دونوں کلاس فیلو بھی تھے۔ مجھے امید تھی کہ وہ بھی مسلمان ہو جائے گی رہ گئیں والدہ تو ان کے اسلام کی راہ میں میرے والد صاحب کا پہاڑ کھڑا تھا۔وہ ایک روایتی گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنی ذات کو شوہر میں گم کر دیا تھا، میں نے جب ان سے اسلام کی بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں مرتے مرتے تیرے باپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتی۔آخرکار میں نے اللہ کا نام لے کر اس پہاڑ کو خود سر کرنے اور والد صاحب سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ والدین ہماری نفسیات کی رگ رگ سے واقف ہوتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ اللہ کے بعد ہماری ذات کے سب سے زیادہ واقف ہمارے والدین ہوتے ہیں۔ ادھرہمیں کوئی خیال آیا نہیں کہ ان کی چھٹی حس نے ان کو بتایا نہیں۔ آپ کے دکھ درد اور بے چینی کو محسوس کرنے کے لئے انہیں آپ کے بتانے یا الفاط دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ ہماری ذات کی مین برانچ ہوتے ہیں۔ہماری ساری ٹرانزیکشن انہیں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جونہی میں والد صاحب کے پاس جا کر بیٹھا، انہوں نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور جان لیا کہ میں ان سے کوئی اہم بات کرنا چاھتا ہوں۔وہ ایک منجھے ھوئے سفارتکار تھے اور انسانی کیمسٹری سے آگاہ! فرمانے لگے کیا کچھ سیکھا ہے؟ میں نے کہا وہ سب کچھ جس کے لئے آپ نے مجھے پاکستان تجویز کیا تھا البتہ میں آپ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ امی جان مرنے سے پہلے مسلمان ہو جائیں،مگر وہ آپکی رضامندی لیئے بغیر یہ کام نہیں کر پائیں گی، وہ مرتے مرتے آپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتیں، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو اپنے ساتھ دوسری جان کا بوجھ بھی آپ کو اٹھانا پڑے گا۔ میں نے زندگی میں آپ سے کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا،مگر اب میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ اسلام کو اسٹڈی کریں اور دو چار دن میں کوئی فیصلہ کر لیں۔ اس سلسلے میں جو بھی وضاحت طلب باتیں ہوں وہ آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں مگر مجھے امید ہے کہ یہ دو کتابیں پڑھ لینے کے بعد آپ کو اسلام کے بارے میں تو کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔البتہ یہودیت کے بارے میں شاید کچھ ڈسکشن کرنا چاہیں تو میں اس پر بھی بات کر لوں گا۔ کتابیں میں نے ان کے حوالے کر دیں اور والد صاحب ان کتابوں کو لے کر اپنے کمرے میں مقید ہو گئے ۔یہ ان کی پرانی عادت تھی جب بھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا تھا تو وہ کھانے پینے کا بندوبست کر کے اپنے کو اپنے کمرے میں قید کر لیتے اور جب تک کوئی فیصلہ نہ کر لیتے کمرے سے نہ نکلتے۔ دو دن گزر گئے ایک رات تو پوری رات ان کے کمرے کی لائٹ جلتی رہی گویا وہ مطالعہ کرتے رہے۔ اگلا دن گزرا وہ باہر نہیں آئے۔ ادھر والدہ شادی کی تفصیلات طے کرتی رہیں۔ اگلے دن شام کے بعد والد صاحب باھر نکلے اور باغیچے میں آ کر اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئے۔ وہ تھکے تھکے لگ رہے تھے،آنکھیں اور چہرہ متورم تھا۔ میں نے نوکر کے ہاتھ انہیں کافی بھیجی جو انہوں نے لے لی ۔میں والدہ کے پاس بیٹھا ان کے پاؤں دبا رھا تھا جو یخ بستہ لگ رھے تھے کہ والد صاحب آکر میرے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ میں سمجھ رہا تھا وہ کس قیامت سے گزر رہے ہیں۔اپنی اولاد سے کچھ پوچھنا یہ والدین توہین سمجھتے ہیں۔میں کھڑا ہو گیا اور انہیں تھام کر والدہ کے سرہانے پڑی کرسی پر بٹھایا،میں چاہتا تھا جو کچھ وہ پوچھنا چاہتے ہیں وہ والدہ کے سامنے ہی پوچھیں تا کہ بیک وقت دونوں میرے دلائل کو سن سکیں۔
والد صاحب نے کہا ہمارے جینیٹکل مذہب کا کیا بنے گا؟ کیاہم سب سے کٹ جائیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ جہاں تک میں نے سوچا ہے کہ اس جینٹیکل مذھب کے فلسفے کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟ میں تو اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ یہ ہمارے علماء کا اپنی علمی کمزوری کو چھپانے کا بہترین حربہ ہے اور بس۔ اس کا تعلق دین سے نہیں نفسیاتی جنگ سے ہے۔ وہ نئے آنے والوں کو مطمئن نہیں کر سکتے اور جانے والوں کو دلیل سے روک نہیں سکتے لہذا انہوں نے یہ جینیاتی مذھب کا نظریہ گھڑ لیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب انسان کسی چیز کو اپنی کہہ کر اپنا لیتا ہے تو پھر اسکی حفاظت اور عزت کی خاطر کٹ مرتا ہے یہ اس کی ایگو کا مسئلہ بن جاتا ہے،یہانتک کہ وہ اپنی گائے بھینس کی توہین کو بھی اپنی ذات پر حملہ تصور کرتا ہے اور بدلے میں قتل کر دیتا ہے ۔ ہمارے علماء جوان نسل کو چونکہ دلیل سے قائل نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے اس کی راہ میں تعصب کی جینیاتی دیوار کھڑی کر دی ھے۔
ابا جان جب ابراھیم علیہ السلام نے اپنی بستی کے لوگوں پر اسلام پیش کیا تھا تو کیا وہ پوری بستی اور نمرود ان کا جینیاتی رشتہ دار تھا؟ جب یوسف علیہ السلام نے جیل میں قیدیوں پر اسلام پیش کیا تھا تو کیا وہ بنی اسرائیل کے جینیاتی رشتے دار تھے،پھر انہوں نے سارا مصر مسلمان کر لیا تو کیا مصری ان کے جینیاتی رشتے دار تھے؟ ابا جان جینز خاندان اور قوم بناتے ہیں نظریات اور دین کا جینز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔نہ اللہ کا انسانوں سے تعلق رشتے داری کا ہے ۔ آپ ایک ذہین و فطین آدمی ہیں، میں نے زندگی بھر آپ کو اپنا آئیڈیل بنا کر رکھا ہے ۔ہر جگہ ہر معاملے میں سوچا ہے کہ میرے ابا اگرہوتے تو وہ کیسے ری ایکٹ کرتے، اور بالکل ویسا ری ایکٹ کیا ہے،میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ میرے آئیڈیل کو برباد نہیں کرے گا۔ میں آج جس جگہ کھڑا ہوں یہ سب آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے ۔حق کی پیروی اور سچ کو سچ کہنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے کا سبق میں نے آپ سے سیکھا ہے اور آج اس سبق کا پریکٹیکل آپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
میں جانتا تھا والد صاحب دل سے قائل ہو چکے ہیں،بس اعلان کی ضرورت ہے۔ ادھر والدہ ان کو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنی دیکھ رہی تھیں۔ والد صاحب اٹھے میری کرسی کے پیچھے آئے تھوڑا سا جھجکے اور اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ کرہلکا سا تھپتھپایا اور بولے شام کو مسجد چلیں گے اور باہر نکل گئے۔ یہ بھی اچھا ہوا مرد مرد کے سامنے روتا ہوا اچھا نہیں لگتا جونہی ابا جان باہر نکلے میں نے اپنی کرسی سے جھک کراپنے ہونٹ والدہ کے قدموں پر رکھ دیئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اسلام ہمارے گھر میں داخل ہو گیا تھا۔میں نے کبھی اتنی بڑی نعمت کا سوچا تک نہ تھا، اب مجھے یقین تھا کہ میری بہن اور باقی بھائی بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ شام کوہم محلے کی مسجد میں گئے اور والد صاحب نے اسلام قبول کر لیا ان کا اسلامی نام جابر تجویز کیا گیاجبکہ امی جان نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، اور اپنے لئے آمنہ نام پسند کیا ۔یہ والدہ کاہی مطالبہ تھا کہ میں بیٹے کے ہاتھ پر ایمان لاؤں گی۔ اگلے دس دن شادی کے بندوبست میں لگے شادی ہوئی اور شادی کے چھٹے دن میری والدہ اللہ کو پیاری ھو گئیں۔
میری دنیا گویا اجڑ کر رہ گئی مگر یہ تو ایک فطری پراسیس ہے۔ہر ایک کو پیدا ہونے کی طرح مرنا بھی ضروری ہے، ایک ایک کر کے میرے دونوں بھائی پھر میری بہن میرا بہنوئی بھی مسلمان ہو گئے جبکہ یہ بتانا تو میں بھول گیا کہ میری بیوی نے بھی شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے 30 سے زیادہ عزیز مسلمان ہو چکے ہیں اور مزید کی امید رکھتا ہوں،اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک اس سعی کو قبول و منظور فرمائے۔
***