لبا س پہننے کے بارے میں روایات

مصنف : مولانا امین احسن اصلاحی

سلسلہ : حدیث نبوی

شمارہ : مارچ 2014

حدیث نبویﷺ
لباس پہننے کے بارے میں روایات
مولانا امین احسن اصلاحیؒ  (ترتیب و تدوین خالد مسعود، سعید احمد)

حدیث۱:
 ”جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی انمار میں نکلے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرا ہوا تھا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: حضور، سائے میں آجائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں اترے۔ میں نے اٹھ کر اپنے توشہ دان کا جائزہ لیا تو اس میں ایک چھوٹی سی ککڑی مل گئی۔ میں نے اس کو توڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے پوچھا: بھئی تمھیں یہ کہاں سے مل گئی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ہم یہ مدینہ سے لائے ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک ہمارا آدمی تھا جس کو ہم سواریوں کو چرانے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ وہ سواری کے جانور لے کر جانے لگا تو وہ اپنے اوپر دو چادریں لیے ہوئے تھا جو پرانی ہو چکی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس کے پاس ان دو کپڑوں کے علاوہ دو چادریں نہیں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ، گٹھڑی میں اس کے دو کپڑے اور ہیں جو میں نے اسے پہننے کے لیے دے رکھے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس کو بلاؤ اور کہو کہ وہ دوسرے کپڑے پہنے۔ میں نے بلایا تو اس نے وہ کپڑے پہن لیے۔ پھر وہ جانے کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس کی گردن مارے۔ کیا یہ حالت پہلی سے بہتر نہیں؟ اس شخص نے یہ بات سن لی اور کہا: یا رسول اللہ، اللہ میری گردن اپنے راستے میں مارے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ کی راہ میں ہو۔ بعد میں وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔“
وضاحت
مزدور دو بوسیدہ چادریں باندھے ہوئے تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اس کے پاس اچھے کپڑے بھی ہیں تو اس کو بلوایا اور دوسرے کپڑے پہننے کا حکم دیا۔ ان کپڑوں میں وہ بھلا آدمی لگا تو حضور نے اس کے لیے بہت شان دار کلمے کہے کہ خدا کے بندے اب تمھاری شکل نکلی کہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہذب، شائستہ اور صاف ستھرا رہنا تقویٰ کے منافی نہیں، بلکہ اسلام کا تقاضا ہے۔ اس سے آدمی بھلا معلوم ہوتا ہے۔ غریبوں کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بے شمار آدمی اس طرح ملیچھ بنے رہتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر وحشت ہوتی ہے، لیکن ان کے چوہدریوں کو احساس نہیں ہوتا کہ ان کو صاف ستھرا رہنے میں مدد دیں یا اس کی تلقین کریں۔ پس معلوم ہوا کہ شائستہ اور صاف ستھرا رہنا اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔ اور جن لوگوں کے ہاتھ میں معاملات کی باگ ڈور ہے وہ اپنی قوم کے افراد کو مہذب بنانے کی کوشش کریں، ان کو تعلیم دیں اور ان کے لیے وسائل بھی پیدا کریں۔
’ضرب اللّٰہ عنقہ‘ (اللہ اس کی گردن مارے) عربی میں پیار کا کلمہ ہے۔ یہ بددعا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بھی لوگ جب کہتے ہیں ’تمھاری ماں مرے‘ تو یہ بھی پیار کا کلمہ ہوتا ہے۔ اس کا مفہوم بددعا کا نہیں ہوتا۔ آنحضرت نے بھی آدمی کی تحسین کے لیے یہ جملہ استعمال کیا کہ دیکھو پہلے کی نسبت یہ کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ آدمی سمجھ دار تھا، اس نے کلمات کو لفظی معنی میں لے کر درخواست کر دی کہ یا رسول اللہ یہ بھی دعا کیجیے کہ یہ گردن اللہ کی راہ میں ماری جائے۔ دیکھیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس وقت جو مبارک کلمہ نکل گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حقیقت بنا دیا۔ آپ نے جو فرمایا کہ اللہ کے راستے میں گردن ماری جائے تو وہ شخص جہاد میں شریک ہوا اور شہادت کا رتبہ پایا۔
حدیث۲:
”ابن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ تم کو وسعت بخشے تو تم بھی اپنے اوپر وسعت کرو۔ ایک شخص نے اپنے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے۔“
وضاحت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آیا ہے کہ ان کے کپڑوں میں چھ چھ پیوند لگے رہتے تھے، حالانکہ وہ وقت کے خلیفہ تھے۔ ذاتی حیثیت میں وہ غریب آدمی نہ تھے اور اتنا ذی صلاحیت آدمی اتنا غریب ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ لیکن جب وہ خلیفہ تھے تو اتنی خستہ حالت میں کیوں رہتے تھے، جبکہ ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فراخی عطا کی ہے تو اپنے نفس کے لیے بھی فراخی ہونی چاہیے۔ دراصل یہ دوسرا شعبہ ہے۔ ایک وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے نمونہ ہوتا ہے تو اس کے لیے بہرحال وہ معیار ہونا چاہیے جس کی غریب سے غریب آدمی بھی تقلید کر سکے۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل عوام کے ایک لیڈر کی حیثیت سے ہے۔ ہمارا عمل اس سے الگ ہونا چاہیے۔ صاف ستھرے کپڑے پہننے چاہییں تاکہ آدمی حقیر نہ معلوم ہو۔ اس کے لباس کا دوسروں پر اچھا اثر پڑے۔ لوگ اس کی صحبت سے وحشت زدہ نہ ہوں، بلکہ پسند کریں۔
حدیث۳:
”امام مالک کہتے ہیں کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں قاری کو سفید کپڑوں میں دیکھوں۔“
وضاحت
قاری کا لفظ عربی میں عالم دین کے لیے بولا جاتا ہے جیسے ہم مولوی صاحب کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ خاص لفظ قرآن مجید کے عالم کے لیے ہے، کیونکہ اس زمانے میں قرآن ہی تمام علوم کا مجموعہ تھا اور اسی کے علم سے آدمی کا علم تولا جاتا تھا۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مدعا یہ ہے کہ مولوی صاحب کو خوش لباس ہونا چاہیے۔ ان کو سفید کپڑے پہننے چاہییں یعنی سنجیدہ لباس میں ہونا چاہیے اور فیشن سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اس روایت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ خلیفہ وقت کو قوم کے مزاج کا علم ہوتا ہے اور تمام پہلوؤں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ وہ برابر ہر طبقے کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی سپہ سالار رستم کہا کرتا تھا کہ ”یہ عمر تو میرا کلیجہ کھا گیا، یہ کتوں کو آداب سکھا رہا ہے۔“ (خاکم بدہن) یہ واقعہ ہے کہ عربوں کو دنیا کی قیادت کے لیے تیار کرنے کا جن لوگوں نے کام کیا، ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر سب سے شان دار رول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔
رنگ دار کپڑے اور سونا پہننے کے بارے میں 
 حدیث ۴:
”نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ گیروے رنگے ہوئے اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنا کرتے تھے۔“
وضاحت
’مشق‘، گیروا یا مٹیالا رنگ جو جوگیوں اور صوفیوں کا ہے۔ یہ رنگ بہت باوقار ہے۔ یہ ایک قدرتی رنگ ہے۔ بعض علاقوں میں اس رنگ کی روئی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کے کپڑے مصنوعی رنگ میں بھی ملتے ہیں۔ زعفران کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔ ہلکے رنگ میں تو کوئی قباحت نہیں، لیکن گہرا ہو تو اس پر زنانہ پن غالب آ جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جن روایات سے لوگ اس کے خلاف دلیل لائے ہیں، وہ احرام سے متعلق ہیں۔ احرام میں چونکہ زعفرانی رنگ جائز نہیں، اس لیے اس کو لوگوں نے ناجائز قرار دے دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بڑے محتاط آدمی ہیں۔ وہ اگر زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہنتے تھے تو اس کے جائز ہونے میں کلام نہیں۔ ہلکا زعفرانی رنگ بہت اچھا اور خوش گوار ہوتا ہے۔
حدیث۵:
”یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا کہ میں مکروہ سمجھتا ہوں کہ لڑکے سونے کی کوئی چیز پہنیں کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، تو میں بڑے اور چھوٹے کے لیے اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔“
وضاحت
امام صاحب کا یہ فتویٰ ٹھیک ہے۔ سونے کی کوئی چیز پہننا کسی مہذب آدمی کے لیے درست نہیں۔ اس زمانے میں لوگ فخریہ سونے کی زنجیر، انگوٹھیاں اور کانوں کا زیور استعمال کرتے ہیں۔ یہ بے حد ناپسندیدہ رواج ہے۔
حدیث ۶:
”یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ وہ زرد گوں لحاف جو مردوں کے لیے گھروں میں اور صحنوں میں رکھے ہوتے ہیں، اس میں کسی چیز کو حرام تو نہیں جانتا، لیکن پسندیدہ یہی ہے کہ پہننے کی چیز اس کے علاوہ ہو۔“
وضاحت
لحاف اور کمبل عام طور پر رنگین اور اکثر ریشمی ہوتے ہیں۔ امام مالک کے نزدیک ان سے اجتناب بہتر ہے اگرچہ ان کا استعمال 

حرام نہیں۔
حدیث۷:
ریشم پہننے کے بارے میں 
 ”ہشام اپنے باپ عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ریشمی مطرف عبداللہ بن زبیر کو پہنایا جو حضرت عائشہ خود پہنا کرتی تھیں۔“
وضاحت
مطرف سے مراد وہ اونی کپڑا ہے جس کا تانا ریشم کا اور بانا اون کا ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اگر یہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پہننے کے لیے دیا تو اس کے جائز ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ کپڑا اگر پورے کا پورا ریشم ہو تو پھر سوال پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ریشم کا پہننا مردوں کے لیے بالاتفاق جائز نہیں۔ تاہم اگر کسی اور چیز میں ریشم ملا ہوا ہو تو احتیاط کرنی چاہیے، اگرچہ اس کو حرام نہیں کہہ سکتے۔
عورتوں کے لیے کون سا کپڑا پہننا مکروہ ہے
 حدیث۸:
”علقمہ بن ابی علقمہ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں تو حفصہ نے اپنے اوپر ایک باریک اوڑھنی لے رکھی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا اور ان کو ایک موٹی اوڑھنی پہنا دی۔“
وضاحت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے معلوم ہوا کہ عورت کو سر ڈھانپنا بھی چاہیے اور دوپٹہ دبیز بھی ہو۔ اگر باریک اوڑھنی ہوا سے اڑ جائے تو اس پہناوے کا کیا فائدہ؟ آج کل کے دوپٹے تو محض تہمت ہی ہیں۔ عورتیں سر سے زیادہ ان کو گلے میں پہنتی ہیں۔ دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث۹:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتیں کپڑے پہنے ہوئے بھی عریاں، مٹکنے مٹکانے والی جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور اس کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گی اگرچہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت پر محسوس ہو گی۔“
وضاحت
’کاسیات عاریات‘ کا مطلب ’جامے کے اندر پاجامے سے باہر‘ ہے۔ وہ لباس پہنے ہوئے بھی عریاں نظر آتی ہیں اور ان کا انگ انگ دیکھا جا سکتا ہے۔ ’مائلات‘ کے معنی حق سے منحرف کے کیے گئے ہیں۔ لہٰذا ’مائلات‘ ’ممیلات‘ سے مراد یہ ہو گی کہ خود بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوتی ہیں اور خاوند کو بھی ہٹاتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ معنی صحیح نہیں۔ اصل میں مراد ہے مٹکنے مٹکانے والی، یعنی وہ گردن اور جسم کو مٹکاتی ہوئی چلتی ہیں اور دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ ایسی عورتیں جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گی۔ پانچ سو سال کی مسافت تعبیر ہے ایک طویل فاصلہ کی۔ یہ روایت ابوہریرہ سے ہے جبکہ اس کے تیور ایسے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہو گا۔ بعض راویوں نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے۔
حدیث۰۱:
”ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات اٹھے۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو زبان سے یہ کلمہ نکلا۔ سبحان اللہ! آج کی رات کیا کیا خزانے کھولے گئے ہیں اور کیا کیا فتنے واقع ہوئے ہیں۔ کتنی ہی جامہ پوش جو دنیا میں ہیں، وہ قیامت کے روز عریاں ہوں گی۔ ان کوٹھڑی والیوں کو جگاؤ کہ (اللہ کو یاد کریں)۔“
وضاحت
یہ ایک حقیقت بیان ہوئی ہے، لیکن اس کو دیکھنے کے لیے چشم بصیرت چاہیے کہ ہر وقت خزانوں کی بھی بارش ہوتی رہتی ہے اور لوٹنے والے ان کو لوٹ لیتے ہیں، اور فتنے بھی برپا ہوتے رہتے ہیں اور ان کے رسیا ان کو بھی لوٹ لیتے ہیں۔ یہی راتیں تو ہوتی ہیں جن میں شب بیداری کرنے والے نہ جانے کتنے خزانے پاتے ہیں اور یہی راتیں ہوتی ہیں جن میں لوگوں کی کارستانیوں کی خبریں ہر صبح اخباروں میں آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں اپنا تاثر بیان فرمایا۔ دوسری بات جس کی طرف آنحضرت نے توجہ دلائی یہ ہے کہ لباس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جسم کی جو چیزیں چھپانے کی ہیں، ان کو چھپایا جائے۔ موجودہ زمانے کا فیشن یہ ہے کہ جو چیز چھپانے کی ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کے لیے لباس تراشا اور پہنا جاتا ہے۔ اس وقت تمام ممالک میں یہی مذاق فیشن بن چکا ہے۔ قیامت کے دن یہ لباس عریانی قرار پائے گا۔ پچھلی روایت اس دنیا سے متعلق تھی اور یہ روایت قیامت سے متعلق ہے۔ ’صواحب الحجر‘ سے ازواج مطہرات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جاگیں اور نیکی کے خزانے لوٹیں۔
مرد کے اپنی تہمد لٹکانے کے بارے میں 
 حدیث۱۱:
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تہمد غرور سے گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نگاہ نہیں کریں گے۔“
وضاحت
عرب میں غنڈوں کا طریقہ تھا کہ وہ ریشمی تہمد پہنتے اور اس کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتے تھے۔ میں نے اپنے دیہاتوں اور شہروں میں بھی دیکھا ہے کہ بانکے اور چھبیلے لوگ تہمد گھسیٹتے ہوئے چلتے ہیں۔ یہ غرور کی نشانی ہے۔ عام لوگوں میں اگر کسی کی تہمد ڈھیلی رہ جائے تو وہ غرور میں داخل نہیں۔ جو لوگ غرور سے چلیں گے تو خدا ان کی طرف نگاہ نہیں کرے گا، یعنی توجہ یا التفات نہیں کرے گا۔ آخرت میں کامیابی کا انحصار اللہ کی عنایت پر ہو گا۔ لہٰذا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کی عنایت ہی نہیں ہو گی تو اس کی بدبختی میں کوئی شبہ ہی نہیں ہو سکتا۔ اس روایت میں اصل چیز ’خیلاء‘ ہے یعنی غرور و استکبار۔ یہ جس شکل میں بھی ہو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرک ہے، اس لیے کہ کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ کسی مخلوق کو کوئی حق نہیں کہ اس میں کبریائی ہو۔ اگر کوئی اللہ کی کبریائی میں شریک ہوتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ڈھب کی چال ان میں جائز ہوتی ہے، مثلاً جہاں اسلام کی شان و شوکت کو نمایاں کرنا ہو۔ کسی غزوہ کے دن آنحضرت نے ایک سپاہی کو دیکھا کہ بہت اکڑے ہوئے نکلے اور ’ھل من مبارز‘ (ہے کوئی مقابلہ کرنے والا) کا نعرہ لگایا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ چال بہت ناپسند ہے، لیکن آج کے دن یہ محبوب ہے۔ معلوم ہوا کہ اہل کفر کے مقابلے میں اسلام کی قوت اور شان کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مستثنیٰ ہے۔
حدیث۲۱:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہمد غرور سے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے۔“
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نگاہ نہیں کرے گا قیامت کے روز ان لوگوں کی طرف جو اپنا تہمد غرور کے باعث گھسیٹتے ہوئے چلتے ہیں۔“
”علاء بن عبدالرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری سے تہمد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہاں میں تم کو علم کی روشنی میں خبر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مومن کا تہمد نصف ساق تک ہونا چاہیے۔ نصف ساق اور ٹخنوں کے بین بین ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اس سے نیچے جو ہے وہ آگ میں ہے، اس سے نیچے جو ہے وہ آگ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نگاہ نہیں کرے گا جو اپنا تہمد غرور سے گھسیٹا ہوا چلتا ہے۔“
وضاحت
یہ تمام روایات ایک ہی مضمون کی حامل ہیں۔ ان میں صرف سند اور الفاظ کا فرق ہے۔ آخری روایت میں تہمد کے طول کی حدبندی ہو گئی ہے جو پنڈلی کے نصف اور ٹخنے کے درمیان ہے۔ گویا اصل میں ٹخنے تک کی حد ہے۔ کپڑا اس سے نیچے نہیں ہونا چاہیے۔ پاجامے اور شلوار کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔
عورت کے کپڑا لٹکانے کے بارے میں 
 حدیث۳۱:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ جب ان کے سامنے تہمد کا ذکر آیا تو انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر عورت کے بارے میں کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا: ایک بالشت کے قریب لٹکا لے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تب اس کے جسم کا کچھ حصہ (پاؤں) تو کھلا رہے گا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک ہاتھ سہی، اس سے زیادہ نہیں کر سکتی۔“
وضاحت
اسبال ازار یعنی تہمد لٹکانے کے معاملہ کا تعلق اصلاً مردوں، اور وہ بھی متکبر لوگوں سے ہے، عورتوں سے نہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جب سنا کہ مردوں کو اسبال ازار سے منع کیا گیا ہے تو انھوں نے پوچھا کہ عورتوں کے لیے کیا حکم ہے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ عورتیں اپنا ازار یا تہمد پنڈلی کے نصف سے ایک بالشت نیچے تک لٹکا سکتی ہیں۔ اگر اس سے پاؤں کھلتے ہوں تو بالشت کی بجائے زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ نیچے کر لیں۔ اس سے زیادہ نیچے نہ کریں۔٭٭٭