عمرِ فاروقؓ

مصنف : پروفیسر محمد مشتاق

سلسلہ : سیرت صحابہ

شمارہ : اکتوبر 2019

جب رومی سلطنت کے ساتھ بڑی جنگ یرموک کا موقع آیا تو مسلمانوں کو مجبوراً بعض ایسے علاقے خالی کرنا پڑے جن کو انہوں نے فتح کیا تھا یا جہاں کے لوگوں نے معاہدہ کرکے اپنے علاقوں کو مسلمانوں کے قبضے میں دے دیا تھا۔ امام ابو یوسف اس واقعے کی تفصیل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: 
''جب اہل ذمہ نے مسلمانوں کی جانب سے معاہدے کی پابندی اور ان کا بہترین کردار دیکھا تو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے سخت مخالف بن گئے اور ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرنے لگے۔ پس جس علاقے کے لوگوں سے بھی مسلمانوں کا معاہدہ ہوا تھا انہوں نے رومیوں اور ان کے بادشاہ کے ارادوں اور پیش قدمی کے منصوبوں کے متعلق معلومات کے حصول کے لیے اپنے آدمی بھیجے۔ پھر ہر علاقے میں ان کے جاسوسوں نے لوٹ کر خبر دی کہ رومی ایسا بڑا لشکر لے کر آرہے ہیں کہ اتنا بڑا لشکر کبھی دیکھا نہیں گیا۔ پس ہر علاقے کے سردار یہ خبر لے کر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ والیوں کے پاس پہنچ گئے اور ان میں ہر ایک نے یہ خبر آگے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تک پہنچادی۔ جب پے درپے اس قسم کی خبریں ان تک پہنچیں تو انہیں اور دیگر مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرگیا ہے۔ پس جن علاقوں کے لوگوں کے ساتھ صلح کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے وہاں اپنے نائب مقرر کیے تھے ان سب کو انہوں نے پیغام لکھ کر بھیجا کہ ان لوگوں سے جتنا مال جزیہ اور خراج کے ضمن میں وصول کیا گیا ہے وہ سارا ان کو لوٹا دیں اور ان سے کہیں کہ: ہم تمہیں یہ مال لوٹا رہے ہیں کیونکہ ہمارے خلاف جو بڑا لشکر آرہا ہے اس کے متعلق ہمیں اطلاع مل چکی ہے اور تم لوگوں نے ہم پر لازم کیا تھا کہ ہم تمہیں ان سے بچائیں گے لیکن اب ہم اس شرط پر عمل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ پس جو کچھ ہم نے تم سے لیا تھا وہ سارا تمہیں لوٹا رہے ہیں اور ہم نے تمہارے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا ہم اس پر قائم ہیں اگر اللہ نے ان کے خلاف ہماری مدد کی۔ پس جب مسلمانوں نے یہ بات ان لوگوں سے کہی اور ان سے وصول کیا ہوا مال انہیں لوٹا دیا تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو واپس لوٹادے اور ان کے خلاف آپ کی مدد کرے کیونکہ آپ کی جگہ اگر وہ ہوتے تو وہ کچھ بھی ہمیں نہ لوٹاتے، بلکہ جو کچھ ہمارے پاس باقی ہوتا وہ بھی اس موقع پر چھین لیتے اور ہمارے پاس کچھ بھی نہ رہنے دیتے۔ ''
مسلمانوں نے یہ معاہدہ اس وقت کیا تھا جب ابھی شام کے علاقے پر ان کا مکمل کنٹرول قائم نہیں ہوا تھا۔ بعض علاقے انہوں نے فتح کرلیے تھے اور بعض علاقوں میں ابھی جنگ جاری تھی۔ دوسری طرف روم کی جانب سے بڑی جنگ کا خطرہ بھی ابھی سر پر تھا۔ ایسی صورت میں جبکہ شام کے بعض علاقوں پر روم کا کنٹرول ختم ہوچکا تھا اور مسلمان آگے بڑھ رہے تھے بعض علاقوں کے لوگوں نے یہ مناسب سمجھا کہ صلح کرکے اپنی جان و مال کو مامون و محفوظ کرلیں اور مسلمانوں کو آگے جانے کا راستہ دیں۔ مسلمانوں کی جانب سے بعض مفتوحہ علاقوں کو خالی کرنے کے اقدام کی حیثیت وہ تھی جسے قرآن نے متحرفاً لقتال کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ گویا ایک جنگی چال کے طور پر مسلمانوں نے اس علاقے کو وقتی طور پر خالی کیا تاکہ دشمن آگے بڑھ آئے اور پھر مسلمان اسے مختلف اطراف سے گھیر لیں۔ چنانچہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے تصریح کی ہے کہ ہمارا معاہدہ بدستور برقرار ہے اور ہم واپس آئیں گے اگر ہم اس لشکر کو اللہ کی مدد سے پسپا کرسکے۔ اس صورت میں ان پر ان اموال کا واپس کرنا لازم نہیں تھا جو غیر مسلموں نے انہیں ادا کیے تھے۔ تاہم چونکہ عدم واپسی کا احتمال تھا اس لیے غدر اور عہد شکنی سے بچنے کے لیے مسلمانوں نے یہ اموال واپس کردیے۔ 
دوسرا واقعہ نجران کے عیسائیوں کا ہے جب انھوں نے پڑوسی عیسائی ریاست حبشہ کی شہ پر بغاوت کی تیاریاں شروع کیں۔ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ عہد رسالت میں ہی ہوا تھا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ان کو مسلمانوں کا تحفظ ہمیشہ حاصل رہے گا ‘‘جب تک وہ معاہدے پر قائم رہیں گے’’۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس معاہدے کی تجدید کی اور پھر ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ جب تک وہ معاہدے پر قائم رہیں گے مسلمان ان کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان لوگوں نے مادی لحاظ سے بھی بڑی ترقی کی تھی اور ان کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوگیا تھا۔ پھر یہ کئی گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض دار الاسلام کے اندر رہنے پر قانع اور خوش تھے جبکہ بعض نے علیحدگی کے متعلق تیاریاں شروع کیں۔ پھر ان میں سے کئی لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کی تیاریوں کے الزامات لگا کر آتے رہے۔ ابتدا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اہمیت نہیں دی لیکن پھر انہوں نے محسوس کیا کہ معاملہ خرابی کی طرف جارہا ہے۔ اس لیے انہوں نے ان کی جلاوطنی کا فیصلہ کرلیا۔ امام ابو یوسف نے یہ صورتحال ان الفاظ میں ذکر کی ہے: 
''سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کیا کیونکہ انہیں ان کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اقدام کا اندیشہ تھا، اور ان لوگوں نے اپنے علاقوں میں گھوڑوں اور اسلحے کا ذخیرہ کر لیا تھا۔ ''
نجران کی جغرافیائی پوزیشن انتہائی اہم تھی۔ اس کے ایک طرف جزیرۃ العرب اور حجاز کا علاقہ تھا تو دوسری طرف بحر احمر کے پار حبشہ کی عیسائی سلطنت تھی۔ بغاوت کے آثار بھی رونما ہوئے تھے کیونکہ جیسا کہ امام ابو یوسف نے ذکر کیا انہوں نے جنگ کے لیے باقاعدہ تیاریاں شروع کردی تھیں۔ ابن الاثیر کی روایت کے مطابق انہوں نے چالیس ہزار جنگجو اکٹھے کر لیے تھے۔ نیز انہوں نے کھلے عام سودی لین دین شروع کردیا تھا جو نہ صرف اس معاہدے کی خلاف ورزی تھی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف بغاوت کا اقدام بھی تھا۔ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمان جاری کرکے ان لوگوں کو یمن کے نجران سے عراق کے نجران کو منتقل ہونے کا حکم دیا۔ ہم ان کے اس فرمان کو امام ابو یوسف کی روایت سے نقل کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ امام ابو یوسف نے جس وقت یہ قانونی فرمان نقل کیا اس وقت وہ اسلامی خلافت کے قاضی القضاۃ تھے اور انہوں نے یہ کتاب خلیفہ وقت ہارون الرشید کی رہنمائی کے لیے لکھی تھی:
''بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ فرمان ہے جو امیر المؤمنین نے اہل نجران کے لیے لکھوایا ہے۔ ان میں جو معاہدے پر قائم رہا تو وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہے، اسے مسلمانوں
 میں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاسکے گا کیونکہ ان پر لازم ہے کہ وہ ان معاہدات کی پابندی کریں جو رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران کے ساتھ کیے ہیں۔ شام اور عراق کے حکام میں جس کے پاس یہ جائیں وہ ان کو قابل ِ کاشت زمین عطا کریں۔ جس زمین میں یہ کاشت کریں وہ ان کے لیے اللہ کی رضا کی خاطر صدقہ اور ان کی اس زمین کا معاوضہ ہے جو ان سے لی گئی ہے۔ اس زمین میں ان پر کوئی دست درازی اور زیادتی نہ کی جائے۔ اگر کوئی مسلمان ان پر ظلم ہوتا دیکھے تو وہ ظالم کے خلاف ان کی مدد کرے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ان کے آنے کے بعد چوبیس مہینوں تک ان کا جزیہ معاف ہے۔ ان سے وہی کام لیا جائے گا جو یہ کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان پر کوئی ظلم اور زیادتی نہیں کی جائے گی۔ عثمان بن عفان اور معیقیب اس معاہدے پر گواہ ہوئے اور یہ دستاویز لکھی گئی۔''
غور کریں۔ یہ لوگ بغاوت کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن انہوں نے ان کے ساتھ بھی حتی الامکان نرمی اور احسان کا رویہ اپنایا۔ ایک طرف انہوں نے ان کو کسی حد تک خود مختاری دی تو دوسری طرف دار الاسلام کے کسی ٹکڑے کو غیروں سے قبضے میں جانے کا امکان بھی ختم کردیا اور ایک بہت بڑے خطرے کی بروقت سرکوبی کی۔
٭٭٭