شیر اآیا شیر

مصنف : سعادت حسن منٹو

سلسلہ : افسانہ

شمارہ : 2017 جنوری

افسانہ
شیر آیا ، شیر آیا
سعادت حسن منٹو
انتخاب ، عاصم اللہ بخش

ایک اونچے ٹیلے پرگڈریے کا لڑکا دور گھنے جنگلوں کی طرف منہ کئے چلارہا تھا۔ شیر آیا افسانہ
شیر آیا ، شیر آیا
سعادت حسن منٹو
انتخاب ، عاصم اللہ بخششیر آیادوڑنا۔بہت دیر تک وہ اپنا گلا پھاڑتا رہا۔ اْ س کی بلندآواز بستی میں بہت دیرتک گونجتی رہی۔ جب چلاچلا کر حلق سوکھ گیا تو بستی سے دوتین بوڑھے لاٹھیاں ٹیکتے ہوئے آئے اور گڈریے کے لڑکے کوکان سے پکڑ کر لے گئے۔پنچایت بلائی گئی۔ بستی کے سارے عقل مند جمع ہوئے۔ اور گڈریے کے لڑکے کامقدمہ شروع ہوا۔ اْس کا جرم یہ تھا کہ اْس نے غلط خبر دی۔ اور بستی کے لوگوں کو خواہ مخواہ پریشان کیا۔
لڑکے نے کہا۔ میرے بزرگو تم غلط سمجھتے ہو۔شیر واقعی نہیں آیاتھا پراس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ آہی نہیں سکتا۔بزرگوں نے کہا۔ وہ نہیں آسکتا۔لڑکے نے باادب پوچھا۔ کیوں؟جواب ملا۔ جنگلوں کے محکمے کے بڑے افسرنے ہمیں لکھا تھا کہ شیر بوڑھا ہوچکا ہے۔لڑکے نے کہا۔ لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ وہ جوان ہونے کے لئے بہت سی جڑی بوٹیاں کھارہاہے۔جواب ملا، یہ افواہ تھی جنگلوں کے محکمے کے بڑے افسرسے ہم نے اس بارے میں پوچھا تو اس نے ہمیں یہ لکھا تھا کہ شیر نے تو اپنے رہے سہے دانت بھی نکلوادئے ہیں، کیونکہ وہ اپنی زندگی کے باقی دن خدا کی یاد میں گزارنا چاہتا ہے۔
لڑکے نے بڑے جوش کے ساتھ کہا۔ میرے بزرگو ہوسکتا ہے ایسا نہ ہو۔بزرگوں نے کہا۔ ہرگزنہیں ہمیں جنگلوں کے محکمے کے بڑے افسر پر پورا بھروسہ ہے۔ اس لئے کہ وہ سچ بولنے کی قسم کھا چکا ہے۔لڑکے نے پوچھا۔ کیا یہ قسم جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ بزرگ غصے میں چلائے۔ ہر چیز جھوٹی کیسے ہوسکتی ہے؟ تم خود جھوٹے ہو مکارہوچال باز ہو ۔لڑکا مسکرایا، میں سب کچھ ہوں، لیکن اللہ کاشکر ہے کہ میں وہ شیر نہیں جو کسی وقت بھی یہاں آسکتا ہے۔ جنگلوں کے محکمے کابڑا افسربھی نہیں جو سچ بولنے کی قسم کھا چکا ہے۔ میں،،پنچایت کے ایک سفید بالوں والے بوڑھے آدمی نے لڑکے کی بات کاٹ کر کہا ، تم اسی گڈریے کی اولاد ہو، جس کی کہانی سالہاسال سے اسکولوں میں پڑھا ئی جاتی رہی ہے۔ کان کھول کے سن لو کہ تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو اس کا ہوا تھا۔ شیرآئے گا تو تمہاری تکہ بوٹی اڑا دیگا۔گڈریے کا لڑکا پھر مسکرایا،بزرگو، میں تو اس سے لڑوں گا، مجھے توہر گھڑی اْس کے آئے کا کھٹکالگا رہتا ہے ،تم کیوں نہیں سمجھتے کہ شیرآیا شیرآیا دوڑنا، والی کہانی جواپنے بچوں کو پڑھاتے ہو، آج کی کہانی نہیں آج کی کہانی میں تو شیرآیا شیرآیا دوڑنا، کامطلب یہ ہے کہ خبردار رہو، ہوشیارر ہو شیر آئے نہ آئے، ہوسکتا ہے، کوئی گیدڑہی منہ اٹھا کرادھر چلاآئے، مگر اس حیوان کو بھی تو ہمیں اپنی بستی میں گھسنے سے روکنا چاہئیے۔
بزرگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ کتنے ڈرپوک ہوتم گیدڑسے ڈرتے ہو۔گڈریے کے لڑکے نے کہا،میں شیر سے ڈرتا ہوں نہ گیدڑسے مگر ڈرتاہوں اس لئے کہ یہ حیوان ہیں اور ان کی حیوانیت کا مقابلہ کرنے کے لئے میں اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھتا ہوں میرے بزرگو، زمانہ بدل چکا ہے، اپنے اسکولوں سے خدا کے لئے وہ کتاب اٹھا لو، جس میں شیرآیا شیرآیادوڑنا، والی پرانی کہانی چھپی ہے ۔اْس کی جگہ یہ نئی کہانی پڑھاؤ۔
ایک بڈھے نے کھانستے کھنکارتے ہوئے کہا۔ بھائیو، یہ لڑکا ہمیں غلط راستے پر لے جانا چاہتا ہے۔ اس کا سر پھر گیا ہے۔ دوسرے بڈھے نے غصے سے کانپتے ہوئے کہا۔ اس کا فوراََ قید کرو۔گڈریے کے لڑکے کو فوراََ جیل میں قید کردیا گیا۔
اتفاق کی بات ہے اْسی رات شیر بستی میں داخل ہوا، بھگدڑمچ گئی۔ چھ لوگ بستی چھوڑ کے بھاگ گئے۔ باقی شیرنے شکار کرلئے مونچھوں کے ساتھ لگا ہوا،خون چوستاجب شیر جیل کے پاس سے گزرا، تو اس نے لوہے کی مضبوط سلاخوں کے پیچھے گڈریے کے لڑکے کو دیکھا۔ شیر نے اْس سے کہا۔۔۔ کون ہوتم؟لڑکے نے جواب دیا۔ میں گڈریے کا لڑکا ہوں۔شیر کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ افوہ! تم ہو گڈریے کے لڑکے وہی جو میرے آنے کی اطلاع دیا کرتے تھے۔ باہر آؤ، میں تمہیں اس کی سزا دینا چاہتا ہوں۔لڑکا مسکرایا۔جنگلوں کے بادشاہ مجھے افسوس ہے۔ کہ میں باہر نہیں آسکتا میرے بزرگوں نے جو مجھے سزادی ہے، اس نے مجھے تمہاری سزا سے محفوظ کردیا ہے اور شیر دانت پیس کررہ گیا۔
***

آخری مرحلہ
وقت کی تیز رو باد سودائیوں کی طرح 
بے ڈگر، 
بے سبب، 
بے ارادہ 
بڑی بے نیازی سے چلتی ہوئی
عمر کے پیڑ کی سب جڑیں 
آخرِکار دھرتی کے سینے سے 
اک ایک کر کے اکھڑتی ہوئیں
ذہن کی سر زمیں پر دراڑیں 
نمودار ہوتی ہوئیں
زلزلوں میں گری بستیوں کی طرح 
سوچ بے آسرا
ساری ذرخیزیاں 
دیکھتے دیکھتے بانجھ ہوتی ہوئیں
جسم کی رعنا ئی کے طائر بھی سب کوچ کرتے ہوئے
سر میں چاندی کا سیلاب اترتا ہوا
اور بصارت کی قندیل بجھتی ہوئی
خیمہ جاں بالآخر اکھڑتا ہوا
اک چمن زار سے جس طرح تازگی، رنگ، خوشبو، تراوت بچھڑتے ہوئے
گلستانِ بدن دشت ہوتا ہوا
وقت کی تیز رو 
عمر کے کھیل کے آخری مرحلے کی طرف گامزن
*وقار رامز*