شعر و ادب

مصنف : اسلم انصاری ، ظہیر احمد ظہیر

سلسلہ : ادب

شمارہ : جنوری 2019

شعر و ادب

گوتم ، گوشوارہ

اسلم انصاری ، ظہیر احمد ظہیر

                                                                                                                                  گوتمکاآخریخطاب
ڈاکٹر اسلم انصاری
مجھے محبت سے سننے والو! 
مجھے عقیدت سے تکنے والو! 
میرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنیا سجانے والو! 
میرے الم آفریں تکلم سے اپنے من کی دنیا بسانے والو! 
بدن کو تحلیل کرنے والی ریاضتوں پر عبور پائے ہوئے، 
سکوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو! 
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھنے والو! 
عزیز بچو! 
میں بُجھ رہا ہوں
میں جل چکا ہوں، میرے شعورِ حیات کا شعلہ جہاں تاب بجھنے والا ہے
میرے کرموں کی آخری موج میری سانسوں میں گھل چکی ہے
میں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آ گیا ہوں
تو سُن رہے ہو میرے عزیزو! میں جا رہا ہوں 
میں اپنے ہونے کا داغ آخر کو دھو چلا ہوں
کہ جتنا رونا تھا، رو چلا ہوں
مجھے نہ اب انت کی خبر ہے، نہ اب کسی چیز پر نظر ہے
میں اب تو صرف اتنا جانتا ہوں، کہ ہستی کے، سکوتِ کامل کے
جُہلِ مطلق کے، (کہ علم مطلق ہے)
بحرِ بے موج سے ملوں گا، تو انت ہو گا
اس التباسِ حیات کا، جو تمام دکھ ہے
میں دکھ اٹھا کر، میرے عزیزو! میں دکھ اٹھا کر
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھ چکا ہوں
تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی یہ نمود دکھ ہے
حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے، ملاپ دکھ ہے
جدائی تو خیر آپ دکھ ہے، ملاپ دکھ ہے
کہ ملنے والے جدائی کی رات میں ملے ہیں ، یہ رات دکھ ہے
یہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، یہ اہتمام دکھ ہے
سکوت دکھ ہے کہ اس کے کربِ عظیم کو کون سہہ سکا ہے
کلام دکھ ہے کہ کون دنیا میں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے
یہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے
میرے عزیزو! تمام دکھ ہے
***
دکھ گوتم سے بڑا ہے
نصیر احمد ناصر
دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھلتا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ تو عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے
وہ عورت ہی تھی
جس نے اسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا
اور وہ بھی
جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا
عورت تھی
اور حالتِ مرگ میں اسے
دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی عورت تھی
وہ کپل وستو کا شہزادہ
دو پہیوں پر چلتی بیل گاڑی
اور گاڑی بان کو دکھ سمجھتا رہا
اور بڑھاپے، بیماری اور موت پر
قابو پانے کی کوشش کرتا رہا
لیکن اتنا نہ جان سکا
کہ گیان دھیان انچاس دنوں کا نہیں
ساری عمر پر محیط ہوتا ہے
اور عرفان و آگہی کا دریا
حقیقی زندگی کے کناروں سے پھوٹتا ہے
گوتم نے غزہ نہیں دیکھا
وہ عراق افغانستان اور شام نہیں گیا
اس نے کرچی اور کوئٹہ بھی نہیں دیکھے
بوری بند لاشیں
اور خودکش دھماکوں سے اڑتے ہوئے اعضاء نہیں دیکھے
بحرِ متوسط کے ساحل پر اوندھے پڑے ہوئے ایلان کُردی
اور دریائے ناف کے کنارے
کیچڑ میں لت پت شوحیات کو نہیں دیکھا
افریقہ میں دودھ سے عاری ڈھلکی ہوئی سیاہ چھاتیاں
اور مرتے ہوئے آبنوسی ڈھانچے نہیں دیکھے
گوتم نے عظیم جنگیں
اور آبدوزوں میں مرنے والوں کی آبی قبریں نہیں دیکھیں
گوتم نے مارکسی ادب نہیں پڑھا
وہ پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کا دربان
نہیں رہا
ورنہ نروان کے لیے کبھی فاقے نہ کرتا
آج گوتم اگر زندہ ہوتا
تو دکھ کا انتم سرا کھوجتے ہوئے
واڈکا پی کر
کسی غیر ملکی محبوبہ کے نیم برہنہ پہلو میں
شانتی کی نیند سو رہا ہوتا
(بحوالہ ''مونجھ سے مزاحمت تک''، رانا محبوب اختر، جھوک پبلشرز دولت گیٹ، ملتان، 2018، ص 47۔50)
گوشوارہ
کیا حال سنائیں دنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی 
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں 
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر، جذبوں کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح، پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں، کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں 
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ، کچھ ریت گھروندا چھوٹا سا 
کچھ لوگ مثالِ ابرِ رواں، کچھ اونچے درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت، راہوں میں اجالا کرتے ہیں 
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک، چہروں پہ اُچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں، دوگام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں، کیا بات بتائیں جیون کی؟ 
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟ 
ہے کون جو رستہ تکتا ہے، ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن، ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے 
اک عمر گنوائی ہے اپنی، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر، جاں کھوئی ہے، غم پایا ہے 
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے

ظہیر احمد ظہیر