سود کی لعنت ہماری بے بسی کی کہانی

مصنف : امجد ثاقب

سلسلہ : سماجیا ت

شمارہ : 2014 فروری

سماجیات
سود کی لعنت،ہماری بے حسی کی کہانی
امجد ثاقب

 

 

    نعیم مسیح کی کہانی ہمارے معاشرے کی ایک بھیانک تصویر ہے۔
نعیم نے اپنی زندگی کا آغاز چھوٹے سے کاروبارسے کیا لیکن تجربے کی کمی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اسے بہت سے لوگوں کو رقم کی ادائیگی کرنا تھی۔ مجبوری کے عالم میں اسے ایک شخص سے پینتیس ہزار روپے سود پر لینے پڑے۔بہت منت سماجت کے بعد تین ہزار روپے ماہانہ سود مقرر ہوا۔ یعنی ایک سال میں اصل زر سے زائد سود کی رقم۔ اس کے والد ان دنوں واپڈا میں ملازم تھے۔ ان کے توسط سے اسے بھی واپڈا میں معمولی ملازمت مل گئی۔ باپ ٗ بیٹا پارٹ ٹائم الیکٹریشن کا کام بھی کرنے لگے۔ اس طرح سود کی رقم ادا ہونے لگی اور گھر کا نظام بھی چلتا رہا۔ سودخور بہت طاقت ور اور ظالم  تھا۔اس کا نمائندہ ہر ماہ پہلی تاریخ کو اپنی قسط وصول کرنے آجاتا۔ گھر میں چولہا جلتا یانہ جلتا ٗ سود کی رقم ضرور ادا ہوتی۔ 1992 سے لے کر مئی2005تک نعیم مسیح بطور سود چار لاکھ اٹھتر ہزار روپے ادا کر چکا تھا۔ ان تیرہ برسوں میں اس کے پاس یکمشت اتنے پیسے اکٹھے نہ ہو سکے کہ وہ اصل زر یعنی پینتیس ہزار ادا کرکے قرضے سے جان چھڑوا سکتا۔ جتنے دکھ اس نے اور اس کے گھروالوں نے اٹھائے ٗ کسی نے کیا اٹھائے ہوں گے۔ ہر لمحہ موت‘ ہر لمحہ اذیت۔ سود کتنی بڑی لعنت ہے اور سودخور کتنے بے حس ہیں یہ اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا۔
اخوت نے نعیم مسیح کے 35ہزار روپے ادا کر دیئے۔ اب وہ قرض کے بوجھ سے مکمل آزاد ہو چکا تھا۔ دکھ کی بھیانک رات گزرنے کے بعد سکھ اور اطمینان کی کرنیں طلوع  ہوئیں۔ نعیم نے اخوت کو ڈیڑھ سال کے اندر قرض کی ر قم بھی واپس کر دی۔ اب وہ جو کما تا وہ صرف گھر والوں کے کام آتا ہے لیکن اس کے ساتھ جو کچھ ہوا کیا وہ ہمارے لیے باعث افسوس نہیں؟ 
آج بھی ہزاروں لاکھوں لوگ ”دور ِجاہلیت“ کے اس سود کا شکار ہیں جسے ہمارے آقا نبی اکر م ﷺ نے گناہ کی اور رسموں کی طرح‘اپنے پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔کیا اس ظلم اور استحصال کو اخلاقیات کے کسی بھی معیارکے تحت روا سمجھا جاسکتا ہے۔ سود کا یہ کاروبار کب ختم ہو گا؟ انسان کو آزادی کی نوید کب ملے گی؟
کچھ لوگ جانتے ہی نہیں کہ زندگی کو جبرِ مسلسل کیوں کہا جاتا ہے۔
ازنگاہِ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر
نعیم مسیح کی یہ کہانی ان ہزاروں کہانیوں میں سے ایک ہے جو ہمارے اردگرد بکھری پڑی ہیں۔ ایک مزدور نے دو ہزار روپے قرض لیا اور اس پر بارہ ہزار روپے سود دیا۔ ایک عورت نے دس ہزار پر پینسٹھ ہزار ادا کیے۔ ایک گھریلو خاتون نے کمیٹی کے چکر میں آکر پچا س ہزار روپے سود پر اٹھائے اور اس پر کم و بیش بیس لاکھ روپے ادا کیے۔ ان کہانیوں کا ایک ایک حرف تلخیوں سے بھرا اور درد میں گندھا ہوا ہے۔ یہ سب ہماری بے حسی کی کہانی ہے۔ انسانیت کا زعم رکھنے کے باوجودانسان کی اس قدر تذلیل۔ کس میں ہمت ہے کہ وہ آج انسانی عظمت کے گیت گا سکے۔”ہم جس کے سامنے جھولی پھیلاتے ہیں اسی سے جنگ بھی کرتے ہیں۔“
اگر قیامت میں حضور ؐ نے پوچھ لیا کہ سود کی جس رسم کو میں نے قدموں کی دھول بنادیا تم اسے بت بنا کے پوجنے لگے؟کیا یہی وہ عقیدت تھی جس کا دعویٰ کرتے اور نعرے لگاتے تمہاری زبان خشک ہوجاتی تھی…………تو ہے۔۔۔ کوئی بادشاہ‘ کوئی وزیر‘ کوئی حاکم‘ کوئی خادم۔۔۔ جو رسالتمآب ؐ کی اس شکایت کا جواب دے سکے۔ ایسی ہی کوئی بات تھی جس نے اقبال سے یہ شعر کہلوائے:
تو غنی ازہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گر حِسا بم را ببینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفےٰ ؐپنہاں بگیر
(اے مولائے کریم تو غنی ہے اور میں ایک عاجز اور فقیرِ بے نوا۔ قیامت کے روز تو میری تقصیروں کا عذر سننا‘ انہیں پذیرائی بخشنا اور اپنے عفوو کرم سے نوازنا۔اے رب العزت اگر تو فیصلہ کرے کہ میرا حساب کتاب ناگزیر ہے تو میری صرف ایک عاجزانہ درخواست قبول فرما لینا۔وہ درخواست یہ ہے کہ مجھ سے حساب جناب سرور ِ کائناتؐ کے سامنے نہ لینا۔ میرا محاسبہ ان کی پاک نگاہوں سے اوجھل ہو کے کرنا کہ میں پر تقصیر اُمتی آنحضرت  ؐ کا سامنا نہ کرسکوں گا)۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ”پر تقصیر امتی“ کسی ضرورت مند کو دوہزار‘ دس ہزار یا پچا س ہزار دے کر سود کی دلدل میں گرنے سے بچالیں اور روز ِ محشر انہیں یہ التجا نہ کرنی پڑے۔ گر حِسا بم را ببینی ناگزیر۔ ازنگاہِ مصطفےٰؐ پنہاں بگیر۔

 

ہارورڈ یونیورسٹی
ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے جو 1636 میں تعمیر ہوئی۔ ہارورڈ کو دنیا کی سب سے امیر یونیورسٹی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کے انڈومنٹ فنڈمیں تیس ارب ڈالر سے زائد رقم محفوظ ہے۔ یہ رقم پاکستان کے دوسال کے بجٹ کے برابر ہے۔ کئی سو ایکڑ پر مشتمل یہ درسگاہ علم و ادب کا لامحدود خزینہ ہے۔ اس یونیورسٹی کی لائبریری دنیا کی تما م یونیورسٹیوں سے بڑی ہے۔ امریکہ کے آٹھ صدر اس یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ یہاں کے پچھترطلباء اور اساتذہ نوبل پرائز حاصل کرچکے ہیں اور ہمارے نوبل پرائز ونر…………وہ بدنصیب تو کسی یونیورسٹی میں پہنچنے سے پہلے ہی اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔امریکہ کے باسٹھ کھرب پتی(جو ابھی زندہ ہیں) اس یونیورسٹی سے پڑھ کر نکلے ہیں۔ جب اس  درسگاہ کا آغاز ہوا تو یہ ایک کالج تھا جس کا نام ”نیو کالج“ رکھا گیاتھا۔جان ہارورڈ نامی ایک شخص بوسٹن پہنچاتو اس نے اپنی آدھی جائیداد اور ذاتی لائبریری اس کالج کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں نیو کالج کا نام بدل کر ہارورڈ کالج رکھ دیا گیا۔ آج ہارورڈ کے دو کیمپس ہیں۔ ان دو نوں کے درمیان دریا ئے چارلس حدِ فاصل ہے۔ اس دریا کی ایک خوبصورتی وہ چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہیں جو سطح ِآب پر کنول کے پھولوں کی طرح کھلی رہتی ہیں۔ طالب علم جب تھکتے ہیں تو کشتی رانی کیلئے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والی دوشیزائیں۔ انٹرنیشنل رینکنگ میں ہارورڈ اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی باہم مقابل ہیں۔ کبھی ہارورڈ اول اور کبھی کیمبرج اول…… لیکن کیمبرج کا یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا کہ وہیں سے پڑھے ہوئے افراد نے ہارورڈ کی بنیاد رکھی۔ سولہویں اور سترہویں صدی اہل ِیورپ کے عروج اور ہمارے زوال کی صدی تھی۔ ذہنی‘ فکری اور سماجی زوال جو معاشی اور فوجی زوال کا زینہ بنا۔ ان دو صدیوں نے مغرب اور مشرق میں فاصلے اتنے بڑھا دیئے کہ اب یہ کم ہونے میں نہیں آتے…… مغل‘ ترک‘ عرب‘ بربر‘ایرانی‘خراسانی۔ یہ تمام مسلم حکمران‘ دانشور‘ سپہ سالار اور علماء جن کے کندھوں پہ اس عہد نے ایک عظیم ذمہ داری رکھی تھی‘ ایک روزتاریخ کے کٹہرے میں سرجھکائے کھڑے ہوں گے۔ہماری اس تباہ حالی میں ان کی کم نگاہی بھی تو شامل ہے۔(امجد ثاقب)