سوال جواب

مصنف : دارلافتاہ دوبند

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : مئی 2018

جواب :ناک کے بال اکھاڑنا منع ہے، ناک، کان کے بال کاٹ سکتے ہیں۔ بھنووں کےیچ کے بال بڑے ہوں اور بدنما معلوم ہوں تو انھیں کاٹ سکتے ہیں۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :بہتر یہ ہے کہ مونچھیں قینچی وغیرہ سے نکالی جائیں اور اس قدر چھوٹی کردی جائے کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، باقی استرہ اور بلیڈ سے صاف کرنا بھی جائز ہے ، لیکن خلاف اولیٰ اور غیر بہتر ہے۔ استرہ سے صاف کرنے کے متعلق بدعت اور سنت دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں، اور جو فعل سنت وبدعت کے درمیان ہو اس کا ترک کرنا ہی بہترہے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اْن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔حضرت عمرؓ مونچھیں بڑی بڑی نہیں رکھتے تھے؛بلکہ ان کی مونچھیں بھی سنت کے مطابق چھوٹی ہواکرتی تھیں ؛البتہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال نہیں تراشتے تھے ،واضح رہے کہ حضرت کا یہ عمل جمیع صحابہ کا عمل نہ تھا اسی وجہ سے ان کی یہ خصوصیت بیان کی جاتی ہے ؛اس لیے بال کے اس حصے کو بھی تراش لینا بہتر ہے باقی اگر کوئی اس کو ترک کردے تو گنجائش ہے کہ حضرت عمر کے عمل سے ثابت ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :درزی کے پاس کٹنگ اور سلائی کے لیے جو کپڑے آتے ہیں ،وہ اس کے پاس امانت ہوتے ہیں ،وہ ان کپڑوں کا مالک نہیں ہوتا۔ اس لیے کٹنگ میں جو کپڑا بچ جائے یا تجربہ و مہارتِ فن سے بچالیا جائے ،اس کی واپسی ضروری ہے،اسے رکھ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ۔البتہ اگر کترن قسم کا معمولی کپڑا ہو، جسے مالک لوگ عام طور پر بیکار سمجھ کر چھوڑدیتے ہیں اور دلالتاً اسے رکھ لینے کی اجازت ہوتی ہے تو اسے واپس کرنا واجب وضروری نہیں۔
(۲): ہر گاہک کا بچا ہوا کپڑا، اس کے تیار شدہ کپڑے کے ساتھ رکھ دیا جائے، اس صورت میں اگر گاہک دیر سے آتا ہے، تب بھی اس کا بچا ہوا کپڑا تلاش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ، مالک کا پورا کپڑا بآسانی واپس کرنا ممکن ہوگا۔ اور اگر کپڑے کا مالک بچا ہوا کپڑا درزی کو دیدے کہ یہ آپ ہی رکھ لیں تو اس صورت میں درزی کے لیے وہ کپڑا بلا شبہ جائز ہوگا، وہ اپنی جس ضرورت میں چاہے، استعمال کرسکتا ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :لپ اسٹک میں اگر ناپاک چیز شامل نہ ہو تو عورتوں کے لیے اس کا لگانا جائز ہے؛ البتہ اگر لپ اسٹک تہہ دار ہوجس کی وجہ سے ہونٹوں تک پانی نہ پہنچ سکے، تو اس کو صاف کیے بغیر وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔
ناخن کاٹنا

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ناخن تراشنے کے لیے کوئی خاص دن کوئی خاص وقت اور کوئی مخصوص طریقہ مروی نہیں ہے، جب چاہے جس دن چاہے اور جس انگلی سے چاہے شروع کرسکتا ہے۔ اسی طرح ناخن تراشنے کا طریقہ بعض فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے، جو صرف بہتر ہے مسنون نہیں ہے۔ طریقہ یہ ہے: داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے کاٹتے ہوئے خنصر تک آئے، اور پھر بائیں ہاتھ کی خنصر سے کاٹتے ہوئے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر ختم کرے ۔جب کہ پیر کے اندر داہنے پیر کی خنصر سے شروع کرے اور بائیں پیر کی خنصر پر ختم کرے۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ساس اور سسر مثل والد والدہ کے ہیں ان کا اسی طرح احترام کرنا چاہئے۔ ساس اور داماد میں پردہ نہیں ہے البتہ اگر ساس جوان ہو اور فتنہ کا اندیشہ ہو تو داماد کو خلوت میں ساس کے ساتھ رہنا نہیں چاہئے ۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :لباس کی کیفیات اور تفصیلات کے بارے میں قرآن وحدیث میں ہدایات نہیں ملتیں۔ دنیا میں ہرملک اور ہرقوم کا علیحدہ علیحدہ لباس ہے، البتہ یہ اصول ضرور بتایا گیا ہے کہ ایسا لباس جو کسی خاص قوم کا مذہبی یا قومی لباس ہو تو اسے اپنانا اور ان کی مشابہت اختیارکرنا مسلمانوں کے لیے منع کیا گیا ہے۔ کرتا، لنگی، پاجامہ پہننا، چادر اوڑھنا یہ سب جائز لباس ہے، کرتے کی کالر اور جیب کی تفصیلات احادیث میں نہیں ملتیں۔ اگر کسی کا ستر نماز کی حالت میں ایک چوتھائی یا اس سے زیادہ کھل گیا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔ پیچھے دیکھنے والوں کی نماز صحیح ہوگی۔ ان کی نماز میں کوئی فساد نہ ہوگا۔ 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :اگر ساڑھی پہننے کا آپ کے علاقہ میں عام رواج ہے ، غیر مسلم اور مسلمان سب عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں تو وہاں ساڑھی پہننے میں مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ ساڑھی اس طرح پہنی جائے کہ اس سے پورا جسم چھپ جائے اور اس طرح کی ساڑھی پہن کر نماز پڑھنا بھی درست ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :ختنہ کرانا سنت ہے، یہ مسلم کی پہچان ہے، افسوس ہے کہ ۲۵ سال کی عمر ہوگئی اور اب تک آپ نے ختنہ نہیں کرایا، ختنہ بالغ ہونے سے پہلے پہلے کرالینا چاہیے تھا۔ اب بالغ ہونے کے بعد کسی کے سامنے ستر کا کھولنا بھی حرام ہے۔ اور اب آپ لکھتے ہیں کہ مجھ میں ختنہ کرانے کی ہمت نہیں، آپ اس عمر میں ختنہ کرانے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتے، لہٰذا ایسے ہی غیرمختون رہنے دیجیے، آپ عقائد و اعمال کے اعتبار سے پکے اور صحیح ہیں تو آپ مسلمان ہیں، آپ کی مسلمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، البتہ ترک سنت کا گناہ ملے گا۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :مروجہ تبلیغی جماعت میں جانا نہ تو فرض ہے نہ واجب نہ سنت، بلکہ یہ عمل مْباح ہے اگر کوئی جائے اور دینی محنت کرے وہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا، اور اگر کوئی نہیں گیا تو اللہ کے یہاں اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی، جو شخص یہ کہتا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت میں چلنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص پوری زندگی جماعت میں نہیں نکلا تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔
 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :آپ کا سوال مکمل واضح نہیں ہے، بظاہر جو مفہوم سمجھ میںآ تا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں لکھی جاتی ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا ہرچز پر قادر ہونا ایک مستقل عقیدہ ہے؛ لیکن کسی چیز پر قدرت ہونے کے لیے اس کا صادر ہونا لازم نہیں ہے، قدرت اللہ کی صفت کمال ہے،اس کے بغیر عجز لازم آتا ہے، جو الوہیت کے منافی ہے اور کسی ایسی چیز کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے صادر ہونا جو اس کی شایانِ شان نہ ہو، یہ عیب اور نقص ہے، اس لیے اجمالاً بس اتنا عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے؛ لیکن قدرت کے لیے فعل کا صادر ہونا ضروری نہیں ہوتا، لہٰذا قدرت کی نفی جیسے کفر ہے، اسی طرح عیب اور اس کی شان کے خلاف کسی فعل کے صدور کا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے، لہٰذا جو شخص صدورِ کذب کا قائل ہوگا وہ کافر ہوگا۔
(۲) اللہ تعالیٰ جگہ اورمکان سے منزہ وبالاتر ہے وہ کسی مکان میں محدود نہیں ہے، اس کو کسی مکان کے ساتھ مختص کرنا کفر ہے۔ اور نصوص میں جو عرش کی بات آئی ہے، اس سے مراد عرش پر اس کا خاص تسلط اور استیلاء ہے جس کی کیفیت وہی خوب جانتا ہے وہ اپنے علم کے اعتبار سے ہرچیز کو محیط ہے۔
(۳) نصوص میں اللہ تعالیٰ کے لیے جو اعضا وغیرہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا تو ان کو مخلوق جیسے اعضاء سے تشبیہ کی نفی کرتے ہوئے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا اور اس کی حقیقت کا علم اللہ کے حوالے کیا جائے گا اور یا ان کی تاویل کی جائے گی، مثلاً ید سے مراد اللہ کی قدرت ہوگی۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :جب ایک مرتبہ کسی جگہ مسجد تعمیر ہوجاتی ہے تو وہ تحت الثری سے لے کر عنانِ سماء تک ہمیشہ کے لیے مسجد ہوجاتی ہے یعنی اس کے اوپر نیچے پورا حصہ بہ حکم مسجد ہوتا ہے؛ لہٰذا آپ کے یہاں پرانی مسجد کی جگہ پر از سر نو جو مسجد تعمیر ہوگی، مسجد شرعی کی حدود میں اس کے کسی منزل میں بھی وضو خانہ، ٹوائلٹ اور امام مؤذن کے رہائش کمرے وغیرہ تعمیر کرنا جائز نہیں ہے، وضو خانہ وغیرہ کے لیے کوئی اور تدبیر سوچی جائے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:(1) انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی عصمت پر اجماع امت ہے۔ تمام انبیا 4 کفر و شرک، کبائر و صغائر سے پاک ہیں۔
(2) جی ہاں صحابہ کرام معیار حق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال حق و باطل کی کسوٹی ہیں، ان حضرات نے جو فرمایا یا جو دینی کام کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ، حجت اور ذریعہ فلاح ہیں۔ 
(3) انبیا علیہم السلام کی عصمت اور صحابہ کرام کا معیارِ حق ہونا اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسائل میں سے ہے، ان میں سے کسی ایک چیز کا منکر اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :بندہ نہ تو پورے طور پر خود مختار ہے، نہ ہی پورے طور پر مجبورِ محض ہے، بلکہ اللہ نے بندے کو کچھ اختیار دیا ہے اور کچھ مجبور بھی رکھا ہے، اسی کا نام تقدیر ہے، جس کا علم ہمیں بعد میں ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل سمجھ اور علم دیا، حلال و حرام، جائز و ناجائز کا بتایا۔ سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے نہ کرنے کا ہمیں موقع دیا۔ ان حالات میں کسی بھی ناجائز کام کا اقدام کرنا ہماری بہت بڑی غلطی ہے اسی لیے وہ حرام ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے جنت کے عوض میں ہمارے جسم کو خرید لیا ہے۔ ہم اپنے جسم کے خود مالک نہ رہے کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ اسی حالت میں اپنے جسم کو خود کشی کرکے ہلاک کرنا، یہ بیجا تصرف ہے جو بلاشبہ حرام ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب: استواعلی العرش اور دیگر صفات متشابہات کے بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے، یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت اور شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے ؛ البتہ جہت ومکان کا اللہ تعالی کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت ومکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ وعالی ہے‘‘۔
***

(دارلافتاہ دوبند)