سوال، جواب

مصنف : ڈاکٹر محمود احمد غازی

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : مارچ 2019

: یقیناًآج کے دور میں جعلی مربیین کی کثرت ہے اصلی اور مخلص مربیین بہت کم ہیں لیکن مولانا رومی ؒ نے ایک بات بڑی اچھی لکھی ہے انھوں نے لکھا ہے کہ جعلی مربی کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ اصلی مربی بھی کہیں نہ کہیں موجو د ہیں اس لئے کہ جعلی سکہ اسی بازار میں چلتا ہے جہاں اصلی سکہ بھی موجو د ہو جہاں اصلی سکہ موجود نہ ہو وہاں جعلی سکہ چل ہی نہیں سکتا اس لئے جعلی سکے کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ اصل سکہ موجود ہے آپ کی تلاش کی بات ہے

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

میں نے آپ کو یاد ہو گا تین طریقے بتائے تھے ان تینوں طریقوں میں سے میں تو یہی تجویز کروں گا کہ قرآ ن کی تلاوت ، سیرت کا مطالعہ اور عبادات کی پابندی کے ساتھ کبا ئر سے اجتناب ہی سے آج کے دور میں روحانی پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے ۔

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

یہ تو وہی بتاسکیں گے جو یہ کروارہے ہیں لیکن مجرد ذکر اچھی چیزہے قرآن و سنت میں اس کا ذکر ہے اجتماعی طور پر کرنا چا ہئے یا انفرادی طور پر اس کا شریعت نے کوئی حکم نہیں دیا۔ آپ انفرادی طور پر کریں یا اجتماعی طور پر کریں شریعت میں دونوں کی گنجا ئش ہے۔ ضرب لگائیں نہ لگائیں اس پر مجھے ذاتی طور پر کبھی شرح صدر نہیں ہو ا لیکن ذکر فی نفسہ شریعت کا حکم ہے جس پر ہم سب کو عمل کرنا چاہئے۔ ضرب لگا نا اور اجتماعی طور پر ذکر با لجہر کرنا میرے خیال میں شریعت کے مزاج اور صحابہؓ کے طریقے کے مطابق نہیں ہے ۔ لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس کو ایک علاج سمجھ کر کرتے ہیں اس پر نکیر ہر گز نہ کریں کیونکہ یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے اور میں اس گفتگو میں ایک مرتبہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ اجتہادی یا اختلافی معاملے پر نکیر نہیں کرنی چاہیے علمی طور پر آپ ان سے اختلاف کرنا چاہیں تو ضرور کریں ۔ 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جو حضرات رائج الوقت تصوف کو بدعت کہتے ہیں اور اس سے مختلف پہلوؤں پر تنقید کرتے ہیں وہ درست کہتے ہیں۔ اس لئے کہ تصوف کے نا م پر اتنی خرافات رائج ہو گئی ہیں اور تصوف کے نا م پر کاروبار کے ایسے ایسے تجارتی اڈے لوگوں نے بنا لیے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ایسے ایسے لوگ تصوف کے علم بردار بن گئے ہیں جن کی زندگی ایک شریف انسان کی زندگی بھی نہیں ایک اچھے مسلمان کی زندگی تو دور کی بات ہے اس لئے جن لوگوں نے تنقید کی ہے میرے خیا ل میں وہ بے بنیاد نہیں ہے ۔ 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

داتا ایک لقب ہے جو شیخ علی ھجویری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ جو القاب ہوتے ہیں اس میں لغوی معنٰی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ لقب کا استعمال ادنیٰ مناسبت کی وجہ سے ہوتا ہے اس طرح کے القاب کے بارے میں بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ بعض لوگوں پر توحید کا شدت سے غلبہ ہو تا ہے اور اس غلبہ توحیدمیں وہ اس طرح کی عام چیزوں پر بھی اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ 
داتا کا لفظ گنج بخش فیض ؒ کے معنیٰ میں ہے انہوں نے لوگوں کو فیض پہنچایا اس لیے داتا ان کا لقب ہے۔ یعنی دینے والا۔ ہم معطی کہتے ہیں۔ دینے والے کا لفظ بھی ہم استعمال کرتے ہیں۔ داتا لغوی معنیٰ میں حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ 
لیکن داتا گنج بخش ایک لقب ہے۔ داتا گنج بخش اس معنیٰ کے اعتبار سے نہیں ہے۔ ایک ادنی ٰ منا سبت کی وجہ سے لقب رکھ دیا جاتا ہے امام اعظم ؒ کالقب اما م اعظم ؒ تھا اب اگر کوئی موحد کھڑا ہو جا ئے یا کوئی شان رسالت کا علم بردار یہ اعتراض کرنے لگے کہ مسلمانو ں کا امام اعظم رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا اس لئے امام اعظم کہنا شرک فی النبوت ہے یہ صحیح نہیں ہوگا امام اعظم کو ایک خاص وجہ سے امام اعظم کہا جا تا ہے ۔قائد اعظم کوقائد اعظم ایک خاص مناسبت کی وجہ کہا جاتا ہے ۔ یہ لقب دینے والوں کی رائے میں وہ اپنے زمانے کے سیاسی قائدین میں سب سے بڑے قائد تھے۔ امام اعظم ؒ اپنے زمانے کے آئمہ فقہ میں سب سے بڑے امام مانے گئے اس لئے امام اعظم کالقب ان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس لئے کسی لقب پر لغویٰ معنیٰ کے اعتبار سے جب تک صراحتاً کوئی قابل اعتراض بات نہ ہو اعتراض نہیں کرنا چاہئے 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

میں نے عرض کیا تھا کہ توکل کے بارے میں تین قسم کی غلط فہمیاں لو گوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں بالفاظ دیگر توکل کے بارے میں تین تصورات پائے جاتے ہیں ایک تصور تو وہ ہے جو شریعت کے مطابق ہے جس کی قرآن پاک میں اور سنت میں تعلیم دی گئی ہے ، فرمایا گیا کہ اسباب کو اختیار تو ضرور کرو لیکن اسباب کو اختیار کرنے میں حد سے آگے مت بڑھو جائز اسباب اختیار کرو شریعت کی حدود کے اندر رہ کر ان کوا ستعمال کرو اور نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دو۔ یہ توکل کا مفہوم ہے جو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے معلوم ہو تا ہے صحابہؓ اور تابعین ؒ نے اسی توکل کو اختیار کیا۔ انبیا ء ؑ نے بھی یہ ہی توکل اختیار کیا۔
اسباب کے بارے میں دوسرا رویہ یہ ہے جو ایک انتہا پر ہے کہ اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے۔ اسباب ہی کی فراہمی میں زندگی کی ساری توانائیاں لگا دی جائیں۔ شب و روز انسان اسباب ہی کی فکر میں گھلتا چلا جائے اورنتیجہ ملنے کااصل سبب بھی اسباب ہی کو قرار دے۔ یہ رویہ بھی درست نہیں ہے ایک اور رویہ بالکل دو سری انتہا پر ہے۔کہ سرے سے اسباب کو نظر انداز کیا جائے اور اسباب کو بالکل چھوڑ کر اللہ تعالی سے براہ راست نتیجہ کی امید لگائی جائے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی عمومی سنت اور مشیت کے خلاف ہے اسباب کے بارے میں جو تعلیم شریعت نے دی ہے یہ رویہ اس کے مطابق نہیں ہے اگر ایسا ہو اکرتاتو انبیاء ؑ کو اور صحابہؓ کو میدان جنگ میں جانے کی اور بہت سی قربانیاں دینے کی اور بے شمار پریشانیاں اٹھانے کی ضرورت نہ ہوتی اللہ تعالیٰ براہ راست دین کو قائم کر دیتا براہ راست دشمنوں کی فوجوں کے چھکے چھوٹ جایا کرتے۔ براہ راست سب کچھ ہو جایا کرتا یہ جو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے انبیاء ؑ کو آروں سے چیرا گیا انبیاء ؑ کو قید کیا گیا یہ سارے اسباب اختیار کرنے کے نتائج تھے ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

باطنیوں میں سے کچھ لوگ تصوف کے نام پر سامنے آئے جنہوں نے غلط عقائد صوفیا سے منسوب کردیے۔ صوفیا کی کتابوں میں الحاقات ہوئے اور ایسی درجنوں مثالیں ہیں کہ بڑے بڑے صوفیا ء کی کتابوں میں الحاقات کیے گئے ہیں اور انکو باطنی نقطہ نظر کے قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے جن حضرات نے تصوف پر تنقید کی ہے انہوں نے انہی اسباب کو سامنے رکھ کر تنقید کی ہے ان حضرات کی تنقید بڑی وزنی ہے اور اس کی مستحق ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ تزکیہ و احسان کے مقاصد کو آج کے دور میں حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چا ہیے۔ چوتھی پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں جب یہ صوفیانہ سلسلے وجود میں آئے تو انہوں نے بعض بڑی مفید خدمات سرانجام دیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں ان کے اثرات بہت مفید اور گہرے ہوئے ۔انہوں نے امت مسلمہ کو ایک مرکز پر جمع رکھا پھر وقت کے ساتھ انکی گرفت کمزور ہوتی گئی اور انکے جانشین محض ایک روایت کے ترجمان یا نمائندہ بن کر رہ گئے جیساکہ میں نے عرض کیا تھا کہ جب کوئی ادارہ بنتا ہے تو اس ادارے میں کچھ اسباب اور وسائل بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ و ہ وسائل مقاصد کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور مقاصدنظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ بات جہاں اور بہت سے میدانوں میں ہوئی تصوف کے میدان میں بھی ہوئی۔ تصوف میں ایسے طریقے یا اعمال جن کی حیثیت دراصل تدبیر یا وسیلہ کی تھی وہ اصل مقاصد بن گئے اور جو اصل مقاصد تھے وہ نظر انداز ہو گئے۔ آ ج کے اہل علم اور تقویٰ کے لئے یہ بات غورکرنے کی ہے کہ آج تزکیہ و احسان کے مقاصد کو کیسے حل کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ براہ راست قرآن مجید اور سنت سے اپنے آپ کو وابستہ کر لیں۔ آپ قرآن پاک کی تلاوت کریں مطالعہ کریں اور ایسے حضرات جن کے دین و تقویٰ اور علم و عقل پر آپ کو اعتماد ہو انکی کتابیں ،ان کا تذکرہ، انکی سوانح عمری مطالعہ میں رکھیں تو اس سے خود بخود نیکی کا تقویٰ اور اصلاح کا ایک رجحان پیدا ہو تا ہے۔ اللہ کی کتاب خودرہنمائی فراہم کرتی ہے اور آپ خودبخود اس راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر صاحب علم و تقویٰ لوگ موجود نہ ہوں تو براہ راست قرآن سے رجوع کریں اس لیے کہ جس قرآن نے پہلے اتنی بڑی تعداد میں اصحاب تقویٰ اور ارباب تزکیہ واحسان پیدا کیے ہیں وہ آج کیوں پیدانہیں کر سکتا ؟ یقیناًوہ آج بھی پید اکر سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ بغیر کسی صاحب احسان کی تربیت کے آپ براہ راست قرآن کی تربیت سے اس منزل تک پہنچ جائیں ۔
باطنیوں میں سے کچھ لوگ تصوف کے نام پر سامنے آئے جنہوں نے غلط عقائد صوفیا سے منسوب کردیے۔ صوفیا کی کتابوں میں الحاقات ہوئے اور ایسی درجنوں مثالیں ہیں کہ بڑے بڑے صوفیا ء کی کتابوں میں الحاقات کیے گئے ہیں اور انکو باطنی نقطہ نظر کے قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے جن حضرات نے تصوف پر تنقید کی ہے انہوں نے انہی اسباب کو سامنے رکھ کر تنقید کی ہے ان حضرات کی تنقید بڑی وزنی ہے اور اس کی مستحق ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ تزکیہ و احسان کے مقاصد کو آج کے دور میں حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چا ہیے۔ چوتھی پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں جب یہ صوفیانہ سلسلے وجود میں آئے تو انہوں نے بعض بڑی مفید خدمات سرانجام دیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں ان کے اثرات بہت مفید اور گہرے ہوئے ۔انہوں نے امت مسلمہ کو ایک مرکز پر جمع رکھا پھر وقت کے ساتھ انکی گرفت کمزور ہوتی گئی اور انکے جانشین محض ایک روایت کے ترجمان یا نمائندہ بن کر رہ گئے جیساکہ میں نے عرض کیا تھا کہ جب کوئی ادارہ بنتا ہے تو اس ادارے میں کچھ اسباب اور وسائل بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ و ہ وسائل مقاصد کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور مقاصدنظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ بات جہاں اور بہت سے میدانوں میں ہوئی تصوف کے میدان میں بھی ہوئی۔ تصوف میں ایسے طریقے یا اعمال جن کی حیثیت دراصل تدبیر یا وسیلہ کی تھی وہ اصل مقاصد بن گئے اور جو اصل مقاصد تھے وہ نظر انداز ہو گئے۔ آ ج کے اہل علم اور تقویٰ کے لئے یہ بات غورکرنے کی ہے کہ آج تزکیہ و احسان کے مقاصد کو کیسے حل کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ براہ راست قرآن مجید اور سنت سے اپنے آپ کو وابستہ کر لیں۔ آپ قرآن پاک کی تلاوت کریں مطالعہ کریں اور ایسے حضرات جن کے دین و تقویٰ اور علم و عقل پر آپ کو اعتماد ہو انکی کتابیں ،ان کا تذکرہ، انکی سوانح عمری مطالعہ میں رکھیں تو اس سے خود بخود نیکی کا تقویٰ اور اصلاح کا ایک رجحان پیدا ہو تا ہے۔ اللہ کی کتاب خودرہنمائی فراہم کرتی ہے اور آپ خودبخود اس راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر صاحب علم و تقویٰ لوگ موجود نہ ہوں تو براہ راست قرآن سے رجوع کریں اس لیے کہ جس قرآن نے پہلے اتنی بڑی تعداد میں اصحاب تقویٰ اور ارباب تزکیہ واحسان پیدا کیے ہیں وہ آج کیوں پیدانہیں کر سکتا ؟ یقیناًوہ آج بھی پید اکر سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ بغیر کسی صاحب احسان کی تربیت کے آپ براہ راست قرآن کی تربیت سے اس منزل تک پہنچ جائیں ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

: تصوف کی ایک غلط اور زوال پذیر دور کی تعبیر نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اس سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا یقیناًتصوف میں زوال آیا لیکن یہ زوال فقہ میں بھی آیااس نے بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ۔وہ زوال جو تقلید کے نا م پر متأخرین میں آیا وہ مسلمانوں کی پر یشانیوں کا بہت بڑا سبب ہے۔ پچھلے دنوں مجھے ترکی کے بارے میں کچھ کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہو ا خاص طور پر دو تین کتابیں مشہور ہیں ایک برکس کی ہے ایک برنا ڈلیوس کی ہے دونوں کتابیں بڑی کلاسک کی حیثیت رکھتی ہیں ایک دو اور کتابیں میں نے دیکھی ہیں مجھے پہلے سے یہ خیال تھا او ر اب ترکی کی تاریخ پر ازسر نو نظر ڈالنے کے بعد بہت شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے متا خرفقہائے اسلام کی ایک بڑی تعداد کی مقلدانہ ذہنیت نے اور تقلید پرستانہ اندازہ پر زور دینے کے رویہ نے ترکی میں سیکو لرازم کا راستہ ہموار کیا اور سلطنت عثمانیہ کے زوال میں اگر وہ براہ راست نہیں تو بالواسطہ ذریعہ ضرور بنے۔ اس لیے جہاں فکری زوال اور عقلی انحطاط آئے گاوہاں انحطاط پذیر خیالا ت بھی آئیں گے وہ تصوف میں آئیںیا فقہ میں یا تفسیر میں، نتیجہ سب کا ایک ہی نکلے گا ۔ایک زمانہ تھا کہ تفسیر قرآن پاک کو ایک زندہ کتاب کے طور پر مسلمانوں کے دلوں میں اتارتی تھی ان کے رگ وپے حصہ بناتی تھی اس کے بر عکس اگر آپ نویں سے بارہویں صدی ہجری کی تفسیریں دیکھیں تو ان میں سے متعدد تفسیروں میں اس طرح کے ازکار رفتہ مسائل آپ کو کثرت سے ملیں گے جن کا کوئی تعلق عملی زندگی سے نہیں ۔ایسے سوالات جو کبھی بھی مسلمانوں کے لیے عملی سوالات نہیں رہے ۔ان مسائل کا نام تفسیر رکھ دیاگیا۔ ظاہر ہے کہ ان تفسیروں کو پڑھ کر قرآن پر ایمان پختہ ہو تا ہے نہ قرآن کی گہرائیوں میں اترنا نصیب ہوتا ہے۔دور متاخر کے مسلمان مفسرین میں دقیق نقطے تو بہت پیدا ہوئے لیکن اس سے ضعفِ یقین کا علاج نہیں ہو سکا۔ اس لئے یہ بات میں محض تصوف تک محدود نہیں رکھتا بلکہ مسلمانوں کی ساری علمی روایت کو دسویں صدی ہجری کے بعد سے ایک زوال و انحطاط سے واسطہ پڑا اور بعد کے مزید تین سو سال میں وہ زوال اپنی انتہا تک پہنچ گیا۔ 
مزید برآں جلتی پر تیل ڈالنے کاکام مغرب کی ترقی نے انجام دے دیا۔ ایک طرف مغرب میں تیزی سے علم و فن کی ترقی ہور ہی تھی دوسری طرف مسلمان زوال کا شکار ہو رہے تھے ۔اس کفیت نے زمین آسمان کا فرق پید اکر دیا اور مسلمانوں کا زوال کھل کر سامنے آگیا۔ اس زوال و انحطاط کو صرف تصوف تک محدود کرنا میرے خیال میں درست نہیں ہے یہ مسلمانوں کی پوری علمی تاریخ کی ناکامی ہے یہ کسی ایک علم یا فن کی نا کامی نہیں ہے پوری روایت کی ناکامی ہے 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جہاں تک امام جعفرصادق ؒ کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ جو چیزیں ان سے منسوب ہیں وہ سو فیصد درست ہیں۔ امام جعفر صادق ؒ نے خود کوئی کتاب تحریر نہیں فرمائی انہوں نے کوئی چیز املا نہیں کروائی۔ ان کے کسی براہ راست شاگر د نے کوئی کتاب نہیں لکھی ۔ان سے جو بھی اقوال منسوب ہیں وہ بہت بعد کے لوگوں نے ان سے منسوب کیے ۔ہیں خاص طور پر جو اقوال باطنیت کے رجحانات رکھتے ہیں تو وہ بہت بعد میں باطنی اہل قلم نے خاص طور پر اسماعیلی اہل قلم نے ان سے منسوب کیے ہیں۔ اس لیے ان بیانات کے امام جعفر صادق ؒ کے اقوال ہو نے میں مجھے تامل ہے میرے خیال میں یہ امام جعفر صادق ؒ کے اقوال نہیں ہیں۔ یہ ہی بات مقاتل بن سلمان ؒ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے البتہ مقاتل بن سلمان ؒ کا شمار بہت سے جید اہل علم کے نزدیک مستند لوگوں میں نہیں تھا ۔ لیکن جو دوسرے حضرات ہیں انہوں نے یقیناًبعض ایسے مسائل اٹھائے ہیں جن کا بعد کے لوگوں نے غلط استعمال کیا اور غلط استعمال ہر چیز کا ہو سکتا ہے اچھی چیز کا بھی غلط استعمال ہو سکتا ہے اور غلط چیز کا تو غلط استعمال ہو تا ہی ہے۔ میرے خیال میں مقاتل ابن سلمان کی تفسیر میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کا کوئی ایسا مفہوم لیا جاسکتاہے جو قرآن و سنت کے خلا ف ہو۔ 
علمِ لدنی کا مفہوم جو اکابر صوفیا ء کے ہاں مشہور ہے وہ یہ ہی ہے کہ ایک فہم خاص جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو۔ بشرطیکہ وہ قرآن و سنت کی حدود کے مطابق ہو۔ کوئی ایسا فہم جو قرآن و سنت کی نفی کر دے وہ زندقہ ہے اور قابل قبول نہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ ایسے انسان ہر دور میں موجود ہو تے ہیں آپ نے بھی دیکھے ہو ں گے میں بھی دیکھے ہیں جو عام انسانوں سے بڑھ کر فہم وبصیرت رکھتے ہیں اور وہ فہم و بصیرت ظاہری اسباب کی محتا ج یا مرہون منت نہیں ہو تی۔ جو اسباب مجھے اور آپ کو حاصل ہیں وہ ہی انکو بھی حاصل ہو تے ہیں۔ میں اور آپ ایک درس گاہ میں داخل ہوتے ہیں ہمارے ساتھ دس طلبہ اوربھی ہوتے ہیں۔ ہم سب وہی تعلیم پاتے ہیں وہی کتاب و ہی استاد سب کچھ و ہی ہوتا ہے ان سب طلبہ میں سے ایک بہت نمایاں ہو کر صف اوّل کا مفکر بن جاتا ہے ۔وہ اکنامکس پڑھ کر ڈاکٹر محبوب الحق بن جاتا ہے باقی لوگ نہیں بن پاتے ۔ یہ محبوب الحق کیسے بنتا ہے صرف اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کوئی خاص بصیر ت دی تھی اور کوئی خاص عقل دی تھی کوئی خاص ذوق شوق اور ملکہ دیا تھا اس کو علم لدنی کہتے ہیں اگر یہ خصوصی فہم بصیرت دینی معاملات میں ہو تو اس کی پرکھ کا واحد ذریعہ قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ ہے اگر یہ بصیرت دنیاوی معاملات میں ہو تو انسانی عقل اور تجربہ اس کی پرکھ ہے۔ اگر یہ بصیرت انسانی عقل اور تجربہ کے خلاف ہے قرآن و سنت کے خلاف ہے تو دونوں صورتوں میں استرداد کے قابل ہے ۔ 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

 تقرب کی حدود وہی ہیں جو شریعت میں بیان ہوئی ہیں۔ تقرب کی معراج یہ ہے کہ انسان کو درجہ احسان حاصل ہو جائے اور یہ یقین حاصل ہوجائے کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ہے۔ اس حضوری کا احساس، شعور اور یقین اس کے لیے فطرت ثانیہ کے درجہ تک پہنچ جائے۔ یہ ہی تقر ب ہے ۔أناالحق جیسے دعوے بلا شک و شبہ شریعت سے متعارض ہیں ان کے شریعت سے متعارض ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔جن حضرات نے یہ دعوے کیے ہیں یا جن سے منسوب ہیں ان کے بارے میں مسلما نوں میں دو نقطہ نظر ہیں ایک نقطہ نظر اس دعوے کی تاویل کا ہے کہ ان دعاوی اور بیانات کی کچھ ایسی تاویل کی جائے کہ یہ شریعت سے متعارض نہ رہیں۔دوسرا نقطہ نظر وہ ہے جو ان کے معاصر علماکا تھا۔ آپ نے منصور اور حلاج دو نا م لیے ہیں یہ دو نام نہیں ہیں یہ ایک ہی شخص کا نام ہے۔ حسین ابن منصور حلاج پورا نام یہ تھا۔ یہ بغداد میں ایک شخص تھا میرے مطالعہ کی رو سے یہ ایک گمراہ زندیق اور ملحد شخص تھا۔ اس دور کے علماکرام نے اس کے بارے میںیہ ہی فیصلہ کیا تھا ۔اپنے دور کے سب سے بڑے مفسر سب سے بڑے محدث اور مستند ترین مؤرخ حافظ ابن کثیر نے البدایہ النہایہ میں حسین بن منصور کو بہت بڑا زندیق قرار دیا ہے اور ا س کے قتل کیے جانے پر تشکر کے الفاظ انہوں نے اپنے تاریخ میں لکھے ہیں میں تو منصور کے بارے میں حافظ ابن کثیر دمشقی ؒ کی رائے کا قائل ہوں ۔
اس زمانے کے جتنے معاصر تذکرے ہیں وہ سب اس شخص کو ملحد اور زندیق اور باطنی قرار دیتے ہیں بعد میں باطنی شعراء کی وجہ سے اس کی شہرت نیک نامی کے انداز کی ہو نے لگی اور بہت سے حضرات نے اس کے اقوال کی تاویل کرنا چاہی ۔شیخ با یزید بسطامی ؒ یا اور بہت سے دوسر ے حضرات جو ہر اعتبار سے متبع سنت بزرگ تھے۔ معاصر تذکرہ نویس ان کے تقویٰ اور اخلاص کی گواہی دیتے ہیں ان سے اگر اس طرح کے اقوال مروی ہو ں تو انکی بلاشبہ تاویل ہونی چاہیے اور درست تاویل کی جانی چاہیے۔ ان حضرات کے اقوال کی ایک تاویل یا تو جیہ تو وہ ہے جو حضرت مجدد الف ثانیؒ نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات ان بزرگو ں کے شدت احساس کی وجہ سے ان پر ایک عالم وا رفتگی طاری ہو جاتا ہے اس کیفیت میں انکی زبان بے ساختہ الفاظ نکل جاتے ہیں جو بظاہر عام عقیدہ اور خیالات سے متعارض ہوتے ہیں۔ بایزید بسطامیؒ سے منسوب عبارتوں کی بھی انہوں نے یہ ہی تاویل کی ہے۔ شدت احساس کی وجہ سے کبھی کبھی اللہ کی حضور ی کا احساس انکے ہاں اتنا شدید ہو جاتا تھا کہ انکو یہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ کائنات میں کچھ نہیں ہے ۔وہ صرف اللہ ہی کا وجود ہے اس شدت احساس کی وجہ سے انکی زبان سے اس طرح کے الفاظ نکل گئے جو اپنے ظاہری مفہوم میں نہیں لئے جانے چاہییں ۔
وحدت الوجود اور تقرب دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ وحد ت الوجود کوئی عقیدے کا مسئلہ نہیں نہ شریعت کا مسئلہ ہے۔ عقیدہ اور شریعت کا مسئلہ تو حید کا مسئلہ ہے جس کی ضد شرک ہے۔ وحدت فلسفہ کا مسئلہ ہے جس کی ضد کثرت ہے۔ جب تصوف میں فلسفیانہ عناصر شامل ہونے لگے اور یہ سلسلہ ساتویں آٹھویں صدی ہجری سے شروع ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی کبھی کبھی ایسا ہو جاتا تھا۔ اس وقت سے بہت سے ایسے مباحث تصوف کی کتابوں میں آگئے جو نہ عقیدہ کا مسئلہ تھے اور نہ طریقت کا مسئلہ تھے نہ تقرب الی اللہ سے ان کا کوئی تعلق تھا۔ وہ فلسفہ کے مسائل تھے جو مثلاً و حد ت الوجود اور اس طرح کے مباحث کی صورت میں سامنے آئے۔ یہ مباحث تصوف میں بیان کرنے میں سب سے نمایاں کردار شیخ محی الدین ابن عربی کا ہے جو شیخ اکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ شیخ اکبر کے بارے میں بھی دو نقطہ نظر امت میں پائے جاتے ہیں ایک شدید نقطہ نظر علامہ ابن تیمیہ ؒ کا ہے جو انکو دائرہ اسلام سے قریب قریب خارج ہی سمجھتے ہیں ۔؂دوسرا نقطہ نظر انکے متبعین کا ہے جو انکو شیخ اکبر اور خاتم الاولیا اور سب سے بڑا ولی کہتے ہیں۔ ایک معتدل اور درمیانہ نقطہ نظر شیخ احمد سرہندی ؒ کا ہے جو کہتے ہیں کہ میں انکا احترام کرتا ہوں لیکن میں انکی رائے سے اختلاف کرتا ہوں۔ ایک جگہ انہوں نے بہت زبردست بات کی ہے جو انکے مکتوبات میں بھی موجود ہے۔ کسی مرید نے انکو خط لکھا اور شیخ محی الدین ابن عربی کے متبعین میں سے کسی بزرگ کا کوئی قو ل نکل کیا جو بظاہر شریعت سے متعارض معلوم ہوتا تھا۔ اس کے جواب میں حضرت مجدد ؒ نے فارسی میں لکھا کہ’’ فقیررااصلاًتاب استماع این سخناں نیست ۔بے اختیار رگِ فاروقیم بحرکت آمد‘‘ فقیرکو اس طرح کی باتیں سننے کی تاب نہیں ہے آپ کا خط پڑھتے ہی میری ر گ فاروقیت بے اختیار حرکت میں آگئی ۔پھر آگے انہوں نے لکھا کہ "مارا کلام محمد ﷺ عربی درکاراست نہ کلام ابن عربی :(ترجمہ) ہمیں محمد ﷺ عربی کا کلام درکا ر ہے نہ کہ ابن عربی کا کلام 
مارا بنص کارس است ، نہ بفص ، ہمیں نص قرآنی سے بحث ہے نہ کہ فص یعنی فصوص الحکم ( انکی مشہور کتاب ہے ) سے بحث نہیں ہے وفتوحات مدینہ ماراازفتوحات مکی مستغنی ساختہ یعنی فتوحات مدینہ یعنی حضور ﷺ کی فتوحات ( احادیث اور شریعت ) نے ہمیں فتوحات مکیہ سے ( جو ابن عربی کی کتاب ہے ) مستغنی کردیا ہے ۔
میرے خیال میں یہ نقطہ نظر سب سے معتدل ہے شیخ محی الدین ابن عربی کے اصل خیالات کیا تھے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے انکی کتاب فتوحات مکیہ آج سے کافی عرصہ پہلے میں نے پڑھی تھی۔ میں اپنا ذاتی تجربہ بتا رہا ہوں فتوحات مکیہ جب میں نے پہلی مرتبہ پڑھی آج سے کوئی تیس سال پہلے تو کچھ حصے اسکے سمجھ آئے اور کچھ حصے سمجھ میں نہیں آئے لیکن میرا تأثر یہ تھا کہ یا تو یہ شخص بہت اونچے درجہ کا عبقری تھا اتنا بڑا جینئس کہ اس سے بڑا "Genius"انسانوں میں کوئی پیدا نہیں ہوا یا پھر بہت ژولیدہ فکر انسان تھا جس سے بڑا ژولیدہ فکر مسلمانوں میں پیدا نہیں ہوا پھر اتفاق سے ۱۹۸۶میں مجھے شام جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں دمشق میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جن کانام محمد محمود غراب تھا ان کے بارے میں بتایا گیا کہ اس وقت شیخ محی الدین ابن عربی کے علوم کے سب سے بڑے ماہر دنیا میں یہ ہیں۔ جب میں ان سے ملنے گیا تو ان سے گفتگو کے دوران پتا چلا کہ فتوحات مکیہ کے جو نسخے اس وقت مروج ہیں اور فصوص الحکم کے جو نسخے مروجہ ہیں وہ اکثر جعلی ہیں اور ان سب میں باطنیوں نے الحا قات کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک نسخہ دکھایا جو انکے بیان کے مطابق شیخ محی الدین ابن عربی کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا تھا۔ شیخ محی الدین ابن عربی کے بارے میں کوئی بات کہنا بڑا دشوار ہے۔ نہیں کہہ سکتے کہ کون سی بات انہوں نے کہی اور کون سی بات انہوں نے نہیں کہی ۔
یہ امر واقع ہے کہ جب پانچویں چھٹی صدی ہجری میں باطنیوں کو دنیائے اسلام کے بعض علاقوں میں عروج اور اثرورسوخ حاصل ہو امثلاً اسماعیلیوں کو مصر میں اور قرامطہ کو دوسرے علاقوں میں اور متعدد مقامات پر ان کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ مراکش میں، ملتان اور سندھ میں انہوں نے بڑے پیمانے پر بزرگان اسلام کا قتل کیا اور سینکڑوں ایسے واقعات ہوئے کہ باطنیوں نے مختلف خانقاہوں میں جا کر وہاں کے مقامی بزرگ کو شہید کیا اور خو د کو ان کا خلیفہ یا جا نشین ظاہر کر کے وہاں قبضہ کر لیا۔ ملتان کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہا ں بھی ایسا ہو ا ملتان میں شمس الدین سبزواری کے نا م سے جو بزرگ مدفون ہیں ان کے بارے میں بھی بعض اہل تحقیق کا بیان ہے کہ ملتان میں بھی اسی نام سے ایک باطنی شخص آیا اس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شمس الدین تبریزی ہے جو مولانا روم ؒ کے شیخ تھے ۔ لیکن یہ شمس الدین وہ شمس الدین نہیں تھے شمس الدین سبز واری نا م کا ایک باطنی تھا جو یہاں آیا اور یہاں کے چند مقامی بزرگوں کو شہید کر کے انکی جگہ جانشین بن کر بیٹھ گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کیا کہ قلمی کتابیں لکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیلائیں۔ ہندوستان کے بزرگوں کے بارے میں کتابیں عرب دنیامیں ، اور عرب دنیا کے بارے میں ماورالنہر میں اور ماوراء لنہر کے بزرگوں کی کتابوں کے بارے میں مراکش میں الحاقات کر کے ملحدانہ باطنی خیالات کو عام کیا ۔ شیخ عبد الوھاب شعرانی جیسے جید صاحب عالم بزگوں کو اپنی زندگی ہی میں اس کا تجربہ ہو ا اگر ایسا ہے تو پھر مزید احتیاط سے کام لیاچاہئے ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

یہ تبلیغی جماعت سے پو چھئے میرا تبلیغی جما عت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ان کا ترجمان بھی نہیں ہوں۔ البتہ ان کا مداح ہو ں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن میں ان کا نمائندہ نہیں ہوں ۔لہذا میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ توکل کی اسلامی اصطلاح کن معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تو کل کے جو معنی شریعت کی رو سے میں نے سمجھے ہیں وہ میں نے عرض کر دیے ۔ 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)