ایک لا وارث کا سفر

مصنف : ر کامران

سلسلہ : متفرقات

شمارہ : جنوری 2019

ایک لا وارث کا سفر

کامران

                                                                                                                      یہ بات ہے اس زمانے کی جب پنکچر پانچ روپے اور ہوا ایک روپے کی ہوا کرتی تھی۔ میں سکول میں پڑھتا تھا ۔ابا جان ہماری دکان( کوئٹہ ٹائرز) پر مجھے چُھٹی کے دِنوں میں کام پہ لگا دیتے۔میں نہر میں ٹائر دھوتا ۔ دُکان پر باقی کاریگروں کے ساتھ کام کرتا، ٹا ئروں میں ہوا بھرتا پنکچر لگاتا۔میرے نرم ہاتھوں کو دیکھ کر گاہک بھی پہچان جایا کرتے تھے کہ میں یہاں نیا ہوں۔
ٹا ئروں کی گُڈیاں کاٹ کاٹ کرخود ابا کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جایا کرتے تھے۔ بڑا بھا ئی راتیں جاگ جاگ کر ٹائروں کو مرمت کرتا، کبھی کبھار میں بھی اسکا ساتھ دیتا۔ایک ٹائر کو پچ لگانے کے ساٹھ سے ستر روپے کی مزدوری ملتی ۔رات بھر میں ہم دونوں ایک اور ملازم کے ساتھ مل کر دس سے بارہ ٹا ئر مرمت کر لیا کرتے تھے۔
گھر میں ایک گولگ تھی جس میں ہم اپنا جیب خرچ ڈالا کرتے ۔ہمارے پاس دو تین گائے ہواکرتی تھیں جن کا دودھ ہم مُحلّے میں بیچا کرتے اور پیسے گولگ میں ڈال دیتے۔مہینے کے آخر میں ہم سب بہن بھائی دائرے میں بیٹھ جایا کرتے، ابا گولک توڑتے اس میں سے نوٹ اور سکے نکال کر ہم سب مل کرگنتے یہ رقم اگلے دن مزدوروں کو چلی جایا کرتی یا پھر سیمنٹ یا اینٹوں کی خریداری میں صرف ہو جاتی۔
ہم ایک نیا گھر بنا رہے تھے،اس گھر کی
بنیادوں پر میں نے اپنے نازک ہاتھوں سے دُرمٹ چلایا، اینٹیں توڑ یں ۱ور روڑے بنائے، امی مزدوروں کیلئے درجنوں کے حساب سے گرمی میں تندور پر روٹیاں بنایا کرتیں۔ چونکہ ہمارے پاس یک مشت رقم نہیں تھی ۔ہم نے یہ گھر دیہاڑی کی مزدوری پر بنوایا بغیر ٹھیکے کے جب پیسے ختم ہوجاتے مکان پر کام رُک جاتا۔ جب پیسے جمع ہوجاتے مکان پر کام پھر شروع ہوجاتا، لوگ کہتے تھے یہ گھر کبھی مکمل نہیں ہو گا۔
ابا میں اور میرا بڑا بھائی مل کرراتوں میں اینٹیوں کی ٹرالی خود اپنے ہاتھوں سے اُتارتے اور چھت پر اینٹیں پہنچاتے، اگلے دن جب مزدور کام پر پہنچتے تو کہتے کہ رات میں جن آئے تھے کیا، جنھوں نے اینٹیں اُوپر پہنچا دیں؟
گرمیوں کی سخت دُھوپ میں ابا نئے گھرکے دروازوں کو پینٹ کرتے ۔جس کی وجہ سے انہیں یرقان ہوگیا، آخری دنوں میں جب پیسے بالکل ختم ہو گئے تو پُرانا مکان ڈھائی لاکھ میں بیچا، جیسے تیسے نیامکان مکمل کروایا اور بالآخر ۱۹۹۳ میں ہم اس میں شفٹ ہو گئے، چونکہ ابا کا نام ظفرعلی پاکستانی تھا تو مکان کے باہر تختی پر لکھا گیا پاکستانی ہاؤس۔
صرف چار پانچ سالوں کے بعد ابا کا انتقال ہوگیا۔اباکے مرنے کے بعد ماں نے ہم سب بہن بھایؤں کو جوڑے رکھا، میں ملتان پڑھنے کے بعد جرمنی چلا گیا اور وقتاً فوقتاً پاکستان جاتا توماں کے ساتھ اسی گھرمیں رہتا۔
ہم ٓاٹھ بہن بھائی ہیں، پانچ بہنیں اور تین بھائی۔جب سن ۲۰۱۱ میں ماں کا انتقال ہوا تو سب نے کہا کہ اس مکان کے ٹُکڑے نہیں ہونے دینے اور نہ ہی اسے بیچنا ہے، یہ گھر سب کیلئے کُھلا رہنا چاہئیے۔ سب نے فیصلہ کیاکہ کسی لڑائی جھگڑے سے بچنے کیلئے کامران کے نام یہ گھر لکھ دو کہ اس پر ہمیں بھروسہ ہے یہ ہیرا پھیری نہیں کرے گا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ ذمہ داری اپنے اُوپر لے لی۔ ماں کے علاج اور آپریشن پر کافی پیسہ خرچ ہو چُکا تھا، لوگوں سے اُدھار مانگا رجسڑی کے پیسے دئیے، مکان میرے نام ہو گیا۔ میں واپس جرمنی آگیا، سوائے میرے اور میرے چھُوٹے بھائی کے سوا سب کی شادیاں ہو گئیں۔ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے، ۱ور مکان خالی ہو گیا اور اس پہ تالا لگ گیا۔
۲۰۱۵ میں جب میں جرمنی سے پاکستان سائیکل پر گیا تو چند ہفتے پاکستانی ہاوٗس میں گُزارے، خالی گھر میں مُجھے بڑی کوفت اور بوریت ہواکرتی تھی لہذا میں واپس اپنی بہن کے پاس اسلام آباد آگیا۔اس دوران میں مجھے اپنی ایک دو بہنوں کے پیغام ملنا شروع ہو گئے کہ ہمیں گھر میں سے حصہ دو، نہ میں گھر میں رہتا تھا، نہ میں نے اسے کرائے پہ دیا تھا یا بیچا تھا، تو پھر کیسا حصہ؟ میں نے کہا بیچ دیتے ہیں مکان مگر باقی بہن بھائی ماں باپ کی نشانی ہر گز بیچ دئیے جانے پررضامند نہ تھے، اگر میرے پاس پیسے ہوتے تو میں دے بھی دیتا مگر میں تو نوکری بھی چھوڑ چُکا تھا، مجھے اتنی کوفت ہوئی کہ میں سب کُچھ چھوڑ چھاڑ کر پھر سائیکل کے سفر پر نکل پڑا۔
اب پچھلے ڈھائی سال سے میں میں اس سفر پر ہوں، پاکستان اور لیہ میں اپنے گھرسے بہت دُور، سایئکل پر، نہ نوکری ہے نہ کوئی مُستقبل! صرف ایک تنہائی ہے اور نہ ختم ہونے والا راستہ۔
ان گُزرے سالوں میں مُجھے کسی بہن بھائی نے نہیں پُوچھا کہ تُمہارا گزارا کیسے ہوتا ہے؟ کہاں سوتے ہو، کیا کھانے کیلئے پیسے ہیں بھی یا نہیں؟ میں نے بھی اُنھیں کبھی نہیں بتایا کہ کس مُشکل سے گُزر رہا ہوں، کتنے کھانے صرف اسلیے نہ کھائے کہ ہاتھ تنگ تھا۔ کتنے ہفتے بغیر ہوٹل کے ٹینٹ میں گُزارے، جب کہ اُن سب کے پاس گھر ہیں، گاڑیاں ہیں اور پیسہ ہے، اکثر میں اچھا کھانایا پیزا نہیں افورڈ کر سکتا مگر اُنکی فیس بُک پیزا اور تکہ کباب کی تصویریں سے بھری ہوتی ہے۔مگر کسی سے شکایت نہیں، میں نے یہ راستہ خود اپنے لیے چُنا ہے اور مجھے میرے حال پر چُھوڑ کر اُنھوں نے ٹھیک کیا ہے، میں بھی تو سالوں اُن سے بات نہیں کرتا۔
مگر اب کُچھ بہنوں کا خیال ہے کہ میں نے گھر پر قبضہ کر رکھا ہے! قبضہ؟ مجھے توان بیابان صحراوٗں، جنگلوں، پہاڑوں میں جہاں نیند ٓاتی ہے میں وہیں سو جاتا ہوں، کبھی ٹینٹ میں، کبھی متروکہ گھروں میں اور کبھی کھُلے آسمان کے نیچے۔میرے لیے اب ایک جگہ رہنا اور گھر کوئی معنی نہیں رکھتے، بلکہ ایک جگہ رُکنا موت کے برابر ہے ۔ مجھے وہیں دفنا دیا جائے جہاں مُجھے موت ٓائے، وُہ گھر جس کیلئے میرے ماں باپ نے اتنی قُربانیاں دیں مگر وہاں سے اُنکے جنازے نکلے میں وہاں سے اپنا جنازہ نکلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔
جب پاکستان جانا ہواسب کے آگے ہاتھ جوڑ لوں گا اوریہ امانت قانونی طور پر واپس کر دوں گا، اس گھر سے میری اب کوئی وابستگی نہیں، کیا گھر صرف در و دیوار کا نام ہوتا ہے؟
کل سائیکل چلا رہا تھا، بڑے بھائی سے کافی عرصے بعد بات ہوئی، اُس نے کہا تُمہاری تین بہنوں نے مُشترکہ پیغام بھجوایا ہے کہ کامران کا صفحہ ہم نے اپنی زندگی کی کتاب سے پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔یہ سُناتو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے سینہ چیر کر دل نکال کر پاوٗں تلے مسل دیا ہو،اس سفر میں اتنی تنہائی اس سے قبل کبھی محسوس نہ ہوئی، ایسا لگا پہلے تو میں یتیم اور مسکین تھا اب لاوارث بھی ہو گیا ہوں۔ وقت دن کا تھا مگر مُجھے ہر طرف اندھیرا نظ�آارہا تھا، وُہ گھر جس کی چھت
تلے ہم اکھٹے سویا کرتے تھے اب وُہی ہمارے بیچ کھڑاہے، ہماری سوچ میں کتنا فرق ہے، میں گھر سے دُور بھاگتا ہوں اور وُہ گھر کے پیچھے۔
اس سفر سے اگر میں نے کوئی ایک بات سیکھی ہے تو وہ یہ کہ دُنیا ہماری سوچ سے بہت بڑی ہے اور انسان کو اپنی سوچ بھی بڑی رکھنی چاہیے۔ اگر گھر نہیں تو کیا ہوا،میں ماں کی لوری اور اُسکی گود کو یا د کر کے، کسی پتھر پر سو جاوٗں گا۔ تھک ہار کر مجھے بھی کسی نہ کسی گُمنام درخت کی چھاوٗں تلے نیند آہی جائے گی۔میں انہی خوابوں کا پیچھا کرتا رہوں گااس بات سے قطع نظر کہ میری رات کہاں گُزرتی ہے۔
کل اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد میں جب امریکہ کی ریاست یُوٹاہ میں واقع شہر لوگان پہنچا تو میں اپنے آپ کو بے گھر محسوس کر رہا تھامگر یہاں ایک گورے میزبان نے اپنے گھر مجھے رہنے کے لیے مدعو کیا تھا، گو وُہ دو دنوں کیلئے شہر سے باہر تھا مگر اُس نے گھر کا دروازہ میرے لیے کھُلارکھ چھوڑاتھا۔ گھر کے باہر میرے استقبال میں پاکستان کا جھنڈا لگایا ہوا تھا بالکل جیسے کبھی ہمارے گھر کے باہر ہواکرتا تھا،ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے میں واپس لیہ میں پاکستانی ہاؤس پہنچ گیا ہوں۔***

 

چاہو تو مرا دکھ مرا آزار نہ سمجھو 
لیکن مرے خوابوں کو گنہ گار نہ سمجھو
آساں نہیں انصاف کی زنجیر ہلانا 
دنیا کو جہانگیر کا دربار نہ سمجھو
آنگن کے سکوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی 
کہتے ہو جسے گھر اسے بازار نہ سمجھو
اجڑے ہوئے طاقوں پہ جمی گرد کی تہہ میں 
روپوش ہیں کس قسم کے اسرار نہ سمجھو
احساس کے سو زخم بچا سکتے ہو اخترؔ 
اظہار مروت کو اگر پیار نہ سمجھ
و