انجیر اور زعفران

مصنف : مفتی منیب الرحمان

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : فروری2018

انجیر ۔۔۔مفتی منیب الرحمان
اس ہفتے حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ’’تفسیر عزیزی‘‘ پر گفتگو کا موقع ملا۔ مطالعے کے دوران سورہ التین کی تفسیر میں شاہ صاحب نے انجیر کی جو صفات اور خاصیات بیان کی ہیں وہ نہایت دلچسپ اور مفید معلوم ہوئیں، اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے قارئین کو اس میں شریک کروں۔ اللہ تعالیٰ نے جن اشیاء یا مقامات کی قرآنِ مجید میں قسم فرمائی ہے، ان میں کوئی نہ کوئی ظاہر یا مستور حکمت ضرور موجود ہے۔ انجیر کو انگریزی میں Figاور بعض علاقائی زبانوں مثلاً ہندکو میں پھگوڑی کہتے ہیں۔حضرت شاہ صاحب نے لکھا کہ انجیر میں کچھ ظاہری خصوصیات ہیں اور کچھ باطنی۔ ظاہری خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ پھل لطیف ہے، زْود ہضم اور ہاضم (Digestant) ہے،معدے اور آنتوں کو نرم رکھتاہے، سڑے ہوئے یابدبودار مادّے کو بدن کے اندر سے پسینے کی راہ سے نکال دیتا ہے۔ اس کی خاصیت گرم ہے، لیکن اس کے باوجود بخار کے لئے مفید ہے، بلغم کوپتلاکرتاہے۔ یہ پھل گردے اور مثانے کو پتھریلے ذرات سے پاک کرتاہے،بدن کو موٹا کرتاہے اور مسام کو کھول دیتاہے۔ انجیر جگر اور تلّی کے سْدّوں یعنی گٹھلی بننے والے بافتوں (Tissues)کو تحلیل کرتا ہے اوریہ تلی کے ورم کے لئے بھی مفید ہے۔
انجیرکی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ سارے کا سارا پھل، غذااور دوا ہے۔ اس میں کوئی فاضل اور فالتو جْز مثلاً گٹھلی، بیج اور پھینکا جانے والا چھلکا نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اس اعتبار سے جنت کے پھلوں کے مشابہ ہے، کیونکہ جنت کے پھلوں میں بھی کوئی فاضل جْز نہیں ہوگا۔ یہ قرآن کی مانند مغز ہی مغز ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:’’ نبی ﷺ کی خدمت میں انجیر کا ایک طباق ہدیہ کیا گیا، آپ نے اس میں سے انجیر کھائیں اور اپنے اصحاب سے فرمایا: کھاؤ، پھر آپ نے فرمایا: اگر میں یہ کہوں کہ یہ پھل جنت سے نازل ہوا ہے تو کہہ سکتا ہوں، کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی کے ہیں، اس کو کھاؤ کیونکہ یہ بواسیر (Piles) کوکاٹتا ہے اور گٹھیا کے درد کے لئے بھی مفیدہے ،(الکشف والبیان، جلد:10، ص:238)‘‘۔ حضرت علی موسیٰ رضاؒ سے روایت ہے کہ انجیر کھانے سے منہ کی بدبودور ہوتی ہے، یہ سر کے بالوں کو بڑھاتا ہے اور فالج سے محفوظ رکھتا ہے۔ انجیر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ایک درمیانے لقمے کے برابر ہوتاہے، لہٰذا اسے کھانے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی اور یہ خوش ذائقہ بھی ہے۔
انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء ، گلوکوز، کیلشیم اور فاسفورس پائے جاتے ہیں۔ یہ قبض کے لیے بھی مفید ہے۔ حدیثِ مبارَک میں ہے کہ انجیر مرض قولنج میں بھی مفید ہوتاہے۔ یہ پھل رنگت کو سرخ وسفید بنانے کی خاصیت بھی رکھتا ہے۔ اسے زیادہ دیر تک تروتازہ نہیں رکھا جاسکتا، البتہ اسے خشک کرکے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ خشک کرنے کے عمل کے دوران جراثیم سے حفاظت کے لیے اسے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور ملائم رکھنے کے لئے اسے نمک کے پانی میں ڈبویا جاتاہے۔ اس کے تازہ کچے پھل اور پتوں سے دودھ کی طرح قطرے ٹپکتے ہیں، ان میں جلن ہوتی ہے اور یہ کہا جاتاہے کہ برص کے داغ کو دور کرنے کے لیے مفید ہیں۔ انجیر کو عرب ممالک میں پسند کیا جاتاہے۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں بکثرت پایا جاتاہے۔ یہ بنیادی طور پر سنٹرل ایشیا کا پھل ہے، کہا جاتاہے کہ سنٹرل ایشیا سے منگول، مغل اور مسلمان اَطِبّاء اسے برصغیر میں لائے، کیونکہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس خطے میں اس کا سراغ نہیں ملتا۔
شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے انجیر کے باطنی خواص بھی بیان کیے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:یہ پھل اہلِ کمال سے مشابہت رکھتا ہے کہ اس کا ظاہر وباطن ایک ہے، لہٰذا یہ سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سارے کاسارا فیض رساں ہے کہ نہ گٹھلی، نہ فالتو چھلکا اور نہ ہی اس میں بیج ہوتاہے کہ اسے پھینکا جائے، جب کہ دیگر پھلوں میں کہیں گٹھلی ہے(جیسے آم)یا چھلکا ہے اور اندر مغز، جیسے بادام، مونگ پھلی، اخروٹ، کاجووغیرہ اور کہیں چھلکا پھینکا جاتاہے جیسے مالٹا، سنگترہ وغیرہ اور چیکو میں بیج ہوتاہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ پھل ایثار کی صفت کا بھی حامل ہے۔ دیگر پھل دار درختوں پر پہلے شگوفے کھلتے ہیں، یعنی وہ اپنے آپ کو حسن وجمال سے آراستہ کرتے ہیں، جب کہ انجیر میں کسی شگوفے یا کلی کے بغیر براہِ راست پھل نکل آتا ہے۔ شاہ صاحب دیگر پھل دار درختوں کو خود غرض اور دنیا دار لوگوں کے مشابہ قرار دیتے ہیں، جو’’اول خویش بعد درویش‘‘ کے فارمولے کا مظہر ہوتے ہیں۔ اس بات کو امام فخرالدین رازی نے تفسیرِ کبیر میں لکھا ہے کہ:’’ دیگر درختوں کا شِعار اس حدیث کا مصداق ہے ’’پہلے اپنی ضرورت پوری کرو اور پھر ان کی جو تمہاری کفالت میں ہیں‘‘ اور انجیر اس صفتِ مصطفوی کا مظہر ہے جو سورۃ الحشر :09میں بیان کی گئی ہے:’’اور وہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود (ایثار سے کام لیتے ہیں اور) دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں‘‘،(تفسیرِ کبیر، جلد:32، ص:210۔11)‘‘۔ مزید یہ کہ انجیر سال میں ایک سے زائد بار پھل دیتا ہے۔
شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ جب عالمِ انسانیت کے جدِّ اعلیٰ حضرت آدم علیہ السلام کی خطائےِ اجتہادی کے نتیجے میں اْن کا جنتی لباس اتار لیا گیا اور ان کا بدن بے لباس ہوگیا، تو قرآن مجید میں ہے:’’پھر ان دونوں کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا تاکہ (انجامِ کار) اْن دونوں کی شرم گاہیں جواْن پر مستور تھیں، اْن کو ظاہر کردے، شیطان نے کہا: تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ اور اس نے ان دونوں کو قسم کھا کر کہا: بے شک میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں۔ پھر فریب سے اس نے ان دونوں کو اپنی طرف مائل کرلیا، پس جب ان دونوں نے اْس درخت کو چکھا توان کی شرم گاہیں اْن کے لئے ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے لپیٹنے لگے۔ اور ان کے رب نے ان کو پکار کر فرمایا: کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے نہیں روکا تھا اور تم دونوں سے یہ نہیں کہا تھا کہ بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے (تب) ان دونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں 
گے، (الاعراف:20۔23)‘‘۔
شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں : حضرت آدم وحوا علیہما السلام اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لئے جس درخت کے پاس جاتے وہ آپ کی پہنچ سے اونچا ہوجاتا، پس جب وہ انجیر کے درخت کے پاس گئے تو انجیر کا درخت اونچا نہ ہوا اور حضرت آدم وحوّا علیہما السلام نے اس کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپا۔
شاہ عبدالعزیز مْحدّث دہلوی نے لکھا: بعض کاشت کار لوگوں کا کہنا ہے کہ کامل درخت وہ ہے جس میں مندرجہ ذیل دس چیزیں پائی جائیں : جڑ، ڈالیاں، پتے، پھول، گٹھلی، گوند، چھال، چھلکا اور شیرہ، جیسے کھجور کا درخت کہ یہ دس چیزیں اس میں موجود ہیں۔ پس جس درخت میں ان میں سے کوئی چیز کم ہو تووہ ناقص ہے اور انجیر میں گٹھلی نہیں ہے، لہٰذا یہ ناقص ہے۔ تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ نَقص نہیں بلکہ کمال ہے، کیونکہ گٹھلی کھانے کی چیز نہیں ہے، پھینک دینے کی چیز ہے، پس گٹھلی کا ہونا کمال نہیں بلکہ نہ ہوناکمال ہے۔
آخر میں شاہ صاحب لکھتے ہیں: خلاصہ کلام یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انجیر کی قسم فرما کر اس کی اہمیت اور فضیلت کی جانب اپنے بندوں کو متوجہ فرمایا۔امام قرطبی نے لکھا ہے:’’کسی شخص کو خواب میں انجیر نظر آئے تواس کی روزی کشادہ ہوگی اورانجیر کھائے تو اسے اولاد کی نعمت نصیب ہوگی،(احکام القرآن، جلد:20، ص:111)‘‘۔امام قرطبی نے انجیر کا وصف بیان کرتے ہوئے عربی اشعار بھی نقل کئے ہیں، جن میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے:’’میرے نزدیک انجیر ہر پھل کی خوبیوں کا حامل ہے، اس کی شاخ پھل سے لدی ہو تو جھک جاتی ہے، اس کا منہ زخم کی مانند ہوتاہے، جس سے شہد بہتا ہے، گویا کہ یہ اللہ کی خشیت سے جھک جاتاہے‘‘۔
***
زعفران ۔۔۔سلمی حسین
زعفران ایک بہت ہی قیمتی شئے ہے اور اس کا غذاؤں اور ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔زعفران کو نازک پتیوں میں رنگ و نور کا جادو کہا جا سکتا ہے جس کا نہ صرف غذاؤں کو خوشبودار اور رنگین بنانے میں دنیا کے ہرگوشے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔یونان و مصر و روما بھی اس کے سحر آگیں اور مدہوش کن اثرات سے نہ بچ سکے۔ زعفران کب اور کیسے وجود میں آیا؟ اس کے متعلق مختلف علاقوں کے دلچسپ افسانے ہیں۔یونانی اساطیر میں یہ پایا جاتا ہے کہ کِرکس نامی گبرو جوان سی لیکس نامی خوبصورت حسینہ کے عشق میں گرفتار ہوا لیکن حسینہ نے اس کے جذبات کی قدر نہ کی اور اسے فالسی رنگ کے خوبصورت پھول میں تبدیل کر دیا۔ یہ فالسی رنگ کا پھول اب زعفران کہلاتا ہے۔مصر کی قدیم روایت میں اسے قلوپطرہ اور فرعون شاہوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مصر کے قدیم معبد زعفران کے پانی سے پاک کیے جاتے تھے۔ روم کے بادشاہ 'نیرو' کے استقبال کے لیے روم کی شاہراہوں پر زعفران کے پھول بکھیر دیے گئے تھے۔ ہوا کے نرم جھونکوں میں بسی زعفران کی خوشبو اور فرش پر بکھرے نازک پھول ایک دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔انڈیا میں کشمیر کا پامپور زعفران کی کاشت کے لیے معروف ہے ۔انگلستان کی سرزمین میں زعفران کی آمد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایڈورڈ سوم کے عہد حکومت میں ایک انگریز سیاح مشرق وسطی سے زعفران کے بیج اپنی چھڑی میں چھپا کر لے آیا تھا۔ والڈن شہر میں اس کی کاشت کا آغاز کیا۔ قسمت نے یاوری کی اور پودے پھلنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے والڈن شہر زعفران سے بھر گیا۔چودھویں صدی میں سپین زعفران کا اہم مرکز تھا اور آج بھی سپین کا زعفران بہترین زعفران مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا رنگ گہرا اور خوشبو دیوانہ کردینے والی ہوتی ہے۔ہندوستان میں بھی زعفران کی آمد کی کہانی دلچسپی سے خالی نہیں۔ 11ھویں یا 12ھویں صدی میں دو صوفی خواجہ مسعود ولی اور شیخ شریف الدین ولی کشمیر کی وادیوں میں بھٹک رہے تھے۔ اچانک بیمار ہوئے اور مدد کی خاطر پاس کے گاؤں پہنچے۔ صحت یاب ہونے پر زعفران کے دو 'بلب' یا گانھیں گاؤں کے سربراہ کو نذر کیں۔ ان دو گانٹھوں نے پامپور کی تقدیر بدل دی جہاں آج بھی بڑے پیمانے پر زعفران کی کاشت ہوتی ہے۔ میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت دلفریب سماں پیش کرتے ہیں۔ پامپور اپنے ان دو صوفیوں کو نہیں بھولا ہے اور ان کے مزار پر لوگوں کی آمد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
کشمیر کے معروف دانشور محمد یوسف تینگ کو اس کہانی پر یقین نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زعفران اور کشمیر کا پرانا ساتھ ہے۔ کشیمر کے حکمران یوسف شاہ چک (86۔1579) نے پامپور میں زعفران کی کاشت شروع کی تھی۔ حقیقت خواہ کچھ ہو آج پامپور زعفران کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور وہاں کے دو سو سے زیادہ گاؤں تقریبا ڈھائی ہزار کلو زعفران پیدا کرتے ہیں۔اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زعفران اپنی بہار پر ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند تاروں کا جال اور فرش پر زعفران کی رگین بہار جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔
پامپور کے رہائیشی غلام محمد زعفران کے کھیتوں میں بیٹھ کر نمکین چائے پیتے ہوئے ماضی کی داستان دہراتے ہیں۔ کشمیر کے حکمران یوسف شاہ چاندنی رات میں زعفران کے کھیتوں کی سیر کو نکلے، مدہوشی کا عالم تھا، مہکتی ہوا کے جھونکے، چاند کی مدھم روشنی میں میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت ہوش لیے جاتے تھے۔ اچانک دور سے آتی ہوئی سریلی آواز نے انھیں بے چین کر دیا۔ ہرکارے دوڑائے گئے۔ پتہ چلا کہ ایک معمولی لڑکی زون نغمہ سرا تھی۔ بادشاہ اس خوبصورت اور سریلی آواز کے سحر میں گرفتار ہو گئے اور انھیں کو اپنی ملکہ بنا کر حبہ خاتون کا نام دیا۔زعفران کے پھول اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں اپنے شباب پر ہوتے ہیں۔الغرض نازک پتیوں نے ایسا جادو چلایا کہ انسان بے بس ہو کر رہ گیا۔ کشمیر کے شعبہ سیاحت نے جشنِ زعفران کی بنا ڈالی۔ جب زعفران کے پھولوں پر بہار آتی ہے تو سارا پامپور اور سیاح رقص و سرود کے شادمانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ آٹھ روزہ سالانہ جشن پامپور کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔کھانوں میں زعفران کا استعمال ایران کی دین ہے اور یہ مغل بادشاہوں کے دسترخوان میں مخصوص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ زعفران اپنی تمامتر صفات کے ساتھ ایک قیمتی اثاثہ ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔
***