اللہ اکبر

مصنف : محمد رضوا ن خالد چودھری

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : اگست 2019

فکر ونظر
اللہ اکبر
محمد رضوان خالد 


اللہ کیسا ہے اس سوال کا ایک جواب تو دیا ہی جا سکتا ہے کہ جیسا اُسکے بارے میں میں یا کوئی بھی سوچ سکتا ہے اُسکے ساتھ وہ ویسا ہی ہوگا لیکن وہ ویسا ہے نہیں۔ میں تو قُرآن سے ہی اللہ کی کُچھ خصُوصیات کا تصور کر سکتا ہوں جبکہ قُرآن تو بس ایک ایسا صندوق ہے جس میں اللہ کی حقیقی آیات سے بھری کائنات کی کُنجیاں رکھی ہیں۔ میں ابھی تک اپنے نظام شمسی کو نہیں سمجھا پھر میری کہکشاں ہے جس میں انگنت ستارے ہیں،اور پھر کھربوں کہکشائیں ہیں ہر کہکشاں میں میری زمین جیسے کھربوں سیّارے ہیں۔یہ ابھی پہلا آسمان ہے۔ میں اللہ کے بارے میں کُچھ لکھنے کی طاقت کہاں سے لاؤں جبکہ مُجھے تو چھوڑیے،میری زمین کی حیثیّت بھی ابھی تک کی معلُوم کائنات میں سمندر کے ایک قطرے سے بھی کم ہے۔ میرے ذہن نے جب کسی ان دیکھی چیز کا تصور کرنا ہو تو کوئی مثال کوئی پیمانہ یا کوئی سکیچ ذہن میں آئے گالیکن اللہ سُورہ شُورٰی کی گیارہویں آیت (لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ) میں خود کہتا ہے اُسکی مثال جیسا کوئی نہیں۔
قُرآن کے اردُو تراجم میں اسکا ترجمہ لکھا جاتا ہے کہ اُس جیسا کوئی نہیں۔لیکن یہ ترجُمہ اُس تصوُر کو واضح نہیں کرتاجو خود اللہ اس آیت میں دیتا ہے۔ اس آیت میں اللہ جو لفظ استعمال کرتا ہے وہ ”کَمِثْلِہِ“ ہے۔ 
لفظ ”کَ“ کا مطلب بھی جیسا یا مثال ہے اور لفظ ”مِثْلِہِ“کا مطلب بھی مثال ہے۔ یعنی اللہ جیسا تو دور کی بات اللہ کی مثال جیسی بھی کوئی مثال نہیں۔ویسے تو اللہ کی چند صفات جو قُرآن میں بیان ہوئیں میں اُن سے جانتا ہوں کہ اللہ سب دیکھتا بھی ہے،سب عالمین کو پالتا بھی ہے،وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے،وہ رحیم بھی ہے کریم بھی اور غفار بھی۔اُسکی ایسی مزید کئی خصُوصیات سے میں آگاہ ہُوں اور میری یہی آگہی میرے ذہن میں اُسکا تصُور محدُود کر کے مُجھے اُسکا ایک خاکہ دے دیتی ہے۔ جبکہ اُسکا کوئی خاکہ بننا مُمکن ہی نہیں کہ اُسکا نہ کوئی جسم ہے نہ کان نہ آنکھیں اور نہ ہاتھ پاؤں۔ اُسکا دیکھنا،سُننا، رحم کرنا، خبر رکھنا، 
پالنے والا ہونا اور اُسکی دیگر خصُوصیات جو میں قُرآن کی وجہ سے جانتا ہوں بھی بس میری سمجھ کے لیے ہیں۔ورنہ اُسکا نہ سُننا میرے سُننے جیسا ہے نہ دیکھنا میرے دیکھنے جیسا ہے۔ میں اُسکی خصُوصیات سمجھنے کے لیے الفاظ کا مُحتاج ہُوں۔اس لیے میرے لیے اُسکے نام رحمٰن رحیم سمیع و بصیر وغیرہ بتا دیے گئے ورنہ ان الفاظ کے معنی اُس معنی والی خصوصیت کی مثال کی مثال کا وزن بھی نہیں اُٹھا سکتے۔کسی نے مُجھے کسی ایسے پھل کا ذائقہ سمجھانا ہو جو میں نے نہ کبھی کھایا نہ دیکھا تو کیسے سمجھائے گا۔ میں نہ بھی سمجھ پاؤں تب بھی یہ تو سمجھ لُوں گا کہ یہ بہرحال پھلوں جیسا ہی ہوگا۔ یعنی میرے ذہن میں پھل کی مثال تو ہے۔لیکن سُورہ شُورٰی کی گیارہویں آیت کے مُطابق اللہ کی مثال تو کیا مثال کی بھی مثال نہیں تو الرَّحْمَنُ، الْقُدُّوسُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْحَکَمُ، اللَّطِیفُ، الْقَوِیُّ، الْوَکِیلُ اور دیگر ناموں سے میں اُسے کیا سمجھوں گا۔ان میں تو ایک بھی نام اُسکی خصوصیت کی مثال کی بھی مثال نہیں۔ یہ تو بس مُجھے سمجھانے کے الفاظ ہیں۔ میں اُسے کیا سمجھوں گا۔ میں کیا میری اوقات کیا۔ اللہ کی جنّت کی نعمتوں کا بھی میں کیسے تصور کر لُوں جبکہ اللہ خُود سُورۃ بقرہ کی پچیسویں آیت میں وہاں کی نعمتوں کو دُنیا کے پھلوں سے مُتشابہہ کہہ کر وہاں ہمارے ساتھ رہنے والے پاک ساتھیوں کا ذکر کرتا ہے۔ کوئی اُنہیں پھل اوربیویاں سمجھنا چاہے تو خُوشی سے سمجھے میری ناقص سمجھ تو یہ کہتی ہے کہ وہ اللہ ہی کیا جسکی جنّت کی کسی ایک نعمت کی بھی میں مثال دے کر ذہن میں کوئی خاکہ بنا لُوں۔ 
جب میں اُسکی اس کائنات کو نہیں جان پایا 
جسے میری آنکھ دیکھ سکتی ہے۔تو جس بارے میں اللہ خود کہے کہ میں وہاں کی نعمتوں کا تصوُر بھی نہیں کر سکتا تو میرے نزدیک اسکا مطلب یہی ہے کہوہ سب کُچھ جسکا میں تصوُر کر سکتا ہوں کم از کم وہ تو اللہ اور اُسکی خصُوصیات اور اُسکی جنّت کی نعمتیں نہیں ہو سکتیں۔کسی کو جنّت کے پھلوں کا ذائقہ، حُور و غُلمان کا قد کاٹھ اور صُورت بتانی ہے تو وعظ کرتا رہے میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ میں کامیاب رہا تو اللہ سے وہ پاؤں گا جسکی مثال کی مثال کا تصوُر بھی میرے لیے محال ہے۔اور ناکام رہا تو اُس اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کے تصوُر سے ہی میرا دل پھٹا جاتا ہے جس نے میری ہر کوتاہی کو میرے رُویں رُویں سے زیادہ محسُوس کیا ہوگا۔ 
اللہ کی صفّات کی مثال جیسی کسی صفّت کا تصوُر تو بعد کی بات ہے ابھی تو اُسکے عالموں میں سے ایک کو سمجھ لُوں جسمیں میں میں رہتا ہُوں۔اپنے اس عالم کو میں کائنات کہتا ہوں۔میری زمین اتنی بڑی ہے کہ سات ہزار کھرب انسانوں کو پال سکتی ہے جبکہ ابھی اسکی آبادی سات ارب بھی نہیں۔ میری زمین جس نظام شمسی کا حصہ ہے اُسکا پھیلاؤ میں آپ کو سمجھنے کے لیے ایسے بتا سکتا ہوں کہ اُس پھیلاؤمیں ہماری زمین جتی بڑی اتنی زمینیں سما سکتی ہیں جسکی تعداد سمجھنے کے لیے مُجھے چار کے سامنے چھبیس زیرو لگانے پڑیں گے۔ اب سوچیے کہ میرا نظام شمسی تو ہماری کہکشاں میں بس ایک ذرّے جیسا ہے۔ میری کہکشاں کا پھیلاؤ ہندسوں میں سمجھنا ہو تومیں ایسے بتا سکتا ہوں کہ اگر چھبیس کے آگے سترہ زیرو لگیں تو میرے نظام شمسی جیسے اتنے نظام میری کہکشاں میں سما جائیں گے۔ اب یہ بھی جان لیجیے کہ آج تک دس کھرب سے زیادہ کہکشائیں معلُوم شُدہ ہیں۔ ذرا تصوُر کریں یہ کتنا پھیلاؤ بنے گا۔اس پھیلاؤ میں کتنے اربوں کھربوں سورج ہیں ہر سورج سینکڑوں سیّارے اپنے گرد لیے گھوم رہا ہے اُن میں سے کتنے سیّاروں پر اللہ کا کیا امر ہوگا۔ اللہ وہاں کس کس کو کیسے پالتا ہو گا کیونکہ وہ تو تمام عالمین کا رب ہے۔اور یہ تو ابھی وہ عالم ہے جسے ہم جانتے ہیں قُرآن اور سائنس دونوں کہتے ہیں کائنات مُسلسل بڑھ رہی ہے۔ 
آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کائنات دریافت کیسے ہو رہی ہے۔ اسے ایسے سمجھیے کہ روشنی کی رفتار اتنی ہے کہ یہ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد آٹھ چکر لگا سکتی ہے۔ ہر گلیکسی جب بنی تو اُس سے روشنی نکلی اور وہ کبھی نہ کبھی ہماری زمین تک پُہنچتی ہے۔ آج جو گلیکسی دریافت ہوئی اُس سے چودہ ارب سال پہلے نکلنے والی روشنی آج ہم تک پُہنچی ہے ہم تک ہر سال مزید کئی کہکشاؤں کی روشنی پُہنچ جاتی ہے۔ جس سے سائنس قُرآن کا یہ دعوٰی ماننے پر مجبُور ہوئی کہ کائنات ابھی پھیل رہی ہے۔ یعنی آج کی تاریخ میں یہ کائنات کتنی بڑی ہے اسکا پتا اربوں سال بعد لگے گا۔میں اللہُ اکبر تو جپتا رہتا ہوں مُیں اللہُ اکبر کے حقیقی معنوں کا تصوُر بھی کیسے کر سکتا ہوں۔ جب میں ایک عالم کے بارے میں نہیں جانتا تو اُس اللہ کی صفّات کا کیا تصوُرکر سکتا ہوں۔جس کا امر نہ صرف اس عالم بلکہ اس جیسے انگنت عالمین میں نازل ہوتا ہے۔میں اپنے دوستوں سے معذرت کرتا ہوں جنھوں نے اللہ کے بارے میں لکھنے کی فرمائش کی تھی۔
 بھائی میری اتنی اوقات نہیں کہ میرا قلم اللہ کی کسی ایک صفت کا اتنا احاطہ بھی کر سکے جتنا اس معلوم کائنات کے مُقابلے میں میرا اپنا وزن ہے۔٭٭٭