استنبول، شاخِ زریں کے کنارے

مصنف : صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بُگوی

سلسلہ : سفر نامہ

شمارہ : مارچ 2019

مسلم ممالک میں سے ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کو جس سرزمین سے تاریخی محبت ہے وہ ترکی ہے۔سعودی عرب میں حرمین سے عقیدت ایک دوسرا معاملہ ہے۔ترکی کے ساتھ تعلق کی بنیادیں آج سے نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ میں چھپی ہوئی ہیں۔بنواُمیہ کے بعد یہ دوسری مملکت ہے جس نے یورپ کو اذانوں سے روشناس کیا۔ترک مسلمانوں کے قدم مشرقی یورپ سے آگے جرمنی اورفرانس کے نزدیک دریائے ڈینیوب تک جاپہنچے تھے۔ زرخیز تاریخ وتمدن،رنگارنگ تہذیب وثقافت ،مثالی جرأت وشجاعت ،تصوف وحکمت اوراسلام سے عقیدت و محبت ترکوں کے خمیر میں گندھے ہوئے ہیں۔
سفرناموں کے علاوہ عالمی اخبار میں اکثر نظرآنے والے ترکیہ کے احوال توجہ کھینچتے رہے ہیں۔موجودہ حکومت کے سربراہ رجب اُردگان اوراُن کے سابق رفیق گولن اوراُن دونوں کے اُستاد نجم الدین اربکان کے نام ہمارے لئے بہت مانوس ہیں۔ ہوش سنبھالنے کے بعد اندازہ ہوا کہ بگویہ خاندان پر تحریکِ خلافت کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔مولانا ظہور احمد بگوی ؒ (م1945ع)نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑی اور1921ع میں برصغیر کی سب سے بڑی اورمتحدہ تحریک خلافت میں شامل ہوگئے تھے۔وہ ضلع شاہ پور(موجودہ ضلع سرگودھا وضلع خوشاب) میں مجلس خلافت کے بانی اورپہلے جنرل سیکرٹری تھے۔ضلعی مجلس خلافت کے صدراور سرپرست خواجہ ضیاء الدین سیالویؒ تھے۔ تحریک خلافت میں عدم موالات کے دوران 1922ع میں سرگودھا سے مولانا بگوی گرفتارہوئے اور ضلع شاہ پور کے پہلے سیاسی قیدی بنے ۔ ترکی میں خلافت کے خاتمے اورہندوستان میں خلافت کی تحریک ختم ہونے کے بعد مولانابگویؒ کی تمام علمی،دینی،سیاسی اور معاشرتی تگ وتاز زیادہ تر اسی دائرے میں رہی جس کے خدوخال تحریک خلافت نے اُجاگر کئے تھے۔یہاں تک کہ خاندان میں پیداہونے والی لڑکیوں کے نام مولانا نے ترکی کی مشہورخواتین کے نام پررکھے جیسے خالدہ،لطیفہ،نفیسہ،رفیعہ وغیرہ ۔غرض خلافت کے حوالے سے جدید سیاحوں میں قدیم ترکیہ کے ساتھ تعلق اور محبت کے گہرے رشتے موجود ہیں۔ شمس الاسلام کے انڈیکس اورتذکار بگویہ کی تحقیق اور تدوین کے دوران مطالعے سے معلوم ہوا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے عثمانی خلافت اور ترک مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ محبت اور یکجہتی کااظہارکیاہے اور یورپی مقبوضات خصوصاً سمرنا اورادرنہ کے مظلوم ترکوں کی اعانت کے لئے زیورات کی شکل میں سونے کے کثیرعطیات بھیجے ہیں۔اس زمانے میں کوئی یورو یا ڈالر جیسی بین الاقوامی کرنسی موجود نہیں تھی،اجناس جا نہیں سکتی تھیں چنانچہ برصغیر سے بھیجے گئے وفود نے ترکوں کی امدادسونے کی صورت میں کی۔یہ خدمت ترکوں نے ہمیشہ یادرکھی۔
گذشتہ سال عائشہ صدیقہ نے ترکی کی جامعہBANDIRMA ONYEDI,UNIVERSITY BANDIRMA میں جامعہ پنجاب کی طرف سے ایک تعلیمی سرگرمی میں حصہ لیا تھا اورایک ریسرچ پیپرپڑھا تھا۔اس کے سفر کے مشاہدات اوردلچسپ تجربے نے دوسروں کے شوق کو بڑھادیاتھاچنانچہ ہم نے بھی مغرب کی سمت کی سفر کی نیت باندھ لی۔
ویزہ کے لئے کاغذات کی تیاری ایک امتحان تھا جو پاکستان اورترکی کے دفتری نظام کے صبر آزما مراحل سے گذر کر مکمل ہوا۔اس سلسلے میں پہلے ہوائی ٹکٹ کم داموں پر دستیاب تھے لیکن ویزا کی تاخیر کی وجہ سے پروگرام کی تاریخیں بدلیں اورمہنگے داموں ٹکٹ اورہوٹل بکنگ وغیرہ کے مرحلے عائشہ نے طے کئے۔ترکش ائیرلائن کی لاہور سے استنبول کی روز کی ایک فلائٹ ہے ۔اس پرسوار ہونے کیلئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر رات کو2بجے پہنچنا پڑتا ہے کیونکہ انٹرنیشنل پرواز کے لئے روانگی سے3گھنٹے پہلے حاضر ہوناضروری ہوتاہے تاکہ سامان کی چیکنگ ، پیکنگ ، بکنگ ،ایمی گریشن وغیرہ کے مراحل سے گزراجاسکے۔عائشہ چونکہ ہماری امیرسفر تھی اس لئے اُس کی خصوصی ہدایت کے مطابق رات کو جلد سونے کی کوشش کی مگر رات کے ساڑھے بارہ بجے الارم بجنے سے پہلے ہی کچی نیند سے بیدار ہوگئے۔چوتھا مسافر احمد مجتبیٰ عمر پہلی آواز پرچھلانگ لگا کر اٹھ بیٹھا۔سرمد منصور نے ہمیں رضاکارانہ طور پرہوائی اڈے پر اُتارناتھا ۔اُس نے بڑی مہارت اور ذمہ داری سے گاڑی میں سامان اور مسافروں کو فٹ کیا۔روانگی سے پہلے دو گانہ ادا کئے اوراللہ سے خیروعافیت کی دعا کی۔پونے دو بجے روانہ ہوکررنگ روڈ کے راستے 25منٹ میں ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔


*ترکی کاشہراستبول غالباً دنیا کاواحد شہر ہے جودوبراعظموں میںیعنی یورپ اورایشیا دونوں میں واقع ہے۔دونوں حصوں کے درمیان ایک طرف بحیرہ ا سود (Black Sea)ہے اوردوسری طرف بحیرہ مرمرا(Marmara Sea) جوبحیرہ روم (Mediterrian Sea)کامشرقی حصہ بنتاہے۔اسود اورمرمرا کے بیچوں بیچ ان کوجوڑنے والا بحیرۂ باسفورس واقع ہے ۔بحیرہ باسفورس سے ایک آبنائے نکلتی ہے جسے GOLDEN HORNٰٓ ٰٰٰٰٰٰٰٓٓیا شاخ زریں کہتے ہیں۔ہمارے گروپ کے گائڈ کی منطق تھی کہ چونکہ صبح کے وقت آبنائے کے اس مقام پر سورج کی کرنوں کا عکس طلائی اور خمیدہ ہوتا ہے اس لئے یہ گولڈن ہارن کہلاتاہے۔ اس شاخ کے دہانے پر ایک طرف ایمی نو نو اور دوسری طرف کاراکوائے دو اضلاع واقع ہیں ۔پانی کی یہ خلیج ایک دوسرے ضلع ایوب (Eyup) پرجا کرختم ہوتی ہے۔ہماراپڑاؤ گولڈن ہارن کے شروع میں واقع ضلع فاتح میں رہا چنانچہ ہماری سیاحتی مصروفیات شاخ زریں یعنی گولڈن ہارن کے اردگرد ہی طواف کرتی رہیں۔ضلع فاتح میں ترکی کے بہت سارے اہم آثاراورقابل دید عمارات واقع ہیں۔
ائیر پورٹ کی دنیا الگ ہوتی ہے چنانچہ مسافروں کوچلنے پھرنے کی زحمت سے بچانے کے لئے عزیزی احمد منصور کے تعاون سے ابتدائی مراحل بآسانی طے ہو گئے۔دراصل سیاحوں کے ایک رکن کے لئے اپنے گھٹنوں کی وجہ سے دیر تک کھڑا ہونا اورزیادہ دور تک چلنا دشوار تھا اس لئے وہ وہیل چیئر پر تھے۔اس لئے ضرورت تھی کہ وہ جہازمیں اپنی نشست تک آسانی سے پہنچ جائیں۔ایئرپورٹ پر پاسپورٹ ،ٹکٹ اور تلاشی کا عمل باربار دہرایاجاتاہے۔جب ایک بار کیمرے سے تصویر اور کمپیوٹرسے مسافر اور اس سے متعلق اندراجات کی تصدیق ہوچکی تو پھرجگہ جگہ جسمانی چیک اپ کے کیامعنی؟مسافر الگ بے زار اور غیرضروری عملہ الگ مصروف۔دنیا خود کاری ((Automationکی طرف جارہی ہے پھرعملے کی فوج ظفر درموج کی کیاضرورت؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے شاید کبھی ائیرپورٹ پر پانی کی بوتل نہیں خریدی کیونکہ اُن کو ہرجگہ سرکاری پروٹوکول مل جاتاہے ورنہ وہ ایک اورسوموٹو ایکشن لے لیتے۔یہاں پانی کی ایک چھوٹی بوتل کا ریٹ پچاس روپے ہے۔رات کے اس وقت لاہورائیرپورٹ سے بہت ساری بین الاقوامی فلائٹس نکلتی ہیں لیکن صفائی اچھی نہ تھی یہ کام توایسی جگہوں پردن کے چوبیس گھنٹے کسی رکاوٹ یاکمی کے بغیرجاری رہناچاہیے۔ویسے روشنیوں کی وجہ سے لاؤنجوں میں دن کاسماں تھا۔
جہاز کوئی نصف گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہو سکا ۔ جہازمیں تمام اخبارات ترکی زبان میں تھے۔فلائٹ پاکستان سے جاررہی تھی مگر اُردو،انگریزی کاکوئی اخبار رسالہ موجود نہ تھا۔فلائٹ کے اعلانات بھی پہلے ترکی زبان میں کئے گئے۔اعلان کرنے والوں کی انگریزی بھی ہوائی قسم کی ہوتی ہے۔ فراٹے سے اعلان لڑھکتا ہے جسے سمجھنے کے لئے تُکّہ لگاناپڑتاہے۔سفر کے لئے میں نے عمرانی لباس یعنی شلوار قمیض پہن رکھا تھا جو اب ایک طرح سے ہمارا قومی لباس بن چکاہے۔ اس لباس میں خواتین کے علاوہ چند اورلوگ بھی تھے۔جہاز میں مسافر کم تھے اورزیادہ تر خوابیدگی کا شکار۔
ہوائی میزبانوں نے صبح ساڑھے پانچ بجے روانہ ہوتے ہی ناشتہ کھول دیا۔ہوائی سفر کا ایک عجوبہ یہ بھی ہے کہ کھانے کے لئے مسافروں کی ضرورت سے زیادہ عملے کے لئے اپنا فرض کام نپٹانااہم ہوتاہے۔ اس ناشتے میں سبزیاں ، پھل ، سینڈوچ، پنیر، مکھن،جام،مشروب،پانی،کیک وغیرہ موجود تھے۔جہاز میں نشست کے سامنے لگی سکرین پرخبروں کے چینل نہ تھے۔شاید بچوں کے کارٹون اورفلمیں تھیں۔مگر سسٹم زیادہ کارآمد نہ تھا۔چنانچہ سفر کاوقت کم سوتے اورزیادہ جاگتے ہوئے گزرا یایہ دیکھتے ہوئے کہ جہاز کن راستوں سے گذررہاہے اورکتنی دیر میں اپنی منزل تک پہنچے گا!
لاہوراوراستنبول کے درمیان قریباً سواچار ہزار کلومیٹرکاہوائی فاصلہ ہے۔جہاز قریباً 835 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتا ہے۔لاہورسے کابل،مشہد،باکو سے ہوتا ہوا استنبول جااترتاہے۔دونوں ملکوں کے درمیان وقت کا دو گھنٹوں کافرق ہے اتنا ہی جتناسعودی عرب کے ساتھ یعنی پاکستانی وقت سے دو گھنٹے پیچھے۔میراموبائل زیادہ سمجھدار نکلا۔اس نے مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے اپناوقت خود ہی بدل لیا۔ چنانچہ جب اترا تو وقت ترکی کے مطابق دو گھنٹے پیچھے جاچکاتھا۔ترکش ائیر لائنز دنیا کے بہت سارے ملکوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اُترتے وقت ہرطرف ترکی جھنڈے کے رنگ والے بوئنگ جہاز ہی دکھائی دئیے۔
چونکہ عائشہ نے بکنگ کے وقت چوتھے مسافر کے لئے وھیل چیئر کاکہہ دیاتھا اس لئے دروازے کے پاس باوردی خادم موجود تھا۔یہ وھیل چیئر خودکارتھی۔مسافر کے پیچھے خادم کھڑا ہوگیا اور بٹن دبانے سے چیئررواں ہوگئی۔باقی سیاح کافی فاصلہ پیدل طے کرنے کے بعد وہاں پہنچے جہاں رواں پٹی پرسے سامان اتر رہاتھا۔سامان کی ٹرالی لینے کے لئے ایک لیرافیس دیناپڑتی ہے۔ہمارے سامان میں چونکہ وھیل چیئر موجود تھی اس لئے ائیرپورٹ کی وھیل چیئر اُتار کرچلی گئی۔ائیرپورٹ پرکام کرنے والے اکثرعملے کے سینے پرترکی کاقومی جھنڈاجو سرخ رنگ کااورجس پر چاندتارا ہے نظر آرہاتھا۔معلوم ہوا کہ ترکی کاقومی دن قریب ہے ۔سامان لے کرگیٹ سے نکلے تو ہوٹل کاکارندہ پلے کارڈ کے ساتھ منتظر تھا۔
22اکتوبر 2018ع بروز پیر:
صبح کاوقت تھااورسورج طلوع ہوچکا تھا ۔ موسم بہت خوشگوار تھا آسمان پربادلوں کی ٹکڑیاں تھیں۔ ٹیکسی بڑی آرام دہ اوربڑے سائز کی تھی جیسے پیجارو۔ائیرپورٹ سے ہوٹل انطیہ (ANTEA) تک سٹرک سمندر کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہے۔کشتیاں ، بحری بس اورجہاز ۔بعض بحری بسیں کئی منزلہ تھیں۔خوبصورت عمارتیں کئی منزلہ بعض زیرتعمیر ،بعض خالی۔سمندر کنارے لمبے لمبے پارک جہاں لوگ صبح کی سیر کررہے تھے۔ترکی میں ٹریفک دائیں طرف چلتی ہے گویا ڈرائیور نشست پر بائیں طرف بیٹھتا ہے۔سٹرک پر سیاحوں کی رہنمائی کے لئے جگہ جگہ مقامات ، عمارات ، دفاتر،سڑکات کے نام اوراشارے مگر سب ترکی زبان میں۔پڑھنے کی کوشش کرتا رہا ۔ جوفارسی یاعربی کے الفاظ تھے اُن کی کچھ پہچان ہوتی رہی لیکن ترکی----من نمی دانم! سڑکیں اور چوک صاف ستھرے۔ٹریفک تھوڑا مگر رواں دواں۔
ہوٹل کی لابی میں کچھ دیرکمرہ خالی ہونے اور اس کے تیار ہونے کاانتظار کرناتھا۔ہوٹل انطیہ(ANTEA)کامحل وقوع Piyerloti Caddesiمحلہ چیمبر ٹاش ہے اور قدرے اونچائی پرواقع ہے۔اس کے گرد وہاں5 گلیاں کھلتی ہیں۔سارا علاقہ ہوٹلوں ،کھابوں اورقالین فروشوں سے بھرا ہوا ہے۔ہوٹل کے سامنے ایک قدیم تاریخی آثار واقع ہے۔رومن اوربازنطینی ادوار میں سارے شہر کو مختلف چشموں کاپانی سپلائی ہوتاتھا۔پانی کی فراہمی کا یہ نظام سارے استنبول شہرپرپھیلا ہواتھا۔پانی کے 
ذخیر ے جگہ جگہ سنگ مرمر اوردوسرے پتھروں سے تعمیر کئے گئے تھے۔ Shariffen Cistern ذخیرے کانام ہے جہاں سے مقامی آبادی پانی حاصل کرتی تھی۔نام سے تو گماں گذرتا ہے جیسے یہ پاکستان کے شریف خاندان کا کوئی کارنامہ ہے لیکن اس نام کاذخیرہ دیکھنے کے لئے تین منزلیں نیچے اترناپڑا۔نمونے کے طور پرپانی اب بھی وہاں جمع کیاگیا ہے اوراس میں پرانے ستونوں کومرمت کرکے اوراُن کے گرد لوہے کے کڑے ڈال کر بحال کیاگیاہے۔دیواروں پر تصاویر لگائی گئی ہیں اورعمارت کے بعض پرانے نقوش کونمایاں کیاگیاہے۔سطح زمین سے نیچے ذخیرے کودیکھنے کے لئے ایک لفٹ بھی لگائی گئی ہے۔چھتیں پرانی چھوٹی اینٹوں کی ہیں ۔یہ حصہ زیادہ قدیم ہے۔عمارت باہر سے جدیدفنِ تعمیر کاخوبصورت نمونہ ہے۔
ہوٹل کے سامنے ایک بڑی سڑک نما گلی تھی جس پر صرف پیدل ہی گزرتے تھے۔یہ گلی چوک کے نچلی طرف والے رہائشی سیاحوں کواُوپرکی جانب ایک بڑی دیوان روڈ سے ملاتی تھی چنانچہ سیاحوں کے گروہ،جوڑے ہوٹل کے سامنے سے گزرتے تھے۔جاپانی سیاحوں کے ایک گروپ کے آگے گائڈ ایک جھنڈا لئے اُنہیں سیر کروارہاتھا۔مجتبیٰ کے ساتھ قریبی گلیوں کی سیر کی ۔ یہاں دفاتر،حمام،مالش گاہیں اورٹورشاپس بھی ہیں ۔اس علاقے میں عام استعمال کی اشیاء کی دکانیں نہیں ہیں ۔ہرطرف گاڑیاں ، اکثر بڑی اورشاندار جیسے نئی نویلی ہوں۔کئی جگہوں پر میری شلوار قمیض سے دیکھنے والے انڈین سمجھتے اور پاکستان اور اسلام کے حوالے سے میرے جواب میں پرجوش اظہار ملتا تھا۔محلے کی ایک گلی میں چھوٹا ساقبرستان ہے جس کے ساتھ ایک خانقاہ (1450ع ) موجود ہے ۔قبے کے نیچے ایک قبر تھی۔رنگین چادراوڑھے ،دروازہ منقش اورباہر سے مقفل ۔اسی احاطے میں ایک اور عمارت ہے جو پہلی نظر میں ہوٹل یارہائش لگتی ہے لیکن نوٹس سمجھنے پرمعلوم ہوا کہ یہ مسجد ہے۔مسجد کے باہر وضوگاہ ہے۔ پتھر کے سٹول پربیٹھ کر وضو کیاجاتاہے، ہرٹوٹی کے اوپر بڑے سائز کاٹشوپیپر ہے تاکہ وضو کے بعد اعضا خشک کریں۔محلے کی اس تاریخی مسجد میں ظہر اورعصر جمع کرکے قصر نمازیں ادا کیں۔دیوار سے دیوار تک قالین ،صاف ستھری،کوئی مہک نہیں،کوئی جالایا مٹی نہیں،دروازے اور کھڑکیوں پرسادہ مگر خوبصورت فریم۔ چھت منقش، دلکش بیل بوٹوں کے ساتھ اونچامنبربہت خوبصورت جومحراب کے ساتھ بناہواتھا۔امام کئی سیڑھیاں چڑھ کر خطبہ پڑھتاہے۔منبرکے دروازے پر آرائشی پردہ،چھت کے نیچے درمیان میں شیشے کا نفیس فانوس۔مسجد میں سو کے لگ بھگ نمازیوں کے لئے گنجائش ہے۔ایک جانب مختلف رنگوں کی تسبیحیں لٹکی ہوئی ہیں یعنی نمازی نماز سے پہلے یابعد میں تسبیح پڑھنا چاہیں تو جاتے وقت سٹینڈ سے لٹکا دیں۔مشرقی جانب بہت دیدہ زیب الماریاں جن میں قرآن کے نسخے موجود ہیں،باترجمہ اوربغیر ترجمہ دونوں۔مصحف کی مقامی پرنٹنگ کامعیار بہت اعلیٰ اوردیدہ زیب ہے۔کوئی نسخہ بوسیدہ یاپرانا نہیں ہے۔الماری میں اوربھی کتابیں تھیں جن کااندازہ نہیں ہوسکا۔مسجد کی ہرچیز اتنی تازہ اورخوبصورت جیسے آج ہی مکمل ہوکر استعمال میں آئی ہو۔گویا سامان دینے والے اورسامان استعمال کرنے والے دونوں بہت محتاط۔
ہوٹل دوسری عمارتوں کی طرح چارمنزلہ ہے۔سیڑھیاں ،لفٹ،Censorلائٹیں یعنی آپ نیچے آئیں تو بلب روشن،کمرہ چھوٹا مگر مکمل،دو بیڈ،ڈریسنگ ٹیبل، کرسی، سامان سٹینڈ،دیواری آئینہ،آئینے کے اندر ٹی وی فٹ وہ اس طرح کہ آئینہ کاآئینہ اورکچھ حصے پرسکرین جیسے طلسمی آئینہ ہو۔اے سی،فون،وائی فائی،فریج ،سلیپر، چائے کاسامان،پانی،ٹشوز،باتھ روم مناّسا مگر تمام سہولیات موجود۔باتھ روم میں نہانے کے لئے الگ سے شیشے کاخانہ جسے اندر سے سمیٹ لیں اورشاورلیں۔غسل خانہ میں داخل ہوکر اندازہ ہوا کہ باتھ روم میں کوئی لوٹا یامسلم شاور نہیں، بات تشویش ناک تھی۔تحقیق پرجانا کہ یہ محض کموڈ نہیں بلکہBidetہے۔اس میں طہارت کاکام پانی کی موٹی دھارخود سرانجام دیتی ہے آپ دل میں صرف شکراداکرتے ہیں۔ڈکشنری کے مطابق 'بدعت (Bidet)'کی تعریف یہ ہے:
A low mounted plumbing fixture or type of sink intended for washing private parts!
ہوٹل کے کمرے میں پہلے تو ٹی وی نے حیران کردیا کیسے دیواری آئینے کے اندر سکرین جڑی ہوئی ہے۔تمام چینل ترکی زبان میں۔استقبالیہ سے مدد چاہی تومعلوم ہوا کہ ملک میں دو ہزار سے زائدچینل ہیں اورسارے ترکی زبان میں ہیں۔بڑی مشکل سے الجزیرہ مل پایا۔اس میں سعودی صحافی خشوگی کی گمشدگی کی خبرتھی۔ CNNبھی یہاں ترکی زبان میں ہے انگریزی میں نشر نہیں ہوتا۔حیران کن کہ ترکی چینل پر اس طرح کے نظر سوز نظارے نہیں تھے جیسے ہمارے ملک کے ٹی وی چینلزپرکھانے پینے،موبائل فونوں کے لچر اشتہار کی صورت میں دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ مسلم یورپ تھا اورہمارا اسلامی پاکستان ہے۔
ہوٹل انطیہ کے پیکج میں صبح کاناشتہ شامل ہے۔ناشتہ بوفے کی شکل میں صبح 7:30بجے تیارہوتاہے۔ایک ہال میں میز کرسیاں بچھی ہیں۔ایک جانب کھانے، پینے کا وافرسامان سجاہوتاہے۔ایک میز پر مختلف قسموں کے کارن فلیک، خشک انجیر اورمیوے ہیں ساتھ ٹھنڈادودھ موجود ہے دوسری طرف روٹیوں کے ساتھ ترکوں کی مرغوب روٹیcimit جوخشک اور تِلوں والی ہوتی ہے چھ قسم کے سالن ، ابلے انڈے ، آملیٹ ، پنیر کی نصف درجن اقسام ، شہد ، جام، مکھن ، درجن بھر ترکی کی سبزی والی ڈشیں ہوتی ہیں جن میں بینگن ،آلو اور ٹماٹر نمایاں ہوتے ہیں،مختلف قسم کاسلاد،تازہ انجیر،دہی،نیم گرم پانی،مکس کافی،اورنج جوس اورسٹرابری جوس کے ساتھ ترکی چائے،کافی اورکالی چائے بھی دستیاب ہوتی ہے۔مختلف طرح کے کیک اور بسکٹ بھی تھے۔یہ ناشتہ ایسا نہیں ہے کہ زیادہ کھایا جاسکے یادیر تک معدے میں ٹکا رہے ۔ چنانچہ یہ ناشتہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ سارا ناشتہ سیلف سروس پرہے۔یعنی خود اُٹھیں ،پلیٹیں/گلاس اُٹھائیں اوراپنی پسندکی چیزیں لے کر ایک میزپربیٹھ جائیں،ختم ہوجائیں تو اسی پلیٹ میںیانئی پلیٹ میں اورسامان لے آئیں ،کھاپی کر برتن میز پر چھوڑ کراُٹھ آئیں۔دوران خورونوش کوئی بیرا ہال میں نہیں رہتا تاکہ مہمان پورے اطمینان سے اپنا کام کرتے رہیں۔ہال کے ایک کونے میں ایک ڈبہ ہے جس پرTIP لکھا ہوا ہے۔جب اورجتنا جی چاہے خدمت گاروں کی خدمت کرد یں ۔ جس روزجانا تھا اُس صبح امیر سفرنے کھلے دل کے ساتھ ڈبے میں ٹپ انڈیل دی۔
23 اکتوبر2018ع بروز منگل:
صبح سوا چھ بجے آنکھ کھل گئی کھڑکی سے باہر اندھیرا تھا۔نیچے کوئی آمدورفت یا آوازیں نہیں تھیں۔کمرے کی آدھ کھلی کھڑکی سے پہلے اذان پھر اذانیں سنائی دینے لگیں۔ اذان کی رعایت غالباً جامع مساجد کوحاصل ہے۔چھوٹی مسجدوں میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال ممنوع ہے۔وضو کرکے نکلاتوذہن میں ٹورازم کانقشہ تھا۔جاتے وقت پہلے چڑھائی اورپھراُ ترائی تھی چنانچہ کیپا تاش سٹیشن سے ہوتا سلطان احمد سٹیشن سے گزرتا ایاصوفیہ کے پاس پہنچ گیا۔اکادکاٹرام چل رہی تھی۔عملہ صفائی اپنے کام میں مصروف تھا۔ اصل میں یہ سلطان احمد چوک ہے۔ اس چوک کے اندراورکناروں پراستنبول بلکہ ترکی اورقدیم تاریخ کے بہت اہم آثار موجود ہیں۔صبح کے وقت مسافرخصوصاً خواتین اپنے دفاتر کی طرف رواں تھیں بعض سگریٹ کے کش لگاتی ہوئی۔اس وسیع چوک کے اندر ایک اور چاردیواری ہے، اس کے ایک قدیمی دروازے سے لوگ اندرجارہے تھے میں اسی سمت ہولیا۔اندر کی چاردیواری میں پودے اورگھاس کے پلاٹ تھے۔جانب شمال مینارتھے ،اُن کے نیچے ایک دروازے سے دوسروں کے ساتھ میں بھی سیڑھیاں چڑھا توسامنے مسجد کادالان تھا۔ایک گارڈ موجودتھا جو جوتوں کے لئے شاپر نکال کردے رہاتھا۔جوتے سنبھال کرمسنون دعاکے ساتھ اندرداخل ہوا۔مسجد میں تعمیر ومرمت کے لئے کوازے لگے ہوئے تھے۔ایک جگہ رکاوٹ رکھی تھی اورلکھاتھا کہ غیرمسلم وزیٹراس سے آگے نہیں جاسکتے۔تحیتہ المسجد اداکئے۔لوگ نماز فجرکے لئے آرہے تھے۔نمازیوں میں زیادہ تر معمر لوگ تھے مگر جوانوں کی تعداد بھی تھی۔لباس سبھی کاپتلون اوراکثر کے سرپر کپڑے کی سفید ٹوپی تھی۔ایک اونچی جگہ سے مکبر نے تکبیر پڑھی۔اس پلیٹ فارم کے نیچے تحریرتھا:
یاحضرت بلال حبشیؓ
تھوڑی دیرمیں امام صاحب ایک کونے سے برآمدہوئے۔ان کے سرپرترکی علماء کی خاص ٹوپی تھی اورپتلون کے اوپرچغہ تھا۔انہوں نے نمازیوں کواگلی صفیں پوری کرنے کوکہا۔امام صاحب کی قرأت سادہ اوربہت واضح تھی ایسے جیسے پنجاب کا کوئی حافظ قرات کررہاہو۔تسبیحات پڑھنے کے بعد امام صاحب نے عربی میں دعائیں کیں۔درمیان میں لوگ اپنی اپنی دعائیں مانگ کر اٹھتے بھی رہے۔عورتوں کے نماز کا الگ حصہ داخلی دروازے کے پاس ہے۔ فجر کی نماز میں کالے برقع پوش خواتین کی معقول تعداد تھی۔
مسجد سلطان احمد جسے غیر ملکی سیاح اس کے گنبدوں کی رنگت کی وجہ سے بلیو مسجدبھی کہتے ہیں،سترھویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔یہ واحدمسجد ہے جس کے چھ مینار ہیں یہ شہر کی ایک خوبصورت ترین عمارت ہے اوراستنبول کے ساتھ خاص ہے۔مسجد کی چھتیں بہت شوخ رنگوں سے منقش، زر نگار ، مرمت کا کام جاری،گنبدوں نیچے اندرونی صحن میں چاروں طرف بالکونیاں، دیواروں پر اعلیٰ قسم کی لکٹری اورشیشے کا استعمال،مسجدکے قالین صاف ستھرے، گرد اوربدبو سے پاک،فارغ وقت میں بعض نمازی موبائل میں مگن،مسجد کے باہر نکلیں تو سامنے خوبصورت سبزہ اورپھول ۔ صبحدم کبوتر اوردوسرے پرندے دانہ چگنے موجود تھے جن کی زائراورسیاح بڑی محبت سے تواضع کر رہے تھے۔مسجد سے باہر خوبصورت سرسبز تختے، سیگل، کبوتر، کوے، مرکز میں فواروں کی خوبصورت بہار اوراُن کاایک متوازن رقص،چاروں طرف چھوٹے بڑے،مردوزن دیکھتے ہوئے اور سیرکرتے ہوئے،ایک طرف ایاصوفیہ کاسنجیدہ گنبد اور چارنازک مینار،سلطان احمد کامقبرہ اور اس کے اردگرد دوسرے آثار،ایک پرسکون،مسحور کن منظر۔
پہلے روز کچھ جیٹ لیگ اورکچھ سفر کے رتجکے کے باعث بے حد تھکاوٹ ہوئی تھی چنانچہ رات گھوڑے بلکہ لیرے بیچ کر سوئے تھے۔مجتبیٰ تو رات کے کھانے کے لئے اُٹھ بھی نہ سکا۔ہوٹل کے نردیک ایک دیسی یعنی ترکی ریستوران تھا جہاں سے چاول،لوبیا،آلوکباب اورمزیدار آئس کریم کا ڈنر کیا۔راستے میں ایک باربرشاپ نظرآئی۔حجام بڑی مہارت اور چابکدستی سے اپنے گاہک کی حجامت کررہاتھا۔یہ حجامت روایتی قینچی کنگھی کی مدد سے نہ تھی بلکہ حجام لائٹر کے شعلے کی مدد سے سر کے اضافی بال بھسم کررہاتھا۔گاہک بڑے آرام سے کرسی پردرازتھا۔بال آگ سے جھلسیں تو جلنے کی سڑاندآتی ہے مگر گاہک کے سکون اورحجام کے اعتماد سے حیرت میں اضافہ ہورہاتھا۔اسی دیوان روڈ پر اُونچی دیواروں کے اندرایک بڑارقبہ ہے۔زمین سے بلند دروازے کی سیڑھیوں سے لوگ اندر جارہے تھے۔دیکھاتو وہاں پچھلے سو سواسوسال پرانی قبریں تھیں۔پکی اورلوح پرتعارف کے ساتھ قبروں کی مختلف سطحیں ہیں۔ بعض ڈہائی تین فٹ زمین سے بلند ، اوپر پتھر کی سِل اورسامنے کی طرف ڈہائی تین فٹ کاستون۔سرہانے کی طرف نچلی سطح پردوپائے۔یوں لگتاہے جیسے بازلطینی ،رومن اورعثمانی تینوں ادوار کے آثار قبر کی صورت میں یکجاہوگئے ہیں۔بعض بالکل سادہ جیسی ہمارے ہاں غرباء اورشرفاء کی ہوتی ہیں۔لحد پرپھول سبزہ،بعض زمین کی سطح کے برابر مگرچاردیواری کے اندر۔
بڑے شہروں میں پرائیویٹ سواری یعنی ٹیکسی کافی مہنگی پڑتی ہے مگر چلتی وہ میٹر پر ہے ڈرائیور کی مرضی سے نہیں۔ٹیکسی محلے سے نکل کرساحل سمندر کے ساتھ دوڑتی سڑک کے ساتھ سمندر کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف۔درمیان میں کھاڑی ،اس میں کھڑی کشتیاں،بحرے،بحری بسیں جن میں بیٹھ کر سیاح بحیرہ فاسفورس،بحرہ اسود ، بحرہ مرمراورگولڈن ہارن کی بحری سیاحت کرتے ہیں۔سیاحت کے معلوماتی بروشر میں مختلف سیاحی مقامات کی تصاویر،مختلف جگہوں سے فاصلہ،سواری،کرایہ،کھلنے کے دن اوراوقات سیر غرض تمام اطلاعات درج ہوتی ہیں ٹیکسی نے ہمیں ایک پارک پر اُتارا یہMiniaturk Haritariکے نام سے ایک وسیع قطعہ ہے جو ساحل کے ساتھ ملحق ہے۔اس جگہ پر استنبول شہر اورانطونیہ کے تاریخی مقامات،اہم عمارات اورقابل ذکرآثار کے نمونے بنائے گئے ہیں۔ہو بہو اصل کی چھوٹی سی مُنّی سی نقل ، نفاست،باریکی اورخوبصورتی کے ساتھ۔ اس نمائش میں116 کے لگ بھگ آثار بنائے گئے ہیں جن میں سلطان احمد(بلیو) مسجد،پارلیمنٹ،آگسٹس کا گرجا،کوہ نمرود ،ٹوپ کاپی محل ،سلیمانیہ مسجد،حاجیہ صوفیہ ،اتاترک کامقبرہ،اتاترک پل،فاسفورس پل،ایوب سلطان مسجد،قسطنطین کے حجری کالم،The Basillica Cistern،استبول کی فصیل،The Dome of Rock مسجدالاقصیٰ وغیرہ شامل ہیں۔یہ تمام آثار اعلیٰ دستکاری اورشاندارفنکارانہ مہارت کا نادر نمونہ ہیں۔دیکھنے میں بالکل اصل مگر سائز میں پستہ قد۔زیادہ تر سکولوں کے بچے پورے نظم اورضبط کے ساتھ ۔کرسی نشین بزرگوں کے لئے وھیل چیئر دستیاب ،کیفے ٹیریا ، لائبریری ،ہال،مسجد،کیبل ۔یہ وزٹ احمد مجتبیٰ کے لئے تھی تاکہ شہرمیں جو قابل دید جگہیں موجود ہیں اُنہیں ایک نظردیکھ لے اور پھرجو اسے پسند آئے اس کوزیادہ توجہ اورغورسے دیکھے۔لیکن یہی اُصول بڑوں کیلئے بھی کارآمد رہا۔
Rahmi M. Koc Muzesi رحمی میوزیم ایک شاندار میوزیم ہے جو ایک تاریخی عمارت میں بنایاگیاہے۔یہ میوزیم خاص طورپرترک تاریخ ،ترک انقلاب، ذرائع سفر،صنعت وحرفت اورمواصلات سے متعلق ہے۔اس میوزیم میں اہل حرفہ، دستکاروں،انجینئراورمحنت کشوں کی مہارت ، محنت اورنفاست کے شاندار نمونے رکھے گئے ہیں مثلاًNavigation, Railway, Aviation, Communication & Scientific Devices, Steam Engines ۔
سمندر ترکوں کی تہذیب اورتاریخ کا اہم حصہ ہے۔ایک وقت تھا جب ترک بحیرہ روم،بحیرہ اسود اور بحیرہ اوقیانوس کے بلاشرکت غیرے بادبان تھے۔مغرب کے لئے ترک امیر البحر باربروصہ ایک افسانوی نام تھا۔جس کی زبردست بحری مہارت اور جنگی لیاقت سے مغرب خوفزدہ تھا۔دوتین جگہوں پراہل حرفہ جس طرح بحری کشتیاں بناتے ہوئے کام کرتے دکھائے گئے ہیں اُن پر اصل کاگمان ہوتا ہے۔ایک چھوٹا بحری جہاز،پرانی کاریں،ریلوے ٹرین وغیرہ محفوظ کئے گئے ہیں۔یورپ کی اورنیٹ ٹرین - حجاز ٹرین جب ترکی نے دمشق کے راستے عرب کوزمینی راستے سے جوڑاتھا۔لارنس آف عریبیا نے عربوں کی مدد سے اس لائن کواُڑایا تھا۔
طلباء کے لئے ایک ہال میں ITسے متعلق نمائش ہے۔ایک کمرے میں ٹیچر طلبا کوسمجھا رہی تھی جووزٹ کے لئے آئے تھے۔ یہاں بچے مختلف مشینوں کوکھول سکتے ہیں۔ بعض مشینوں کوبجائے دھاتی کورکے پلاسٹک سے کورکیاگیاہے تاکہ مشین کے تمام حصے بچے دیکھ سکیں۔حیرت تھی کہ بچوں کے غول کے غول اس حصے میں بہت دلچسپی لے رہے تھے۔کہیں ڈانٹ ڈپٹ یابدنظمی نہیں تھی۔یہ حصہ سب سے زیادہ بارونق تھا۔
میوزیم میں ترکی تہذیب وثقافت کونفیس پتلیوں اورخوبصورت مجسموں کی شکل میں زندہ بنادیاگیاہے۔ایک گیلری میں جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک1873)ع1938--ع)کی ذاتی اشیاء کومحفوظ کیاگیاہے۔ایک طرف دستکاروں اورمحنت کشوں خصوصاً لوہار ، موچی،حکیم،دواساز،ترکھان،ریلوے بابوکے کمروں کواس طرح سجایا گیاہے جیسے وہ ابھی کام کررہے ہیں،پس منظر میں اس دکان سے اُٹھنے والی آوازوں کو بجایا جاتا ہے۔کمرے میں وہ تمام سامان اصل حالت میں نظر آتا ہے جوان دستکاروں کے زیر استعمال رہاہوگا۔دکانوں کامنظر بالکل اصلی دکھائی دیتاہے۔
دوبڑے ہالوں کی دومنزلوں میں ترکی کی تیارشدہ ہیوی مشینری رکھی گئی ہے۔دیکھنے والا متاثر ہوتاہے کہ اس ملک میں اتنی صلاحیت ہے کہ بڑے بڑے منصوبوں میں کام آنے والی مشینیں خودڈھالتاہے۔ایک جگہ پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی جیسے بعض جگہوں پروزن کرنے والی یاکوک فراہم کرنے والی مشینیں رکھی ہوتی ہیں۔مشین کہہ رہی تھی اپنی تحریر سے کہ اس میں آپ تین سکے لیرا ڈالیں اورپھرمشین کاہینڈل متعدد بارگھمائیں توآخر میں آپ کوایک مخروطی یادگاری سوئینر بناملے گا جودراصل لیرا کے ایک سکے کومسلسل دباؤ سے پچکا کربنایاجاتاہے۔مجتبیٰ نے سکے ڈالے اور لگازور آزمانے۔چند چکروں کے بعد ہینڈل بہت بھاری ہوگیا اور نیاخون سوچ میں پڑگیا۔تب پرانے خون نے بازو کسے اورزورلگاکریادگاری سوئینرحاصل کرلیا۔ کھیل کھیل میں مشین کو دولیرے بچ گئے اورسیاح کو یادگاری سکہ!
ایک جگہ ایسے فنکار ے دھرے تھے جن میں آرٹسٹوں نے بڑی محنت اورنفاست سے شیشے کی بوتلوں کے اندر مختلف کشتیوں کے نمونے بُنے ہوئے تھے۔بعض نمونے انتہائی مشکل اورپیچیدہ نظر آتے تھے جنہیں دیکھ کرحیرت ہوتی تھی کہ کیسے فنکار نے بوتل کے اندر پہونچ کربڑی محنت سے بُنائی کی ہے۔ 
رحمی میوزیم میں سرخ رنگ کی ایک قریباً سو سالہ پرانی فورڈ کھڑی تھی۔سیاح بغیر لیرا اس کے اندر بیٹھ کر،پاس کھڑے ہوکرسیٹ پر سٹیرنگ تھام کرتصویریں لے سکتے تھے۔ سیاحوں خصوصاً مجتبیٰ نے بڑے شوق سے اولڈفورڈ کے ساتھ یادگارتصویریں بنائیں 
مجتبیٰ اورعائشہ نے وہاں ایک آبدوز کی سیر کی۔یہ1944ع کی امریکہ میں بنی ہوئی Submarine TCG ہے جوجنگ عظیم دوم کے بعد ترکی کوملی۔ جہاں اُس نے تیس سال خدمات سرانجام دیں۔اس کے اندر84ملاح کام کرتے تھے۔آبدوز کااندرونی حصہ بہت تنگ،چھوٹی سیڑھیاں اورچھوٹے راستے۔ایک بار توخوف ہی آتا ہے۔اندرگویا ایک مِنی محلہ آباد ہوتاہے جہاں اجنبی گم بھی ہوسکتاہے۔
24اکتوبر2018ع بروزبدھ:
ناشتے سے فارغ ہوکرسیاح پیدل ہی میدان سلطان احمدکوچل دئیے۔ ہوٹل سے زیادہ سے زیادہ ایک کلومیٹر کافاصلہ ہوگا۔
سلطان احمد چوک بازنطینی دور میں Hippodrome یعنی گھوڑا چوک، عثمانی عہدمیں اور موجودجمہوری زمانے میں سلطان احمدچوک کہلاتاہے۔اس چوک میں خونیرنری،جنگ وجلدل اوربغاوتوں کی داستانیں چھپی ہوئی ہیں۔اس چوک کے اردگرد اوراس کے اندر بہت آثار واقع ہیں۔
ترکی میں ٹورازم کے شعبے کے بعددوسرا موثر ترین شعبہ اوقاف دکھائی دیتا ہے کیونکہ سلاطین کی یادگاروں میں زیادہ مساجد اورمقابرہیں اور یہ محکمہ بہت مستعد اورفعال نظرآتاہے۔محکمہ Turk Edebiyatist Vakfiجس کے زیرنگرانی تمام مقابر،مساجد اورمدارس ہیں اُن آثار پر ابھی تک فارسی ،عربی کے کتبے نصب ہیں۔فارسی کے اشعار بہت خوبصورت خط میں لکھے ہوئے ہیں ۔ دیوان روڈ کی اس وقف عمارت پر مکتب لکھا ہواہے اورایک کتبے پرکسی حافظ مصطفی 1864ع کانام مرقوم ہے جو شاید اس مکتب کے بانی ہوں گے۔ایک اورسنگی قبہ جس کے چاروں طرف خوبصورت ٹوٹیاں لگی ہوئی ہیں۔یہ رومن دور کی آب رسانی کاایک نقش ہے ۔چونکہ شہرپہاڑیوں پر واقع ہے اس لئے یہاں چشموں کی فراوانی تھی۔یہ پانی شہر کے بعض مقامات پراکٹھا کیاجاتا اورپھر مخصوص جگہوں پر پبلک کو استعمال کے لئے مہیاکیاجاتاتھا۔اس چوک میں آوارہ کتوں کے غول نظر آئے ۔ بڑے موٹے تازے مگر مہذب قسم کے جیسے وہ مہمانوں سے مانوس ہیں اورانہیں دل سے آؤجی کہتے ہیں۔
پہلے چڑھائی تھی مگر تمام مسافر تازہ دم اور تجسس سے شرسارتھے۔بلیومسجد سے ملحق صحن سے باہر ایک عمارت ہے جومسجد کے بانی بادشاہ اوراُس کے اہل خانہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ایک حصے میں مزارات اورساتھ ایک مدرسہ کابورڈ لگاہوا ہے جو عثمانی دور میں قائم تھا۔مزارات سے پہلے ایک برآمدہ ہے جہاں زائرجوتے اتار کر شاپر میں ڈالتے ہیں۔خانقاہ کے اندرپہلے چھوٹی بڑی قبریں ہیں۔قبر کی پائنیتی کی طرف ترکی زبان میں مدفون کانام ہے۔ لحدپرسیاہ غلاف جس کابارڈر نیلا ہے ۔ سرہانے کی طرف تعویذ اونچاہے جیسے لیاقت کیپ ۔اگلی طرف زیادہ اونچی اوربڑی قبریں ہیں۔ہرقبرکے سرہانے سفید رنگ کاپھول نماعمامہ دھراہوا ہے۔ کمرے کی چھت منفش اورزرنگار ہے۔ کھڑکیاں بڑی اور کمرے کوروشن رکھتی ہیں۔اگلی صف میں سب سے بڑی اور اونچی قبرہے اس کاغلاف بھی سیاہ ہے۔ ھوالباقی کے نیچے"جنت مکان فردوس آشیاں السلطلان الغازی"کے ساتھ سلطان احمد کانام ،ولادت،جانشینی اور وفات 1024)ھ)عربی میں درج ہیں۔سلطان احمداول(1617 - 1603) غالباً مغل بادشاہ اکبراعظم کاہم عصر تھا۔
اگلا پڑاؤ ٹوپ کاپی محلTop Kapi Sarayi (Palace) Museumتھا۔
سمندر کی جانب اس کے ساتھ پیدل چڑھتے ہوئے ٹوپ کاپی کی عمارت میں داخل ہوئے ۔مین گیٹ کے سامنے سیاحوں کا ایک سمندر موجرن تھا۔رنگ رنگ کے،ملک ملک کے۔ٹکٹ لینے والوں کی لمبی قطار تھی۔عام ٹکٹ60لیرا،طالب علموں اورسینئر شہری کے لئے رعایت تھی چنانچہ سہولت سے استفادہ کیا۔شروع میں ایک جگہ تیزرفتار ٹکٹ کابورڈ لگاہواتھا۔اس کامطلب یہ تھا کہ اگر آپ قطار میں لگنا پسند نہیں کرتے تو30لیرااضافی دے کر جلد اندر جاسکتے ہیں۔باہر ایسی آڈیوکیسٹ مل رہی تھیں جنہیں سن کر آپ گائڈ کے بغیرٹوپ کاپی کی بہترجانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔ وھیل چیئر ساتھ ہو تو ہرجگہ ایسے سیاح کو ترجیح اورسبقت دی جاتی ہے۔ داخلے کے وقتScannerسے گزرناپڑتاہے۔
داخلی دروازے کے اوپر خوبصورت عربی میں کلمہ طیبہ لکھا ہواہے۔مین محراب کے اوپر طغریٰ ہے اوردروازے کے دونوں طرف شاہی طغریٰ کے نیچے آٹھ آٹھ فارسی اشعار ہیں۔یہ سب تحریریں سنہری حروف میں ہیں۔عمارت کے اندر دروازے کی پشت پر عربی فارسی زبانوں میں خوبصورت اشعار درج ہیں۔ شاید اتاترک کاانقلاب ان آثار کونہیں مٹاسکا۔
وزٹ کے آغاز میں سارے محل کا ایک منی ماڈل ہے جہاں ایک نظر میں تمام جگہوں کااندازہ کیاجاسکتاہے۔پہلا حصہ بڑی بڑی چھتوں کے نیچے،کچن کے مختلف حصے ہیں جہاں محل والوں اورشاید متعلقہ لوگوں کے لئے کھاناتیار ہوتاتھا۔کھاناپکانے ، کھانے پلانے کے برتن،بڑی بڑی دیگیں،چمچ ،مختلف قسم کے شیشے اورچینی کے ظروف۔ایک جگہ کچن میں استعمال ہونے والے مسالہ جات کی فہرست تھی جوعربی زبان میں تھی اوراشیاء کے تعداد سواسو سے زائدتھی ۔زیادہ اجزاء ہندوستان سے در آمدہ تھے جو اُن کے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے۔ چمنیاں قبہ نما ہیں جن کے نیچے چھوٹی پکی اینٹ کی چھت ہے۔
شالیمار باغ کی طرح محل کے مختلف حصے ہیں۔یہ حصے آنے والے بادشاہوں نے تعمیر کئے ہیں۔ایک عمارت کے باہرصدر دروازے پر بسم اللہ الرحمان الرحیم اورجگہ جگہ عربی آیات اور فارسی مصرعے درج ہیں۔ایک حصے پر" شہر یارپرکرم ظل جناب کبریا" جیسے ایک اردوفقرہ ہے مگر یہ قدیم ترکی ہے جوفارسی رسم الحظ میں لکھی جاتی تھی۔بعض عمارات سلطان محمود ابن خان عبدالمجید اورسلطان عبدالحمید کے عہد کی ہیں ، ان سب میں فارسی اورعربی کااثرنمایاں ہے۔کیونکہ تب ترکی زبان فارسی رسم الحظ میں لکھی پڑھی جاتی تھی۔قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے1478 ع میں یہ محل تعمیرکروایا تھا۔اس کے بعد آنے والے دیگر سلاطین نے تعمیرات جاری رکھیں۔یہ عمارت ایک پہاڑی پرواقع ہے جہاں پہلے باز نطینی محلات ہواکرتے تھے۔قریباً چار صدیوں تک یہ عمارت عثمانی بادشاہوں کے زیر استعمال رہی۔اس عمارت کے حصے میں قدیم نواردات اورتبرکات بھی رکھے ہوئے ہیں جن کودیکھنے والوں کی قطار بہت لمبی ہوتی ہے۔دیوان عام وخاص،لائیبریری ، آرام گاہیں۔ایک جانب سمندر ہے جو حفاظت کے ساتھ ساتھ خوش منظربھی ہے۔
ترکوں کی اصل ترکی زبان کارسم الحظ فارسی تھا،اتاترک نے اس کولاطینی رسم الحظ یعنیA,B,Cسے بدل دیا۔بیسویں صدی کے جدید ترکی کی سیکولر پالیسی کے تحت عثمانیوں کا اسلامی تشخص دبانے اورمٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔اتاترک کی اپنی ابتدائی تعلیم تو دینی مدرسے میں ہوئی تھی مگر سلطان عبدالحمیدخان کے ساتھ مخالفت ، یورپی اثرات،مغرب سے مرعوبیت، مولوی اورصوفی کے اسلام سے بیزاری اور جدت پسندی کے باعث ماضی کے اسلامی اورعثمانی رشتے سے تعلق کاٹا گیاہے۔اس منقطع رشتے کے پرانے آثار سب سے زیادہ ٹوپ کاپی کی پرانی عمارتوں اور مزارسیدنا ابو ایوب انصاریؓ اور اس کے ساتھ ملحقہ مسجد میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
ترکی میں مقامی اوربیرونی تمام سیاحوں کا لباس پتلون شرٹ ہے مگر اس میں اشتعال انگیزی بہت کم ہے وہ بھی اس لئے کہ دیکھ دیکھ نظریں عادی ہوجاتی ہیں۔زائروں اور سیاحوں کو اپنے کام سے کام ہے۔دوسرا کیاپہنے ہوئے ہے،کیاکھاپی رہاہے،کہاں بیٹھاہواہے کسی کواس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ہمارے خدائی فوجدار اورمذہب کے اجارہ دار توچوک چوراہے بلاک کر دیں اورکسی غیرمذہب یاغیرملکی سیاح کاپاکستان میں جینادوبھرکردیں۔ایک ترک گروپ نے شلوارقمیض دیکھ کرہندی سمجھا لیکن جب میں نے بتایا کہ مسلمان اورپاکستانی ہوں تو سینے پرہاتھ رکھ کربہت خوش ہوئے۔ٹوپ کاپی محل میں رہنے کاسامان دیکھیں تو وہ موجودہ عہد کے سرمایہ داروں ، جاگیر داروں سے بہت کم اورہلکا نظر آتا ہے۔ آج جو سہولتیں کسی بادشاہ یاصدرکو حاصل ہیں اب وہ ہر جگہ عام آدمی کے پاس بھی ہیں۔لوٹتے ہوئے کھانا سڑک کنارے (فٹ پاتھ)ریستوران سے کھایا۔یہ چوک سلطان احمدکاایک حصہ ہے۔دلچسپ کھاناشکرقندی کے اندرسبزیاں اور مسالوں کاملغوبہ تھا۔بلیاں شہر میں کثرت سے اوربہت فرینڈلی ہیں۔مجتبیٰ نے کھانا کھاتے ہوئے ایک سیاہ رنگ والی موٹی تازی بلی کوپچکارا،ہاتھ سے سہلایا تو وہ فوراً مانوس ہوگئی۔
یہا ں دنیابھر سے سیاح ملک ملک سے آتے ہیں ۔یہ پہچان مشکل ہے کہ کون مسلمان ہے اورکون غیرمسلم! خواتین کو گردن یا کمر سے اوپر توحجاب سے مسلمان پہچانا جاسکتاہے لیکن مردوں میں یہ تخصیص نہیں ملتی ۔کمر سے نیچے مرد ہویاعورت ،ترک ہویاغیرترک سارے انسان یکساں نظرآتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر کاپہناوا پتلون ہے۔سکرٹ کم نظرآئی۔عورتوں کی پتلون البتہ ان کے جسم کے عین مطابق ہوتی ہے۔بعض خواتین اورکچھ مرد ترک شلواروں میں نظرآئے۔ترک شلوار جسے ترکی زبان میں بھی شلوارکہتے ہیں سندھی شلوار کی طرح بڑے گھیرے والی ہوتی ہے۔
25اکتوبر2018ع بروزجمعرات:
اذان سے پہلے آنکھ کھلی تو زور کی بارش ہورہی تھی۔چوراہا اورراستے سنسان تھے ۔ ہوٹل کا رقبہ زیادہ نہیں،کنال سے بھی کم ہے۔عمارت کی پانچ منزلیں اورہرمنزل پر10کمرے ہیں۔چھوٹے سے کمرے میں ضرورت اورسہولت کی ہرچیز میسر ہے۔طلب کرنے پراستری اور تختہ بلا معاوضہ مل جاتی ہے۔ہوٹل اونچائی پرواقع ہے۔مغرب کی جانب سمندر بہت قریب ہے۔اہم تاریخی عمارات اورآثار قدموں کے فاصلے پرہیں۔چوراہے پرکوئی شور شرابا،ریڑھی بانی یاخوانچہ فروش نہیں ہو تا ۔ صفائی کا عملہ آکرکچرے دان خالی کرتا ہے۔پھر وقفے وقفے سے چکر لگاتا رہتا ہے۔ہماری طرح سگریٹ کے لئے الگ سے دکانیں نہیں ہیں لیکن سگریٹ نوشی عام ہے عورتوں اورمردوں دونوں میں۔یہ کام البتہ پبلک سواریوں،ہوٹلوں کے اندرنہیں ہوتا۔ٹیکسی کے لئے ہوٹل کے استقبالیہ سے کہہ دیں تو وہ ٹیکسی منگوادیتاہے۔
آج کاسفرSea Life Istanbolکی طرف تھا۔سمندر کنارے شہرکی پرانی فصیل کے ساتھ اورطویل راستوں سے گذرتی ٹیکسی استنبول فورم جا پہنچی۔اس راستے میں شہر کے جدید اورقدیم دونوں حصے نظرآتے ہیں۔قدیم فصیل کے بچے کھچے حصے بڑی محنت سے محفوظ کئے گئے ہیں اوریہ سلسلہ کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے غالباً قسطنطینہ کے حملہ آور سمندر کے راستے ہی آسکتے تھے اسے روکنے کے لئے پتھروں کی اونچی دیوار اس طرح بنائی گئی کہ دشمن اندر نہ آسکے۔
استنبول فورم ویسے توکئی منزلہ شاپنگ مال ہے لیکن اس کے نیچے SEA LIFE AQUARIUM تعمیر کیاگیاہے۔اس نمائش میں صرف سمندر کی آبی مخلوق جمع کی گئی ہے۔آغازSea Horseنامی شفاف کیڑے سے کیاگیاہے جوپانی میں بڑے مزے سے مٹک مٹک کرچلتاہے۔ اس کامنہ گھوڑے کے منہ جیساہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک لمبی سی غار ہے جس کے دونوں طرف پانی کے بڑے بڑے حوض ہیں ۔ان میں رنگارنگ کی اورمختلف سائز کی مچھلیاں ،سمندری کچھوے،ایل، آکٹوپس، مختلف نوع کی شارک مچھلیاں۔حیرت اس ایکوریم کی ساخت پرکہ جہاں نہ پانی کی سڑاندہے اورنہ مچھلیوں کی بساند۔روشنی ،آکسیجن سپلائی،خوراک،صفائی،روشنی آبی مخلوق کاتعارف۔ نمائش سے باہر نکلنے اورآنے کے لئے راستے، Escalator،Lift،وھیل چیئرتک چلانے کی سہولت حاصل۔چنانچہ مجتبیٰ حیوانات سے اپنی دلچسپی کے باعث سب سے زیادہ اس عجوبے سے محظوظ ہوئے۔
ایکوریم میں جانے سے پہلے ایک سرسری نگاہ مال پرڈالی۔باقی شہر کی طرح یہاں بھی ہردکان پرتمام معلومات ترکی زبان میں تھیں۔دکانوں میں سامان توتھا لیکن ابھی گاہک کم ہی تھے۔روپیہ اورلیرا کی ضرب تقسیم سے اندازہ ہوا کہ ریڈی میڈ کپڑوں کی بعض اقسام کے دام پاکستان سے ملتے جلتے ہیں۔جوتوں میں ڈسکاؤنٹ 20 سے70فیصد تک تھا۔صبح جس ٹیکسی پر گئے اس کے میٹر پردام 40لیرا بنے۔واپسی پربل 50لیراتھا۔عائشہ بجاطورپرمعترض تھی کہ ڈرائیور ہمیں ایک لمبے اوراس راستے سے لایاہے جہاں شام کوغیرمعمولی ٹریفک کارش ہوتا ہے۔خود اس نے چلتے وقت بتایاتھاکہ کرایہ40لیراتک آئے گا۔انگریزی تو عام ترکوں کی بہت واجبی سی ہے لیکن اُن کے تلفظ اورلہجے کو صرف عائشہ ہی سمجھ لیتی ہے۔تھوڑے سے احتجاج پر جب ٹیکسی کابل دیاتوڈرائیور نے بن کہے 10لیرا واپس کردئیے۔ایک ٹیکسی ڈرائیور کاسیاحوں کے ساتھ ایسا اچھا رویہ مہمان داری اورسیاحت داری کی یونیک مثال ہے۔
26اکتوبر2018ع بروزجمعتہ المبارک:
صبح سوا چھ بجے تیارہوکرہوٹل سے پیدل روانہ ہوا۔گائڈ ٹورسٹ نقشے کے مطابق ٹرام وے کاراستہ چنا اور اس کے ساتھ ساتھ چل نکلا۔راہ گیر کم کم تھے۔عملہ صفائی اپنی یونیفارم میں مصروف کارتھا۔ٹرک کچرا اُٹھارہے تھے ۔روشنیاں آن تھیں ۔جہاں ٹرام کاراستہ الگ ہوا، میں اندازے سے ایک سمت میں چلتارہا۔راستے میں مسجد سلیمانیہ کاپوچھتارہا۔آخر ایک جگہ پہنچا جس کے اندر ایک بڑی سی عمارت کے خدوخال نظرآرہے تھے۔بغلی دروازے سے داخل ہوکردیوار کے ساتھ چلتاگیا۔پون چکر کاٹنے کے بعد دروازہ نظر آیا۔لوگ ٹوپیاں اورپہنے اندرجارہے تھے۔یہ مسجد بھی زمین سے کئی سیڑھیاں بلند ہے۔داخل ہوتے وقت جوتوں کی نگہداشت کے لئے شاپر کا بلامعاوضہ انتظام تھا۔یہاں بھی مسجد کے اندر کوازے(Scaffold)بندھے ہوئے تھے اورمرمت کاکام جاری تھا۔یہ مسجد بھی ترکی کے معروف معمار سناَن کاشاہکارہے۔1557ع میں مکمل ہوئی جب ہندوستان میں شیرشاہ سوری کی حکومت تھی۔اس مسجد کے ساتھ دینی مدرسہ،ہسپتال ،نعمت خانہ اور کچن بھی تعمیر ہوئے ہیں۔ اندر سے مسجد کی چھت منقش اورزرنگارہے۔مسجد میں فجر کی جماعت ہو رہی تھی۔چالیس پچاس کے لگ بھگ نمازی تھے۔بڑی صاف اورستھری تلاوت ، قاریوں کی عین غین کے بغیر۔امام صاحب معمول کی ٹوپی ،پتلون اورچغے کے ساتھ تھے۔دعا سے پہلے جلی اورخفی تسبیحات،عربی اورترکی میں دعائیں اور فاتحہ ۔ یہ لفظ بلند آواز سے کہا اورپھر دعاکی جاتی ہے۔بعض نمازیوں نے امام صاحب سے مصافحہ کیا۔میں نے بھی آگے بڑھ کرمصافحہ کیا اورتعارف کرایا لیکن امام صرف مسکرادئیے۔گویاسمجھے نہیں یامسافر کو کچھ اورسمجھا۔
8بجے پوچھتے پچھاتے ہوٹل لوٹا۔ناشتہ کرنے کے بعد مستورات تواستنبول کے مشہور شاپنگ مراکزیعنی گرینڈ بازار، سپائسی بازار کوہولیں جویہاں کے خریداری کی نمایاں مارکیٹیں ہیں۔مجتبیٰ اورمیں ٹرام سٹیشن چیمبر ٹاش کی طرف بڑھ گئے۔
عثمانی سلطان محمدفاتح اپنے والد مراد ثانی (م1451ع) کے بعد تخت نشین ہوا۔سلطان محمدفاتح نے قسطنطینیہ کو فتح کیا جوباز نطینی حکومت کے قبضے میں تھا۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی فتح بیت المقدس (یروشلم) کے بعد مشرق وسطی میں یہ فتح عالم اسلام اوراہل یورپ دونوں کے لئے ایک تاریخی اورانتہائی اہم یادگار ہے۔قسطنطینیہ کی فتح کے پیچھے سلطان محمدفاتح کی جرات،پلاننگ اورجنگی مہارت تھی جو ترکوں کے لئے اُن کی تاریخ اوراُن کے جغرافیے کا ایک سنگ میل ہے۔اس واقعہ کو طالب علموں اور نوجوانوں کوذہن نشین کرانے کے لئے استنبول میں ایک خوبصورت سیربین (Panorama)تعمیر کیاگیاہے۔
اس میں ہال کی چھت پر ایک بڑی شاندار اوررنگین پینٹنگ بنائی گئی ہے۔پینٹنگ اورتماشائی پلیٹ فارم کے درمیان 3-Dذرائع ہیں جن میں روشنی، رنگ اورآواز کی مدد سے میدان جنگ کامنظر اجاگرکیاگیاہے۔ہال کا وسیع کینوس تماشائیوں کو یہ احساس دیتاہے جیسے وہ فتح قسطنطینیہ کے اس نظارے کے چشم دید ہیں اوراس یادگارلمحے کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں جس لمحے شہر کی فصیل کی دیواروں کواُڑایا اورتوڑاجارہاتھا۔یہ واقعی ایک دم بخود کرنے والابہت شاندار نظارہ ہے جب دیکھنے والاروشنی ،رنگ اورآواز کے سحر میں گم ہوجاتاہے۔چشم تصور صدیوں کے فاصلے سمیٹ کرایک اورعہد میں جاپہنچتی ہے۔ترک مجاہد کتنی بہادری اورجانفشانی سے لڑے اُس کی تصویر سامنے موجود ہے!
سیربین کے مناظر میں جنگ کی کم وبیش تمام جہات(Dimentions) کااحاطہ کیاگیاہے۔جیسے بیلوں کے ذریعے توپوں کالانا،لوہے کے بھاری گولے ڈھونا اور برسانا ،فوجیوں کے لئے سامان رسد اوراُن کاکچن،زخمیوں کے لئے سٹریچر اورعلاج ، رہائش کے کیمپ ،پیدل فوج،سوار فوج ، دست بدست لڑائی،ترک فوجیوں کی فصیل پریلغار،سیڑھی کی مدد سے بارباراوپر چڑھنے کی کوشش،بازنطینی افواج کی جوابی گولہ باری سے فصیل پرحملہ آوروں پر کھولتے پانی،گرم مادے انڈیلنے کے علاوہ شدید تیراندازی۔یہ منظر دیکھنے والے کو ایک باراس جنگ کاشاہد بنادیتاہے جس نے ترک مسلمانوں پر استنبول کے دروازے کھول دئیے تھے۔ہال کے نیچے فتح قسطنطینیہ کے حوالے سے نمائش ترتیب دی گئی ہے۔اس نمائش میں ترکی کے سلاطین کی پینٹنگز اورمجسمے بھی ہیں اوربعض شاہی دستاویزات بھی۔ایک میں ' ہوالمعز النصیر' کے نیچے فارسی رسم الخط میں ایک تحریرہے۔ جس کاآغازتحیات و تسلیمات سے ہوتاہے۔
مجتبیٰ اورمیراارادہ تھا کہ جمعہ مسجد فاتح میں ادا کریں گے لیکن جب سیربین سے لوٹے توفوراً ٹیکسی نہ مل سکی۔مقامی پولیس سے مددلینا چاہی مگر زبان یارِ من ترکی ان کے سامنے بے زبان سیاح تھے وہ ایک شلوار پوش کی کیامدد کرتے۔ہم نے خیر اس میں جانی کہ جمعہ بلیومسجد میں اداکریں جب جلدی جلدی وہاں پہنچے تو مسجد کا اندرونی حصہ بھرچکاتھا۔صرف مشرقی جانب کا بیرونی دالان باقی تھا۔وضو کے لئے ٹونیٹوں پر نمازیوں کی قطاریں تھیں۔باری آنے پرسنگی سٹول پر بیٹھ کروضو کیا اور سیڑھیاں چڑھ کردالان میں پہنچے۔دائیں جانب خواتین کی بڑی تعداد نوافل ادا کررہی تھی اور وہ برابر آرہی تھیں۔مردوں عورتوں کے حصے الگ الگ تھے لیکن درمیان میں پردہ یاسکرین نہیں تھی۔خادم ساتھ ساتھ پلاسٹک کی چٹائیں بچھاتے جا رہے تھے۔امام کی تقریر ترکی زبانی میں تھی۔درمیان میں جابجا قرآنی آیات اور احادیث کے نگینے جڑے ہوئے تھے ۔ ہماری طرح کہیں اشعار یا تقریرمیں ترنم نہ تھا۔اس دوران ایک بجے اذان ہوئی لیکن لاؤڈ سپیکر پر امام اپنی دھن میں بولتے رہے۔دوبارہ اذان ہوئی اورخطبہ کچھ عربی اورکچھ ترکی میں مکمل ہوا۔امام کی تقریر مودت اوراخلاق حُسنہ پرتھی،ہماری طرح کوئی سیاسی ،فرقہ وارانہ یارنگ آمیزی نہ تھی۔تمام رکعتوں میں سورتیں چھوٹی تھیں سلام پھیرنے کے بعد زیاہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔کچھ نے اپنی دعا مانگی اوربعض نے نفل شروع کردئیے۔
ایا صوفیہ یاحاجیہ صوفیہ
یونانی لفظ حاجیہ کامطلب ہے مقدس آسمانی اورصوفیہ کامطلب دانش عقل، گویا"آسمانی دانش"۔یہ عمارت حضرت عیسیٰ ؑ سے منسوب ہے اور یہ چرچ اس آسمانی دانش کے لئے مخصوص کیاگیاہے یورپی عیسائیت میں اس گرجا کی بڑی اہمیت اورقدرومنزلت رہی ہے۔بازنطینی بادشاہ جسٹنینن نے532ع میں اسے تعمیر کیا تھا۔فتح قسطنطنیہ کے بعد اس کے اندر محراب بناکرمسجد میں تبدیل کردیاگیا تاہم گرجا کے آثار باقی رہے۔ایک روایت ہے کہ عیسائیوں کو ہفتے میں ایک بار عبادت کرنے کی اجازت تھی۔یعنی مسجد اور کلیسا ایک چھت کے نیچے!
ایا صوفیہ یاحاجیہ صوفیہ استنبول اور ترکی کے ممتاز ترین آثارمیں سے ہے۔ یہ سلطان احمدچوک کاحصہ ہے اورسمندر کی جانب کے نزدیک واقع ہے۔اس کے ایک جانب بلیو مسجد اوردوسری طرف ٹوپ کاپی محل اورعجائب گھر ہے۔اپنے چار میناروں کے باعث یہ دور سے ایک مسجد ہی دکھائی دیتاہے۔سیاحوں کی لمبی قطاریں ٹکٹ لے کرعمارت میں جانے کے لئے بے تاب تھیں۔لمبی قطار کے باوجود ٹکٹ مل گیا لیکن ہم 'عمرانی' سہولت سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
عمارت کا مرکزی ہال ہے جو غالباً پرانے کلیساکاہال ہے۔اس کے اندرتین اطراف میں کمرے ہیں جن پربالکونی تعمیر ہوئی ہے۔چھت پربیل بوٹے ہیں ۔دروازے اندر کی جانب کھلتے ہیں۔بہت اونچی چھت کے اندر نقش ونگار ہیں ۔اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آرٹسٹ نے کتنی محنت اورمشکل سے بیل بوٹے اورنقش ونگار بنائے ہوں گے بڑی بڑی کھڑکیوں سے خوب روشنی آتی ہے۔چاروں طرف بڑے بڑے گول سبز تختوں پراللہ،محمدؐ،چاروں خلفائے راشدہؓ اور حسینؓ کے نام سنہری عربی حروف میں لکھے ہوئے ہیں۔سیاحوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ ہال کے اندر درودیواراورچھت کو گھورتے ہوئے پھرتے ہیں۔مغربی جانب محراب ہے اوراس کے ساتھ منبر جس کی کئی سیڑھیاں ہیں۔ سیڑھیوں کے دونوں طرف اوپر چڑھنے کے لئے یک خشتی دیواریں ہیں اورآخر میں امام کے بیٹھنے کی جگہ جہاں سے وہ خطبہ دیتاہوگا۔محراب سنہری ہے۔دیواروں پر عربی آیات تحریر ہیں۔محراب تک جانے کی ممانعت ہے۔ بالکونیوں کی چھت پرنقش ونگار ہیں۔ بارھویں صدی کے ایک Mosaic Panelپر مریم کی گود میں بچہ ہے ساتھ شہنشاہ جان دوم اورملکہ کوکھڑے دکھایا گیاہے۔عمارت سنگ مرمر اوردیگر اقسام کے پتھروں سے بنائی گئی ہے۔ سمندر زیادہ دور نہیں بلکہ بالکونی کی ایک کھڑکی سے جھانکنے پرنظرآیا۔

27اکتوبر2018ع بروز ہفتہ:
استنبول میں ایک طرف جہاں ہرادارے کی جانب سے تفریحات ،مقامات، آثار کامختصر تعارف،ترکی زبان میں اورکہیں انگریزی اورعربی میں میسرہوتاہے۔وہاں مواصلات کاوسیع اورموثر نیٹ ورک دن رات مصروف ہے۔ ٹرام وے ،ریل وے ،کشتیوں،بسوں کے لئے ٹکٹ جگہ جگہ دستیاب ہیں۔ٹرام وے کے لئے کسی مالیت کاٹکٹ خریدیں اورضرورت کے مطابق دن بھر یاہفتہ بھر استعمال کریں۔ آپ ہرجگہ جاسکتے ہیں۔چڑھنے کے لئے رکاوٹ تب کھلتی ہے جب مشین آپ کے ٹکٹ کے صحیح ہونے کاپیغام پڑھ لے اور رکاوٹ ہٹا لے۔چنانچہ عائشہ نے چاروں مسافروں کے لئے ایک ٹکٹ ٹرام وے کاخریدلیا۔سوارہونے کے لئے ہرمسافر باری باری رکاوٹ پر ٹکٹ دکھاتا اور سوار ہوجاتا تھا۔آرام دہ، خوبصورت ،صاف ستھری ،شاخ زریں(گولڈن ہارن) کے کنارے پر واقع ایمی نونوسٹیشن پر اُترے ۔ یہ بحری آمدورفت کابھی سٹیشن ہے جہاں سے بجرے کشتیاں آتی جاتی ہیں۔بوٹ سٹیشن پر دوآدمی آتے دکھائی دئیے۔ایک نے رومی ٹوپی سرپراوڑھ رکھی تھی۔لمبا سا سردیوں کاکوٹ۔دوسرا اپنے عام سے لباس میں تھا۔دونوں کے پاس دو تھیلے اور دوبہت بڑے سائز کے طوطے تھے۔یاد نہیں پڑتا کہ کسی چڑیاگھر میں اتنے قدکاٹھ کے طوطے دیکھے ہوں۔طوطے اپنے مالکوں کی رانوں پربیٹھے تھے۔ دونوں طوطا باز اپنی جیبوں سے دو بیج نکالتے ۔ایک بیج طوطے کو دیتے جو اُسے اپنی چونچ سے چھیل کر کھاجاتااورایک بیج چھیل کر وہ خود کھاتے تھے۔اس کام میں اُن کے پیروں کے درمیان چھلکے اکٹھے ہوچکے تھے۔کچھ دیر بعد وہ اُٹھے اور طوطوں کواپنے اپنے شانے پربٹھالیا۔وہ سیاحوں کے پاس جاتے اور چند لیر اکے عوض تصویرکھچوانے کی آفر دیتے تھے۔
کنارے پراورسامنے غلاطہ پل (Galata Bridge)پر کانٹے لگائے مچھلی کے شکاری اچھے لمحے کاانتظار کررہے تھے۔البتہ سطح آب پر بڑی تعداد میں جیلی فش قطاردرقطار موجود تھیں۔شاید ان کاکوئی سیزن تھا۔ساحل پرسمند رکی معمول کی بدبو نہ تھی جوکراچی میں باافراط پائی جاتی ہے۔ سمندر کاپانی حیران کن حد تک صاف ، کچرے اور پلاسٹک کی الائش سے پاک نظر آیا۔اگرچہ کوئی مسافرسمندر میں کچرا پھینکتا نظر نہ آیاتاہم ساحل کی اتنی صفائی باقاعدہ مشینی صفائی ہی سے ممکن ہوسکتی ہے۔غلاطہ پل سے ٹرام، کاریں،بسیں دوسری طرف گولڈن ہارن کے پار حصے میں جارہی تھیں ایڈوانس بکنگ کے ذریعے سفرکاپروگرام طے شدہ تھا۔ ٹھیک دس بج کردس منٹ پر بحری کشتی روانہ ہوئی۔ اس کشتی کی تین منزلیں ہیں۔مجتبیٰ اورمیں نے تمام منزلوں کو اورمختلف حصوں کودیکھا ۔مسافروں کے گروپوں نے جگہ جگہ اپنے ڈیرے جمالئے تھے۔کشتی روانہ ہوئی تواُس کے پیچھے پیچھے سیگل(Seagull) کی فوج اُمڈ آئی۔کھڑے لوگ ہوا میں روٹی کے ٹکڑے اچھالتے اورسی گل اسے ہوا ہی میں دبوچ لیتں۔اگر کوئی ٹکڑا پانی میں گر جاتا تو دوسرے حصہ دار بھی لپک پڑتے۔صاف شفاف ،بے بوپانی،تھوڑے نظارے کے بعد مسافروں کے گروپ باتوں میں،بچے بھاگ دوڑ میں اوربزرگ نیند میں یاتسبیح پر مصروف ہو گئے۔ جیسے صرف کشتی ہی سمند ر میں اکیلی منزل کی طرف Focused ہے اوررواں ہے!تمام منزلوں پربیٹھنے کی نشستیں ہیں۔ایک جگہ ٹی وی چلتا ہوا نظر آیا نیلے سمندر کی سطح پربوٹ کے ساتھ دوڑتی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں دکھائی دیں۔ دوسرے کنارے پر بادبانی کشتیوں کی ریس ہورہی تھی۔دوسری جانب اونچی اونچی عمارات نظرآئیں، چونکہ ترکی کا یومِ جمہوریہ قریب ہے اس لئے عمارتوں اورگھروں پرترکی کاسرخ جھنڈا دکھائی دیتا ہے ۔ بڑے بڑے جھنڈے بعض کئی منزلہ عمارت کی پوری دیوار کوڈھانپتے ہوئے۔
تھوڑی دیر میں چلتی بوٹ پر پھیری والے آنکلے۔ان سب کا تخاطب ترکی زبان میں تھا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مسافروں کی بڑی تعداد ترک تھی یا ترک زبان جاننے والی تھی ورنہ وہ کسی اورزبان میں کلام کرتے۔ایک پھیری والا اپنے ساتھ ایک تیز دھار چھلو (Peelar)بھی لایا تھا۔عملی مظاہرہ کرتے ہوئے(مسٹربین) کی طرح مختلف سبزیاں چھیل کر پھیری والے نے خوبصورت سلاد بناکردکھایا۔یہ آلہ کچن ہاتھوں ہاتھ خریداگیا۔بوٹ قادرکوائے پڑاؤ پر ٹہری جہاں کچھ مسافر اترے اورکچھ سوار ہوئے۔
آخرش بوٹ مسافروں کے ساتھ Princess Island (شہزادی کاجزیرہ) میں لنگر انداز ہوئی اورتمام مسافر مرد اورخواتین اترگئے۔خوبصورت محرابوں اور ستونوں کے برآمدہ میں دفتراورجزیرہ پر جانے کاراستہ ہے۔دروازہ خوبصورت اور اس کے اوپر عربی اسمِ الحظ میں تحریرہے"بیول اطہ 1331ھ" گویا1913ع کاتعمیرشدہ ہے۔
یہ ایک تفریحی جزیرہ ہے جہاں زیادہ تر کھابے نظر آتے ہیں۔ترکی مٹھائیاں ،آئس کریم اوربیکری کی دکانیں کثرت سے ہیں۔بوٹ سے اترنے کے بعد تھوڑی سی چڑھائی ہے۔ جزیرے کے گردچکر لگانے کے لئے سائیکل اورزیادہ لوگوں کے لئے گھوڑوں کی بگھیاں بھی دستیاب ہیں۔ پہاڑیاں ،درخت ،سبزہ ۔یہ منظر مری کی مال روڈ کاچھوٹا سانمونہ ہے ۔جزیرے پر کچھ مکانات بھی نظر آتے ہیں شاید وہ ہوٹل ہوں جہاں شہر کے امیر Weekendپرآکرٹھہرتے ہوں۔غالباً سردیوں میں برف بھی پڑتی ہے جس کا اندازہ چھتوں کی کھپریل سے ہوتاہے۔ شہزادی کاجزیرہ سرسبز ہے مگر کوئی مسجد دکھائی نہیں دی۔ بوٹ کے ٹکٹ پر یہ سہولت ہوتی ہے کہ آپ جتنا چاہیں جزیرہ پر قیام کریں ،واپسی پرسٹیشن کے گیٹ پرٹکٹ دکھا کرکسی بھی بوٹ پرواپس جاسکتے ہیں۔ترکی کی آئس کریم قدرے مختلف ہے۔اس میں شاید جیلاٹن ڈالتے ہیں جس سے فی الفور نہیں پگھلتی۔فٹ پاتھ پربیٹھ کرایک کیفے سے کاک ٹیل ٹائپ کی مزیدار آئس کریم کھائی۔جزیرے سے واپسی پر زیادہ تر مسافر نئے تھے۔مسافراب زیادہ متحرک نہ تھے اوراُن میں صبح والی شوخی نہیں تھی۔میں اندر سے اُٹھ کرباہر آگیااوربوٹ کی کھڑکیوں کے باہرراہداری کے بینچ پربیٹھ گیا جہاں ملاح یاعملہ گزرتا یاسامان رکھتاہے۔اس جگہ سمندر کاپانی بالکل نزدیک تھا۔سطح آب کے اور دور پرے کے نظارے زیادہ دلچسپ تھے۔موقع کی مناسبت سے عائشہ جہاز کے کیفے ٹیریا سے بہت مزیدار ترکی چائے لے آئی جس میں تازہ سیبوں کی مہک تھی۔سمندر کی خنکی میں ترکی چائے کے فنجان نے بہت کیف دیا۔
28اکتوبر2018ع بروز اتوار:
آج پاک سیاحوں کاترک سرزمین پر آخری دن ہے ۔گھر آخرگھر ہوتاہے، جوسکھ اپنے چوبارے وہ بلخ نہ بخارے ۔خواتین کی شاپنگ مکمل ہوچکی تھی۔سو رات کوسامان مناسب طریقے سے پیک کرکے اسے بکسوں میں بند کردیا۔استقبالیہ سے ترازو منگوایا تو معلوم ہواکہ ہربیگ میں ابھی بہت ساری گنجائش موجود تھی۔اس سے اندازہ ہوا کہ خواتین شاپنگ میں کمی بھی کرسکتی ہیں اور چاہیں تو لیرے بچا بھی سکتی ہیں ۔یہ قناعت قابل داد بلکہ حیرت ناک ہے ۔آج کے پروگرام میں شہر کا سیاحتی بس ٹورشامل تھا۔اس سفر کاکرایہ15یورو فی مسافر تھا۔یہ بکنگ بھی ہوٹل کے ذریعے ہوئی تھی اس لئے بس نے مقررہ وقت پر ہوٹل کے دروازے سے پک کیا۔راہ میں اورمسافر بھی شامل ہوئے۔بس میں ایک بزرگ بطورگائڈموجودتھے۔اُن کی انگریزی اچھی تھی مگر لہجے کی وجہ سے دھیان سے سنناپڑتاتھا۔اتوار کی چھٹی کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کم تھا اس لئے سفر جلد جلدکٹ رہاتھا۔راستے میں جگہ جگہ شہرکی پرانی فصیل کے ٹکڑے دکھائی دئیے جن کی اب حفاظت کی جاتی ہے۔ایک جگہ پرکچھ حصہ یونیسیف کے اس فہرست میں شامل ہے جو عجائبات عالم کے طور پر محفوط کیا جاتا ہے۔راستے میں گائڈ نے دومحلات کابھی بتایا۔جن کاتعلق رومن یا بازنطینی ادوار سے تھا۔ایک گرجا کے پاس سے گزرے جہاں سفید رنگ کی بڑی بڑی مسافر بسیں کھڑی تھیں۔معلوم ہواکہ یہ قدیمی بازنطینی کلیسا ہے جسے قدامت اورتقدس حاصل ہے۔یہ بسیں یونان سے عیسائی زائرین کولائی ہیں جو اتوار کے روز عبادت کے لئے ایتھینز سے استنبول آئے ہیں۔ایک اور معبد دکھائی دیا۔معلوم ہوا کہ یہ یہودیوں کا ایک قدیم سیناگاگ (کنیسہ) ہے جہاں بہت سارے سیاح اورزائراندر جاتے نظر آرہے تھے۔کئی سڑکوں سے گزرنے کے بعد بالاخر بس ایک گلی میں جاکرکھڑی ہوئی۔مسافر اترے توگائڈ نے اپناتھیلاسنبھالا پھرانگلی کے اشارے سے اپنی بھیڑوں کو گنا اور تاکید کی کہ نصف گھنٹہ کی مہلت ہے اورلوٹ کر اسی جگہ حاضری دینی ہے۔اوپر پہنچے توعجیب نظارہ تھا۔سامنے گولڈن ہارن تھا۔سورج کاعکس چمک دیتا۔اس میں کشتیاں چل رہی تھیں۔جہاں مسافررکے وہ ایک قبرستان تھا جس کے اندر ایک کیفے آباد تھا جہاں زندہ لوگ حلال مشروبات سے جی بہلا رہے تھے۔قبریں یکساں سطح پر نہ تھیں بلکہ پختہ قبریں اونچی نیچی تھیں۔اُن پرسبزہ اورسرخ وسفید پھول تھے۔قبر کے اوپر گھاس اگی ہوئی تھی۔ترکی میں قبرستان گویا بے آباد نہیں ہیں۔سرہانے لوح پر ترکی زبان میں مدفون کا نام،تاریخ پیدائش ،تاریخ وفات،کسی پرعربی میں بسم اللہ الرحمن الرحیمOفاتحہ پڑھی۔
یہ شہرکاوہ حصہ ہے جہاں بحیرہ باسفورس سے نکلی گولڈن ہارن(شاخ زریں)اختتام کو پہنچتی ہے۔یہ نظارہ بہت دلکش تھا۔نیلے پانی میں بجرے تیررہے تھے۔کنارے پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ بلندی سے نیچے کی طرف جانے کے لئے ایک کیبل کار ہے جس میں مسافر سوارہوتے ہیں اورنیچے سڑک پرجااترتے ہیں۔کیبل سے اتر کر اُسی کے ذریعے ہم واپس اوپرآئے۔ چنانچہ سیاح دوبارہ بسوں میں سوار ہوگئے۔
اب اگلاپڑاؤ ایوب سلطان مسجد (Eyub Sultan Mosque)اورمزار سیدنا ابوایوب انصاریؓ تھا۔
سیدناانصاریؓ مدینہ کے رہنے والے تھے اُن کااصل نام خالد بن زیدؓ تھا۔ہجرت سے پہلے مکہ میں173 دیگرانصار کے ساتھ اسلام قبول کیاتھا۔اُن انصار کا شرف یہ ہے کہ اسلام کاپیغام سن کر وہ نفوس قدسیہ خودبارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے۔ جب حضورؐ نے ہجرت کی تومدینہ پہنچ کرمسجد نبویؐ کی تعمیر تک سیدنا ابوایوبؓ کے ہاں قیام فرمایا۔آپ نے عہد نبویؐ کے تمام غزوات میں حصہ لیا اوربعد میں خلفائے اربعہ کے زمانے میں بھی مختلف معرکوں میں شریک ہوتے رہے۔خلفائے راشدہؓ میں سے خصوصاً سیدنا عمرؓ قسطنطنیہ پرحملے کا ارادہ رکھتے تھے جب سیدنامعاویہ امیرشام ومصر تھے لیکن یہ عمل پذیر نہ ہوسکا۔ سیدنا امیر معاویہؓ کی خلافت پراُمت کا جب کامل اتفاق ہوگیا تو مجاہدوں کاکارواں پھر فتوحات کی جانب چل پڑا۔سیدنا معاویہؓ نے حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں فتح قسطنطنیہ کاارادہ کیا اوراس مہم کے لئے اپنے فرزند یزید کو امیرلشکر مامورکیا۔حدیث کے مطابق اس غزوے میں حصہ لینے والے مسلمان جنت کی بشارت کے حقدار ٹہرے۔اس شوق میں سیدنا ابوایوبؓ بڑھاپے میں اس لشکر میں شریک ہوئے اور قسطنطنیہ تک طویل اورمشکل سفر اختیار کیا ۔ تاریخی روایتوں کے مطابق اس لشکر میں دیگر کباراورصغار صحابہؓ بھی شریک ہوئے تھے ۔ سیدنا ابوایوبؓ کی نماز جنازہ امیرلشکر نے پڑھائی۔آپ کی وصیت کے مطابق آپ کوشہر کی فصیل کے پاس دفن کیا گیا ۔ امیرلشکر یزید نے بازنطینی عیسائیوں کوپیغام دیاکہ:" ہمارے جلیل القدر صحابیؓ کاجسد مبارک یہاں دفن ہے ،خبردار اس مرقد کی حفاظت کرنا"۔
اورواقعہ یہ ہے کہ اموی خلفاءؒ اور عثمانی سلاطینؒ نے فتح قسطنطنیہ تک اس قول کے آبرورکھی اورکسی طرح بھی باز نطینی حکومتوں کواس مرقد کی بے حرمتی کاحوصلہ نہ ہوا۔
موجودہ مزار اورملحقہ مسجد اب فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح کی عقیدت اورمحبت کی یادگارہے۔
ٹورسٹ بس چڑھائیوں کے بعد ایک کھلی سڑک پرجارکی۔یہاں کوئی ٹریفک نہیں تھا۔ایک راستہ نیچے کی طرف جارہا تھا ۔ سڑک کے دونوں طرف ایک بڑاقبرستان ہے۔ان قبروں پرمدفون لوگوں کے نام تھے۔نیچے آکرایک دروازہ سے گذرے تو اندرسامنے ایک صحن تھا جس کے احاطے میں دوعمارتیں ہیں۔دروازے پرماشاء اللہ تعالیٰ کے نیچے بہت خوبصورت عربی میں ، ادخلوھا بسلام آمنین تحریر ہے۔ اس صحن کے دائیں جانب سیدنا ابوایوب انصاریؓ کامزار اقدس ہے۔بائیں جانب مسجد ہے جسے سلطان احمد نے تعمیر کیاتھا ۔ صحن کے درمیان میں ایک چبوترہ ہے جواتاترک سے پہلے صوفیوں اوردرویشوں کی چلہ گاہ تھی۔مسجد کے صدردروازے کے سامنے برآمدہ ہے جواونچے ستون پرقائم ہیں۔مسجد کے گنبد کااندرونی حصہ دیدہ زیب پھولوں ڈیزائن سے بھراہواہے ۔ درمیان میں ایک فانوس لٹک رہاہے۔گنبد کے نیچے اطراف پر خلفائے راشدہؓ کے نام اوراللہ رسولؐ لکھا ہواہے۔مسجد کا اندرون بہت خوبصورت،نفیس اوردل کھینچنے والاہے۔
مسجد کی سامنے کی بیرونی دیوارپربھی عربی آیات، فارسی اورترکی میں اشعارکندہ ہیں۔مسجدمیں تحیتہ المسجد نمازاداکی اور سلطان احمد اورحضرت ابوایوب انصاریؓ کی مغفرت کی دعاکی۔چلہ گاہ کے گرد لوہے کی اونچی باڑہے۔باڑ کے اوپر بارہ ٹوپیاں نیلے رنگ کی دھات کی لگائی گئی ہیں جواصل میں صوفی درویشوں اوراب رقاصوں کی مخصوص ٹوپی اوراب ایک علامت کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔چلہ گاہ کے اندر ایک پرانے درخت کاٹھنڈکھڑا ہے۔بعض لوگ خصوصاً عورتیں چلہ گاہ کے باہر دعائیں بھی مانگ رہی تھیں جیسے یہ درگاہ زندہ ہے اوراُن کے مسئلے حل کرے گی یاکروائے گی۔اس اثنامیں ایک دلہن سفید براق کپڑوں میں ملبوس پورے سرپردوپٹہ لئے اپنے خاوند اور اہل خانہ کے ساتھ پرس تھامے آئی۔اس کے ساتھ ایک چھوٹی پیاری سی بچی تھی جودلہن کی طرح سجی ہوئی تھی جیسے ہمارے ہاں شہ بالاہوتاہے۔اس علاقے میں رواج ہے کہ نئی دلہنیں شادی کے دن یہاں مزار پرسلام عقیدت پیش کرنے آتی ہیں۔دولہا ہمراہ تھاکیونکہ یہ عمل تقریب نکاح کے بعد کیا جاتا ہے۔ اصل برکت تو صاحب مزار کے نام کی ہے جو نبی اقدسؐ کے عزیز ترین صحابہؓ میں سے تھے۔
اس جگہ پہنچ کردل کی عجیب حالت ہوتی ہے۔یہاں وہ ہستی آسودہ ہے جس نے مدینہ سے سفر کرکے مکہ میں جاکراسلام قبول کیااس وقت جب مکہ کے لوگ اور اپنے رشتہ دار بھی مخالفت کررہے تھے ۔ہجرت کے موقع پرقصویٰ اُنہی کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی۔نبی کریمؐ کے مدینہ میں وہ میزبان تھے۔اپنے محبوب رسولؐ کی بشارت کے لئے پیرانہ سالی میں طویل اورمشکل سفرکیا تاکہ قسطنطنیہ کے جہاد میں شریک ہوں۔ اسلام سے اورنبی کریمؐ کی ذات سے اس درجہ محبت ۔بزرگ صحابی کاعزم اورترک مسلمانوں کی محبت وعقیدت۔کمال کاجذبہ ہے۔ایک ایسی شخصیت جس نے عہد نبویؐسے خلافت راشدہ اورخلافتِ اُمویہ تک اسلام کے تمام ادوار دیکھے۔
نواح کے قبرستان میں جیش یزیدبن معاویہؓ کے شہید ہونے والے صحابیوں کی قبریں بھی تھیں۔مجھ سے تسامح ہوا۔ایک بار یہ سوچ کر مزار پرگیاکہ یہ سلطان احمدفاتح قسطنطنیہ کامزارہے۔احاطہ سے باہرنکلا تو کانوں میں پنجابی زبان میں آواز پڑی۔ ایک آدمی جوتوں کیلئے شاپردے رہاتھا اور زائرین کوترکی اورپنجابی زبان میں ہدایات بھی دے رہاتھا۔استنبول میں پنجابی سن کر طبیعت بشاش ہوگئی۔وہ خادم منڈی بہاؤالدین سے تھااور عرصہ چارسال سے وہاں زائرین کی خدمت کررہاتھا۔وہ اوقاف کا ملازم نہیں تھا بس اہل دل کی تواضع پردن گزاررہاتھا۔اس سے پوچھا کہ مزار ایوب کدھر ہے تو اس نے کہا یہی توہے جہاں سے ہوکرآیاہوں۔شرمندہ ہوکر دوبارہ جوتے سنبھالے اورفاتحہ خوانی کے لئے اندر چلا گیا۔
واپس لوٹ کرتھوڑی دیر ہوٹل کی لابی میں سستائے کیونکہ کمرہ تو مقررہ وقت سے پہلے خالی کردیاتھا اورسامان نیچے پہنچا دیاتھا۔ہوٹل کے ذریعے برآمدہ ٹیکسی سے بطرف ائرپورٹ روانہ ہوئے۔شام6بجے سڑکوں پرٹریفک معمول سے زیادہ تھا۔ ایک دو جگہ ٹریفک جام تھاجسے دیکھ کر ڈرائیور نے اشارے سے پہلے ہی گاڑی کوریورس لگایا اورایک دوسرے راستے کوہولیا۔
ائیرپورٹ پر بہت ساری پروازوں کے باعث بہت رش تھا۔ٹرالی کی تلاش میں محنت کرناپڑی۔پھرلاہور کے کاونٹر کی تلاش،جب ملا تو بہت لمبی لائن۔اس اثناء میں ائیرلائن کے کسی کارندے نے دیکھ لیا کہ ایک مسافر وھیل چیئر پرہے اور بورڈنگ کارڈ کی لمبی لائن میں سب سے آخر میں انتظارکررہاہے۔اس اللہ کے بندے نے رہنمائی کی اوراس کاؤنٹر پرپہنچایا جہاں وھیل بندمسافروں کی ترسیل کی جاتی ہے۔
ائیرپورٹ کی خادمہ کسی مسافر کو اتار کر آئی تو ہمارے ساتھ ہولی۔جہاز تک کافاصلہ ڈیڑھ دوکلومیٹر سے کم نہ تھا۔وہ لڑکی وھیل چیئر کو بلارکے،کچھ دیکھے اورکچھ کہے بغیرجہاز کے دروازے تک لے آئی۔ ساتھ آنے والے تینوں مسافروں کو کافی تیز چلناپڑا۔راستے میں کسی ڈیوٹی فری شاپ پر رکنے کی مہلت ہی نہ ملی۔لڑکی کی اس محنت،مہارت اورذمہ واری پرامیرسفر نے فراخی سے انعام دیا۔
جہاز میں سوار ہونے کے بعدکم وبیش وہی ہوا جولوٹتے وقت ہوتا ہے یاجوآتے وقت اسی کمپنی کے جہاز میں بیٹھتے وقت ہوا تھا۔ اپنی کیفیت وہی تھی جو ایک لمبے سفر کے بعد گھرلوٹتے وقت ہوتی ہے۔اب کے سیٹیں آرام دہ نہ تھیں،چنانچہ زیادہ جاگتے اورکچھ اونگھتے سفر کٹ گیا۔
اترے تو وہی پرانا پاکستان تھااگرچہ حکومت وقت اسے نیا پاکستان کہتی ہے ۔وہی عملے کے اورکارندوں کے طور طریقے تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ آخر اپنے تھے۔طلوع آفتاب سے پہلے عزیزی سرمد منصور بڑی ذمہ داری سے باہر موجود تھا۔وہ گاڑی کونئی گذرگاہ یعنی رنگ روڈ سے واپس لایا۔ راستوں پرکچرا،شاپراوربے رونقی نظرآرہی تھی مگر گھر لوٹنے کی خوشی میں تویہ سب گواراہے۔
ترکوں کاایک وصف ہے کہ وہ کبھی غلام اوربیرونی قابض کے محکوم نہیں رہے۔ آزادی محض جسمانی نہیں ہوتی بلکہ اس کاسب سے بڑانقصان ذہنی اورفکری غلامی ہے۔زبان،تہذیب اورمذہب جب اپنے ہوں توقوم کامزاج ہی بدل جاتاہے۔ترکی میں یہ تبدیلی ہرجگہ دیکھی اورمحسوس کی جا سکتی ہے۔سگریٹ نوشی اگرچہ خصوصاً عورتوں میں عام ہے لیکن الگ سے سگریٹ،چائے اورپان جیسے کھوکھے نہیں تھے۔ہوٹل کے کمرے میں ایش ٹرے نہیں تھا لیکن لکھنے کاپیڈاوربال پوائنٹ بھی نہ تھے۔کمرے میں کوئی کتاب ،اخبار یاقبلہ رخ نہ تھا۔مجتبیٰ نے ہوٹل کی لابی میں بار کودیکھا۔شہر میں کئی اورجگہوں پرالکوحل کی بوتلیں دیکھیں تو شرارت سے پوچھنے لگا"ابو! ان بوتلوں میں کیاہوتاہے" میں نے بتایا کہ تمہیں پتہ ہے یہ الکوحل ہے۔جسے عام طورپرمسلمان نہیں پیتے۔یہ غیرملکی سیاحوں کے استعمال کے لئے ہوتی ہے۔شراب خریدنے اوراستعمال پرکوئی پابندی نہیں ہے تاہم کسی جگہ کوئی شراب پیتے دکھائی نہیں دیا۔کہاجاسکتاہے کہ استنبول نہ اتنا مشرقی ہے اورنہ زیادہ مغربی لیکن اس شہر میں مشرق اور مغرب دونوں گلے ملتے نظر آتے ہیں۔جو بروشر ملتے ہیں ان میں استنبول بائی نائٹ کے اشتہار بھی ہیں جہاں منچلوں کے لئے مغربی یاعربی رقص یاعثمانی یعنی گھومتے درویش جیسی تفریح کاسامان ہوتاہے۔ پارکوں اورفٹ پاتھوں کے کنارے بڑے بڑے ایش ٹرے نصب ہیں جہاں راہ گزر سگریٹ کاآخری حصہ مسل دیتے ہیں ۔ لیکن سڑکوں پر سگریٹوں کے ٹوٹے بھی کثرت سے نظرآتے ہیں۔شہرکی صفائی، نظم ، ٹریفک یہ سب طیب اردگان کی محنتوں کانتیجہ ہے جب وہ استنبول کے میئر تھے ۔ شاپر کہیں بھی اڑتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ سرعام تھوک پیشاب کی عادت نہیں ہے تجاوزات نہیں ہیں۔ ہمارے قیام کے دوران آلودگی نظرنہیں آئی جیسے دھند ، گرد ، سموگ،شور،کچرا وغیرہ ۔سڑکیں زیادہ چوڑی نہیں ہیں جتنے چوڑے فٹ پاتھ ہیں گویا یہاں گاڑی بانوں سے زیادہ پیدل چلنے والوں کاحق اوراُن کی کثرت ہے۔ فٹ پاتھ ٹف ٹائلوں کے بنے ہوئے ہیں جن کی توڑپھوڑ کم ہوتی ہے۔جس سڑکوں پر ٹراموے گذرتی ہے وہاں عام ٹریفک کے گذرنے پر پابندی ہے۔شاپنگ مال جیسی جگہوں پرمٹھی چابی کرسی(Massage Chair) موجود ہیں۔تھکن اتارنے کے لئے کرسی میں تشریف رکھیں۔،سوراخ میں ایک لیراکاسکہ ڈالیں۔مشین دیسی ملازم کی طرح آپ کے جسم کو اسطرح دبائے گی کہ میٹھا میٹھا درد ہونے لگے گا اورچند منٹوں میں آپ تروتازہ ہوجائیں گے۔
کیاکوئی ملک دنیامیں انگریزی کے بغیر بھی ترقی یافتہ اورتہذیب یافتہ ہوسکتاہے؟یہ بات ایک پاکستانی کے لئے ضرور حیرت اورندامت کاباعث ہے۔ترک اپنی تاریخ میں ہمیشہ آزاد رہے۔آج انکی تعلیم ،تحقیق اورتمام امور زندگی ترکی زبان میں سرانجام پاتے ہیں۔دیوان روڈ پر ایک فوجی دفتر کے باہر نام پلیٹ پرلکھا تھاORDUٰؑ یعنی اُردو!جس کامطلب ہے لشکری۔
اتاترک کے اچھے کاموں میں ایک صوفی ازم کاخاتمہ بلکہ قلع قمع ہے۔اب وہاں کوئی چلّہ گاہ،خانقاہ، آستانہ یادربار نہیں ہے مگراُن کے تاریخی مزارات سجے ہوئے ہوتے ہیں۔ترک پھربھی سادہ مسلمان ہیں عبادات اور معاملات میں حنفی فقہ پر کار بند اللہ اوررسولؐ سے محبت کرتے ہیں۔ترکوں میں بظاہر کوئی فرقہ بندی نظرنہیں آئی۔ ظاہرہے جب صوفی کا عملیاتی اسلام نہیں رہا توفرقہ باز مولوی کافقہی مذہب کہاں ملے گا۔
ٹیکسی ڈرائیور سے معلوم ہوا کہ یہاں پاکستان کی نسبت پڑول مہنگا ہے۔تب ایک لیٹر کی قیمت130 روپے تھی۔ترکی کے پاس اپناپڑول نہیں ہے وہ عربوں ہی سے خریدتا ہے۔یہاں ٹیکسیاں نئی اوراعلیٰ نسل کی ہوتی ہیں۔جاپانی گاڑیاں کم،زیادہ تر یورپی ماڈل نظرآتے ہیں ممکن ہے لوکل اسمبلڈ ہوتی ہوں۔ٹیکسی کے اندر جو داخلی آئینہ ہوتا ہے وہ صرف پیچھے ہی نہیں دیکھتا اس کے ایک کونے پرٹیکسی کاکرایہ بھی آجاتا ہے۔یہ شیشہ بھی ہوٹل کے دیواری آئینے کی طرح طلسمی ہے۔یعنی شیشے کاشیشہ اور میٹرریڈنگ بھی۔
سٹی ٹور کے دوران ایک شاپنگ مال پرپڑاؤ تھا۔ہرفلورپرITبورڈ نصب تھا۔آپ جس منزل پر یاکسی دوکان پرجانا چاہتے ہیں توکلک بورڈ آپ کی رہنمائی کرے گا۔ سڑکوں پرعام یاٹریفک پولیس کم نظر آئی ۔ بھکاری بہت تھوڑے ہیں۔ایک عورت جمعہ کی نماز کے بعد مسجد سے کافی دور دکھائی دی۔رات کوالبتہ کئی بوڑھے مردعورت ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں۔ایک جگہ ایک نوجوان نے روکا۔اس کے ہاتھ میں غالباً کوئی چیز تھی جووہ بیچ رہاتھا ساتھ بتا رہاتھا کہ وہ شامی پناہ گیر ہے اور اپنی فیملی کے ساتھ رکاہوا ہے ۔
ترکوں کے کھانوں میں گرم مسالے، مرچیں اور آئل کم ہوتاہے۔ایساسادہ گوشت اوراتنی سادہ ترکاری بھلاپاکستانی منہ کوکیامزہ دے۔بعض ڈشوں میں چکن ہوتاہے تاہم زیادہ ڈشیں سبزیاں ہوتی ہیں شایدبینگن ترکوں کی قومی سبزی ہے؟ ہرکھابے پر مینو ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ شروع میں ایک سبزی نماڈش بطور سٹارٹر ہرجگہ پیش کی جاتی ہے۔ترک مشروبات میں سب سے اچھی چیز ان کی لسی ہے۔جسے BUTTER MILK کہتے ہیں۔لسی کی مشینی چاٹی دن بھر چلتی رہتی ہے۔شیشے کا ایک مستطیل ڈبہ ہے جس میں دہی کو بلویا جاتاہے۔ایک طرف سے تیار شدہ لسی اس ڈبے کے اندر گرتی رہتی ہے۔حسب ضرورت بیرا وہاں سے جگ بھرلیتا ہے اورگاہکوں کو پیش کردیتاہے۔کھانے کے بعد بعض ریستوران ترکی چائے پیش کرتے ہیں اوربعض میں چائے کا بل دینا ہوتا ہے گلاس کے نازک فنجانوں میں عام چائے ہوتی ہے، ساتھ چینی کی دو ڈلیاں۔ایران میں تو کئی لوگ مصری کی ڈلی منہ میں رکھ کر اوپر سے قہوہ پیتے ہیں ترکی میں چینی کوفنجان میں حل کیاجاتاہے۔اس مقصد کے لئے آئس کریم کھانے جیسی لکڑی کی پتلی سے سٹک دی جاتی ہے جسے فنجان میں ہلاکرچینی حل کی جاتی ہے۔ترکی قہوے کے کئی ذائقے دستیاب ہیں۔ شہر میں کئی جگہ پر حمام جہاں ہیں بعض پرانے حماموں کوبھی تازہ دم کیاگیاہے۔***
نوٹ
ترکی کاشہراستبول غالباً دنیا کاواحد شہر ہے جودوبراعظموں میںیعنی یورپ اورایشیا دونوں میں واقع ہے۔دونوں حصوں کے درمیان ایک طرف بحیرہ ا سود (Black Sea)ہے اوردوسری طرف بحیرہ مرمرا(Marmara Sea) جوبحیرہ روم (Mediterrian Sea)کامشرقی حصہ بنتاہے۔اسود اورمرمرا کے بیچوں بیچ ان کوجوڑنے والا بحیرۂ باسفورس واقع ہے ۔بحیرہ باسفورس سے ایک آبنائے نکلتی ہے جسے GOLDEN HORNٰٓ ٰٰٰٰٰٰٰٓٓیا شاخ زریں کہتے ہیں۔ہمارے گروپ کے گائڈ کی منطق تھی کہ چونکہ صبح کے وقت آبنائے کے اس مقام پر سورج کی کرنوں کا عکس طلائی اور خمیدہ ہوتا ہے اس لئے یہ گولڈن ہارن کہلاتاہے۔ اس شاخ کے دہانے پر ایک طرف ایمی نو نو اور دوسری طرف کاراکوائے دو اضلاع واقع ہیں ۔پانی کی یہ خلیج ایک دوسرے ضلع ایوب (Eyup) پرجا کرختم ہوتی ہے۔ہماراپڑاؤ گولڈن ہارن کے شروع میں واقع ضلع فاتح میں رہا چنانچہ ہماری سیاحتی مصروفیات شاخ زریں یعنی گولڈن ہارن کے اردگرد ہی طواف کرتی رہیں۔ضلع فاتح میں ترکی کے بہت سارے اہم آثاراورقابل دید عمارات واقع ہیں۔