احتجاج اور اختلاف رائے کیسے ؟

مصنف : امتیاز احمد

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : دسمبر 2019

 یونیورسٹی آف بون کے وسیع و عریض گارڈن میں یہ احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو چکا تھا لیکن لڑکوں اور لڑکیوں کا رش روز بروز بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک ڈی جے نے مفت میں ہر رات کو پرفارم کرنے کی حامی بھری ہوئی تھی، کچھ منچلے رات دیر تک ڈانس کرتے رہتے، کچھ تاش کھیلتے اور کچھ گھوڑے بیچ کر سو جاتے۔کھانا ہر کوئی اپنا خود برداشت کرتا تھا۔ جرمن لڑکے لڑکیوں کی بئیر کی بوتلیں بھی انہی کے خرچے سے نکلتی تھیں۔ حقہ میرا تھا لیکن فلیور والا تمباکو ہر کوئی اپنا خود لاتا تھا۔درمیان میں بارش بھی ہوتی رہی لیکن ہر کوئی اس بات پر متفق تھا کہ فیسز عائد نہیں ہونے دی جائیں گی۔ روزانہ رات کو آئندہ کی منصوبہ بندی ہوتی، اگلے دن کے لیے احتجاج کا طریقہ کار اور راستہ طے ہوتا، انتظامیہ سے اجازت لینے کی درخواست تیار ہوتی۔ عوامی رائے کو اپنے حق میں کیسے کرنا ہے اور حکومتی فیصلے کو کیسے نا انصافی ثابت کرنا ہے، یہ سبھی بحث رات بھرجاری رہتی۔کچھ اسٹوڈنٹس نے وہاں خیمے لگا لیے، کچھ نیند پوری کرنے کے لیے ہوسٹلز میں چلے جاتے اور کچھ ‘‘درویش’’ وہاں ہی ایک دوسرے کو تکیہ بنا کر لیٹ جاتے۔ یہ احتجاج تھا لیکن ہرکوئی اسے انجوائے بھی کر رہا تھا، نہ کوئی مار دھاڑ تھی، نہ ٹائر جلائے جا رہے تھے، نہ کوئی ڈنڈا پکڑے ہوئے تھا اور نہ ہی کوئی غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا۔
اسے میری خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی، میرے جرمنی آنے کے دو سال بعد ہی صوبے نارتھ رائین ویسٹ فیلیا کی حکومت تبدیل ہوئی اور نئی حکومت کی طرف سے یونیورسٹیوں میں فیسیں عائد کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ جرمنی میں یونیورسٹیوں کی فیسیں صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبائی حکومت کو اس حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب فیسیں عائد کی جا رہی تھیں۔ جرمن طالب علموں کے لیے 500 یورو فی سمیسٹر فیس رکھی گئی لیکن غیرملکیوں کے لیے 150 یورو اضافی رکھے گئے۔
میرے جرمن پروفیسر کا موقف تھا کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی فیسیں کسی بھی معاشرے میں طبقاتی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس طرح تربیت کے مساوی مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ مختلف انسان مختلف ذہانت لے کر پیدا ہوتے ہیں لیکن مساوی مواقع فراہم کر کے اس فرق کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر پڑھائی کے یکساں مواقع پیدا نہ کیے گئے تو دولت مند افراد ہر جگہ قابض ہو جائیں گے، معاشرتی نا ہمواری بڑھے گی اور غریب طبقہ اعلیٰ پوسٹوں تک نہیں پہنچ پائے گا۔
یہاں سے ان احتجاجی مظاہروں کی یہ جنگ شروع ہوئی اور تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ میں پاکستان میں کبھی کسی یونین کا حصہ نہیں رہا تھا۔ میرے جرمن دوستوں نے کہا کہ ڈیڑھ سو اضافی فیس غیرملکی اسٹوڈنٹس کے ساتھ زیادتی ہے۔ سب اسٹوڈنٹ برابر ہیں، چاہیے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔ تمہیں اس کے لیے ہمارا ساتھ دینا ہو گا اور ہم تمہیں ہر جگہ اسپورٹ کریں گے۔
یونیورسٹی آف بون میں پاکستانی اسٹوڈنٹس بہت ہی کم تھے۔ اس وقت زیادہ سے زیادہ دس ہوں گے شاید۔ خیر یہ احتجاج اور یونین کا حصہ بننا میرے لیے ایک درس گاہ ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ پتا چلا کہ پرامن احتجاج کیسے کرنا ہے۔ میں نے مطالبات نہ مانے جانے پر سڑک بلاک کرنے کا مشورہ دیا تو فلوریان غصے میں آ گیا کہ تم کیسا مشورہ دے رہے ہو؟ ہم باقی لوگوں کی زندگی کو کیوں اجیرن بنائیں گے۔ لوگوں نے وقت پر کام کاج کرنا ہوتا ہے، بچوں نے اسکول جانا ہوتا ہے، مریض ہوتے ہیں، حاملہ خواتین ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ احتجاج کا مقصد دوسروں کی زندگی میں خلل ڈالنا نہیں ہوتا، بلکہ آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس کا آغاز احتجاج کے طریقہ کار سے ہوتا ہے۔
خیر مقامی اخبارات نے احتجاج کی سرخیاں لگانا شروع کر دیں لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت ڈٹی رہی اور ایک ماہ بعد فیسیں عائد کر دی گئیں۔ لیکن حکومت نے بینکوں کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا کہ ہر اسٹوڈنٹ کو قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ فیسیں ادا کر سکیں۔ہم سب کو بہت مایوسی ہوئی لیکن میرے جرمن رومیٹس نے کہا کہ ہم یونیورسٹی پارلیمنٹ کا الیکشن لڑیں گے اور وہاں سے موجودہ صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ یونیورسٹی الیکشن قریب تھے اور ہم نے اس کی تیاری شروع کر دی۔
جرمن یونیورسٹیوں میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی اسٹوڈنٹ سیاسی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی پارلیمان کا نظام بالکل ویسے ہی چلتا ہے جیسے ایک ملکی پارلیمان میں چلتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں دو طرح کے انتخابات ہوتے ہیں ایک ڈیپارٹمینٹل لیول کے اور دوسرے یونیورسٹی لیول کے۔ جو پارلیمان تشکیل پاتی ہے، اس میں ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ طالب علم بھی بیٹھتے ہیں اور وہ بھی جو یونیورسٹی میں دیگر تمام معاملات دیکھتے ہیں۔ اس طرح یونیورسٹی پارلیمان ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی سطح کے مسائل سے آگاہ رہتی ہے۔ کسی اسٹوڈنٹ کے ساتھ زیادتی، کوئی جنسی ہراسانی کا مسئلہ ہو، جو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، تمام مسائل اسی پارلیمان تک آتے ہیں۔
یونیورسٹی کی کنٹین میں کھانے سے متعلق تمام فیصلے یہ پارلیمان کرتی ہے، اس کے بجٹ کا حساب رکھتی ہے۔ یونیورسٹی کی تمام دکانوں کا حساب رکھتی ہے۔ اسٹوڈنٹس کو رعایتی کھانا، لیپ ٹاپس کی مرمت وغیرہ سبھی امور کی نگرانی یہ پارلیمان کرتی ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ اسٹوڈنٹس کو دفاتر ملتے ہیں، فیصلے مشترکہ طور پر کیے جاتے ہیں، یونیورسٹی میں کون سے سیمنار کروانے ہیں، اس کا فیصلہ یہی پارلیمان کرتی ہے، کس ملک سے لیکچر کے لیے کون سا پروفیسر مدعو کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
یونیورسٹی الیکشن آئے تو میں بھی ایک جماعت کی طرف سے کھڑا ہو گیا۔ میں جس فلیٹ میں رہتا تھا، وہ سبھی لڑکے لڑکیاں یونیورسٹی کی سیاست میں ایکٹیو تھے لیکن ہر ایک کے خیالات اور پارٹیاں جدا جدا تھیں۔ مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ اختلاف رائے ہونا ایک اچھی چیز ہے اور اس کی بنیاد پر دشمنی نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان میں میں نے یہ سیکھا تھا کہ جو آپ کے مسلک کا نہیں، یا جو مختلف رائے دیتا ہے، آپ سے اختلاف کرتا ہے، وہ بس آپ کا دشمن ہے۔
لیکن یہاں شدید سے شدید تر اختلافات کے باوجود سبھی ایک دوسرے کے دوست تھے۔ یہ کہہ کر اٹھ جاتے تھے کہ یہ آپ کی رائے ہے، میں فی الحال اس سے متفق نہیں ہوں لیکن میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں، آپ کو مجھ سے اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان میں میں نے یہی سیکھا تھا کہ بس میں ٹھیک ہوں۔
ہمارے فلیٹ پر ساری ساری رات بحث و مباحثے چلتے تھے۔ کورینہ اور ہارالڈ ملحد تھے، فلوریان اور اس کا دوست اسرائیل کے لیے لابنگ کرتے تھے۔ میں ہمیشہ اسلام، فلسطین اور اپنی ثقافت کی بات کیا کرتا تھا۔ میں اصل میں کوئی اتنا اچھا مسلمان نہیں تھا لیکن جرمن مجھے سے پہلا سوال یہ کرتے تھے کہ تم مسلمان ہو لیکن مسلمان تو ایسا نہیں کرتے۔ مجھے تھوڑا بہت مسلمان جرمنوں کے ایسے سوالوں نے بنایا اور مجھے سنجیدہ ہو کر سوچنا پڑا کہ میری شناخت کیا ہے؟ بھیرٹی مسیحی اقدار کا حامی تھا۔ کچھ دوست لیسبین اور گیز کے حقوق کے لیے کوشاں تھے اور اکثر اپنے دوستوں کو لے کر ہمارے فلیٹ پر وارد ہو جاتے تھے۔
شروع شروع میں میں دوران بحث جذباتی ہو جایا کرتا تھا لیکن چند ماہ بعد ہی احساس ہوا کہ نظریات اور خیالات کی بحث پرامن طریقے سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک دوسرے کے موقف کو سنا جا سکتا ہے لیکن جبری طور پر کسی کو منوایا نہیں جا سکتا۔ میں نے بحث کرنے کا انداز اس یونین کا حصہ بن کر سیکھا، مخالف کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنے کا حوصلہ مجھے یہاں سے ملا۔ میں نے سیکھا کہ دوسرے کا موقف ٹھیک بھی ہو سکتا ہے، اسے ایسے ہی رد نہیں کر دینا چاہیے۔ مجھے پتا چلا کہ میں بھی غلطی کر سکتا ہوں اور جب غلطی کا معلوم ہو تو اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے بلکہ غلطی قبول کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
خیر یونیورسٹی الیکشن ہوئے تو مجھے اپنی سیاسی جماعت کے ٹاپ امیدوار سے بھی زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ جب الیکشن رزلٹ آیا تو یونیورسٹی میں ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ یہ امتیاز احمد کون ہے؟مجھے ہارالڈ کا فون آیا کہ تم نے کیا کیا ہے، تمہیں اتنے زیادہ ووٹ کیسے ملے؟ میں اس وقت ایک اطالوی ریستوران میں برتن دھو رہا تھا لیکن خوشی ہوئی کہ میں پارلیمان کا رکن بن گیا ہوں اور اب فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ یونیورسٹی میں اراکین پارلیمان کو اضافی سمیسٹرز کے ساتھ ساتھ فیسیں بھی معاف کر دی جاتی ہیں تاکہ وہ طالب علموں کے مسائل پر توجہ دے سکیں۔
اسی دوران ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک جرمن لڑکی نئی نئی مسلمان ہوئی تھی۔ میرے ایک ساتھی نے اسے کہا کہ ووٹ امتیاز کو دینا کیوں کہ یہ مسلمان ہے۔ اس نے کہا صرف اس بنیاد پر ووٹ دے دوں کہ یہ مسلمان ہے؟ میں اس بنیاد پر ووٹ دوں گی کہ یہ پارلیمان میں جا کرکرنا کیا چاہتا ہے، اس کا ایجنڈا کیا ہے، یہ اسٹوڈنٹس کی فلاح کے لیے کیا کرے گا؟ تب مجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ مذہب، رنگ، نسل بعد میں آتے ہیں۔ ووٹ دینے سے پہلے برادری، رنگ یا نسل نہیں بلکہ کارکردگی اور مستقبل کا لائحہ عمل دیکھنا چاہیے۔
خیر میں دو برس تک یونیورسٹی پارلیمان میں رہا۔ پہلی مرتبہ پتا چلا کہ فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔ لابنگ کیسے کی جاتی ہے؟ اسٹوڈنٹس کے لیے فلاحی پروگرام کیسے ترتیب دیے جاتے ہیں اور شدید اختلافات کے باوجود کسی ایک اہم مسئلے پر سب نے کیسے اختلافات بھلا کر ایک ہونا ہے۔
ایک مرتبہ سب سے مشکل مرحلہ اس وقت آیا، جب یونیورسٹی میں اسرائیل کی قابضانہ پالیسیوں کے حوالے سے ایک سیمینار کروانے کی تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز کسی اور نے نہیں بلکہ ایک جرمن یہودی لڑکی نے پیش کی تھی۔ اس کا موقف تھا کہ اسرائیل کی حکومتی پالیسیوں کو سب کے سامنے عیاں ہونا چاہیے اور اس کا مطلب سامیت دشمنی نہیں ہے۔ یہ مشکل ترین قرار داد تھی کیوں کہ جرمنی میں ہٹلر کی وجہ سے ابھی تک یہ موضوع انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ خیر لابنگ کے بعد پارلیمان نے اس کی منظوری دی اور تل ابیب سے ایک پروفیسر کو مدعو کیا گیا۔
خیر میرا سفر فیسوں سے شروع ہوا تھا، میں دو سال تک پارلیمان میں رہا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود صوبائی حکومت نے فیسیں ختم نہ کیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ طالب علموں نے آئندہ صوبائی انتخابات سے پہلے آگاہی مہم شروع کیے رکھی۔ چار سال بعد دوبارہ پرانی حکومت آئی تو اس نے فیسیں ختم کر دیں۔ اب یونیورسٹی آف بون میں کوئی فیسیں نہیں وصول کی جاتیں۔ لیکن مجھے اس دوران جمہوریت کے حسن کا پتا چلا، یونیورسٹی سطح کے سیاسی معاملات کو سمجھنے کا موقع ملا، احتجاج کرنے کا طریقہ سیکھا، دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا ہوا، شکست تسلیم کرنے کا ڈھنگ سیکھا اور جمہوری طریقے سے اپنے حقوق مانگنے اور مطالبات منوانے کا ہنر آیا۔
پاکستان میں گزشتہ روز طلبہ کی ریلی دیکھی تو دل میں امید کی کرن پیدا ہوئی۔ یہ احساس ہوا کہ کسی یونین کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے میں کتنا کچھ نہیں سیکھ پایا تھا۔ دوسرا یونیورسٹیوں میں یونین کا صرف ایک رنگ نہیں ہونا چاہیے، اس میں سبھی رنگ ہونے چاہئیں، لال، پیلا، نیلا، سبز سبھی ہونے چاہئیں، یہی تنوع یونینز کو خوبصورت بناتا ہے۔
ایک فرق جو میں نے کل پاکستانی طلبہ اور جرمن طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں دیکھا وہ موضوعات کا ہے۔ پاکستان میں گزشہ روز جو نعرے لگائے گئے وہ معاشرتی مسائل سے متعلق بھی تھے، وہ نعرے بھی تھے، جو روایتی طور پر این جی اوز اور سیاسی پارٹیاں لگاتی ہیں۔ لیکن جرمن طلبہ کے نعرے صرف اسٹوڈنٹس کے مسائل اور تعلیمی نظام کے اردگرد ہی گھومتے تھے۔ لیکن اس سال میں نے دیکھا کہ جرمن طلبہ نے بھی تحفظ ماحول کے لیے احتجاجی مظاہرے شروع کیے ہیں اور وہ عالمی ماحولیاتی تحریک کا حصہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
میرے خیال سے اگر مختلف طلبہ یونینز کو اچھے طریقے سے چلایا گیا، تو یہ پاکستانی طلبہ کی شعوری بیداری میں اہم کردار ادا کریں گی۔ شاید اس طرح ہی پاکستان میں نجی کالجوں اور اسکولوں کی وبا پر کنٹرول حاصل ہو سکے، شاید اس طرح ہی غریب اور امیر کے بچے کو ایک جیسے اسکول جانے کا موقع مل سکے، شاید یہی یونینز تعلیم کے مساوی حق کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوں، شاید یہی غریب طالب علم کبھی ملکی پارلیمان کا حصہ بنیں اور ہمیں کرپٹ سیاستدانوں سے نجات مل سکے۔
٭٭٭