Siddiq shah

محمد صدیق بخاری


تعارف

سوئے حرم اظہارِ رائے کی آزادی کا حامی ہے اور یہ چاہتا ہے کہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے بین المسالک اور بین المذاہب مکالمے اور محبت کو فروغ دیا جائے۔ تاہم سوئے حرم میں کسی تحریر کی اشاعت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ادارہ اس سے متفق ہے۔ کسی بھی مضمون، نقطہ نظر، خیال یا معلومات کی اشاعت کی وجہ کسی پہلو سے ان کا اہم ہونا ہے تاہم کسی بھی تحریر سے مدلل اور شائستہ اختلاف کو بھی جگہ دی جاتی


مضامین

  ایک کولیگ نے مجھے کہا کہ اسے کسی محفل میں ایک مضمون پڑھنا ہے ،میں کسی مناسب موضوع پر کسی تحریرکی نشاندہی کر دوں۔ میں نے اختلاف رائے کے موضوع پر لکھا ہوا اپنا مضمون اس کے حوالے کر دیااور اس کو یہ نہیں بتایا کہ یہ کس ک...


ایک اللہ والے نے کہا کہ بھائی اگر چاہتے ہوکہ تمہاری نماز ہمیشہ قبول ہی ہو ا کرے تو اسے جماعت کے ساتھ پڑھا کرو۔ فرمایا، اس لیے کہ جماعت کی نماز اللہ کے ہاں ایک گروپ کی شکل میں حاضر ہوتی ہے ۔ اس گروپ میں سے اگر کسی ایک کی بھی قبول ہو جائے تو اس کے ص...


کائنات کے خالق و مالک نے اس کائنات میں چیزوں کی پیدایش ، ان کی نشو ونما اور بڑھوتری کی ایک خاص ترتیب قائم کر رکھی ہے اور عام طور سے نظام فطرت میں یہ ترتیب اسی طرح رو بہ عمل رہتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ ترتیب ’اند ر سے باہر‘ کی طرف کا سفر ہے۔تمام جان...


’’ج‘‘ ایک اسلامی ادارے میں پچھلے بیس سال سے کام کر رہا ہے ۔ اس کی قابلیت اور مہارت کی تعریف کی جاتی ہے اور اسے ادارے کے لیے ایک سرمایہ تصور کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہر برس جب انکریمنٹ اور مراعات کی بانٹ ہوتی ہے تو بعض ایسے حضرات کو اس پر ترجیح دے دی جات...


ایام حج میں یوں تو آٹھ ذی الحج سے بارہ تک پانچوں دن ہی دقت طلب ہوتے ہیں لیکن ان میں ،خصوصاً وہ وقت زیادہ مشقت آمیز ہوتاہے جب حجاج نے منیٰ سے طوافِ افاضہ کے لیے حرم شریف جانا او روہاں سے واپس منیٰ آنا ہوتاہے۔چونکہ لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ نقل و حرک...


’شین‘ اور’ کاف ‘کالج کے زمانے کے دوست تھے ۔بعد میں دونوں کولیگ بھی بن گئے ۔ اس طرح ان کی دوستی کا رشتہ اوربھی پختہ ہوگیا۔پاور پلانٹ پہ ان دونو ں کی ایک جیسی ذمہ داریاں اور ایک ہی جیسی تنخواہ تھی۔کام کرتے کرتے دس برس بیت گئے تھے۔ ایک دن ’ش‘ نے ’ک‘ ...


پہلا منظر دس بارہ برس پہلے کی بات ہے کہ سرد دسمبر کی ایک شب تھی اور ملک کی ایک اہم دینی جماعت کے مرکز کے ایک کمرے میں چار افراد محو گفتگو تھے۔جن میں سے ایک اس جماعت کے اہم رہنما اور باقی تین ان کے چاہنے والے تھے۔ مذکورہ رہنما اپنی زمانہ طالبعلم...


جس دن میں پیدا ہوا ، اس وقت و ہ جوانی کے دروازے پہ دستک دے رہے تھے یعنی میری اورا ن کی عمر میں سولہ سال کا فرق تھا ۔اس طرح بچپن سے ہی میں نے انہیں بڑا دیکھا تھا اور ان کے بڑے ہونے کا یہ احساس ساری عمرمجھ پہ غالب رہا اور میں ان سے کبھی فری نہ ہو سک...


دروازہ کھلا رکھنا وہ جب انڈیا سے آیا تو اس کی عجب حالت تھی ۔ گلے میں تعویذنما کئی چیزیں حمائل تھیں اور ہاتھوں میں بھی کئی دھاگے بندھے تھے ۔ وہ رحمان سے زیادہ رام ، مسجد سے زیادہ مندر اور مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے کلچر سے واقف تھا۔ لیکن خوش ...